سورہ توبہ (9): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ توبہ کے بارے میں معلومات

Surah At-Tawba
سُورَةُ التَّوۡبَةِ
صفحہ 204 (آیات 107 سے 111 تک)

وَٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًۢا بَيْنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ مِن قَبْلُ ۚ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَآ إِلَّا ٱلْحُسْنَىٰ ۖ وَٱللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَٰذِبُونَ لَا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا ۚ لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى ٱلتَّقْوَىٰ مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ ۚ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَن يَتَطَهَّرُوا۟ ۚ وَٱللَّهُ يُحِبُّ ٱلْمُطَّهِّرِينَ أَفَمَنْ أَسَّسَ بُنْيَٰنَهُۥ عَلَىٰ تَقْوَىٰ مِنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٍ خَيْرٌ أَم مَّنْ أَسَّسَ بُنْيَٰنَهُۥ عَلَىٰ شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَٱنْهَارَ بِهِۦ فِى نَارِ جَهَنَّمَ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ لَا يَزَالُ بُنْيَٰنُهُمُ ٱلَّذِى بَنَوْا۟ رِيبَةً فِى قُلُوبِهِمْ إِلَّآ أَن تَقَطَّعَ قُلُوبُهُمْ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱشْتَرَىٰ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَٰلَهُم بِأَنَّ لَهُمُ ٱلْجَنَّةَ ۚ يُقَٰتِلُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ ۖ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِى ٱلتَّوْرَىٰةِ وَٱلْإِنجِيلِ وَٱلْقُرْءَانِ ۚ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِعَهْدِهِۦ مِنَ ٱللَّهِ ۚ فَٱسْتَبْشِرُوا۟ بِبَيْعِكُمُ ٱلَّذِى بَايَعْتُم بِهِۦ ۚ وَذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
204

سورہ توبہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ توبہ کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اِس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور رسولؐ کے خلاف بر سر پیکار ہو چکا ہے وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena ittakhathoo masjidan diraran wakufran watafreeqan bayna almumineena wairsadan liman haraba Allaha warasoolahu min qablu walayahlifunna in aradna illa alhusna waAllahu yashhadu innahum lakathiboona

آیت 107 وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّکُفْرًا وَّتَفْرِیْقًام بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَاِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ مِنْ قَبْلُ ط ضِرَارًا باب مفاعلہ ہے ‘ یعنی انہوں نے مسجد بنائی ہے ضدم ضدا ‘ مقابلے میں اور دعوت حق کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ یہ مسجد منافقین نے مسجد قبا کے قریبی علاقے میں بنائی تھی۔ اس کی تعمیر کے پیچھے ابو عامر راہب کا ہا تھ تھا۔ اس شخص کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں عیسائیت قبول کر کے راہب بن گیا تھا اور عرب میں اہل کتاب کے بہت بڑے عالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ جیسا کہ ورقہ بن نوفل ‘ جو قرشی تھے اور انہوں نے بھی بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرلی تھی ‘ اور اپنے زمانے کے اتنے بڑے عالم تھے کہ تورات عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ وہ بہت نیک اور سلیم الفطرت انسان تھے۔ جب حضرت خدیجہ رض حضور ﷺ کو لے کر ان کے پاس گئیں تو انہوں نے آپ ﷺ کی تصدیق کی اور بتایا کہ آپ ﷺ کے پاس وہی ناموس آیا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آتا تھا۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی۔ حضور ﷺ نے جب حیرت سے پوچھا کہ کیا یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہاں ! معاملہ ایسا ہی ہے ‘ آپ کی دعوت کے نتیجے میں آپ کی قوم آپ کی دشمن بن جائے گی۔مگر ابو عامر راہب کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کا شدید ترین دشمن بن گیا۔ قریش مکہ کی بدر میں شکست کے بعد یہ شخص مکہ میں جا کر آباد ہوگیا اور اہل مکہ کو حضور ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہا۔ چناچہ غزوۂ احد کے پیچھے بھی اسی شخص کی سازشیں کار فرما تھیں ‘ بلکہ میدان احد میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اس نے لشکر سے باہر نکل کر انصار مدینہ کو خطاب کر کے انہیں ورغلانے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس کے بعد بھی تمام جنگوں میں یہ مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار رہا ‘ مگر حنین کی جنگ کے بعد جب اسے محسوس ہوا کہ اب جزیرہ نمائے عرب میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی تو وہ مایوس ہو کر شام چلا گیا اور وہاں جا کر بھی مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا۔ اس کے لیے اس نے منافقین مدینہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور اسی کے کہنے پر منافقین نے مسجد ضرار تعمیر کی جو نام کو تو مسجد تھی مگر حقیقت میں سازشی عناصر کی کمین گاہ اور فتنے کا ایک مرکز تھی۔ وَلَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَآ اِلاَّ الْحُسْنٰیط واللّٰہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ اب جواب طلبی پر یہ منافقین قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہماری کوئی بری نیت نہیں تھی ‘ ہمارا ارادہ تو نیکی اور بھلائی ہی کا تھا ‘ اصل میں دوسری مسجد ذرا دور پڑتی تھی جس کی وجہ سے ہم تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا نہیں کرسکتے تھے ‘ اس لیے ہم نے سوچا کہ اپنے محلے میں ایک مسجد بنا لیں تاکہ تمام نمازیں آسانی سے باجماعت ادا کرسکیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔

اردو ترجمہ

تم ہرگز اس عمارت میں کھڑے نہ ہونا جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عباد ت کے لیے) کھڑے ہو، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La taqum feehi abadan lamasjidun ossisa AAala alttaqwa min awwali yawmin ahaqqu an taqooma feehi feehi rijalun yuhibboona an yatatahharoo waAllahu yuhibbu almuttahhireena

آیت 108 لاَ تَقُمْ فِیْہِ اَبَدًا ط مسجد بنانے کے بعد یہ منافقین حضور ﷺ کے پاس یہ درخواست لے کر آئے تھے کہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف لے آئیں تو بڑی برکت ہوگی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بروقت روک دیا کہ آپ ﷺ وہاں تشریف نہ لے جائیں۔لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْہِ ط یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی تھی ‘ وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپ ﷺ اس میں کھڑے ہوں نماز پڑھیں اس سے مراد مسجد قبا ہے جو قریب ہی تھی اور جس کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے رکھی تھی۔ یہ مقام اس وقت کے مدینہ کی آبادی سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ جب آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو یہ آپ ﷺ کا پہلا پڑاؤ تھا۔ آپ ﷺ نے اس مقام پر قیام فرمایا تھا اور یہاں اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی۔فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَہَّرُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ مسجد قبا والے مسلمانوں سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کے کس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طہارت کی تعریف فرمائی ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ قضائے حاجت کے بعد ڈھیلے بھی استعمال کرتے ہیں اور پھر پانی سے بھی طہارت حاصل کرتے ہیں۔ چناچہ عام طور پر یہی سمجھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں طہارت کے اس معیار کی تعریف فرمائی ہے۔

اردو ترجمہ

پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہو یا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر پر اٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جا گری؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaman assasa bunyanahu AAala taqwa mina Allahi waridwanin khayrun am man assasa bunyanahu AAala shafa jurufin harin fainhara bihi fee nari jahannama waAllahu la yahdee alqawma alththalimeena

آیت 109 اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانْہَارَ بِہٖ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ ط یعنی جب انسان کوئی عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کسی مضبوط اور ٹھوس جگہ کا انتخاب کرتا ہے۔ اگر وہ کسی کھوکھلی جگہ پر یا کسی کھائی وغیرہ کے کنارے پر عمارت تعمیر کرے گا تو جلد یا بدیر وہ عمارت گر کر ہی رہے گی۔ دراصل یہ منافقین کی تدبیروں اور سازشوں کی مثال دی گئی ہے کہ ان کی مثال ایسی ہے جیسے وہ جہنم کی گہری کھائی کے کنارے پر اپنی عمارتیں تعمیر کر رہے ہوں ‘ چناچہ وہ کنارہ بھی گر کر رہے گا اور خود ان کو اور ان کی تعمیرات کو بھی جہنم میں گرائے گا۔

اردو ترجمہ

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے، ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑ بنی رہے گی (جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہو جائیں اللہ نہایت باخبر اور حکیم و دانا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La yazalu bunyanuhumu allathee banaw reebatan fee quloobihim illa an taqattaAAa quloobuhum waAllahu AAaleemun hakeemun

آیت 110 لاَ یَزَالُ بُنْیَانُہُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَۃً فِیْ قُلُوْبِہِمْ الآَّ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُہُمْط وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ۔ ان منافقین کے دلوں کے اندر منافقت کی جڑیں اتنی گہری جا چکی ہیں کہ اس کے اثرات کا زائل ہونا اب ممکن نہیں رہا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگر کسی کے پورے جسم میں کینسر پھیل چکا ہو تو معمولی آپریشن کرنے سے وہ ٹھیک نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ کینسر کے اثرات تو جسم کے ایک ایک ریشے میں سرایت کرچکے ہیں۔ اب اگر سارے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تب شاید اس کی جڑوں کو نکالنا ممکن ہو۔ لہٰذا ان منافقین کے دل ہمیشہ شکوک و شبہات کے اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں گے ‘ انہیں ایمان و یقین کی روشنی کبھی نصیب نہیں ہوگی ‘ اِلا یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے کردیے جائیں۔ اب اگلی دو آیات میں بہت اہم مضمون آ رہا ہے۔

اردو ترجمہ

حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha ishtara mina almumineena anfusahum waamwalahum bianna lahumu aljannata yuqatiloona fee sabeeli Allahi fayaqtuloona wayuqtaloona waAAdan AAalayhi haqqan fee alttawrati waalinjeeli waalqurani waman awfa biAAahdihi mina Allahi faistabshiroo bibayAAikumu allathee bayaAAtum bihi wathalika huwa alfawzu alAAatheemu

آیت 111 اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَاَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَ ط یہ دو طرفہ سودا ہے جو ایک صاحب ایمان بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ بندہ اپنے جان و مال بیچتا ہے اور اللہ اس کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیتا ہے۔یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَیُقْتَلُوْنَ قف جیسے جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر کافروں کو جہنم رسید کیا ‘ اور میدان احد میں ستر اہل ایمان شہید ہوگئے۔وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰٹۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْاٰنِ ط یہاں بین السطور میں دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سودا اگرچہ ادھار کا سودا ہے مگر یہ ایک پختہ عہد ہے جس کو پورا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی وسوسہ تمہارے دلوں میں نہ آنے پائے۔ دراصل یہ اس سوچ کا جواب ہے جو طبع بشری کی کمزوری کے سبب انسانی ذہن میں آتی ہے۔ انسان کو بنیادی طور پر نو نقد نہ تیرہ ادھار والا فلسفہ ہی اچھا لگتا ہے کہ کامیاب سودا تو وہی ہوتا ہے جو ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو کے اصول کے مطابق ہو۔ مگر یہاں تو دنیوی زندگی میں سب کچھ قربان کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور اس کے انعام کے لیے وعدۂ فردا کا انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے کہ اس قربانی کا انعام مرنے کے بعد آخرت میں ملے گا۔ لہٰذا ایک عام انسان اس جنت موعودہ کا ہلکا سا تصور ہی اپنے ذہن میں لاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں یقین کی پختگی تو صرف خواص کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ چناچہ اہل ایمان کو ادھار کے اس سودے پر اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس وعدے کی توثیق تین دفعہ ہوچکی ہے ‘ تورات میں ‘ انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں بھی۔ وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖط وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ بَایَعْتُمْ بِہٖیعنی آپس میں جو سودا تم نے کیا۔ مبایعت باب مفاعلہ بایَعَ یُبَایِعُ آپس میں سودا کرنا ثلاثی مجرد باع یَبِیْعُ بیچنا سے ہے۔ یہیں سے لفظ بیعت نکلا ہے۔ ایک بندہ جو بیعت کرتا ہے اس میں وہ اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرتا ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کے ہاتھ پر صحابہ رض نے جو بیعت کی ‘ اس کا مطلب یہی تھا کہ انہوں نے خود کو اللہ کے سپرد کردیا۔ اللہ تو چونکہ سامنے موجود نہیں تھا اس لیے بظاہر یہ بیعت حضور ﷺ کے ہاتھ مبارک پر ہوئی تھی ‘ مگر اللہ نے اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں دراصل وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں اور وقت بیعت ان کے ہاتھوں کے اوپر ایک تیسرا غیر مرئی ہاتھ اللہ کا بھی موجود ہوتا ہے۔ الفتح : 10 یہ سودا اور یہ بیع جس کا ذکر آیت زیر نظر میں ہوا ہے ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ سودا کرنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں اور اپنے اموال بیچ دیں۔ اب اس سودے کے اثرات عملی طور پر جب انسانی شخصیت پر مترتب ہوں گے تو اس میں سے اعمال صالحہ کا ظہور ہوگا۔ لہٰذا اس کیفیت کا نقشہ آئندہ آیت میں کھینچا گیا ہے۔

204