سورہ الصافات: آیت 145 - ۞ فنبذناه بالعراء وهو سقيم... - اردو

آیت 145 کی تفسیر, سورہ الصافات

۞ فَنَبَذْنَٰهُ بِٱلْعَرَآءِ وَهُوَ سَقِيمٌ

اردو ترجمہ

آخرکار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fanabathnahu bialAAarai wahuwa saqeemun

آیت 145 کی تفسیر

آیت 145{ فَنَـبَذْنٰـہُ بِالْعَرَآئِ وَہُوَ سَقِیْمٌ} ”تو ہم نے ڈال دیا اسے ایک چٹیل میدان میں اور وہ خستہ حالت میں تھا۔“ اس تسبیح اور استغفار آیت کریمہ کے ورد کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو اس مصیبت سے نجات دی اور اللہ کے حکم سے مچھلی نے آپ علیہ السلام کو ساحل پر اگل دیا۔ لیکن مچھلی کے معدے میں رہنے اور اس کے معدے میں موجود انہضامی رطوبتوں digestive juices کے اثرات کے باعث آپ علیہ السلام کی حالت بہت خستہ سقیم ہوچکی تھی۔

آیت 145 - سورہ الصافات: (۞ فنبذناه بالعراء وهو سقيم...) - اردو