وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان ہر مذہب و ملت کے تصور کے مطابق برائی گمرایہ اور ضلالت کی دعوت دیتا ہے۔
پھر شیطانی قوتوں کے اندر یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ قرآن نازل کرسکیں۔ اللہ کی جانب سینزول وحی اور قرآن کا انتظام نہایت محفوظ ہے۔ اس کو تو روح الامین ، رب العالمین کے حکم سے نہایت حفاظت اور امانت و دیانت سے لاتے ہیں۔
اب روئے سخن حضور اکرم کی طرف پھرجاتا ہے۔ آپ کو شرک سے ڈرایا جاتا ہے حالانکہ حضور اکرم ﷺ سے شرک کا وقوع ایک مستبعد امر ہے۔ دراصل حضور کو کہہ کرامت کو لایا جاتا ہے اور آپ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ اپنے قریبی لوگوں کو ڈرائیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ ہمیشہ آپ کی نگرانی اور نگہبانی کرتا ہے۔
آیت 210 وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ”عربوں کے ہاں عام لوگ شاعروں کے بارے میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے قابو میں جن ہوتے ہیں جو ان کو نئی نئی اور اچھی اچھی باتیں اشعار کی شکل میں جوڑ جوڑ کردیتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو بعض مشرکین نے اس کے بارے میں بھی کہنا شروع کردیا کہ اسے شیاطینِ جن نازل کر رہے ہیں۔
یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ جہاں اس کے اہل نہیں وہاں ان میں اس کو اٹھانے اور لانے کی طاقت بھی نہیں۔ یہ تو وہ ذی عزت والا کام ہے کہ اگر کسی بڑے سے بڑے پہاڑ بھی اترے تو اس کو بھی چکنا چور کردے۔ پھر تیسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ تو اس کے نزول کے وقت ہٹادئیے گئے تھے انہیں تو سننا بھی نہیں ملا۔ تمام آسمان پر سخت پہرہ چوکی تھی یہ سننے کے لئے چڑھتے تھے تو ان پر آگ برسائی جاتی تھیں۔ اس کا ایک حرف سن لینا بھی ان کی طاقت سے باہر تھا۔ تاکہ اللہ کا کلام محفوظ طریقے پر اس کے نبی ﷺ کو پہنچے اور آپ کی وساطت سے مخلوق الٰہی کو پہنچے۔ جیسے سورة جن میں خود جنات کا مقولہ بیان ہوا ہے کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے سخت پہر چوکی سے بھر پور پایا اور جگہ جگہ شعلے متعین پائے پہلے تو ہم بیٹھ کر اکا دکا بات اڑا لایا کرتے تھے لیکن اب تو کان لگاتے ہی شعلہ لپکتا ہے اور جلاکر بھسم کردیتا ہے۔