اس صفحہ میں سورہ Ar-Room کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الروم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُم مُّشْرِكِينَ
فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ ٱلْقَيِّمِ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهُۥ مِنَ ٱللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ
مَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُۥ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَٰلِحًا فَلِأَنفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ
لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ مِن فَضْلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ
وَمِنْ ءَايَٰتِهِۦٓ أَن يُرْسِلَ ٱلرِّيَاحَ مُبَشِّرَٰتٍ وَلِيُذِيقَكُم مِّن رَّحْمَتِهِۦ وَلِتَجْرِىَ ٱلْفُلْكُ بِأَمْرِهِۦ وَلِتَبْتَغُوا۟ مِن فَضْلِهِۦ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَآءُوهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ فَٱنتَقَمْنَا مِنَ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
ٱللَّهُ ٱلَّذِى يُرْسِلُ ٱلرِّيَٰحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُۥ فِى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ يَشَآءُ وَيَجْعَلُهُۥ كِسَفًا فَتَرَى ٱلْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَٰلِهِۦ ۖ فَإِذَآ أَصَابَ بِهِۦ مَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦٓ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلِ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْهِم مِّن قَبْلِهِۦ لَمُبْلِسِينَ
فَٱنظُرْ إِلَىٰٓ ءَاثَٰرِ رَحْمَتِ ٱللَّهِ كَيْفَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
آیت 43 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ”قبل ازیں آیت 30 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ یَوْمَءِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ”اس دن تمام نسل انسانی اپنے اپنے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی۔ گویا دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔
وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ ”مَھَدَ یَمْھَدُکے معنی ہیں : زمین ہموار کرنا ‘ بستر بچھانا ‘ ساز و سامان تیار کرنا یا کمائی کرنا۔ یعنی یہ لوگ اپنے لیے فلاح کا راستہ ہموار کر رہے ہیں یا جنت میں آرام کرنے کے لیے اپنا بستر بچھا رہے ہیں اور ساز و سامان تیار کر رہے ہیں۔
وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ ”تا کہ باران رحمت برسا کر تمہیں اس کے ثمرات سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرے۔
وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ”مثلاً حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کو سیلاب کی آفت سے بچالیا گیا۔ حضرت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی بھی تباہی سے محفوظ رہے اور اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے لوگ بھی اللہ کی مدد سے عذاب کی زد میں آنے سے بچ گئے۔
وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ج ”یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔
آیت 49 وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ ”جس انسانی نفسیاتی کیفیت کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے اس کا تجربہ مصنوعی آب پاشی کے علاقوں کے لوگوں کو کم ہوتا ہے جبکہ بارانی علاقوں میں اس کے مظاہر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ اکثر اوقات جب کسانوں کی مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اچانک موسم کروٹ لیتا ہے ‘ ہوائیں اپنا رخ بدلتی ہیں ‘ فضا میں گھٹائیں نمودار ہوتی ہیں ‘ دیکھتے ہی دیکھتے خشک زمین سیراب ہوجاتی ہے اور کسان ‘ مزدور ‘ چرند ‘ پرند ‘ حشرات الارض وغیرہ سب نہال ہوجاتے ہیں۔