فیھن ................ والمرجان فبای الاء ربکما تکذبن (9 5) (55: 6 5 تا 9 5)
” ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے نہ چھوا ہوگا۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “
قصرت الطرف (55: 6 5) ” شرمیلی نگاہوں والیاں “ پاکیزہ شعور رکھنے والیاں ہوں گی۔ ان کی نظریں جھکی ہوں گی اور وہ اپنے مالکوں کے سوا کسی اور کی طرف دیکھنے والیاں نہ ہوگی۔
لم یطمثھن (55: 6 5) ” ان کو چھوا نہ ہوگا “ نہ انسان نے نہ جن نے۔
آیت 56{ فِیْہِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لا } ”ان میں ایسی عورتیں ہوں گی جن کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔“ عورت کی جھکی ہوئی نگاہیں شرم و حیا کی علامت ہیں اور شرم و حیا نسوانیت کا خاص زیور بھی ہے اور اس کے اخلاق کا سب سے بڑا محافظ بھی۔ جنتی عورتوں کی جھکی ہوئی نظروں کا ذکر گویا ان کے حسن ظاہری و باطنی کا بیان ہے۔ { لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَہُمْ وَلَا جَآنٌّ۔ } ”ان کو چھوا نہیں ہوگا ان سے پہلے نہ کسی انسان نے اور نہ کسی جن نے۔“ جنتی جنوں کی بیویاں ظاہر ہے انہی کی جنس سے ہوں گی جنہیں پہلے کسی جن نے نہیں چھوا ہوگا ‘ جبکہ انسانوں کی بیویاں انسان ہوں گی اور انہیں بھی پہلے کسی انسان نے نہیں چھوا ہوگا۔