ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔
جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔
تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور (ﷺ) سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور (ﷺ) فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ (ﷺ) بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ (ﷺ) کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔
یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔
وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔
فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتا رہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے)
یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔
فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔
پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال پذیر ‘ حقیر چیز کو دے کر انہوں نے لازوال ‘ اعلیٰ نعمت کو لے لیا۔ اس سے بڑھ کر فائدہ کا سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔
حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے تجھ سے خریدو فروخت کی اور دونوں سودوں کا فائدہ تیرے ہی لئے کردیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے ان کو قیمت دی اور بہت زیادہ دی۔ حسن نے کہا : سنو فائدہ رساں تجارت کا پیام جس میں اللہ نے ہر مؤمن کے ساتھ خریدو فروخت کر کے اس کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بھی حسن بصری کا قول ہے کہ اللہ نے تجھے دنیا عطا کی ‘ تو کچھ دنیا دے کر جنت خرید لے۔
وذلک ھو الفوز العظیم۔ اور یہ (فروخت) ہی بڑی کامیابی ہے جس کا حصول انتہائی مقصد ہے۔
آیت 111 اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط یہ دو طرفہ سودا ہے جو ایک صاحب ایمان بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ بندہ اپنے جان و مال بیچتا ہے اور اللہ اس کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیتا ہے۔یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف جیسے جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر کافروں کو جہنم رسید کیا ‘ اور میدان احد میں ستر اہل ایمان شہید ہوگئے۔وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط یہاں بین السطور میں دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سودا اگرچہ ادھار کا سودا ہے مگر یہ ایک پختہ عہد ہے جس کو پورا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی وسوسہ تمہارے دلوں میں نہ آنے پائے۔ دراصل یہ اس سوچ کا جواب ہے جو طبع بشری کی کمزوری کے سبب انسانی ذہن میں آتی ہے۔ انسان کو بنیادی طور پر نو نقد نہ تیرہ ادھار والا فلسفہ ہی اچھا لگتا ہے کہ کامیاب سودا تو وہی ہوتا ہے جو ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو کے اصول کے مطابق ہو۔ مگر یہاں تو دنیوی زندگی میں سب کچھ قربان کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور اس کے انعام کے لیے وعدۂ فردا کا انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے کہ اس قربانی کا انعام مرنے کے بعد آخرت میں ملے گا۔ لہٰذا ایک عام انسان اس جنت موعودہ کا ہلکا سا تصور ہی اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں یقین کی پختگی تو صرف خواص کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ چناچہ اہل ایمان کو ادھار کے اس سودے پر اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس وعدے کی توثیق تین دفعہ ہوچکی ہے ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں بھی۔ وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖط وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ بَایَعْتُمْ بِہٖیعنی آپس میں جو سودا تم نے کیا۔ مبایعت باب مفاعلہ بایَعَ یُبَایِعُ آپس میں سودا کرنا ثلاثی مجرد باع یَبِیْعُ بیچنا سے ہے۔ یہیں سے لفظ بیعت نکلا ہے۔ ایک بندہ جو بیعت کرتا ہے اس میں وہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرتا ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کے ہاتھ پر صحابہ رض نے جو بیعت کی ‘ اس کا مطلب یہی تھا کہ انہوں نے خود کو اللہ کے سپرد کردیا۔ اللہ تو چونکہ سامنے موجود نہیں تھا اس لیے بظاہر یہ بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک پر ہوئی تھی ‘ مگر اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں دراصل وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں اور وقت بیعت ان کے ہاتھوں کے اوپر ایک تیسرا غیر مرئی ہاتھ اللہ کا بھی موجود ہوتا ہے۔ الفتح : 10 یہ سودا اور یہ بیع جس کا ذکر آیت زیر نظر میں ہوا ہے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ سودا کرنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں اور اپنے اموال بیچ دیں۔ اب اس سودے کے اثرات عملی طور پر جب انسانی شخصیت پر مترتب ہوں گے تو اس میں سے اعمال صالحہ کا ظہور ہوگا۔ لہٰذا اس کیفیت کا نقشہ آئندہ آیت میں کھینچا گیا ہے۔
مجاہدین کے لئے استثنائی انعامات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ مومن بندے جب راہ حق میں اپنے مال اور اپنی جانیں دیں۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اپنے فضل و کرم اور لطف و رحم سے انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ بندہ اپنی چیز جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ہی ہے اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو اس کی اطاعت گذاری سے مالک الملک خوش ہو کر اس پر اپنا اور فضل کرتا ہے سبحان اللہ کتنی زبردست اور گراں قیمت پروردگار کیسی حقیر چیز پر دیتا ہے۔ دراصل ہر مسلمان اللہ سے یہ سودا کرچکا ہے۔ اسے اختیار ہے کہ وہ اسے پورا کرے یا یونہی اپنی گردن میں لٹکائے ہوئے دنیا سے اٹھ جائے۔ اسی لئے مجاہدین جب جہاد کے لئے جاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ اسنے اللہ تعالیٰ سے بیوپار کیا۔ یعنی وہ خریدو فروخت جسے وہ پہلے سے کرچکا تھا اس نے پوری کی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے لیلۃ العقبہ میں بیعت کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو چاہیں شرط منوالیں۔ آپ نے فرمایا میں اپنے رب کے لئے تم سے یہ شرط قبول کراتا ہوں کہ اسی کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرنا۔ اور اپنے لئے تم سے اس بات کی پابندی کراتا ہوں کہ جس طرح اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو میری بھی حفاظت کرنا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے پوچھا جب ہم یونہی کریں تو ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ نے فرمایا جنت ! یہ سنتے ہی خوشی سے کہنے لگا واللہ اس سودے میں تو ہم بہت ہی نفع میں رہیں گے۔ بس اب پختہ بات ہے نہ ہم اسے توڑیں گے نہ توڑنے کی درخواست کریں گے پس یہ آیت نازل ہوئی یہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں، نہ اس کی پرواہ ہوتی ہے کہ ہم مارے جائیں گے نہ اللہ کے دشمنوں پر وار کرنے میں انہیں تامل ہوتا ہے، مرتے ہیں اور مارتے ہیں۔ ایسوں کے لئے یقینا جنت واجب ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں نکل کھڑا ہو جہاد کے لئے، رسولوں کی سچائی مان کر، اسے یا تو فوت کر کے بہشت بریں میں اللہ تبارک و تعالیٰ لے جاتا ہے یا پورے پورے اجر اور بہترین غنیمت کے ساتھ واپس اسے لوٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اپنے ذمے ضروری کرلی ہے اور اپنے رسولوں پر اپنی بہترین کتابوں میں نازل بھی فرمائی ہے۔ حضرت موسیٰ پر اتری ہوئی تورات میں، حضرت عیسیٰ پر اتری ہوئی انجیل میں اور حضرت محمد ﷺ پر اترے ہوئے قرآن میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین۔ اللہ کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ اللہ سے زیادہ وعدوں کا پورا کرنے والا اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ نہ اس سے زیادہ سچائی کسی کی باتوں میں ہوتی ہے۔ جس نے اس خریدو فروخت کو پورا کیا اس کے لئے خوشی ہے اور مبارکباد ہے، وہ کامیاب ہے اور جنتوں کی ابدی نعمتوں کا مالک ہے۔