اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعِندَ رَسُولِهِۦٓ إِلَّا ٱلَّذِينَ عَٰهَدتُّمْ عِندَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ فَمَا ٱسْتَقَٰمُوا۟ لَكُمْ فَٱسْتَقِيمُوا۟ لَهُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَّقِينَ
كَيْفَ وَإِن يَظْهَرُوا۟ عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوا۟ فِيكُمْ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ يُرْضُونَكُم بِأَفْوَٰهِهِمْ وَتَأْبَىٰ قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَٰسِقُونَ
ٱشْتَرَوْا۟ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلًا فَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦٓ ۚ إِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
لَا يَرْقُبُونَ فِى مُؤْمِنٍ إِلًّا وَلَا ذِمَّةً ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْمُعْتَدُونَ
فَإِن تَابُوا۟ وَأَقَامُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَوُا۟ ٱلزَّكَوٰةَ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِى ٱلدِّينِ ۗ وَنُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
وَإِن نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُم مِّنۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا۟ فِى دِينِكُمْ فَقَٰتِلُوٓا۟ أَئِمَّةَ ٱلْكُفْرِ ۙ إِنَّهُمْ لَآ أَيْمَٰنَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ
أَلَا تُقَٰتِلُونَ قَوْمًا نَّكَثُوٓا۟ أَيْمَٰنَهُمْ وَهَمُّوا۟ بِإِخْرَاجِ ٱلرَّسُولِ وَهُم بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ أَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَٱللَّهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَوْهُ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
سابقہ آیات میں ، اسلامی حکومت اور جزیرۃ العرب کے دوسرے معاشروں اور مشرکین جزیرۃ العرب کے مابین تعلقات کی آخری شکل کو منضبط کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی حکومت اور ان دوسرے گروپوں کے درمیان معاہدے اور امن کی حالت ختم ہوجائے اور ان میں سے بعض کو چار ماہ کی مہلت دے دی جائے اور بعض کو انتہائے مدت معاہدہ تک کی مہلت دی جائے اور ان حالات میعاد کے ختم ہونے کے بعد تعلقات کی صرف دو صورتیں رہ جائیں یا تو اسلام قبول کرکے نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں یعنی اسلام قبول کرکے تمام فرائض کے پابند ہوجائیں اور قتال ، قیدی اور مورچہ بندی کے لیے تیار ہوجائیں۔
جب صورت حالات ایسی ہوجائے تو پھر اگلی آیات میں بطور استفہام انکار اور سخت الفاظ میں یہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ یہ بات اب نہ مناسب ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے کہ کسی مشرک کے ساتھ رسول اللہ کوئی معاہدہ کریں یعنی اصولاً ایسا ہونا ہی نہ چاہیے۔ یہ بات بنیادی طور پر اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔
كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ " موجودہ آیات کے اندر استفہام انکاری سے یہ متبادر ہوسکتا تھا کہ پہلی آیات میں جن لوگوں کے معاہدات کے لیے مدت معاہدہ تک مہلت دی گئی تھی ، جنہوں نے معاہدات کی پاسداری کی تھی اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہ کی تھی ، شاید موجودہ آیات اور حکم سے وہ مہلت بھی واپس لے لی گئی ہے اس لیے یہاں بتکرار یہ کہا گیا کہ ایسے لوگوں کی مہلت باقی ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "۔ لیکن اس جدید تاکید میں ایک اضافہ بھی آگیا ہے۔ پہلے حکم میں یہ تھا کہ ان کو مہلت دے دی گئی ہے کیونکہ انہوں ماضی میں نقص عہد نہ کیا تھا۔ یہاں یہ شرط عائد کردی گئی کہ نزول آیت سے لے کر مدت معاہدہ تک بھی وہ عہد کا پاس رکھنے کے پابند ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بین الاقوامی معاملات کو منضبط کرنے میں بڑی باریکی سے کام لیا ہے۔ محض ضمنی اشارے اور قیاس کے بجائے صریح نص کا لانا ضروری سمجھا گیا۔
اس سورت کے تعارف اور اس سبق کے تعارف میں ہم نے جو کچھ کہا اور نزول سورت کے وقت جو حالات اور جو مظاہر اسلامی معاشرے کے اندر موجود تھے ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ فیصلہ کن قدم کیوں اٹھایا گیا ، اب یہاں سے آگے کی آیات میں ممان نوں کو تسلی دیتے ہوئے ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات اور تردد اور پریشان کو دور کرتے ہوئے انہی اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور اسلامی نظام کے سلسلے میں خود ان مشرکین کے خیالات اور نیات کیسی ہیں ؟ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے کسی عہد کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اس معاملے میں وہ ہر کارروائی کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان معاہدات کی خلاف ورزی کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں ، وہ کبھی وفا نہیں کرتے ، وہ کبھی اپنے عہد کے مطابق اپنے آپ کو پابند نہیں کرتے اور جب بھی وہ قدرت پائیں وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ سالمیت ، امن کی صورت حال پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان پر اس سلسلے میں کوئی اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ الا یہ کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔
كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ: " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ "۔ مشرکین صرف ایک اللہ کی بندگی نہیں کرتے۔ وہ رسالت محمدی کا اعتراف بھی نہیں کرتے۔ تو کیسے ممکن ہے رسول اللہ کے نزدیک ان کا کوئی عہد ہو۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے بندوں کی حیثیت کا انکار نہیں کرسکتے ، نہ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کا انکار کرسکتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ اپنے خالق اور رازق حقیقی کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اللہ اور رسول کے ساتھ عداوت کرتے ہیں لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کے ہاں ان کا کوئی عہد ہو۔
اس استفہام انکاری میں اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے اور یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ یہ اصولاً اس بات ہی کو رد کردیتا ہے کہ کسی مسلمان اور اللہ اور رسول اور مشرک کے درمیان سرے سے کوئی معاہدہ ہو۔ قطع نظر موجودہ معاہدات سے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت تو عملاً مشرکین کے ساتھ معاہدات موجود تھے۔ اور ان میں سے بعض معاہدوں کے بارے میں تو خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو اپنی مدت تک پورا کیا جائے اور مدینہ میں اسلامی مملکت کے قیام کے ساتھ ہی کفار کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے۔ یہودیوں کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے ، مشرکین کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے۔ چھٹی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ ہوا تھا اور سابقہ آیات میں ایسے معاہدات کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اگرچہ ان آیات میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر خیانت کا اندیشہ ہو تو ان معاہدات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ اگر آیت زیر بحث میں اصولاً اس بات ہی کو مستبعد قرار دیا گیا ہے کہ مشرکین کے ساتھ معاہدہ کیسے ہوسکتا ہے تو پھر ان معاہدات کی اجازت کیوں دی گئی اور یہ معاہدات طے کیوں پا گئے اور پھر ان پر یہ استفہام انکاری کیوں آیا ؟
اگر اسلام کے تحریکی منہاج کو اس طرح سمجھا جائے جس طرح ہم نے سابقہ صفحات کے اندر سمجھانے کی سعی کی ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اور سورت انفال کے آغاز میں تو یہ اشکال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ در حقیقت یہ معاہدات ایک متعین وقت میں ، بعض عملی حالات کی وجہ سے طے پائے تھے اور یہ موزوں وقت پر موزوں وسائل جنگ تھے۔ عبوری دور کے لیے تھے۔ آخری اور انتہائی اور فائنل ہدایت بہرحال یہ ہے کہ مشرکین کے ساتھ کوئی عہد نہ ہو اور اللہ اور رسول اللہ کے ہاں اب کوئی عہد مشرکین کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ تحریک اسلامی کا آخری ہدف یہی تھا کہ اسلامی نظام کے سوا کوئی نظام نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کرہ ارض پر کوئی شریک نہ ہو لیکن معاہدات عبوری دور کے لیے کیے گئے۔ جہاں تک اسلام کا آخری ہدف ہے تو اس کا اعلان تو اول روز سے کردیا گیا تھا۔ ابتدائی اور عبوری دور کا تقاضا یہ تھا کہ جو مشرک مسلمانوں کے ساتھ نہ لڑتے تھے انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان سے نمٹا جائے جو لڑتے تھے۔ اور یہ کہ جو لوگ تحریکی ادوار میں سے کسی دور میں دوستی چاہتے ہیں تو ان سے دوستی کی جائے۔ جو معاہدے کرنا چاہئے ان سے معاہدے کیے جائیں جو غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں ان کو رہنے دیا جائے لیکن آخری ہدف تو بہرحال یہ تھا کہ اور اس سے تحریکی حضرات کسی وقت بھی غافل نہیں رہے کہ پورے کرہ ارض اور خصوصاً جزیرۃ العرب سے شرک کا خاتمہ کردیا جائے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ خود مشرکین نے جو معاہدات اہل اسلام سے کیے وہ بھی وقت مقرر کے لیے تھی اور یہ بات لازمی تھی کہ میعاد ختم ہونے کے بعد وہ حملہ آور ہوسکتے تھے۔ وہ کیسے حضور کو چھوڑ سکتے تھے جبکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ کے اہداف کیا ہیں ، وہ حضور سے امن کی حالت اس لیے قائم کرتے تھے کہ وہ اس دوران آپ کے خلاف تیاریاں کرلیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دائمی ہدایت تو دے دی تھی اور وہ کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہ تھی۔
ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا " اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں اپنے دین سے لوٹا دیں اگر وہ ایسا کرسکیں "۔ یہ ایک دائمی قول ہے ، دائمی نصیحت ہے ، جو کسی زمانے ، کسی معاشرے اور کسی بھی دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔
اصولاً تمام معاہدات کے انکار کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے معاہدات کو مدت معاہدہ تک باقی رکھا جنہوں نہ تو معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا تھا ، بشرطیکہ وہ آئندہ بھی ایسا ہی طرز عمل جاری رکھیں ، یہ شرط یہاں نئی عائد کی گئی ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "
یہ لوگ جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جنہوں نے مسجد حرام کے پاس آپ سے معاہدہ کیا ، وہی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "
اس آیت میں ان کے سوا کوئی اور مراد نہیں ہے جس طرح بعض مفسرین نے سمجھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر آیت چار میں عمومی براءت سے استثنائی کے لیے ہوا تھا ، اور دوسری مرتبہ ان کا تذکرہ اس لیے ہوا کہ اللہ نے کیف یکون کے ساتھ اصولاً بھی ہر مشرک کے ساتھ معاہدے کی نفی کردی۔ تو دوبارہ استثناء کی گئی کہ اس اصولی آیت سے کہیں سابقہ استثناء کو منسوخ تصور نہ کرلیا جائے۔ یہاں بھی تقویٰ کا ذکر ہوا اور اظہار کیا گیا کہ اللہ متقین کو پسند کرتا ہے اور وہاں بھی ایسا ہی اظہار کیا گیا تھا ، اشارہ یہ مطلوب تھا کہ مضمون ایک ہے ، موضوع آیت وہی ہے جبکہ دوسری آیت میں استثناء میں یہ اضافہ کردیا گیا کہ جس طرح ماضی میں وہ رویہ درست رکھے ہوئے تھے اسی طرح مستقبل میں بھی انہیں اپنا رویہ درست رکھنا ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ نہایت ہی باریک قانونی عبارت یعنی (Proviso) ہے اور دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ جس طرح وہ پہلے وفائے عہد کرتے رہے اسی طرح مہلت تب جاری رہے گی جب وہ آئندہ بھی درست رہیں یعنی دوران مہلت۔
اب یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اصولاً مشرکین کے ساتھ کے ساتھ اب معاہدے کیوں ممنوع کردیے گئے ؟ اس کے تاریخی اسباب یہاں گنوائے جاتے ہیں۔ عملی ضرورت بتائی جا رہی ہے اور فریقین کے درمیان نظریاتی اور ایمانی جدائیاں اور تضادات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
۔۔۔
مشرکین کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ کا کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ تو عہد کرتے بھی اس وقت ہیں جھب وہ تمہارے مقابلے سے عاجز ہوجائیں اور اگر وہ تم پر غالب آجائیں اور فاتح ہوجائیں تو تمہارے ساتھ وہ کام کریں جن کا تم تصور ہی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ کسی معاہدے کا بھی خیال نہ رکھیں ، اپنی کسی ذمہ داری کا کوئی پاس نہ رکھیں ، وہ تمہارے خلاف مذموم افعال کے ارتکاب سے بھی نہ ہچکچائیں کیونکہ وہ فطرتاً کسی عہد اور کسی رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں رکھتے اور ظلم و زیادتی میں حدیں پار کر جاتے ہیں اور تمہارے معاملے میں تو اپنے ان مذموم افعال کو بھی مذموم نہیں سمجھتے جو عموماً وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ محض معاہدوں کی وجہ سے تمہارے خلاف ایکشن نہیں لیتے بلکہ وہ قدرت ہی نہیں رکھتے۔ آج جبکہ تم طاقتور ہو ، وہ بظاہر تم سے نرم بات کرتے ہیں اور اظہار وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے عناد کی وجہ سے کھول رہے ہیں اور وہ عہد پر قائم رہنے کا کوئی داعیہ نہیں رکھتے کیونکہ ان میں نہ وفا داری ہے اور نہ محبت ہے۔ ان کی حالت یہ ہے۔ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف حسد اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کی یہی حقیقی وجہ ہے اور اسی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ طے پاجانے والے معاہدات کے معاملے میں وفا کرنے والے نہیں ہیں۔ اور جس وقت بھی وہ قوت محسوس کریں وہ تم سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ اس معاملے میں وہ کوئی خلجان اور کوئی حجرج محسوس نہیں کرتے۔ ان وجوہات سے وہ فاسق قرار پاتے ہیں اور اللہ کی ہدایت سے خارج متصور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اللہ کی آیات آئیں اور انہوں نے چند ٹکوں کے عوض انہیں پس پشت ڈال دیا۔ یہ دنیا جس میں وہ رہتے ہیں انہیں اس قدر عزیز ہے کہ اس کے مفادات کو آایت الہیہ پر انہوں نے ترجیح دی۔ ان کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ اسلام کے اصلاح نظام کی وجہ سے ان کے مفادات پر زد پڑجائے گی۔ یا انہیں کچھ مزید ادائیگیاں کرنی پڑیں گی۔ اس لیے وہ دوسرے لوگوں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتے تھے اور خود بھی اس طرف نہ آتے تھے۔ اسی طرح یہ لوگ آئمہ کفر بن گئے تھے۔ اس لیے ان کے اس کرتوت کو اللہ نے اصل برائی یا برائیوں کی جڑ قرار دیا۔ انھم ساء ما کانوا یعملون " بہت برے کرتوت ہیں جو یہ کرتے ہیں " ان لوگوں کے دلوں میں پایا جانے والا بغض اور حقد تمہاری ذات تک محدود نہیں ہے اور ان کا یہ مکروہ منصوبہ صرف تم تک محدود نہیں ہے۔ یہ حسد انہوں نے تمام مومنین کے لیے چھپا رکھا ہے۔ ہر مسلم کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کرتے ہیں در اصل ان کا یہ سلوک تمہاری صفت کے ساتھ ہے یعنی صفت ایمان و اسلام کے ساتھ ، اور صفت ایمان اور اسلام۔ اسلامی تاریخ میں جن لوگوں کے اندر پائی گئی ہے ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا اور اس بات کا اظہار ان ایمان لانے والے جادوگروں نے کیا تھا جو فرعون کے جذبہ انتقام اور غضب کا شکار بن گئے تھے۔ انہوں نے کہا وما تنقم منا الا ان امنا بایات ربنا لما جاء تنا۔ اور تم ہم سے یہ انتقام جو لے رہے ہو تو یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اپنے رب کی آیات کو مان لیا۔ جب وہ ہمارے سامنے آگئیں۔ اور رسول اللہ نے اپنے رب کی ہدایت کے مطابق اہل کتاب سے یہی کہا قل یا اھل الکتب ھل تنقمون منا الا ان امنا باللہ " اے اہل کتاب تم جو ہم سے انتقام لیتے ہو تو یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اللہ نے اصحاب الاخدود کے بارے میں یہی کہا تھا ، جب ان کو جلایا گیا تھا۔ وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ العزیز الحمید۔ اور ان لوگوں سے انتقام صرف اس لیے لیا کہ وہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لے آئے تھے۔ غرض مشرکین کی طرف سے انتقام کا سبب ماسوائے صفت ایمان کھے اور کوئی بات نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام نے صرف ایمان کی وجہ سے ہر مومن سے دشمنی رکھی اور اس بارے میں کسی عہد و پیمان اور رشتہ داری کا کوئی خیال نہ رکھا۔
لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ و لا ذمۃ والئک ھم المعتدون " یہ لوگ تمہارے بارے میں کسی قرابت داری اور کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا کو یئ لحاظ نہیں رکھتے اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ ان کے اندر زیادتی کرنے کی صفت رچی بسی ہے۔ اور اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایمان سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ایمان کی تحریک کے سامنے دیوار بن رہے ہیں۔ اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ مومنین پر وار کرنے کا موقعہ مل جائے۔ اور وہ اہل ایمان سے نہ رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں اور نہ معاہدے کی پروا کرتے ہیں بشرطیکہ ان کو غلبہ نصیب ہوجائے اور موقع مل جائے اور ان کو یہ خطرہ نہ ہو کہ مسلمان ان پر حملہ کریں گے۔ اور اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کے اندر قوت نہیں ہے تو یہ ان کے ساتھ کیا کیا کر گزریں۔ صرف موقعہ ہاتھ آنے کی دیر ہے ، پھر نہ حقوق کا پاس ہے نہ رشتہ داری کا لحاظ ہے اور نہ کوئی معاہدہ ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بڑے سے بڑا فعل کرنے کے لی یہ لوگ تیار ہیں بشرطیکہ خود مامون ہوں۔
11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔
۔۔۔
مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔
ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں "
وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے "
پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین اسلام کامیاب شکل میں ان کے سامنے چل رہا ہوگا اور بسا اوقات کسی بات کا عملی تجربہ ایسے ہی نتائج پیدا کرتا ہے۔
۔۔۔۔
اب ہم یہاں اس نکتے کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی کا دائرہ عمل کیا ہے ؟ تاریخ کے کس دور میں یہ پالیسی رو بعمل تھی ، کس خاندان میں کس معاشرے میں اسے چلایا گیا۔ آیا یہ پالیسی آغاز اسلام کے زمانے میں جزیرۃ العرب کے باشندوں کے ساتھ مخصوص تھی یا کہ اس کا دائرہ عمل اور میدان نفاذ تاریخ میں اور کسی زمان و مکان میں بھی ہوا ہے۔
ابتدا میں تو یہ آیات جب نازل ہوئی تھیں تو ان کا نفاذ جزیرۃ العرب میں اسلام اور شرک کی کشمکش کے آخری دور میں ہوا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان احکام کا اطلاق پہلے پہل اسی صورت حالات پر ہوا تھا۔ اور ان آیات میں مشرکین سے مراد وہی مشرکین ہیں جن سے حضور کو واسطہ تھا۔
یہ بات تو بالکل برحق ہے کہ تاریخی پس منظر تو یہی تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی ان آیات کا آخری دائرہ تھا اور یہ آیات اسی تک محدود ہیں ؟
یہاں مناسب ہے کہ ہم مسلمانوں کے حوالے سے مشرکین کے موقف اور طرز عمل کا تاریخی جائزہ لیں ، تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ ان آیات میں جس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے اس کے اغراض و مقاصد اور حدود کیا ہیں اور ان کا دائرہ کہاں تک وسیع ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تاریخ کے اوراق الٹ کر ذرا دیکھیں۔
جہاں تک جزیرۃ عربیہ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں فی ظلال القرآن کے اسی حصے میں کافی مواد موجود ہے۔ سیرت کے واقعات مشہور ہیں۔ مکہ میں مشرکین نے دین اسلام کے ساتھ جو سلوک کیا پھر مدینہ طیبہ کی اسلامی حکومت کے خلاف وہ جو کچھ کرتا رہے۔ ایمان لانے والوں پر انہوں نے جس قدر مظالم ڈھائے جن کا تفصیلی تذکرہ ان نصوص کے اندر مفصل آگیا ہے۔
یہ بات بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام اور شرک کی کشمکش اس قدر طویل اور شدید نہیں رہی ہے جس قدر اسلام اور اہل کتاب یہود و نصاری کے درمیان یہ کشمکش شدید رہی ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مشرکین نے بھی اسلام کے خلاف ہمیشہ وہی موقف اختیار کیا جس کی تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے :
كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰي قُلُوْبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ. اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ۔ مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادہ ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔
مشرکین اور اہل کتاب کی طرف سے مسلمانوں کے مقابلے میں یہ دائمی اور طے شدہ موقف رہا ہے۔ اہل کتاب نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا تذکرہ ہم اس سورت کے دوسرے سبق کے ضمن میں کریں گے اور جہاں تک مشرکین کا تعلق ہے تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں پوری اسلامی تاریخ میں اسی پالیسی پر گامزن رہے۔
اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ اسلام حضرت محمد ﷺ کی رسالت سے شروع نہیں ہوا بلکہ دعوت اسلامی کا خاتمہ آپ پر ہوا ہے اور پوری انسانی تاریخ میں مشرکین کا موقف دین رب العالمین کے مقابلے میں ایک ہی رہا ہے تو پوری اسلامی تاریخ کے ڈانڈے ، باہم مل جائیں گے۔ اور اس طرح یہ موقف اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا اور یہ اسی طرح ایک حقیقت کی طرح ثابت ہوگا جس طرح ان نصوص میں اسے بیان کیا گیا ہے اور پوری اسلامی اور انسانی تاریخ اس پر گواہ ہوگی۔
مشرکین نے حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم ، حضرت شعیب ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ علیہم صلوۃ اللہ کے خلاف کیا کارروائیاں کیں ، پھر ان کی امتوں کے ساتھ کیا سلوک وہ کرتے رہے ، اپنے اپنے ادوار میں ، پھر آخر کار مشرکین نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اور آپ کے بعد اہل ایمان کے ساتھ انہوں نے کیا سلوک کیا ، حقیقت یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتہ داری ، اور کسی معاہدے کی کوئی پروا نہیں کی۔ جب بھی انہیں موقعہ ملا اور جب بھی انہوں نے قوت پکڑی انہوں نے دین رب العالمین کے مامن پر حملہ کیا۔
مشرین نے تاتاریوں کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف دوسری بار حملہ کیا تھا۔ اس کے حالات و واقعات کو ذرا ذہن میں رکھیے اور آج چودہ سو سال کے بعد تک بھی وہ مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کر رہے اور زمین کے کس حصے میں نہیں کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتے اور کسی معاہدے کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اور یہ آیات الہیہ دائمی حقیقت سے پردہ کشائی کرتی ہیں۔
جب بت پرستوں نے بغداد پر غلبہ حاصل کیا تو اس وقت جو المیہ پیش آیا تاریخ کی کتابوں میں اس کی بعض جھلکیاں قلم بند ہوچکی ہیں۔ ہم تاریخ ابو الفداء سے کچھ جھلکیاں دیتے ہیں۔ ابو الفداء نے البدایہ والنہایہ میں 656 ھ کے واقعات میں لکھا ہے :
" یہ لوگ اس شہر (بغداد) پر ٹوٹ پڑے جس قدر بچوں ، عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور معمر افراد کو وہ قتل کرسکتے تھے انہوں نے قتل کیے۔ بہت سے لوگ ڈر کے مارے کنوؤں میں چھپ گئے ، جھاڑیوں میں پناہ گزین ہوگئے ، گندے تالابوں میں۔ یہ لوگ ایک عرصے تک ان جگہوں میں پوشیدہ رہے اور ظاہر نہ ہوئے۔ بعض لوگ دکانوں میں اپنے آپ کو بند کرلیتے تھے ، دروازے بند کردیتے ، تاتاری دروازے توڑتے یا آگ لگا دیتے اور اندر داخل ہوتے ، یہ لوگ چھتوں پر چڑھ جاتے چناچہ مکان کی سطح پر یہ لوگ ان کو قتل کردیتے اور ان کا خون پر نالوں سے بہہ کر گلیوں میں بہتا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مساجد ، مدارس اور سراؤں میں لوگوں کا قتل عام جاری رہا اور ماسوائے اہل ذمہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اور کوئی شخص زندہ نہ رہا یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے تاتاریوں کی پناہ لے لی یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے ابن علقمی وزیر کے ہاں پناہ لی جو رافضی تھا ، بعض تاجروں کو بھی بھاری رشوتوں کے عوض امان مل گئی تھی۔ اس طرح وہ اور ان کی دولت بچ گئی تھی اور اس حادثے کے بعد وہ بغداد جو شہروں کا سرتاج تھا اس طرح ہوگیا کہ گویا وہ ایک ویرانہ ہے ، چند لوگ اس میں رہ گئے۔ وہ بھی حالت خوف میں۔ بھوک اور ذلت اور افلاس میں ڈوبا ہوا۔
" اس واقعہ میں بغداد میں جو مسلمان تہہ تیغ کیے گئے ان کی صحیح تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ آٹھ لاکھ انسان قتل ہوئے۔ بعض نے یہ تعداد دس لاکھ بتائی ہے اور بعض نے اسے بیس لاکھ بتایا ہے۔ انا اللہ وان الیہ راجعون۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تاتاری بغداد میں محرم کے آخری دنوں میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ پورے چالیس دنوں تک لوگوں کو تہہ تیغ کرتے رہے۔ خلیفہ معتصم امیر المومنین کو بروز منگل 14 صفر قتل کیا گیا۔ یہ سولہ سال کے تھے۔ پھر ان کے دوسرے بیٹے ابوالفضل عبدالرحمن کو قتل کیا گیا۔ یہ تیرہ سال کے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے مبارک اور تین بیٹوں فاطمہ ، خدیجہ اور مریم کو قیدی بنا لیا گیا "۔
" دار الخلافہ کے استاذ محی الدین یوسف ابن شیخ الفرج ابن الجوزی کو بھی قتل کیا گیا۔ یہ وزیر کے دشمن تھے۔ ان کے تین بچوں کو بھی قتل کیا گیا جن کے نام عبدالرحمن عبدالکریم اور عبداللہ تھے۔ اور حکومت کے اکابرین کو ایک ایک کرکے قتل کیا گیا۔ جن میں دو یدار صیغر مجاہد الدین ایبک ، شہاب الدین سلیمان شاہ اور اہل سنت کے اکابرین اور شہر کے معززین شامل تھے۔ ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ لوگ دار الخلافت سے لوگوں کو ان کے اہل و عیال کے ساتھ بلاتے۔ ان کے ساتھ ان کے بچے اور عورتیں بھی ہوتیں۔ اے مقبرہ خلال کی طرف لے جا جا جاتا۔ المنظرہ کی جانب اور انہیں اس طرح ذبح کیا جاتا جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ان کی لڑکیوں اور لونڈیوں سے جسے وہ پسند کرتے اسے قیدی بنا لیتے۔ خلیفہ کے مودب اور شیخ الشیوخ صدر الدین علی ابن النیار کو بھی قتل کیا گیا۔ خطباء ائمہ اور حافظین قرآن سب کو قتل کردیا گیا۔
" جب نوشہ دیوار ہوا اور چالیس دن پورے ہوگئے تو بغداد مکمل تباہی سے دو چار ہوچکا تھا۔ پورے شہر میں خال خال لوگ نظر آتے تھے۔ راستوں میں کشتوں کے پشتے لگے ہوئے تھے۔ اس پر بارش ہوگئی۔ لوگوں کے اجسام پھول گئے۔ پورا شہر بدبو اور تعفن میں ڈوب گیا۔ ہوا بدل گئی اور علاقے میں شدید وبا پھیل گئی اور خلق کثیر لقمہ اجل بن گئی۔ پورے علاقے کے عوام وبا اور قحط میں گرفتار ہوگئے۔ تلوار اور طاعون کے ذریعے راہ عدم کو روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
" اور جب چالیس دنوں کے بعد بغداد میں امان کا اعلان ہوا اور لوگ تہ خانوں ، کمین گاہوں اور قبرستانوں سے نکلے تو وہ ایسے تھے جس طرح مردے قبروں سے نکل آئے ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے یہاں تک کہ باپ نے بیٹوں کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ بھائی بھائی کو پہچان نہ سکا۔ لوگوں میں شدید وبا پھیل گئی اور اس طرح وہ بھی اس راہ پر چل بسے جس پر مقتولین گئے تھے " وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک تاریخی واقعہ کی صورت حالات تھی کہ جب مشرکین مسلمانوں پر غالب آگئے تو انہوں نے کسی رشتہ داری اور کسی معاہدے کا کوئی خیال نہ رکھا اور کسی ذمہ داری کا کوئی ثبوت نہ دیا۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی بعید کی ایک تاریخی صورت حالات تھی اور اس کا ارتکاب مشرکین میں سے صرف تاتاریوں نے کیا۔ اور ان کا خاصہ تھا ؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جدید دور کے واقات بھی اپنے خدوخال کے لحاظ سے اس سے مکتلف نہیں ہیں۔ جب تشکیل پاکستان کے وقت مسلمانوں کا علاقہ ہند سے علیحدہ ہو تو اس وقت کے دلدوز واقعات کسی طرح بھی تباہی بغداد کے واقعات سے کم نہ تھے۔ اس موعہ پر آٹھ ملین مسلمانوں نے ہجرت کی۔ ہندستان کے اطراف و اکناف میں وہاں بسنے والے مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔ اس لیے انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔ ان میں سے صرف تین ملین لوگ پاکستان پہنچ سکے اور باقی پانچ ملین کو راستے ہی میں تہہ تیغ کردیا گیا۔ ان پناہ گیروں اور راہ گیر پر حکومت ہند کو معلوم ہندو دستوں نے حملے کیے اور یہ دستے حکومت ہند کے اکابرین کے زیر نگرانی یہ قتل عام کرتے رہے۔ ہجرت کے اس پورے راستے میں ان مسلمانوں کو مویشیوں کی طرح ذبح کیا گیا اور ان کے جسموں کو کھلے پرندوں کے لیے چھوڑ دیا گیا جبکہ قتل کے بعد ان پر بدترین تشدد کیا گیا اور ان لوگوں پر جو مظالم ڈھائے وہ تاتاریوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ اس سے بڑھ کر مظالم اس وقت ہوئے جب ایک ریل گاری پر ہوئے جو ہندوستان سے مسلمان مہاجر ملازمین کو لے کر پاکستان جا رہی تھی۔ یہ لیاقت نہرو معاہدے کے تحت ان ملازمین کو لے جا رہی تھی جنہوں نے پاکستان جانا پسند کیا تھا۔ اس گاڑی پر پچاس ہزار افراد سوار تھے۔ اور جب یہ گاڑی بعض حدود (پنجاب کے علاقے) تک پہنچی تو تجربہ کار ہندوسکھ دستے اس پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ پاکستان پہنچی تو اس کے اندر لاشوں اور کٹے ہوئے اعضاء کے سوا کچھ نہ تھا۔ اللہ نے کیا خوب کہا ہے کیف و ان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمہ " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق اور مختلف صورتوں میں یہ قتل عام ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس زمانے میں فسادات پنجاب اس کی واضح مثال تھے۔ "
اس کے بعد تاتاریوں کے خلفاء نے کمیونسٹ روس اور کمیونسٹ چین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا انہوں نے ان علاقوں میں صرف پچیس سال کے عرصے میں 26 ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کیا۔ گویا وہ ایک سال میں روس لاکھ مسلمانوں کو قتل کرتے رہے۔ اور یہ عمل ابھی تک جای ہے۔ اور مظالم و تشدد کے وہ واقعات اس کے علاوہ ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین میں اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جن کے سامنے تاتاریوں کے مظالم بھی ماند پڑجاتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک لیڈر کو پکڑ کر لایا گیا۔ شارع عام پر ایک گڑھا کھودا گیا اور مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ انسانی غلاظت کو ٹوکریوں میں لے کر آئیں۔ ان علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کھاد بنانے کے لیے لوگوں سے غلاظت اور کوڑا کرکٹ جمع کرایا جاتا ہے اور اس کے بدلے ان کو روٹی دی جاتی ہے تاکہ اس سے کھاد تیار کی جاسکے۔ غرض ان لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ یہ غلاظت اس مسلم لیڈر پر پھینکیں۔ یہ عمل تین تک جاری رہا یہاں تک کہ اس طرح اس کی موت واقع ہوگئی۔
کمیونسٹ یوگوسلاویہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا اور جب دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کمیونسٹ نظام جاری ہوا تو کئی ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کردیا گیا۔ یہاں تک کہ بعض مقامات پر مسلمان مردوں اور عورتوں کو قیمہ بنانے کے کارخانوں میں پھینکا گیا تاکہ دوسری جانب سے ہڈیا اور گوشت بر آمد ہو اور یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔
یوگو سلاویہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ، مسلمانوں کے خلاف تمام اشتراکی ممالک میں یہ عمل رات دن جاری ہے۔ ابھی تک اور اس دور جدید میں یہ ہو رہا ہے۔ اور اس سے باری تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ جزیرۃ العرب میں یہ نہ تو کوئی وقتی صورت حالات تھی اور نہ عارضی۔ نہ بغداد میں یہ کوئی وقت حادثہ یا حالت تھی۔ یہ ایک دائمی اور مستقل طرز عمل ہے۔ جب بھی اہل شرک کسی مومن پر قابو پائیں ایسا مومن جو صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرتا ہو تو ان کا طرز عمل اس مومن کے ساتھ یہی ہوتا ہے ، ہر جگہ اور ہر زمانے میں۔
تفسیر آیات 13 تا 16:۔
تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔
ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔
مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک شخص بیت الحرام میں اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو پاتا لیکن وہ اسے وہاں کوئی گزند نہ پہنچاتا۔ رسول اللہ کا جرم کیا تھا۔ آپ تو لوگوں کو دعوت ایمان دیتے تھے کہ اللہ وحدہ گی بندگی کرو لیکن انہوں نے بیت اللہ کا بھی کوئی احترام نہ کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کو وہاں سے نکالنے کی سعی کی۔ پھر آپ کے قتل کی سازش کی اور یہ حرکت انہوں نے بےدھڑک اور بغیر کسی جھجک کے کی۔ پھر انہوں نے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ انہوں نے ابوجہل کی سرکردگی میں یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ سے جنگ ضروری کریں گے چاہے ہمارا قافلہ بچ کر نکل گیا ہے۔ پھر جنگ احد اور جنگ خندق میں تو واضح طور پر جارح تھے پھر حنین میں بھی وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوگئے تھے اور نزول آیات کے وقت یہ سب تازہ واقعات تھے جو ان کی ایدوں کا حصہ تھے اور ان سب واقعات میں اس رویہ کی تصدیق تھی جو قرآن نے بیان کیا۔ ولایزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا۔ اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ ایسا کرسکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو محاذ صرف اللہ وحدہ کی غلامی رکتا ہے اور جو اللہ کے سو ان کئی اور الہوں کی بندگی اور شرک کرتا ہے ان دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیا رہی ہے۔ ؟
واقعات اور تلخ یادوں کی اس فہسرت کو نہایت ہی اختصار اور سرعت اور نہایت ہی موثر انداز کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آخر میں ان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں اتخشونہم کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ تم مشرکین کے خلاف جنگ اور جہاد نہیں شروع کرتے تو تمہارا یہ بیٹھا رہنا بغیر خوف اور کسی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا۔ اور اس کے بعد اس سوالیہ فقرے کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین : " حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ مسحتق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو " مومن ہوتا وہی ہے جو بندوں سے نہیں ڈرتا لہذا مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو یہ لوگ اگر مشرکین سے ڈرتے ہیں تو اللہ سے انہیں بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور اللہ کے سوا کسی اور کا کوئی ڈر کم از کم مومنین کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔
غرض مسلمانوں کے اسلام شعور کو جگایا جاتا ہے اور ان واقعات اور ان کی یادوں کو تازہ کرکے ان کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ مشرکین وہی ہیں جنہوں نے ذات نبی کے خلاف سازش کی۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ جو معاہدے بھی کیے انہیں توڑا اور جب بھی مسلمانوں کو غافل پایا یا ان کی صفوں کے اندر کوئی سوراخ دیکھا۔ انہوں نے وار کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جارحیت کرنے میں پہل کی اور چناچہ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔
قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔
ان لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔
تم ان کے ساتھ جنگ کرو ، تم دست قدرت کے لیے پردہ بنوگے اور اللہ کی مشیئت کی صورت بنوگے۔ اس طرح تمہارے ہاتھوں اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ ان کو ہزیمت دے کر ذلیل کرے گا جبکہ وہ اپنے آپ کو نہایت ہی قوی سمجھتے ہوں گے لیکن اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری نصرت کرے گا ، تمہارے دلوں کو شفا دے گا کیونکہ اہل ایمان کو انہوں نے بہت ہی اذیتیں دی تھیں اور مسلمانوں کے دلوں میں وہ غیظ و غضب ابھی تک موجود تھا۔ اس طرح کفار و مشرکین کی شکست سے ان کے دل ہلکے ہوجائیں گے کیونکہ مشرکین نے ان کو اذیت دی گھروں سے نکالا۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ اس سے بڑا انعام ان کے انتظار میں ہے۔
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کئی لووں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں اس طرف لا سکتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے کیونکہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور ظہار ہے کہ انسانوں کی قوت سے اوپر کوئی اور قوت ہے جو مسلمانوں کی تائید میں ہے اور عملاً ایسا بھی ہوا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور اسی طرح مجاہدین کو دو اجر ملے۔ ایک اجر ان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اور دوسرا اجر ان گمراہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اور گمراہوں کو ہدایت دینے کا جو جہاد کی وجہ سے ہوا اور ان لوگوں سے اسلام کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہوا۔
کہا گیا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ ان اقدامات کے اچھے نتائج کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ حکیم ہے وہ جن اقدامات کا حکم دیتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے۔
اسلام جب زوردار شکل میں سامنے آتا ہے تو وہ زیادہ پرکشش ہوتا ہے ، اس اسلام کے مقابلے میں جس کی قوت لوگوں کو معلوم نہ ہو یا وہ ضعیف و ناتواں نظر آئے لیکن اسلامی جماعت جب قوت اور زور سے سامنے آئے اور وہ اپنے نظریہ و عمل پر سختی سے جمی ہو تو تحریک اسلامی کا نصف راستہ خود بخعد طے ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ جو مکہ مکرمہ میں اسلامی جماعت کی تربیت اور نگرانی کر رہا تھا ، وہاں اس نے جماعہ مسلمہ کے ساتھ صرف جنت کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ مکہ میں جماعت قلیل تھی اور اس میں ضعیف لوگ تھے اور یہاں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی ہدایت تھی وہ یہ کہ صرف کا دامن مضبوطی سے پکڑو اور جب جماعت نے کما حقہ صبر کیا اور صرف جنت کی طلبگار بن گئی تو اللہ نے اسے نصرت عطا کی اور وہ فاتح ہوگئی تو اللہ نے اسے سیاسی غلبے اور جہاد کے لیے ابھارا ، اس لیے کہ یہ سیاسی غلبہ اس جماعت کا غلبہ نہ تھا بلکہ اللہ کے دین کا غلبہ تھا اور اس کی وجہ سے اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا تھا۔
اس وقت صورت حال بھی ایسی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تمام مشرکین کے خلاف جنگ کریں اور مشرکین کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیں اور ان کے مقابلے میں صف و احد بن کر کھڑے ہوجائیں اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خفیہ پیکٹ ختم ہوجائیں اور جن لوگوں کی نیت میں فور تھا وہ کھل کر سامنے آجائیں اور وہ پردے دور کردیے جائیں جن کے پیچھے منافق لوگ کھڑے ہوکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے اور ان تعلقات کو بھی ختم کردیا جوائے جو رشتہ داری اور قرابت داری کے عنوان سے بعض لوگوں کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان پردوں کو گرانا ضروری تھا اور ان عذرات کو یکسر کتم کردینا ضروری تھا۔ اس لیے اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ان لوگوں کا انکشاف ہوجائے جن کے دلوں میں کوئی خباثت خفیہ تھی اور جو اللہ اور رسول اللہ کے سوا اور لوگوں کو بھی دوست بنا رہے تھے اور ان عذرات کے نتیجے میں وہ مخالف اسلام کیمپ کے لوگوں کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے اور ان روابط کی نوعیت واضح نہ تھی ، بلکہ مشکوک تھی اس لیے یہ حکم دیا گیا۔
اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : کیا تم لوگوں نے یہ سمئجھ رکھا ہے کہ یونی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگر دوست نہ بنایا ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔
جیسا کہ بالعموم ہوا کرتا ہے ، اسلامی معاشرے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چلتے پھرتے تھے ، جو حدود سے آگے نکلتے تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ عذرات ہوتے تھے ، وہ جماعت کے علم و مشورہ کے بغیر اس کے دشمنوں سے بھی ملتے تھے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اگرچہ اس میں اسلامی تحریک کا نقصان ہو۔ اور یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پائے جانے والے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے تھے کیونکہ ابھی تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ ہوا تھا لیکن جب واضح طور پر اعلان کردیا گیا کہ اب مشرکین عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا اور اب رابطے کٹ گئے ہیں ، اب ایسے لوگوں کے لیے کوئی بہانہ نہ رہا اور ان کی خفیہ ریشہ دوانیاں سامنے آگئیں۔
اسلامی جماعت اور اسلامی نظریہ حیات کے مفاد میں یہ بات ہے کہ پردے اٹھ جائیں اور تعلقات بالکل علی الاعلان اور چور دروازے ختم کردئیے جائیں تاکہ مخلص جدوجہد کرنے والوں اور ہر طرف پھرنے پھرانے والوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز ہوجائے اور دونوں کیمپوں کے لوگ اچھی طرح معلوم اور معروف ہوجائیں اور ان کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہوجائے اگرچہ اللہ تو علیم وخبیر ہے۔ اسے تو پہلے سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے ، لیکن اللہ لوگوں کو تب پکڑتا ہے جب ان کی حقیقت تمام دیکھنے والوں پر واضح ہوجائے۔ یہی ہے سنت الہیہ کہ اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے دونوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز کردیتا ہے اور کھرے اور کھوٹے کا امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مصائب و شدائد میں مبتلا کردیتا ہے۔