سورہ روم (30): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ar-Room کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الروم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ روم کے بارے میں معلومات

Surah Ar-Room
سُورَةُ الرُّومِ
صفحہ 407 (آیات 25 سے 32 تک)

وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن تَقُومَ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ بِأَمْرِهِۦ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ إِذَآ أَنتُمْ تَخْرُجُونَ وَلَهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُۥ قَٰنِتُونَ وَهُوَ ٱلَّذِى يَبْدَؤُا۟ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ ٱلْمَثَلُ ٱلْأَعْلَىٰ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ضَرَبَ لَكُم مَّثَلًا مِّنْ أَنفُسِكُمْ ۖ هَل لَّكُم مِّن مَّا مَلَكَتْ أَيْمَٰنُكُم مِّن شُرَكَآءَ فِى مَا رَزَقْنَٰكُمْ فَأَنتُمْ فِيهِ سَوَآءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ بَلِ ٱتَّبَعَ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَن يَهْدِى مَنْ أَضَلَّ ٱللَّهُ ۖ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ۞ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّقُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ
407

سورہ روم کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ روم کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جونہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamin ayatihi an taqooma alssamao waalardu biamrihi thumma itha daAAakum daAAwatan mina alardi itha antum takhrujoona

“۔ ومن ایتہ ان ۔۔۔۔۔۔۔۔ کل لہ قنتون (30: 25 – 26)

آسمانوں اور زمین کا انتظام و قیام نہایت ہی سلیم و متین انتظام ہے جس کی حرکات متعین ہیں اور ان میں ایک سیکنڈ کی تقدیم و

تاخیر نہیں ہوتی۔ یہ اللہ جل شانہ کی تدبیر سے ہے۔ کوئی مخلوق یہ دعویٰ نہیں کرسکتی کہ وہ یا اس کے سوا کوئی اور یہ انتظام کر رہا ہے اور کوئی عقلمند شخص اس بات کا قائل نہیں ہوسکتا کہ یہ سب کچھ بغیر کسی کرنے والے مدبر کے ہو رہا ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر یہ اللہ کے معجزات میں سے ایک معجزہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ زمین و آسمان اللہ کے کھڑے کرنے سے کھڑے ہیں۔ اللہ کے احکام کی تعمیل کر رہے ہیں ، اس کے مطیع فرمان ہیں۔ ان میں کوئی سرتابی ، انحراف اور اضطراب نہیں ہے۔

ثم اذا دعا کم ۔۔۔۔۔ تخرجون (30: 25) ” پھر جونہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا پس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے “۔ جو سائنس دان بھی اللہ کے اس نظام اور ان اندازوں اور ان قدرتوں پر غور کرے وہ اللہ کی اس دعوت کے جواب میں لبیک ہی کہہ سکتا ہے کہ جب اللہ پکارے گا تو لوگ خود کار طریقوں سے نکل آئیں گے۔ اب یہاں اس باین اور مضمون کا خاتمہ آتا ہے اور اس میں بتایا جاتا ہے کہ انسان ، حیوان ، نباتات و جمادات سب کے سب اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔

ولہ من فی السموت والارض کل لہ قنتون (30: 26) ” اور آسمان و زمین میں جو ہیں اس کے بندے ہیں۔ سب کے سب اس کے تابع فرمان ہیں “۔ مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں جو مخلوق بھی ہے وہ اللہ کے بندے ہیں ، طوعاً و کرہا مطیع فرمان ہیں اور یہ سب کچھ اللہ کی سنت کے مطابق چلتے ہیں اور ان میں نہ مختلف ہو سکتا ہے اور نہ انحراف ہو سکتا ہے۔ سب چیزیں اللہ کی سنت اور مشیت کی محکوم ہیں۔ دینی اعتبار سے وہ مومن ہوں یا کافر ہوں۔ اگرچہ ان کا دل اور دماغ کافر ہوتا ہے لیکن ان کا پورا جسم اور ان کے گرد پھیلی ہوئی یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع ہے۔ جس طرح کائنات کی دوسری اشیاء سنت الہیہ کے لیے قانت اور مطیع ہیں اسی طرح انسان بھی ہے۔ رب کائنات کا یہ گہرا ، طویل اور عظیم سفر آخری اور اہم بات پر ختم ہوتا ہے کہ ایک دن تم نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے لیکن تم اس دن سے غافل ہو۔

اردو ترجمہ

آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walahu man fee alssamawati waalardi kullun lahu qanitoona

اردو ترجمہ

وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuwa allathee yabdao alkhalqa thumma yuAAeeduhu wahuwa ahwanu AAalayhi walahu almathalu alaAAla fee alssamawati waalardi wahuwa alAAazeezu alhakeemu

وھو الذی یبدء وا ۔۔۔۔۔ وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” “۔ اس سورة میں آغاز تخلیق اور اعادہ تخلیق کا ذکر پہلے بھی ہوا ہے۔ اس طویل سفر اور کائنات کی سیر کے بعد ازسر نو اس کا ذکر اس اضافے سے کیا جاتا ہے۔

وھو اھون علیہ (30: 27) ” اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے “۔ حالانکہ اللہ کے لیے کوئی چیز نہ آسان ہے اور نہ مشکل ہے اس کا معاملہ تو یہ ہے۔ انما امرہ ۔۔۔۔۔ کن فیکون ” اس کا معاملہ یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ ہوجا ، پس وہ ہوجاتی ہے “۔ لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس انداز میں سمجھاتے ہیں جس طرح ، اللہ جانتا ہے کہ وہ سمجھ سکتے ہیں۔ لوگوں کے ہاں پہلی تخلیق سے اعادہ آسان ہوتا ہے لیکن وہ خود اپنے تجربات کے خلاف جاتے ہیں کہ ابتدائی تخلیق سے اعادہ مشکل ہے۔ حالانکہ اعادہ آسان ہونا چاہئے۔

ولہ المثل ۔۔۔۔ والارض (30: 27) ” آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے “۔ وہ آسمانوں اور زمین میں منفرد ہے۔ اس کی ذات وصفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ وہ اکیلا اور حمید ہے۔

وھو العزیز الحکیم (30: 27) ” وہ زبردست اور حکیم ہے “۔ زبردست ہے اور قاہر ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو چاہتا ہے اور حکیم ہے جو بھی کرتا ہے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس کا کیا نہایت ہی پختہ اور پورا پورا ہوتا ہے۔ کامل مکمل۔ اس عظیم مطالعاتی سفر کے اختتام پر ، جس میں ہم نے اس کائنات کے آفاق ، طول و عرض ، اس کے ظاہری احوال اور اس کی گہرائیوں کا سفر کیا ، جس میں ہم نے مناظر بھی دیکھے اور حقائق بھی اخذ کیے ، اب سیاق کلام میں عقل و خرد کی تاروں پر آخری ضرب لگائی جاتی ہے

اردو ترجمہ

وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم اُن سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ اس طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Daraba lakum mathalan min anfusikum hal lakum mi mma malakat aymanukum min shurakaa fee ma razaqnakum faantum feehi sawaon takhafoonahum kakheefatikum anfusakum kathalika nufassilu alayati liqawmin yaAAqiloona

ضرب لکم مثلا ۔۔۔۔۔ لقوم یعقلون (28)

یہ مثال ان لوگوں کے لیے دی گئی ہے جو اللہ کی مخلوق میں سے کسی مخلوق کو اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ چاہے جن ہوں ، چاہے ملائکہ ہوں ، پتھر ہوں یا درخت ہوں ، لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود اپنے مالوں میں ، اپنے نوکروں اور غلاموں کو شریک نہیں کرتے ۔ اپنے غلام کو شریک کیا ، اپنے برابر انسان کا درجہ بھی نہیں دیتے۔ لہٰذا ان کا یہ رویہ بہت ہی عجیب ہے کہ وہ اللہ کا شریک ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو اللہ کی مخلوق ہیں جبکہ اپنے زیردستوں کو اپنے مالوں میں شریک نہیں کرتے۔ یہ ان کا مال خود ان کا تخلیق کردہ بھی نہیں ہے بلکہ وہ اللہ کا تخلیق کردہ ہے۔ لہٰذا ان کے موقف میں یہ واضح تضاد ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس تمثیل کو نہایت ہی تدریج کے ساتھ بیان فرماتے ہیں۔

ضرب لکم مثلا من انفسکم (30: 28) ” وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے مثال دیتا ہے “۔ یہ مثال تمہاری عملی زندگی سے دور نہیں ہے کہ تم اسے سمجھ نہ سکو۔ اس کے ملاحظے کے لیے کسی دور دراز علاقے کا سفر ضروی نہیں ہے۔

ھل لکم ما ۔۔۔۔۔ فیہ سوآء (30: 28) ” کیا تمہارے ان غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں ، کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دئیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں “۔ ظاہر ہے کہ مشرکین مکہ تو یہ بھی نہ چاہتے تھے کہ ان کے غلام ان کی دولت میں شریک ہوں چہ جائیکہ کہ ان کے حقوق ان کے ساتھ مساویانہ ہوں۔

تخافونھم کخیفتکم انفسکم (30: 28) ” اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے آپ سے ڈرتے ہو “۔ یعنی ان کو وہی مرتبہ ومقام دیتے ہو جو تم آپس میں اپنے آزاد شرکاء کو دیتے ہو۔ اور تم ڈرتے ہو کہ وہ تم پر ظلم کریں گے اور تم ان کے ساتھ ظلم کرنے سے احتیاط کرتے ہو کیونکہ ان کو تمہارے ساتھ برابر کا مقام و مرتبہ حاصل ہے کیا تمہارے ماحول میں اور خود تمہارے معاشرے میں ایسا ہوتا ہے ؟ اگر خود تم اپنے غلاموں کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں رتے ہو اور نہ اس پر راضی ہوتے ہو تو بتاؤ کہ ملاء اعلیٰ کے بارے میں کیونکر ایسی بات سوچتے ہو۔ یہ ایک واضح ، سادہ اور فیصلہ کن مثال ہے۔ اس کے بعد اس موضوع پر کوئی جدل وجدال نہیں رہتا۔ یہ مثال ایک نہایت ہی سادہ استدلال اور عقل سلیم پر مبنی ہے۔

کذلک نفصل الایت لقوم یعقلون (30: 28) ” اسی طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں “۔ ان کے عقائد کے اس پوچ تضاد کو یہاں تک کھول کر بیان کردینے کے بعد اب یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے عقائد کے اندر یہ تضاد پیدا کیوں ہوا۔ اس کا اصل سبب کیا ہے۔ صرف یہ کہ ان کا نفس یہی چاہتا ہے اور جب کوئی شخص خواہشات نفسانیہ کا غلام ہوجائے تو پھر عقل و بصیرت سے محروم ہوجاتا ہے۔

اردو ترجمہ

مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں اب کون اُس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ایسے لوگوں کا تو کوئی مدد گار نہیں ہو سکتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Bali ittabaAAa allatheena thalamoo ahwaahum bighayri AAilmin faman yahdee man adalla Allahu wama lahum min nasireena

بل اتبع الذین ۔۔۔۔۔ لھم من نصرین (29)

ہوائے نفس کا پھر نہ کوئی معیار ہوتا ہے اور نہ کوئی ضابطہ ہوتا ہے۔ بس نفس انسانی کی بدلتی ہوئی خواہشات آگے آگے ہوتی ہیں اور انسان ان کے پیچھے ہوتا ہے۔ جس طرف میلان ہوا ، اسی طرف ڈھل گیا۔ جہاں کوئی ڈر ہوا ، رک گیا ، جہاں ذرا بھی امید اور لالچ پیدا ہوا دوڑ کر آگے بڑھ گیا۔ نہ ایسا شخص کسی حد پر رکتا ہے ، نہ حق و باطل کا محافظ رکھتا ہے اور نہ حلال و حرام کی تمیز کرتا ہے اور نہ اپنے تصورات و اعمال کو کسی ترازو میں تولتا ہے ۔ جب کوئی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو پھر اس کی ہدایت کی کوئی امید نہیں رہتی ، ایسا شخص گمراہی کی راہوں پر اس قدر دور چلا جاتا ہے کہ واپسی کی کوئی امید نہیں رہتی۔

فمن یھدی من اضل اللہ (30: 29) ” اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو “۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ یہ شخص ہوائے نفس کا مطیع فرمان ہوگیا ہے۔

وما لھم من نصرین (30: 29) ” ایسے لوگوں کا کوئی مددگار نہ ہوگا “۔ جو ان کو اس برے انجام سے بچا سکتا ہے۔

اب ان لوگوں کی بات ختم ہوجاتی ہے جو اس دنیا میں بدلتی ہوئی خواہشات کی بندگی کرتے ہیں اور جن میں ہر وقت اضطراب رہتا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اپنے دین حق پر قائم رہیں جو دین فطرت ہے۔ جو مضبوط دین ہے اور اس دین اور لوگوں کی فطرت کے درمیان مکمل موافقت ہے ، کیونکہ فطرت کا خالق اور لوگوں کا خالق اور اس دین کا شارع ایک ہے۔ یہ وہ واحد اور نظریہ اور طرز عمل ہے جو صراط مستقیم پر لے جاتا ہے۔ اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا۔ جس طرح کفار کی راہیں ہر وقت بدلتی رہتی ہیں۔ ہر روز کی خواہشات کے لیے ایک نیا دین ہوتا ہے۔

اردو ترجمہ

پس (اے نبیؐ، اور نبیؐ کے پیروؤں) یک سُو ہو کر اپنا رُخ اِس دین کی سمت میں جما دو، قائم ہو جاؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی، یہی بالکل راست اور درست دین ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faaqim wajhaka lilddeeni haneefan fitrata Allahi allatee fatara alnnasa AAalayha la tabdeela likhalqi Allahi thalika alddeenu alqayyimu walakinna akthara alnnasi la yaAAlamoona

فاقم وجھک للدین ۔۔۔۔۔ کل حزب بما لدیھم فرحون (30 – 32)

” ۔ “۔ یہ ہدایت نہایت بروقت آتی ہے کہ اپنی توجہات اس دین کی طرف کر دو ۔ یہ ہدایت اس وقت آتی ہے جب قرآن نے انسانی فکر کو اس کائنات کی ماہیت ، اس کائنات کے مناظر ، نفس انسانی کی گہرائیوں اور اس کی فطرت کے نشیب و فراز میں خوب گھمایا اور دوڑایا۔ اس سیر اور مطالعہ کے بعد سلیم الفطرت ذہن تسلیم کرنے اور استقبال حق کے لیے تیار ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت کہ تم لوگ اپنے چہرے کو دین ضعیف کی طرف پھیر دو ، بہت بروقت ہدایت ہے۔ اس کے مقابلے میں منحرفین اور مکذبین کی حالت یہ ہے کہ ان کے سامنے عقل و خرد اور دلیل وبرہان کے تمام ہتھیار کند ہوگئے اور انہوں نے مان کردینے سے صاف صاف انکار کردیا۔ باوجود اس کے کہ یہ ان کے پاس کوئی دلیل اور حجت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ دلیل اور برہان اور لاجواب انداز گفتگو جس کے ذریعہ قرآن کریم حق کو پیش کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں کوئی عقل ٹھہر نہیں سکتی اور نہ فطرت سلیمہ انکار کرسکتی ہے۔

فاقم وجھک للذین حنیفا (30: 30) ” پس یکسو ہو کر اپنا رخ اس دین کی سمت میں جمادو “۔ اور سیدھے سیدھے اس دین کی طرف متوجہ ہوجاؤ۔ کیونکہ یہی دین ایسا ہے جو انسان کو متفرق خواہشات سے بچا سکتا ہے ان خواہشات کی پشت پر حق بالعموم نہیں ہوتا۔ یہ علم اور تحقیق پر مبنی نہیں ہوتیں۔ یہ محض طبیعی شہوت اور مادی میلانات پر مبنی ہوتی ہیں اور ان کی پشت پر کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ لہٰذا تمام سمتوں کو چھوڑ کر دین اسلام کی سمت اختیار کرلو۔ سیدھے سیدھے۔ اس کے سوا تمام سمتوں کو پس پشت ڈال دو ۔

فطرت اللہ ۔۔۔۔۔ لخلق اللہ (30: 30) ” اس فطرت پر جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی “۔ یوں یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ فطرت انسانی اور اس دین کے اندر گہرا ربط ہے۔ یعنی دونوں اللہ کی مصنوعات و تخلیقات ہیں۔ دونوں اس ناموس کے مطابق ہیں جو اس کائنات کی روح ہے اور دونوں ایک دوسرے کے موافق اور ہم رخ اور ہم سمت ہیں۔ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا اسی نے یہ دین نازل کیا کہ یہ انسانوں کی زندگیوں میں نافذ ہو اور انسانوں کی پوری زندی اس کے مطابق چلے۔ یہ دین ہی فطرت انسانی کا علاج ہے ، اسے روحانی بیماریوں سے بچاتا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہونے نہیں دیتا۔ کیونکہ اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے۔ وہ تو نہایت باریک بین اور بہت بڑا خبردار ہے۔ جس طرح فطرت ثابت ہے اسی طرح دین بھی ثابت اور مستحکم ہے۔

لا تبدیل لخلق اللہ (30: 30) ” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدل نہیں سکتی “۔ جب نفس انسانی فطری راہ سے منحرف ہوجائے تو صرف یہی دین اسے فطرت کی راہ پر ڈال سکتا ہے کیونکہ فطرت کائنات ، فطرت انسانی اور فطرت دین ایک ہی ہیں۔

ذلک الدین ۔۔۔۔۔ لا یعلمون (30: 30) ” یہی بالکل راست اور درست دین ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں “۔ چناچہ وہ بغیر علم کے اپنی خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ اور یوں راہ راست سے بھٹک کر بہت دور چلے جاتے ہیں “۔ یہ حکم کہ اپنے چہرے کو دین قیم کی طرف کو لو اگرچہ لفظا حضور اکرم ﷺ کو ہے لیکن اس کے اندر تمام اہل ایمان بھی آتے ہیں لہٰذا

آگے کی تفصیلات میں ان کو بھی شامل کردیا گیا۔

منیبین الیہ واتقوہ ۔۔۔۔۔ بما لدیھم فرحون (30: 31 – 32) ” اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے ، اور ڈرو اس سے ، اور نماز قائم کرو ، اور نہ ہوجاؤ ان مشرکین میں سے جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے “۔ انابت سے مراد اللہ کی طرف رجوع ہے۔ زندگی کے ہر معاملے میں۔ جب انسان کے اندر اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے اور وہ حساس ہوجاتا ہے تو وہ خفیہ اور کھلے بندوں ہر معاملے میں اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے خدا کا شعور ہوتا ہے۔ پھر وہ اس شعور اور حساسیت کے اعلیٰ مقام صلوٰۃ کی طرف دوڑتا ہے۔ اس شعور سے تمام ماسوا اللہ مٹ جاتا ہے لہٰذا وہ موحد ہوجاتا ہے اور مشرکین سے جدا ہوجاتا ہے اور مشرکین کون ہوتے ہیں۔

الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا (30: 32) ” جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا اور گروہوں میں بٹ گئے “۔ شرک کے بھی کئی رنگ اور اقسام ہیں۔ بعض لوگ جنوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملائکہ کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آباؤ اجداد کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض ملوک و سلاطین کو ، بعض کاہنوں اور مولویوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پتھروں اور درختوں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض سیاروں اور ستاروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض آگ کو شریک ٹھہراتے ہیں ، بعض رات اور دن کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض جھوٹی اقدار کو شریک ٹھہراتے ہیں اور بعض خواہشات اور اغراض کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ بعض پیروں اور فقیروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ غرض شرک کی بیشمار قسمیں ہیں اور

کل حزب بما لدیھم فرحون (30: 32) جبکہ دین قیم ایک ہے ، اس میں کوئی تغیر اور تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ دین حق کے پیروکار صرف ایک اللہ ، ایک قبلہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس اللہ کی طرف جس نے ان آسمانوں کو تھام رکھا ہے۔ وہ آسمانوں کا بھی بادشاہ ہے اور زمین کا بھی اور سب اس کے مطیع فرمان ہیں۔

اردو ترجمہ

(قائم ہو جاؤ اِس بات پر) اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے، اور ڈرو اُس سے، اور نماز قائم کرو، اور نہ ہو جاؤ اُن مشرکین میں سے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Muneebeena ilayhi waittaqoohu waaqeemoo alssalata wala takoonoo mina almushrikeena

اردو ترجمہ

جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا لیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Mina allatheena farraqoo deenahum wakanoo shiyaAAan kullu hizbin bima ladayhim farihoona
407