(انما المئو منون الذین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم لاتجعلوا دعآ ئ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واللہ بکل شیء علیم ) (62 : 64
ابن اسحاق نے اس آیت کی شان نزول میں یہ روایت نقل کی ہے کہ جنگ احزاب کے موقع پر جب قریش تمام اقوام کو جمع کر کے مدینہ پر چڑھا لائے تو حضور اکرم ﷺ نے اس کے دفاع میں مدینہ کے گرد خندق کھودنے کا حکم دیا۔ خندق کھودنے میں خود رسول اللہ ﷺ نے بھی کام شروع کیا تاکہ اہل ایمان جوش و خروش سے کام کریں۔ خندق کھودنے کے کام میں مسلمانوں نے خوب جوش و خروش سے کام کیا۔ آپ نے بھی ایک نمونہ اور مثال قائم کی اور انہوں نے بھی مثال قائم کردی۔ بعض منافقین نے اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں سے پیچھے رہنے اور سست روی اختیار کرنے کا مظاہرہ کیا۔ وہ چھوٹے بڑے کاموں کا بہانہ بنا کر نکل جاتے اور بعض رسول اللہ ﷺ سے اجازت لیے بغیر کھسک جاتے تھے جبکہ مسلمانوں کا عمل یہ تھا کہ جب ان کو کوئی ضروری کام پیش آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے ذکر کرتے۔ آپ ﷺ اجازت دیتے اور وہ شخص کام کر کے جلدی واپس کام پر آجاتا۔ اور یہ رویہ مسلمان زیادہ ثواب کمانے کی غرض سے اختیار کرتے۔ اس موقع پر اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
انما الئو منون سے آخر تک سبب نزول جو بھی ہو ‘ بہر حال ان آیات کے اندر جماعت مسلمہ کے تنظیمی قواعد و آداب کا ذکر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے قائد کے احکام کے سلسلے میں آداب بتائے گئے ہیں۔ اور جب تک کوئی جماعت اپنے امیر کے ساتھ ایسے ہی اصولوں کی گہرے جذبات اور ضمیر کی گہرائیوں سے پابندی نہ کرے گی اس وقت تک جماعت کا نظم و نسق درست نہیں ہو سکتا۔ ان آداب کو جماعت مسلمہ کے اندر ایک پختہ روایت ‘ ایک معمول بہا عادت اور سخت قانون کی طرح جاری ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو وہ جماعت نہ ہوگی بلکہ منتشر افراد کا ایک انبوہ ہوگا۔
(واذا۔۔۔۔۔۔۔۔ یستأ ذنوہ) (24 : 62) ” اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسول ﷺ کے ساتھ ہوں تو اس کی اجازت کے بغیر نہ جائیں “۔ امر جامع سے مراد وہ امر ہے ‘ جس میں تمام جماعت مسلمہ کا اشتراک ضروری ہو۔ کسی مشاورت کا موقع ہو یا جنگ کا موقع ہو۔ یا عام اجتماعی کاموں کا موقع ہو۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کا فرض ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر جائیں۔ آپ کے بعد اپنے امام اور اپنے انچارج سے اجازت لے کر جائیں تاکہ مسلمانوں کی زندگی اور ان کے ادارے منظم طریقے سے چل سکیں اور ان میں طوائف الملوکی نہہو اور کوئی بھی کام پورے نظم اور وقار کے ساتھ ہو۔
یہ لوگ جو اس قسم کا ایمان لاتے ہیں ‘ پھر اس قسم کے آداب پر عمل کرتے ہیں اور تحریک کی ڈیوتی سے صرف اس وقت رخصت مانگتے ہیں جب وہ مجبور ہوں۔ اپنے ایمان اور اپنی تربیت کی وجہ سے وہ ڈیوٹی چھوڑ کر نہیں بھاگتے جبکہ امت اور جماعت کو اجتماعی جدوجہد کی سخت ضرورت ہو لیکن قرآن مجید اجازت دینے اور نہ دینے کے فیصلے کا اختیار نبی ﷺ کو دیتا ہے۔ آپ ﷺ کے بعد یہ اختیار اب جماعت کے سربراہ کو حاصل ہے کہ وہ اجتماعی کاموں سے کسی کو مستثنیٰ کرتا ہے یا نہیں۔
(فاذا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منھم) (24 : 62) ” پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو “۔ اس سے قبل اللہ نے نبی ﷺ کو یہ تنبیہ فرمائی تھی کہ کیوں آپ نے ان منافقین کو اجازت دی۔
عفی اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الخبیث من الطیب ” اللہ نے تمہیں معاف کردیا کہ کیوں تم نے ان کو اجازت دی تاکہ تم پر یہ امر واضح ہوجاتا کہ خبیث کون ہے ‘ اور پاک کون ہے “۔ یہاں یہ بات نبی ﷺ کے اختیار تمیزی پر چھوڑ دی گئی ہے کہ آپ کسی کو اختیار دیں یا نہ دیں۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک اور آسانی پیدا کردی گئی کیونکہ بعض اوقات نہایت ہی اہم ضروریات لاحق ہوجاتی ہیں اس لیے جماعت کی قیادت کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ موازنہ کرے کہ کسی کیلیے درپیش مہم میں جانا ضروری ہے یا کسی خصوصی ضرورت کے لئے پیچھے رہنا ضروری ہے۔ آخری اختیار قائد کو دے دیا گیا تاکہ وہ حالات کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرے۔
یہاں بہر حال اس طرف اشارہ کردیا جاتا ہے کہ انفرادی ضرورتوں پر قابو پایا جائے ‘ مسائل کا حل نکالا جائے اور اجتماعی مہم کو ترجیح دی جائے۔ تاہم اگر کوئی شخص اپنی کسی جائز ضرورت کے لیے بھی پیچھے رہتا ہے تو یہ امر جائز ہونے کے باوجود بھی ایک قصور ہے اور اس پر اللہ سے مغفرت طلب کرنا ضروری ہے۔
واستغفر لھم اللہ ان اللہ غفوررحیم (24 : 62) ” اور ایسے لوگوں کے حق میں ‘ اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو ‘ اللہ یقیناً غفورورحیم ہے “۔ یوں ایک مومن کے ضمیر پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ وہ اجازت طلب نہ کرے ‘ اگر کوئی بھی صورت نکلے تو وہ اپنے آپ کو عذر طلب کرنے سے بچانے کی کوشش کرے۔
نیز یہاں یہ بھی بتایدا گیا کہ جو لوگ اجازت طلب کرتے ہیں وہ درخواست استیذان نہایت ہی مئو دبانہ الفاظ میں پیش کریں اور عوام الناس کی طرح (یامحمد) یا (ابو القاسم) یا اور عوامی طریقے سے خطاب نہ کریں بلکہ مودبانہ الفاظ یارسول اللہ ‘ یانبی اللہ کے الفاظ سے مخاطب کریں۔
آخری رکوع جو صرف تین آیات پر مشتمل ہے ‘ اس میں خالص جماعتی زندگی سے متعلق احکام ہیں۔ وَاِذَا کَانُوْا مَعَہٗ عَلٰٓی اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْہَبُوْا حَتّٰی یَسْتَاْذِنُوْہُ ط ”نبی مکرم ﷺ کے بعد یہی حکم آپ ﷺ کے جانشینوں اور اسلامی نظم جماعت کے امراء کے لیے ہے۔ اس حکم کے تحت کسی جماعت کے تمام ارکان کو ایک نظم discipline کا پابند کردیا گیا ہے۔ اگر ایسا نظم و ضبط اس جماعت کے اندر نہیں ہوگا تو کسی کام یا مہم پر جاتے ہوئے کوئی شخص ادھر کھسک جائے گا ‘ کوئی اْدھر چلا جائے گا۔ ایسی صورت حال میں کوئی بھی اجتماعی کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔ چناچہ اس حکم کے تحت لازمی قرار دے دیا گیا کہ کسی مجبوری یا عذر وغیرہ کی صورت میں اگر کوئی رخصت چاہتا ہو تو موقع پر موجود امیر سے باقاعدہ اجازت لے کر جائے۔فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْکَ لِبَعْضِ شَاْنِہِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِءْتَ مِنْہُمْ ”رخصت دینے کا اختیار تو آپ ﷺ ہی کے پاس ہے۔ یعنی اسلامی نظم جماعت کے لیے یہ اصول دے دیا گیا کہ اجتماعی معاملات میں رخصت دینے کا اختیار امیر کے پاس ہے۔ چناچہ امیر یا کمانڈر اپنے مشن کی ضرورت اور درپیش صورت حال کو دیکھتے ہوئے اگر مناسب سمجھے تو رخصت مانگنے والے کو اجازت دے دے اور اگر مناسب نہ سمجھے تو اجازت نہ دے۔ چناچہ کوئی بھی ماتحت یا مامور شخص اجازت مانگنے کے بعد رخصت کو اپنا لازمی استحقاق نہ سمجھے۔وَاسْتَغْفِرْ لَہُمُ اللّٰہَ ط ”اس لیے کہ وہ اجتماعی کام جس کے لیے حضور ﷺ اہل ایمان کی جماعت کو ساتھ لے کر نکلے ہیں ‘ آپ ﷺ کا ذاتی کام نہیں بلکہ دین کا کام ہے۔ اب اگر اس دین کے کام سے کوئی شخص رخصت طلب کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے ذاتی کام کو دین کے کام پر ترجیح دی ہے اور ذاتی کام کے مقابلے میں دین کے کام کو کم اہم سمجھا ہے۔ بظاہر یہ ایک بہت سنجیدہ معاملہ اور نازک صورت حال ہے ‘ اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے اللہ سے مغفرت کی دعا کریں۔اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ”یہاں یہ نکتہ نوٹ کیجیے کہ یہی مضمون سورة التوبہ میں بھی آیا ہے ‘ لیکن وہاں اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ اس فرق کو یوں سمجھئے کہ سورة النور 6 ہجری میں نازل ہوئی تھی ‘ جبکہ سورة التوبہ 9 ہجری میں۔ اسلامی تحریک لمحہ بہ لمحہ اپنے ہدف کی طرف آگے بڑھ رہی تھی۔ حالات بتدریج تبدیل ہو رہے تھے اور حالات کے بدلنے سے تقاضے بھی بدلتے رہتے تھے۔ چناچہ یہاں 6 ہجری فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ آپ ﷺ سے باقاعدہ اجازت طلب کرتے ہیں وہ واقعی ایمان والے ہیں ‘ جبکہ تین سال بعد سورة التوبہ میں غزوۂ تبوک کے موقع پر فرمایا گیا کہ جو ایمان رکھتے ہیں وہ اجازت لیتے ہی نہیں۔ دراصل وہ ایمرجنسی کا موقع تھا اور اس موقع پر غزوۂ تبوک کے لیے نکلنا ہر مسلمان کے لیے لازم کردیا گیا تھا۔ ایسے موقع پر کسی شخص کا رخصت طلب کرنا ہی اس بات کی علامت تھی کہ وہ شخص منافق ہے۔ چناچہ وہاں سورۃ التوبہ میں رخصت دینے سے منع فرمایا گیا : عَفَا اللّٰہُ عَنْکَج لِمَ اَذِنْتَ لَہُمْ آیت 43 ”اللہ آپ ﷺ کو معاف فرمائے یا اللہ نے آپ ﷺ کو معاف فرما دیا آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کو کیوں اجازت دے دی ؟“ اگر آپ ﷺ اجازت نہ بھی دیتے تو یہ لوگ پھر بھی نہ جاتے لیکن اس سے ان کے نفاق کا پردہ تو چاک ہوجاتا ! اس کے برعکس یہاں حضور ﷺ کو اختیار دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ جسے چاہیں رخصت دے دیں۔اس مضمون کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھیں تو ایسے مواقع پر کسی اسلامی جماعت کے افراد کے درمیان ہمیں تین سطحوں پر درجہ بندی ہوتی نظر آتی ہے۔ پہلا درجہ ان ارکان کا ہے جو اپنے آپ کو دین کے کام کے لیے ہمہ تن وقف کرچکے ہیں۔ ان کے لیے دنیا کا کوئی کام اس کام سے زیادہ اہم اور ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے رخصت لینے کا کوئی موقع ومحل ہے ہی نہیں۔ اس سے نچلا درجہ ان ارکان کا ہے جو ایسے مواقع پر کسی ذاتی مجبوری اور ضرورت کے تحت باقاعدہ اجازت لے کر رخصت لیتے ہیں ‘ جبکہ اس سے نچلے درجے پر وہ لوگ ہیں جو اجازت کے بغیر ہی کھسک جاتے ہیں۔ گویا ان کا دین کے اس کام سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ اس درجہ بندی میں اوپر والے زینے کے اعتبار سے اگرچہ درمیان والا زینہ کم تر درجے میں ہے لیکن نچلے زینے کے مقابلے میں بہر حال وہ بھی بہتر ہے۔یہ بات ہمارے مشاہدے میں ہے کہ اسلامی جماعتوں کے اجتماعات کے موقع پر بعض رفقاء نہ تو اجتماع میں شامل ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے نظم سے رخصت لیتے ہیں۔ نہ وہ پہلے بتاتے ہیں نہ ہی بعد میں معذرت کرتے ہیں۔ گویا انہیں کوئی احساس ہی نہیں ‘ نہ نظم کی پابندی کا اور نہ اپنی ذمہ داری کا۔ ان سے وہ رفقاء یقیناً بہتر ہیں جو اپنا عذر پیش کر کے اپنے امیر سے باقاعدہ رخصت لیتے ہیں۔ لیکن ان سب درجات میں سب سے اونچا درجہ بہرحال یہی ہے کہ دین کے کام کے مقابلے میں دنیا کے کسی کام کو ترجیح نہ دی جائے۔ اس درجے پر فائز لوگوں کے ذاتی کام اللہ کے ذمہ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کاموں کو پس پشت ڈال کر اللہ کے کام کے لیے نکلتے ہیں تو ان کے کاموں کو اللہ خود سنوارتا ہے۔
رخصت پر بھی اجازت مانگو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک ادب اور بھی سکھاتا ہے کہ جیسے آتے ہوئے اجازت مانگ کر آتے ہو ایسے جانے کے وقت بھی میرے نبی سے اجازت مانگ کر جاؤ۔ خصوصا ایسے وقت جب کہ مجمع ہو اور کسی ضروری امر پر مجلس ہوئی ہو مثلا نماز جمعہ ہے یا نماز عید ہے یا جماعت ہے یا کوئی مجلس شوری ہم تو ایسے موقعوں پر جب تک حضور ﷺ سے اجازت نہ لے لو ہرگز ادھر ادھر نہ جاؤ مومن کامل کی ایک نشانی یہ بھی ہے۔ پھر اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ جب یہ اپنے کسی ضروری کام کے لئے آپ سے اجازت چاہیں تو آپ ان میں سے جسم چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لئے طلب بخشش کی دعائیں بھی کرتے رہیں۔ ابو داؤد وغیرہ میں ہے جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں جائے تو اہل مجلس کو سلام کرلیا کرے اور جب وہاں سے آنا چاہے تو بھی سلام کر لیاکرے آخری دفعہ کا سلام پہلی مرتبہ کے سلام سے کچھ کم نہیں ہے۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام صاحب نے اسے حسن فرمایا ہے۔