اب قصہ لوط کی ایک جھلک۔ دوسرے مقامات پر یہ قصہ حضرت ابراہیم کے قصے کے ساتھ آتا ہے۔
وان لوطا لمن ۔۔۔۔ افلا تعقلون (133 – 138) ”
یہ جھلک نوح (علیہ السلام) کے قصے کی جھلک کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ لوط (علیہ السلام) رسول تھے۔ ان کو اپنے اہل و عیال کے ساتھ نجات دی گئی۔ ماسوائے ان کی بیوی کے۔ اور گمراہ جھٹلانے والوں کو ہلاک کردیا گیا۔ عربوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم تو روزوشب علاقہ لوط پر سے گزرتے ہو۔ کیا تمہارے دل بیدار نہیں ہوتے اور تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ کیا یہ کھنڈرات جو کہانی سناتے ہیں۔ تم اس کی طرف کان نہیں لگاتے اور کیا تمہارے دل میں ایسے انجام کا ڈر پیدا نہیں ہوتا۔ قصص انبیاء کی یہ جھلکیاں قصہ یونس پر ختم ہوتی ہیں۔
آیت 133{ وَاِنَّ لُوْطًا لَّمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ } ”اور یقینا لوط علیہ السلام بھی رسولوں میں سے تھا۔
قوم لوط ؑ ایک عبرت کا مقام۔اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول حضرت لوط ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ انہیں بھی ان کی قوم نے جھٹلایا۔ جس پر اللہ کے عذاب ان پر برس پڑے اور اللہ نے اپنے پیارے حضرت لوط ؑ کو مع ان کے گھر والوں کے نجات دے دی۔ لیکن ان کی بیوی غارت ہوئی قوم کے ساتھ ہی ہلاک ہوئی اور ساری قوم بھی تباہ ہوئی۔ قسم قسم کے عذاب ان پر آئے اور جس جگہ وہ رہتے تھے وہاں ایک بدبو دار اور جھیل بن گئی جس کا پانی بدمزہ بدبو بد رنگ ہے جو آنے جانے والوں کے راستے میں ہی پڑی ہے۔ تم تو دن رات وہاں سے آتے جاتے رہتے ہو اور اس خوفناک منظر اور بھیانک مقام کو صبح شام دیکھتے رہتے ہو۔ کیا اس معائنہ کے بعد بھی عبرت حاصل نہیں کرتے اور سوچتے سمجھتے نہیں ہو ؟ کس طرح یہ برباد کردیئے گئے ؟ ایسا نہ ہو کہ یہی عذاب تم پر بھی آجائیں۔