سورہ صف: آیت 8 - يريدون ليطفئوا نور الله بأفواههم... - اردو

آیت 8 کی تفسیر, سورہ صف

يُرِيدُونَ لِيُطْفِـُٔوا۟ نُورَ ٱللَّهِ بِأَفْوَٰهِهِمْ وَٱللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْكَٰفِرُونَ

اردو ترجمہ

یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پوا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yureedoona liyutfioo noora Allahi biafwahihim waAllahu mutimmu noorihi walaw kariha alkafiroona

آیت 8 کی تفسیر

یریدون ................ الکفرون (16 : 8) ” یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ قرآن کی یہ آیت اس عظیم حقیقت کا اظہار کررہی ہے۔ اور اس حقیقت کو ایک ایسی تصویر انداز میں پیش کیا گیا جس سے انسانکو ان لوگوں کی حالت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے وہ اپنے منہ سے یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ کھلاجادو ہے ، اور اس کے خلاف یہ سازشیں کرتے تھے اور خفیہ منصوبے بنا کر اسے ختم کرنا چاہتے تھے اور اس جدید دین کا قصہ ہی تمام کرنا چاہتے تھے ، اس لئے اللہ نے ان کے منصوبوں کے مقابلے میں ان کی یہ مایوس کن تصویر کھینچی کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ کا نور اور یہ ضعیف اور حقیر ! !

واللہ .................... الکفرون (16 : 8) ؟ ؟ اور اللہ اپنے نور کو پوری طرح پھیلا کررہے گا ، اگر یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے “۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوا۔ اللہ نے نبی ﷺ کی زندگی میں اپنے نور کو پوری طرح پھیلادیا۔ اس نے ایک اسلامی جماعت ، نہایت ہی زندہ وتابندہ اسلامی جماعت کھڑی کردی۔ اور اسے اسلامی نظام زندگی نہایت ہی واضح نشانات کے ساتھ دیا۔ اور اس کے حدود اور قیود متعین کیے۔ نسلوں تک یہ نظریہ لوگوں کی عملی زندگی میں زندہ اور متحرک رہا ، صرف کتابوں میں نہیں ، اللہ نے اسے عالم واقعہ میں غالب کیا۔ اللہ پاک نے اس نور کو مکمل کیا ، مسلمانوں کا دین مکمل ہوا ، مسلمانوں پر اپنی نعمتوں کو تمام کیا۔ اور ان کے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ ان کے لئے اس دین کو محبوب بنادیا ، وہ اس کے لئے لڑتے رہے ، حالت یوں ہوگئی کہ اگر کسی مسلمان کو آگ میں ڈال دیاجائے تو وہ اسے پسند کرے گا مگر کفر کی طرف لوٹنا پسند نہ کرتا تھا۔ چناچہ دین کی صورت لوگوں کے دلوں میں مکمل ہوگئی۔ اور آپ کے بعد بھی یہ صورت حال کبھی کبھی پیدا ہوتی رہی ہے اور قائم رہی ہے۔ باوجود کہ اس کے کہ ہر طرف سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ، حملے اور پکڑ دھکڑ شروع ہے۔ باوجود ہر طرف کے حملوں کے اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے اس لئے کہ اسلام اللہ کا نور ہے اور اللہ کے نور کو انسانی کوششیں ختم نہیں کرسکتیں۔ نہ آگ اور لوہا اس کو ختم کرسکتا ہے۔ اگرچہ عالم اسلام کے مصنوعی لیڈر جو یہودیہوں اور نصرانیوں کے خود ساختہ لیڈر ہیں۔ بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کو ختم کردیا ہے اور اس کا نور بجھا دیا ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ نور خدا پھیل جائے اور دین غالب ہو۔

یہ آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ سورة التوبہ میں اس طرح آئی ہے :{ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ۔ } ”یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ کی پھونکوں سے اور اللہ کو ہر گز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے ‘ چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔“ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھانے کے استعارے میں یہود مدینہ کی ان بودی کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اس وقت کر رہے تھے۔ یعنی وہ سامنے آکر براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈا کرتے ‘ افواہیں اڑاتے ‘ درپردہ سازشوں کے جال بنتے رہتے ‘ کبھی قریش کے پاس جاتے کہ تم مدینہ پر حملہ کرو اور کبھی کسی دوسرے قبیلے کو سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کے خلاف ابھارتے۔ سورة الحشر میں ان کی بزدلی اور اندرونی کمزوری کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { لاَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } آیت 14 کہ یہ لوگ کھلے میدان میں اکٹھے ہو کر تمہارا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتے ‘ ہاں چھپ چھپا کر دیواروں کی اوٹ سے وہ تم پر ضرور وار کریں گے۔ مولانا ظفر علی خاں نے اس آیت کے مضمون کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے : ؎نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ! یہاں یہ اصولی نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس آیت اور اس مضمون کی حامل قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مفہوم کا دائرہ صرف حضور ﷺ کے زمانے کے یہودیوں اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں تک ہی محدود نہیں ‘ بلکہ ان میں تاقیامِ قیامت ہر زمانے کے یہودیوں اور ان کی ان سازشوں کا ذکر ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ موجودہ دور میں اگرچہ یہ لوگ پوری عیسائی دنیا کو اپنی مٹھی میں لے کر عالم اسلام کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں ‘ مگر قرائن بتاتے ہیں کہ ان کے فیصلے کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کے مطابق اللہ کے نور کا اتمام یعنی روئے ارضی پر دین اسلام کا غلبہ تو ایک طے شدہ امر ہے۔ اس کے لیے قیامت سے پہلے دنیا کو ایک انتہائی خوفناک جنگ کا سامنا کرنا ہے۔ اس جنگ میں یہودی اور عیسائی مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔ احادیث میں اس جنگ کو الَمْلَحْمَۃُ الْعُظْمٰیکا نام دیا گیا ہے ‘ جبکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اصطلاح میں اسے ”ہرمجدون“ Armageddon کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یہودی مکمل طور پر نیست و نابود ہوجائیں گے اور اسلام واحد طاقت کے طور پر پوری دنیا پر غالب آجائے گا۔ یہ ہے آیت کے الفاظ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ کے مفہوم کا خلاصہ جس کی تفصیل ہمیں احادیث میں ملتی ہے۔

آیت 8 - سورہ صف: (يريدون ليطفئوا نور الله بأفواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون...) - اردو