الذی خلقنی فھو ……یوم الدین (82)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہاں اپنے رب کی جو حمد کی ہے اور اس میں وہ تفصیلات تک چلے گئے ہیں اور تصویر کشی کی ہے ، اس سے ہمیں یہ شعور ملتا ہے کہ آپ اپنی پوری شخصیت کے ساتھ معرفت رب میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کی پوری شخصیت کا خدا کے ساتھ رابطہ تھا۔ وہ نہایت ہی محبت سے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور حضرت اپنے رب کی حمد اس طرح کرتے تھے کہ گویا وہ اللہ کو دیکھ رہے ہوں اور وہ اپنے تمام احساسات ، تمام شعور اور وجدان کے ساتھ اور اپنے تمام اعضاء کے ساتھ اللہ کے فضل و کرم کو پا رہے تھے۔ قرآن کریم نے حضرت ابراہیم اور رب العالمین کے تعلق کو جس قدر دھیمے نغمے کے ساتھ یہاں بیان کیا ہے اس سے اس تعلق کی فضا ، اس کے آثار اور پر تو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ میٹھا اور نرم نغمہ اور طویل اور وسیع اثرات۔
الذی خلقنی فھو یھدین (26 : 88) ” جس نے مجھے پیدا کیا پھر وہی میری راہنمائی فرماتا ہے۔ “ اس نے مجھے پیدا کیا ، وہی جانتا ہے اور میں نہیں جانتا کہ کہاں کہاں سے اجزائے جسم جمع ہوئے۔ میری ماہیت اور میری تشکیل سے وہی باخبر ہے۔ میرے فرئاض اور میرے شعور کی باریکیوں سے بھی وہی باخبر ہے۔ میرے مال اور میرے متال سیب ھی وہی خبردار ہے۔ فھو یھدین (26 : 88) ’ پھر وہی تو ہم جو میری راہنمائی فرماتا ہے۔ ‘ اپنی طرف راہنمائی جس راہ پر مجھے چلنا ہے اس کی نشاندہی ، جس نظام کے مطباق مجھے زندگی بسر کرنی ہے۔ اس کی نشاندہی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ احساس دے رہے ہیں کہ وہ اس طرح ہیں جس طرح پگھلا ہوا مادہ اس سے صانع ہو چاہتا ، بنا لیتا ہے۔ جس شکل و صورت میں چاہتا ہے مصنوعات تیار کرلیتا ہے یہ ہے مکمل اطاعت ، مکمل سپردگی ، مکمل اطمینان ، راحت ، سکون اور اعتماد ذات باری پر۔
والذی ھو یطمعنی ویسقین (26 : 89) و اذا مرضت فھو یشفین (26 : 8) ” جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی شفا دیتا ہے۔ “ یہ براہ راست کفالت ہے ، گہری شفقت ہے ، ساتھ رہنے والی محبت ہے اس کا احساس ابراہیم ہی کرسکتے ہیں۔ صحت میں اور مضر میں حضرت میں اور سفر میں ، ہر حال میں بلند آداب نبوت کے ساتھ ہو جانتے ہیں کہ مرض بھی تو اللہ کی مشیت سے آتی ہے۔ نہیں ، وہ اس کو اللہ کی طرف منسوب نہیں کرتے حالانکہ مرض و شفا دونوں اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن مرضت فھو یشفین (26 : 80) میں گہرا احترام محلوظ ہے۔ کرم کا مقام یطعمنی ویسقین (26 : 89) اور یشفین لکین ابتلا میں نعش کا اسناد خود اپنی طرف کرتے ہیں۔ یہ ہے مقام ابراہیم۔
والذین یمتنی ثم یحیین (26 : 81) ” جو مجھے موت دے گا اور دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ ہر مسلمان کا یہ ایمان ہے کہ موت کا فیصلہ اللہ کرتا ہے اور پھر ایک دن حساب و کتاب کے لئے اللہ ہی اٹھائے گا لہٰذا یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے ۔
والذین اطمع ان یغفرلی ……یوم الدین (26 : 82) ” اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ روز جزاء میں میری خطا معاف فرمائے گا۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نبی اور رسول ہیں ان کی منتہائے آرزو ہے کہ اللہ قیامت کے دن ان کی خطائیں معاف کر دے ، حالانکہ وہ پوری طرح عارف باللہ ہیں۔ وہ اللہ کی ذات کا گہرا شعور رکھتے ہیں اور ان کے نفس کی گہرائیوں میں رب کی معرفت رچی بسی ہے۔ وہ اپنے نفس کو پاک و صاف تصور نہیں کرتے۔ اس معرفت اور قرب کے ساتھ پھر بھی ڈرتے ہیں کہ ان سے کوئی خطا ہوئی ہو ، وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں کرتے نہ وہ اپنے اعمال کی اساس پر اپنے آپ کو مستحق نجات کہتے ہیں۔ وہ فضل ربی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اللہ کی رحمت کے طلبگار ہیں اور یہ رحمت خداوندی ہے جس کے وہ امیدوار ہیں کہ عفو و درگزر ہوگا اور تب ان کی نجات ہوگی۔
تقویٰ اور خدا خوفی کا یہ پیغمبرانہ شعور ہے ، ادب و احترام پر مبنی شعور ہے ، نہایت احتیاط کا انداز ہے۔ اللہ کی عظمتوں اور اللہ کے انعامات کا یہ حقیقی شعور ہے۔ اس شعو کے مطابق عمل کی قیمت بہت ہی کم ہے اور مغفرت کی قیمت زیادہ ہے۔
یوں ذات باری کے بارے میں حضرت ابراہیم اپنے عقائد کے بنیادی عناصر ترکیبی یہاں بیان کرتے ہیں کہ رب العالمین وحدہ لاشریک ہے ، زمین پر انسان کی زنگدی کے چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی اللہ رب العالمین متصرف ہے۔ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب میں صرف فضل الٰہی بندے کو بچا سکتا ہے۔ اعمال کے اعتبار سے بندہ و تقصیر ہی ہوتا ہے اور وہ یہ باتیں ہیں کہ مشرکین اور ارباہیم کی قوم ان کی منکر ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی ابراہیم جو نہایت ہی حلیم الطبع اور اللہ کے سامنے گریہ و بکا کرنے والے ہیں وہ نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ اپنی دعا کو آگے بڑھاتے ہیں۔
خلیل اللہ کی تعریف حضرت خلیل اللہ ؑ اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے لیکن خلیل اللہ ؑ کا کمال ادب دیکھئے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفا کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضا وقدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورة فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام و ہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کردیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کردی ہے۔ سورة جن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہو جہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے ؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفا پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت وحیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتدا اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔