فبای ................ تکذبن (55:4 3) ” پس اے جن وانس تم اپنے رب کے کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے “
آخر ان کے پاس کیا چیز رہ گئی ہے کہ وہ جھٹلائیں ! محض زبانی کلامی بات سے کیا بنتا ہے ؟
لیکن تباہ کن حملہ جاری ہے۔ مزید دھمکی آرہی ہے اور تباہی والا انجام ان کے سامنے ہے۔
آیت 34{ فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ۔ } ”تو تم دونوں اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے ؟“