اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جھکے جا رہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کر کن آنکھیوں سے دیکھیں گے اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کار وہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا خبردار رہو، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے
انگریزی ٹرانسلیٹریشن
Watarahum yuAAradoona AAalayha khashiAAeena mina alththulli yanthuroona min tarfin khafiyyin waqala allatheena amanoo inna alkhasireena allatheena khasiroo anfusahum waahleehim yawma alqiyamati ala inna alththalimeena fee AAathabin muqeemin
آیت 45 کی تفسیر
آیت 45 { وَتَرٰٹہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ } ”اور تم دیکھو گے انہیں کہ وہ پیش کیے جائیں گے اس جہنم پر ‘ نگاہیں زمین میں گاڑے ہوں گے ذلت کی وجہ سے ‘ دیکھ رہے ہوں گے کن انکھیوں سے۔“ اسی کیفیت میں وہ لوگ ایک دوسرے سے گفتگو کر رہے ہوں گے۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَہْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ } ”اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے کہ واقعتا تباہ و برباد ہونے والے تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو قیامت کے دن خسارے میں مبتلا کیا۔“ { اَلَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ } ”آگاہ ہو جائو ! یہ ظالم تو ہمیشہ قائم رہنے والے عذاب میں رہیں گے۔“