اس صفحہ میں سورہ Ar-Room کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الروم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَإِذَا مَسَّ ٱلنَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا۟ رَبَّهُم مُّنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَآ أَذَاقَهُم مِّنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِّنْهُم بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ
لِيَكْفُرُوا۟ بِمَآ ءَاتَيْنَٰهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا۟ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ
أَمْ أَنزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا۟ بِهِۦ يُشْرِكُونَ
وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا۟ بِهَا ۖ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ
أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
فَـَٔاتِ ذَا ٱلْقُرْبَىٰ حَقَّهُۥ وَٱلْمِسْكِينَ وَٱبْنَ ٱلسَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ ۖ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُفْلِحُونَ
وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن رِّبًا لِّيَرْبُوَا۟ فِىٓ أَمْوَٰلِ ٱلنَّاسِ فَلَا يَرْبُوا۟ عِندَ ٱللَّهِ ۖ وَمَآ ءَاتَيْتُم مِّن زَكَوٰةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ ٱللَّهِ فَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُضْعِفُونَ
ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِن شُرَكَآئِكُم مَّن يَفْعَلُ مِن ذَٰلِكُم مِّن شَىْءٍ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
ظَهَرَ ٱلْفَسَادُ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى ٱلنَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ ٱلَّذِى عَمِلُوا۟ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
درس نمبر 184 نظر میں
اس سورة کا یہ سفر اور یہ باب اس کے حقیقی موضوع پر ہے۔ یعنی اس کائنات کے واقعات و حادثات اور انسانی زندگی کی اقدار و حادثات کے اندر گہرا ربط ہے۔ اس کائنات کے نوامیس قدرت ، اس زندگی کے قوانین اور اس دین کے قوانین شریعت باہم موافق ، ہم آہنگ ، مربوط اور بلا تضاد ہیں۔
اس سبق میں بتا یا جاتا ہے کہ انسانی خواہشات تو بدلتی رہتی ہیں لیکن سنت الٰہیہ کے اندر کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ دین قیم کے اصولوں کے مقابلے میں شرکیہ عقائد پائے چوبیں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پھر اس سبق میں انسانی نفس کی کیفیات کی مختلف حالات میں تصویر کشی کی گئی ہے۔ حالت امن میں نفس انسانی کی حالت کیا ہوتی اور حالت خطرہ میں کیا ہوتی ہے۔ روح کی قبض کی حالت میں وہ کیسا ہوتا ہے اور بسط کی حالت میں کیا کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک انسان اللہ کے پیمانوں کے مطابق اپنی اقدار اور تصورات کا ناپ و تول نہ کرے اس وقت تک انسانی قدروں اور اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون نہیں آسکتا۔ ہاں جب انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو اس کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کا رزق کشادہ کرتا ہے اور کسی کا تنگ کرتا ہے۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں رزق اور مال کو بڑھانے کا بھی ایک مستحکم طریقہ ہے۔ کسی طریقے سے مال بڑھتا ہے اور کس سے گھٹتا ہے۔ کس سے پاک ہوتا ہے اور کس سے ناپاک ہوتا ہے اور مالیات کا قانون بھی وہی درست اور قیم ہوگا جو دین قیم کے مطابق ہو اور اس سے ماخوذ ہو۔ اس کے بعد سامعین کو لوٹا کر اس ذات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو خالق اور رازق اور زندگی دینے والا اور مارنے والا ہے۔ اللہ کے سوا جن ہستیوں کو تم شریک ٹھہراتے ہو ، وہ تو یہ کام نہیں کرسکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر زمان و مکان میں شرک موجب فساد ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو دوبارہ یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اس راست اور درست دین پر جم جائیں۔ اور جو کچھ کمانا ہے اس دن کے آنے سے قبل ہی کما لیں جہاں کوئی عمل اور کوئی کمائ نہ ہوگی۔ وہاں تو اعمال کا حساب و کتاب ہوگا۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے ان کے لیے کیا کیا سہولیات دنیا میں پیدا کی ہیں۔ بعض چیزیں ان کی حیات مادی کے لیے ہیں ، مثلا پانی آسمانوں سے برستا ہے اور زمین زندہ اور تروتازہ ہوکر تمہارے لیے سب کچھ پیدا کرتی ہے۔ پھر سمندروں میں تمہارے لیے کشتی رانی کا سامان اور تمہاری روحانی زندگی کے لیے یہ آیات بینات ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر اتر رہی ہیں۔ جن سے دل و دماغ زندہ اور سرسبز ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ لوگ نہ ہدایت لیتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ہیں اس دنیا میں زندہ رہ کر اللہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اس دن پھر کسی سے کوئی معذرت قبول نہ ہوگی اور نہ معافی کی درخواستیں طلب ہوں گی اور آخر میں رسول اللہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھیں ، صبر کریں یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ ۔۔۔۔ بن کر سامنے آجائے۔ اللہ کا وعدہ حق الیقین ہے اور اٹل ہے۔
درس نمبر 184 تشریح آیات
33 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 60
واذا مس الناس ضر دعوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ لایت لقوم یؤمنون (33 – 37)
یہ ایک ایسے انسان کی نفسیاتی تصویر ہے جس کو پختہ رنگوں سے نہیں بنایا گیا ۔ جو مستقل اقدار حیات نہیں رکھتا اور جس کے سامنے واضح منہاج حیات نہیں ہے۔ اس شخص کا نفس وقتی انفعال اور وقتی تاثرات کے درمیان ڈول رہا ہے جو تصور ذہن میں آیا اس کی طرف لپکا۔ حادثات اور وقتی واقعات کی وجہ سے وہ بدلتا رہتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ، رب کو یاد کرتے ہیں اور اس حقیقی قوت کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کے سوا کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔ اور اس کے دربار میں گڑگڑانے کے سوا کوئی نجات نہیں ہوتی۔ اور جب مشکلات کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور سختی دور ہوجاتی ہے اور اللہ کی رحمت آجاتی ہے۔
اذا فریق منھم بربھم یشرکون (30: 33) ” تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں “۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو صحیح عقیدے کا سہارا نہیں لیتے۔ جن کی قدریں مستقل نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اللہ کی رحمتیں اور دنیا کی سہولیات ان کو ان مجبوریوں سے نکال دیتی ہیں جن کی وجہ سے ایسے لوگ اللہ کی طرف متوجہ تھے۔ وہ اچانک اپنے وہ مشکل کے دن بھول جاتے ہیں جن میں وہ خدا کو یاد کیا کرتے تھے۔ چناچہ وہ اللہ کی دی ہوئی ہدایت کی ناشکری کر کے اور اللہ کی رحمتوں کو چھوڑ کر کفر کی طرف چلے جاتے ہیں حالانکہ حالت رحمت میں خصوصاً مصیبت کے بعد رحمت میں ان کو تو شکر اور انابت الی اللہ پر جم جانا چاہئے تھا۔
ایسے لوگ رسول اللہ ﷺ کے دور میں موجود تھے ، اللہ بھی نہایت مختصر الفاظ میں جلد سے ان کو دھمکی دیتے ہیں اور ان کو یوں خطاب ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دور میں متعین افراد پش نظر ہیں۔ اس لیے خطاب کا صیغہ استعمال کیا گیا۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ یہ سخت خوفناک تہدید ہے۔ اگرچہ براہ راست نہیں ہے۔ انسان کی حالت تو یہ ہے کہ وہ ایک معمولی حاکم اور رئیس کی دھمکی سے بھی ڈرتا ہے۔ اللہ جل شانہ کی دھمکی تو بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ اللہ کے سامنے کوئی بات مشکل نہیں ہے۔ ہر بات لفظ کن سے وجود میں آجاتی ہے۔
فتمتعوا فسوف تعلمون (30: 34) ” اچھا مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا “۔ جلدی اور اختصار کے ساتھ یہ دھمکی دینے کے بعد اب ان کے اس موقف پر سخت برہمی کے ساتھ گرفت کی جاتی ہے کہ یہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کے باوجود شرک کرتے ہیں اور کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ آخر اس پر ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟
ام انزلنا ۔۔۔۔۔ بہ یشرکون (30: 35) ” کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو ، اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں “۔ اس لیے کہ کسی شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنے عقائد و نظریات اللہ کے سوا کسی اور ماخذ سے لے۔ کیا ہم نے کوئی دلیل شرک پر نازل کی ہے ؟ نہیں۔ یہ سخت سرزنش اور استنکاری سوال ہے۔ نیز اس میں مزاح اور حقارت کا رنگ بھی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ان کا یہ رویہ نہایت ہی احمقانہ ہے۔ اس پر کوئی حجت اور دلیل اور سلطان نہیں ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ایک تقریری سوال بھی ہے۔ مفہوم یہ ہے کہ کوئی عقیدہ اللہ کی نازل کردہ وحی کے بغیر ثابت نہیں ہوتا جب اللہ نے شرک پر کوئی دلیل نہیں اتاری تو گویا عقیدہ شرک باطل ہے۔ بےاصل ہے ، ضعیف ہے۔
اب انسان کی ایک دوسری نفسیاتی تصویر۔ جب وہ خوش حال اور خوش وخرم ہوتا ہے تو وہ ہلکا اور مغرور ہوجاتا ہے۔
واذا اذقنا الناس ۔۔۔۔۔ ھم یقنطون (30: 36) ” جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں “۔
یہ بھی ایک ایسے شخص کی نفسیاتی تصویر ہے ، جو اپنے معاملات کی ماہیت کو ایک مستقل پیمانے کے مطابق سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ان کا رویہ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر حال میں ایک معیار اور پیمانہ ان کے سامنے رہے۔ ایسا مستقل پیمانہ کہ وہ کبھی بدلتا نہیں۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جن کی قدریں اور پیمانے مستقل اور دائمی نہیں ہوتے۔ جب اچھے دن آتے ہیں تو آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور یہ اچھے دن عطا کرنے والے کو بھول جاتے ہیں اور ہوا میں ہوتے ہیں ۔ عیش و عشرت میں غرق ہوجاتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے جو منعم حقیقی ہے اور وہ یہ بات پیش نظر نہیں رکھتے کہ اللہ کی رحمت اور خوشحالی بھی ایک امتحان ہوتا ہے لیکن جب اللہ کی مشیت ان کی اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ان پر مصیبت لاتی ہے تو پھر وہ اندھے پن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ یقین نہیں کرتے کہ یہ بھی ایک آزمائش ہے اور یہ بدحالی کی آزمائش ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد کریں اور صبر کریں کہ وہ مشکلات دور کر دے۔ اس کے بجائے وہ مایوس ہوجاتے ہیں اور واہی تواہی بکتے ہیں۔ یہ تصویر ان دلوں کی ہے ، جو اللہ سے کٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جو وہ سنن الہیہ کو جانتے ہیں نہ حکمت الہیہ ان کے سمجھ میں آتی ہے۔ یہ لوگ دراصل نہیں جانتے۔ بےعلم ہوتے ہیں ۔ یہ زندگی کے ظاہری حالات کو دیکھ کر ہی فیصلے کرتے ہیں۔
اس نفسیاتی تصویر کشی کے بعد ایک سخت تہدیدی سوال کیا جاتا ہے جس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار بھی ہے۔ ان کے اندھے پن اور بےبصیرتی پر ماتم بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوشحالی اور بدحالی دونوں اللہ کے ایک مستقل قانون قدرت کے مطابق آتی ہیں۔ ان کا تعلق سنن الہیہ اور اللہ کی مشیت سے ہے کیونکہ رحمت بھی وہی کرتا ہے اور مصیبت بھی وہی لاتا ہے۔ وہی رزق میں کشادگی کرتا ہے اور وہی تنگی کرتا ہے۔ سب کچھ اس کی حکمتوں کے تقاضے کے مطابق ہوتا ہے۔ اس جہان میں ہر وقت اس اصول کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن لوگ اندھے بن جاتے ہیں ، دیکھتے ہی نہیں۔
اولم یروا اللہ ۔۔۔۔۔ ویقدر (30: 37) ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے ، جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے “۔ لہٰذا جب رزق کشادہ ہوجائے تو تکبر اور غرور نہ کرنا چاہئے۔ پھولنا مناسب نہیں ہے اور جب رزق تنگ ہوجائے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ تو عارضی حالات ہوتے ہیں ، حکمت الہیہ کے مطابق آتے رہتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے قلب مومن تو یقین کرلیتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ سنت الہیہ اپنا کام کرتی رہتی ہے۔ اللہ کا نظام مستقل ہے۔ اس کی حکمت کے مطابق روزوشب بدلتے رہتے ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یومنون (30: 37) ” یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں “۔ چونکہ رزق کی کشادگی اور رزق کی تنگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ، وہی ہے جو دیتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے اپنی مشیت کے مطابق لہٰذا وہ تمہیں بتا دیتا ہے کہ تمہاری معیشت کی ترقی کی راہ کون سی ہے اور وہ کون سے معیشت ہے جو ترقی نہیں کرتی۔ حالانکہ لوگ اسے ترقی پذیر معیشت سمجھتے ہیں ، ہدایت ہوتی ہے۔
فات ذا القربی ۔۔۔۔۔ ھم المضعفون (38 – 39)
جب تصور یہ ہے کہ تمام دولت اللہ کی ہے اور اللہ نے اپنے بندوں میں سے بعض کو زیادہ اور بعض کو کم دے رکھی ہے۔ اس تصور کے مطابق اللہ تعالیٰ تمام اموال کا مالک اول ہے۔ تو وہ حکم دیتا ہے کہ جو لوگ نادار ہیں ان کی طرف دولت کو منتقل کیا جاتا رہنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اسے ناداروں کا حق کہا ہے۔ یہاں ان ناداروں میں بعض لوگوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
والمسکین وابن السبیل (30: 38) ” رشتہ داروں ، مسکینوں اور مسافر کو “۔ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اس میں زکوٰۃ کا تعین نہ ہوا تھا۔ نہ اس کے مستحقین کے مدات کا تعین ہوا تھا ۔ اصولاً یہ بات متعین کردی گئی تھی کہ تمام مال دراصل اللہ کی ملکیت میں ہے ، کیونکہ رازق اللہ ہے۔ محتاج لوگوں کا اس مال میں ایک حق متعین ہے اور یہ حق مال کے اصل مالک نے دیا ہے۔ یہ حق ان تک اس شخص کے واسطہ سے پہنچتا ہے جس کے ہاتھ میں مال جمع ہے۔ مال کے بارے میں اسلام کا یہ بنیادی نظریہ ہے۔ اسلام کے اقتصادی اور معاشی نظریات کی اساس یہی تصور ہے کہ اصل مالک اللہ ہے۔ جب مال اللہ کا ہے تو اللہ کی جانب سے عائد شدہ واجبات سب سے پہلے ادا ہوں گے۔ مال کے بارے میں اللہ کے احکام ملکیت ہوں۔ یا احکام ترقی اور تنبیہ ہوں یا احکام انفاق ہوں ، یہ سب لازمی احکام ہیں اور مال کا قابض آزاد نہیں ہے کہ اپنے مال میں جس طرح چاہے تصرف کرے۔
اب یہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جن کو اس نے بطور امانت یہ مال دیا ہے ، کہ تم لوگ کس طریق کار کے مطابق اس مال کو بڑھاؤ گے اور ترقی دو گے۔ بڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے رشتہ داروں ، مسافروں اور مسکینوں پر خرچ کیا جائے۔ یہ سب اللہ کے راستے میں خرچ ہوگا۔
ذلک خیر للذین ۔۔۔۔۔ ہم المفلحون (30: 38) ” یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں “۔ بعض لوگ اپنا مال بطور ہدیہ مالدار لوگوں کو دیتے تھے تاکہ وہ ہدیہ کے جواب میں زیادہ لوٹا دیں۔ دوگنا ، تین گنا ، تو اللہ نے بتایا یہ مال بڑھانے کا طریقہ نہیں ہے۔
وما اتیتم من ۔۔۔۔۔ عند اللہ (30: 39) ” اور جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے تو اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا “۔ روایات میں اس آیت کا یہی مفہوم بتایا گیا ہے لیکن قرآن کی نص عام ہے اور وہ تمام سودی معاملات اس کی زد میں آتے ہیں جن کے ذریعے سے لوگ مال بڑھاتے ہیں چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو۔ رہا کے طریق
کے مطابق مال بڑھانے کے بجائے یہ بتایا گیا کہ حقیقی ترقی کی صورت کیا ہے۔
وما اتیتم من زکوۃ ۔۔۔۔ ھم المضعفون (30: 39) ” اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی کے لیے دیتے ہو ، اس کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں “۔ یہ ہے وہ ذریعہ اور طریقہ جو مال کے بڑھانے کا یقینی طریقہ ہے۔ یعنی مال مفت عطا کرو ، کسی جوابی انعام کا انتظار نہ کرو ، کوئی معاوضہ نہ ہو۔ خالص فی سبیل اللہ اور لوجہ اللہ خرچ کرو اس لیے کہ وہی اللہ ہے جو رزق میں کشادگی عطا کرتا ہے اور وہی رزق کو تنگ کرنے والا بھی ہے۔ دینے والا اور روکنے والا وہی ہے۔ جو لوگ اللہ کے لیے خرچ کرتے ہیں وہ ان کو کئی گنا زیادہ دیتا ہے اور جو لوگ لوگوں کی خوشنودی کے لیے خرچ کرتے ہیں ، ان کے اموال میں وہ کمی کرتا ہے۔ یہ سودی کاروبار دنیا کا انتظام ہے اور وہ حساب آخرت ہے اور اس میں کئی گنا مال ملتا ہے۔ یہی نفع بخش تجارت ہے ، یہاں بھی اور وہاں بھی۔ اب رزق اور کسب کے زاویہ سے شرک کے مسئلہ کو لیا جاتا ہے ۔ موجودہ لوگوں میں شرک کے آثار اور امم سابقہ میں شرک کے آثار بتائے جاتے ہیں۔
اللہ الذی خلقکم ۔۔۔۔۔ اکثرھم مشرکین (40 – 42)
اللہ ان کی زندگی کی حقیقی صورت حال ان کے سامنے رکھتے ہیں اور ان کے ایسے حالات ان کے سامنے پیش فرماتے ہیں جن کے بارے میں انہیں شک نہیں ہے کہ ان حالات کا موجد اللہ ہے ، یا ایسے حالات جن کے بارے میں وہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان کے مزعومہ خدا اور الٰہ ان حالات کے موجد ہیں ، یا شریک ہیں ، یہ کہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا۔ وہی ہے جو تمہارا رزاق ہے ، وہی تمہیں مارتا ہے ، وہی تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ جہاں تک تخلیق کا تعلق ہے ، اس کا وہ اقرار کرتے تھے ، جہاں تک رزق کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں بھی وہ یہ دعویٰ نہ کرسکتے تھے کہ ان کے مزعومہ الٰہ ان کو رزق دیتے ہیں۔ رہا مارنا تو وہ اس بات کے سوا اور کوئی دعویٰ نہیں کرسکتے تھے کہ اللہ ہی مارنے والا ہے۔ رہا مسئلہ بعث بعد الموت کا تو اس میں وہ شک کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مسلمات کے ساتھ بعث بعد الموت کو بھی فہرست مسلمات میں پیش فرماتے ہیں تاکہ ان کا شعور جاگ اٹھے۔ اور اس طرح وہ اس کے قائل ہوجائیں۔ یہ براہ راست ان کی فطرت اور وجدان سے ہمکلامی ہے۔ اگرچہ ان کی فطری سوچ کے اندر انحراف آگیا تھا لیکن اگر فطرت کو اصل حالات پر چھوڑا جائے اور انسان فطری انداز میں سوچے تو بعث بعد الموت کے عقیدے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے بعد ان سے پوچھتے ہیں۔
ھل من شرکاء کم ۔۔۔۔۔ من شئ (30: 40) ” کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے ، جو
ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو “۔ اس سوال کے جواب کا انتظار نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ ایک ایسا سوال ہے جو تردید کے لیے ہے اور ساتھ ساتھ سرزنش بھی جس کے جواب کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ بس اس کے بعد یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ اس قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔
سبحنہ وتعلیٰ عما یشرکون (30: 40) ” اللہ پاک ہے ، بہت بالا و برتر اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں “۔
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں انسانی زندگی کی اصلاح و فساد کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے۔ جب لوگوں کے دل بگڑ جائیں ، ان کے اعمال خراب ہوں اور ان کے عقائد خراب ہوں تو اس سے نظام ارضی میں خلل پڑجاتا ہے اور خشکی اور تری دونوں اس فساد کی لپیٹ میں آجاتی ہیں۔ لوگوں کی اقدار حیات پر یہ فساد غالب آجاتا ہے۔
ظھر الفساد ۔۔۔۔۔ ایدی الناس (30: 41) ” خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے “۔ دنیا کے نظام میں فساد کا ظہور اور اس کا پھیل جانا بےمقصد نہیں ہوتا۔ اور نہ اچانک بطور اتفاق ہوجاتا ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر اور اس کے قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔
لیذیقھم بعض الذی عملوا (30: 41) ” تاکہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال گا “۔ یعنی جب وہ ایسے اعمال کر رہے ہوں جو شر و فساد کا باعث ہوں اور جب اس عمومی فساد کی لپیٹ میں وہ آجاتے ہیں اور اس کی جلن اور تپش محسوس کرتے ہیں تو امکان پیدا ہوجاتا ہے۔
لعلھم یرجعون (30: 41) ” شاید کہ وہ باز آجائیں “۔ اور عزم کرلیں کہ ہم اس فساد کا مقابلہ کریں گے اور اللہ کی طرف رجوع کرکے عمل صالح شروع کردیں گے اور زندگی کے راست اور درست نظام کو اپنا لیں گے۔ اس سبق کے آخر میں ان کو اس انجام سے ڈرایا جاتا ہے جو زمانہ ما قبل کے مشرکین کو نصیب ہوا۔ اہل مکہ ان میں سے اکثر کے انجام سے واقف بھی تھے کیونکہ وہ اپنے سفروں میں ان کے آثار دیکھا کرتے تھے۔ یہ آثار امام مبین پر تھے۔