ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ اور نیز جو کچھ چھوٹا بڑا (راہ خدا میں) انہوں نے صرف کیا۔ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جیش عسرت کی تیاری کے موقع پر مال صرف کیا۔
ولا یقطعون وادیاً الا کتب لھم اور جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے ‘ یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں میں لکھے گئے۔ یعنی آتے جاتے جس وادی کو بھی وہ قطع کرتے ہیں ‘ اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔ وادی نالہ جس میں سیلاب کا پانی (پہاڑ سے آ کر) بہتا ہے۔ وادی اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ وَدِی (ماضی) جاری ہوگیا ‘ بہہ گیا۔ مجازاً اس سے زمین مراد ہوتی ہے ‘ اس معنی میں استعمال عام ہے۔
لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔
یعنی ان کے اچھے اعمال کی جزاء اچھے عمل سے ‘ مراد ہے جہاد۔ یا ان کے اعمال کی اچھی جزاء۔ حضرت ابو مسعود انصاری کی روایت ہے کہ ایک آدمی نکیل پڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : یہ اللہ کی راہ میں ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن اس کے عوض تجھے سات سو نکیل پڑی اونٹنیاں ملیں گی۔ رواہ مسلم
حضرت زید بن خالد راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کیلئے سامان تیار کر کے دیا ‘ اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے بیوی بچوں کی اس کے بعد خبرگیری کی ‘ اس نے بھی جہاد کیا۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہما۔ وا اللہ اعلم
کلبی نے ذکر کیا ہے کہ قبائل بنی اسد بن خزیمہ قحط سالی میں مبتلا ہو کر (گھروں کو چھوڑ کر) بچوں کو لے کر مدینہ میں آپڑے۔ ان کی وجہ سے مدینہ کے راستے گندے ہوگئے اور چیزوں کے نرخ گراں ہوگئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
مجاہدین کے اعمال کا بہترین بدلہ قربت الٰہی ہے یہ مجاہد جو کچھ تھوڑا بہت خرچ کریں اور راہ اللہ میں جس زمین پر چلیں پھریں، وہ سب ان کے لیے لکھ لیا جاتا ہے۔ یہ نکتہ یاد رہے کہ اوپر کا کام ذکر کرکے اجر کے بیان میں لفظ " بہ " لائے تھے اور یہاں نہیں لائے اس لیے کہ وہ غیر اختیاری افعال تھے اور یہ خود ان سے صادر ہوتے ہیں۔ پس یہاں فرماتا ہے کہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ اللہ تعالیٰ دے گا۔ اس آیت کا بہت بڑا حصہ اور اس کا کامل اجر حضرت عثمان ؓ نے سمیٹا ہے۔ غزوہ تبوک میں آپ نے دل کھول کر مال خرچ کیا۔ چناچہ مسند احمد میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے خطبے میں اس سختی کے لشکر کے امداد کا ذکر فرما کر اس کی رغبت دلائی تو حضرت عثمان ؓ نے کہا کہ ایک سو اونٹ مع اپنے کجاوے پالان رسیوں وغیرہ کے میں دونگا۔ آپ نے پھر اسی کو بیان فرمایا تو پھر سے حضرت عثمان ؓ نے فرمایا ایک سو اور بھی دونگا۔ آپ ایک زینہ منبر کا اترے پھر رغبت دلائی تو حضرت عثمان ؓ نے پھر فرمایا ایک سو اور بھی آپ نے خوشی خوشی اپنا ہاتھ ہلاتے ہوئے فرمایا بس عثمان ! آج کے بعد کوئی عمل نہ بھی کرے تو بھی یہی کافی ہے۔ اور روایت میں ہے کہ ایک ہزار دینار کی تھیلی لا کر حضرت عثمان نے آپ کے پلے میں ڈال دی۔ آپ انہیں اپنے ہاتھ سے الٹ پلٹ کرتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے آج کے بعد یہ جو بھی عمل کریں انہیں نقصان نہ دے گا۔ بار بار یہی فرماتے رہے اس آیت کی تفسیر میں حضرت قتادہ فرماتے ہیں جس قدر انسان اپنے وطن سے اللہ کی راہ میں دور نکلتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قرب میں بڑھتا ہے۔