اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔
اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین اہل مدینہ اور ارد گرد کی آبادی میں اب بھی موجود ہیں۔ اس قسم کے منافقین کی سازشون اور نیش زنیوں سے حضور اور اہل ایمان مطمئن ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف حضور کو فرماتے ہیں کہ آپ کے علم میں ان کی ریشہ دوانیاں نہیں ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کو بھی سخت تنبیہہ کردی جاتی ہے کہ وہ اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ ان کی مکاری اور ہوشیاری اور شاطرانہ چالیں اللہ کے مقابلے میں کارگر نہیں ، اللہ ان کو اس دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و خوار کرے گا جبکہ آخرت میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔
لا تعلمھم نحن نعلمہم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم " تم انہیں نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ دنیا میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا ؟ قریب الفہم مفہوم یہ ہے کہ ایک تو ان کو اس بات پر سخت قلق ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کی شاطرانہ چالوں کے باوجود ان کی حقیقت لوگوں پر واضح کردی گئی اور دوسرا عذاب یہ کہ ان کی موت اس حالت میں آئے گی کہ ان کو روح کو سختی سے قبض کیا جائے گا اور قبض روح کی حالت میں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں رسید کی جائیں گی یا یہ عذاب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو فتح پر فتح نصیب ہو رہی ہے اور وہ دل ہی دل میں جلتے ہیں اور دوسرا عذاب یہ کہ یہ لوگ ہر وقت اس ڈر میں رہتے ہیں کہ ان کی حالت کا انکشاف مسلمانوں پر نہ ہوجائے اور یہ کہ وہ عمل جہاد کا نشانہ نہ بن جائیں۔
یہ تو تھے دو انتہائی معیار اور ان کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بین بین ہیں۔
آیت 101 وَمِمَّنْ حَوْلَکُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ط وَمِنْ اَہْلِ الْمَدِیْنَۃِقف مَرَدُوْا عَلَی النِّفَاقِ قف یہ وہ لوگ ہیں جن کے نفاق کا مرض اب آخری مرحلے میں پہنچ کر لا علاج ہوچکا ہے اور اب اس مرض سے ان کے شفایاب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ منافقت کے مرض کی بھی ٹی بی کی طرح تین stages ہوتی ہیں۔ جھوٹے بہانے بنانا اس مرض کی ابتدا ہے ‘ جبکہ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانا دوسری سٹیج کی علامت ہے ‘ اور جب یہ مرض تیسری اور آخری سٹیج میں پہنچتا ہے تو اس کی واضح علامت منافقین کی اہل ایمان کے ساتھ ضد اور دشمنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اہل ایمان تو دین کے تمام مطالبات خوشی خوشی پورے کرتے ہیں ‘ جس مہم سے بچنے کے لیے منافقین بہانے تراشنے میں مصروف ہوتے ہیں اہل ایمان بلا حیل و حجت اس کے لیے دل و جان سے حاضر ہوجاتے ہیں۔ مؤمنین صادقین کا یہ رویہ منافقین کے لیے ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا ‘ جس کے باعث آئے دن ان کی سبکی ہوتی ہے اور آئے دن ان کی منافقت کا پول کھلتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین کو مسلمانوں سے نفرت اور عداوت ہوجاتی ہے اور یہی اس مرض کی آخری سٹیج ہے۔لاَ تَعْلَمُہُمْ ط نَحْنُ نَعْلَمُہُمْط سَنُعَذِّبُہُمْ مَّرَّتَیْنِ منافقین مدینہ تو ہر روز نئے عذاب سے گزرتے تھے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں اللہ کی راہ میں نکلنے کا مطالبہ ہوتا تھا اور ہر روز انہیں جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ‘ جھوٹے بہانے بنا بنا کر جان چھڑانا پڑتی تھی۔ اس لحاظ سے ان کی زندگی مسلسل عذاب میں تھی۔ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیْمٍ دنیا کا عذاب جتنا بھی ہو آخرت کے عذاب کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا دنیا کے عذاب جھیلتے جھیلتے ایک دن انہیں بہت بڑے عذاب کا سامنا کرنے کے لیے پیش ہونا پڑے گا۔ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ ‘ ان کے متبعین اور پھر منافقین کے ذکر کے بعد اب کچھ ایسے لوگوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو ان دونوں انتہاؤں کے درمیان ہیں۔ ان لوگوں کا ذکر بھی دو الگ الگ درجوں میں ہوا ہے۔ ان میں پہلے جس گروہ کا ذکر آ رہا ہے وہ اگرچہ مخلص مسلمان تھے مگر ان میں ہمت کی کمی تھی۔ چلنا بھی چاہتے تھے مگر چل نہیں پاتے تھے۔ کسی قدر چلتے بھی تھے مگر کبھی کوتاہی بھی ہوجاتی تھی۔ ہمت کر کے آگے بڑھتے تھے لیکن کبھی کسل مندی اور سستی کا غلبہ بھی ہوجاتا تھا۔
منافقت کے خوگر شہری اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلوات اللہ وسلامہ علیہ کو بتلاتا ہے کہ " مدینے کے اردگرد رہنے والے گنواروں میں اور خود اہل مدینہ میں بہت سے منافق ہیں۔ جو برابر اپنے نفاق کے خوگر ہوچکے ہیں "۔ تمرد فلان علی اللہ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی اللہ تعالیٰ کے سامنے سرکشی اور نافرمانی کرے۔ پھر فرماتا ہے کہ تم تو انہیں جانتے نہیں ہم جانتے ہیں۔ اور آیت میں ہے ـ" اگر ہم چاہیں تو تجھے اور ان کو دکھا دیں اور تو ان کی علامات اور چہروں سے انہیں پہچان لے۔ یقینا تو انہیں انکی باتوں کے لب و لہجے سے جان لے گا۔ " غرض ان دونوں آیتوں میں کوئی فرق نہ سمجھنا چاہیے۔ نشانیوں سے پہچان لینا اور بات ہے اور اللہ کی طرف کا قطعی علم کہ فلاں فلاں منافق ہے اور چیز ہے پس بعض منافق لوگوں کی منافقت حضرت محمد ﷺ پر کھل گئی تھی مگر آپ ﷺ کا تمام منافقوں کو جاننا ممکن نہیں تھا۔ آپ ﷺ تو صرف انتا جانتے تھے کہ مدینے میں بعض منافق ہیں۔ صبح وشام وہ دربار رسالت میں حاضر رہا کرتے تھے اور آپ ﷺ کی نگاہوں کے سامنے تھے۔ اس قول کی صحت مسند احمد کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ حضرت جبیر بن مطعم ؓ نے ایک مرتبہ آپ ﷺ سے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ مکہ کا ہمارا کوئی اجر نہیں۔ آپ نے فرمایا تمہارے پاس تمہارے اجر آہی جائیں گے گو تم لومڑی کے بھٹ میں ہو۔ پھر آپ نے ان کے کان سے اپنا منہ لگا کر فرمایا کہ میرے ان ساتھیوں میں بھی منافق ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ بعض منافق غلط سلط باتیں بک دیا کرتے ہیں، یہ بھی ایسی ہی بات ہے۔ (وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا ۚ وَمَا نَقَمُوْٓا اِلَّآ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ ۚ فَاِنْ يَّتُوْبُوْا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَاِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِـــيْمًا ۙ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَمَا لَهُمْ فِي الْاَرْضِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ 74) 9۔ التوبہ :74) کی تفسیر میں ہم کہہ آئے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حذیفہ ؓ کو بارہ یا پندرہ منافقوں کے نام بتائے تھے۔ پس اس سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ایک ایک کر کے تمام منافقوں کا آپ ﷺ کو علم تھا۔ نہیں بلکہ چند مخصوص لوگوں کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم کرا دیا تھا واللہ اعلم۔ ابن عساکر میں ہے کہ " حرملہ نامی ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا ایمان تو یہاں ہے اور اپنی زبان کی طرف اشارہ کیا۔ اور نفاق یہاں ہے اور ہاتھ سے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا اور نہیں ذکر کیا اللہ کا مگر تھوڑا۔ پس رسول اللہ ﷺ نے دعا کی اے اللہ اسے ذکر کرنے والی زبان، شکر کرنے والا دل دے اور اسے میری اور مجھ سے محبت رکھنے والوں کی محبت عنایت فرما اور اس کے کام کا انجام بخیر کر۔ اب تو وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ میرے ساتھی اور بھی ہیں جن کا میں سردار تھا، وہ سب بھی منافق ہیں اگر اجازت ہو تو انہیں بھی لے آؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا سنو جو ہمارے پاس آئے گا ہم اسکے لئے استغفار کریں گے اور جو اپنے دین (نفاق) پر اڑا رہے گا اللہ ہی اس کے ساتھ اولیٰ ہے۔ تم کسی کی پردہ دری نہ کروـ"۔ حضرت قتادہ ؒ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ تکلف سے اوروں کا حال بیان کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ فلاں جنتی ہے اور فلاں دوزخی ہے۔ اس سے خود اس کی حالت پوچھو تو یہی کہے گا کہ میں نہیں جانتا۔ حالانکہ انسان اپنی حالت سے بہ نسبت اوروں کی حالت کے زیادہ عالم ہوتا ہے۔ یہ لوگ وہ تکلف کرتے ہیں جو نکلف انبیاء (علیہم السلام) نے بھی نہیں کیا۔ نبی اللہ حضرت نوح ؑ کا قول ہے وما علمی بماکانا یعملون ان کے اعمال کا مجھے علم نہیں۔ نبی اللہ حضرت شعیب ؑ فرماتے ہیں (وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيْظٍ01004) 6۔ الانعام :104) میں تم پر کوئی نگہبان نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے (لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ01001ۚ) 9۔ التوبہ :101) تو انہیں نہیں جانتا ہم ہی جانتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جمعہ کے خطبے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے فلاں تو نکل جا تو منافق ہے اور اے فلاں تو بھی یہاں سے چلا جا تو منافق ہے۔ پس بہت سے لوگوں کو آپ ﷺ نے مسجد سے چلے جانے کا حکم فرمایا۔ ان کا نفاق مسلمانوں پر کھل گیا یہ پورے رسوا ہوئے۔ یہ تو مسجد سے نکل کر جا رہے تھے اور حضرت عمر بن خطاب ؓ آ رہے تھے۔ آپ ان سے ذرا کترا گئے یہ سمجھ کر کہ شاید نماز ہوچکی اور یہ لوگ فارغ ہو کر جا رہے ہیں اور میں غیر حاضر رہ گیا۔ اور وہ لوگ بھی آپ سے شرمائے یہ سمجھ کر کہ ان پر بھی ہمارا حال کھل گیا ہوگا۔ اب مسجد میں آکر دیکھا کہ ابھی نماز تو ہوئی نہیں۔ تو ایک شخص نے آپ کو کہا لیجئے خوش ہوجائیے۔ آج اللہ نے منافقوں کو خوب شرمندہ و رسوا کیا۔ یہ تو تھا پہلا عذاب جبکہ حضور ﷺ نے انہیں مسجد سے نکلوا دیا۔ اور دوسرا عذاب عذاب قبر ہے۔ دو مرتبہ کے عذاب سے مجاہد کی نزدیک مراد قتل و قید ہے۔ اور روایت میں بھوک اور قبر کا عذاب ہے۔ ابن جریج فرماتے ہیں عذاب دنیا اور عذاب قبر مراد ہے۔ عبدالرحمن بن زید فرماتے ہیں دنیا کا عذاب تو مال واولاد ہے۔ جیسے قرآن میں ہے (فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَلَآ اَوْلَادُهُمْ ۭ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ 55) 9۔ التوبہ :55) یعنی تجھے انکامال اور انکی اولادیں اچھی نہ لگنی چاہیں اللہ کا ارادہ تو ان کی وجہ سے انہیں دنیا میں عذاب دینا ہے "۔ پس یہ مصیبتیں ان کے لئے عذاب ہیں ہاں مومنوں کے لئے اجر وثواب ہیں۔ اور دوسرا عذاب جہنم کا آخرت کے دن ہے۔ محمد بن اسحاق فرماتے ہیں " پہلا عذاب تو یہ کہ اسلام کے احکام بظاہر ماننے پڑے، اسکے مطابق عمل کرنا پڑا جو دلی منشا کے خلاف ہے۔ دوسرا عذاب قبر کا۔ پھر ان دونوں کے سوا دائمی جہنم کا عذاب۔ قتادہ کہتے ہیں کہ عذاب دنیا اور عذاب قبر پر عذاب عظیم کی طرف لوٹایا جانا ہے۔ " مذکور ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ کو رسول اللہ ﷺ نے پوشیدہ طور پر بارہ منافقوں کے نام بتائے تھے۔ اور فرمایا تھا کہ ان میں سے چھ کو دبیلہ کافی ہوگا جو جہنم کی آگ کا انگارا ہوگا۔ جو ان کے شانے پر ظاہر ہوگا اور سینے تک پہنچ جائے گا۔ اور چھ بری موت مریں گے۔ یہی وجہ تھی کہ جناب عمر فاروق ؓ جب دیکھتے کہ کوئی ایسا ویسا داغدار شخص مرا ہے تو انتظار کرتے کہ اس کے جنازے کی نماز حضرت حذیفہ ؓ پڑھتے ہیں یا نہیں ؟ اگر وہ پڑھتے تو آپ بھی پڑھتے ورنہ نہ پڑھتے۔ مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ نے حضرت حذیفہ ؓ سے دریافت کیا کہ کیا میں بھی ان میں ہوں ؟ انہوں نے جواب دیا نہیں آپ ان منافقوں میں نہیں۔ اور آپ کے بعد مجھے اس سے کسی پر بےخوفی نہیں۔