اس صفحہ میں سورہ At-Tawba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ التوبة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَٰتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ ٱللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ
وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ ۗ وَيَتُوبُ ٱللَّهُ عَلَىٰ مَن يَشَآءُ ۗ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ
أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تُتْرَكُوا۟ وَلَمَّا يَعْلَمِ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ جَٰهَدُوا۟ مِنكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا۟ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَا رَسُولِهِۦ وَلَا ٱلْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً ۚ وَٱللَّهُ خَبِيرٌۢ بِمَا تَعْمَلُونَ
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا۟ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ شَٰهِدِينَ عَلَىٰٓ أَنفُسِهِم بِٱلْكُفْرِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ وَفِى ٱلنَّارِ هُمْ خَٰلِدُونَ
إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَٰجِدَ ٱللَّهِ مَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا ٱللَّهَ ۖ فَعَسَىٰٓ أُو۟لَٰٓئِكَ أَن يَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُهْتَدِينَ
۞ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ ٱلْحَآجِّ وَعِمَارَةَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ كَمَنْ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَجَٰهَدَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ ۚ لَا يَسْتَوُۥنَ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ
ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَهَاجَرُوا۟ وَجَٰهَدُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ بِأَمْوَٰلِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ ٱللَّهِ ۚ وَأُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ
اعلان براءت کے بعد کسی کے لیے اب کوئی حجت باقی نہ رہی کہ کیوں وہ مشرکین کے ساتھ نہ لڑے۔ اب لوگوں کے ذہن میں یہ خلجان بھی نہ رہے کہ مشرکین زیارت حرم سے مھروم ہوں گے الا یہ کہ وہ اب مسجد حرام کی عمارت میں حصہ نہ لے سکیں گے جبکہ جاہلیت میں یہ مشرکین ان کاموں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کہ مشرکین کا حق ہی نہیں ہے کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں۔ یہ صرف اہل ایمان کا حق ہے کہ وہ مساجد تعمیر کریں اور ان میں فرائض دینی ادا کریں۔ دور جاہلیت میں تو وہ یہ کام کرتے تھے۔ مسجد حرام کی تعمیر اور حاجیوں کو پانی پلانے کا تو اب اس قاعدہ کلیہ سے مستثنی نہیں کیا جاسکتا۔ ان آیات میں ان خلجانات کو رفع کیا گیا ہے جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں تھیں کہ اسی اصول نے ایک نیک کام سے لوگوں کو روک دیا ہے۔
مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ : " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں در آں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں "۔
یہ نہایت ہی مکروہ امر ہے اور اصول فطرت سے متضاد ہے کہ مشرکین مساجد کی تعمیر میں حصہ لیں۔ مساجد تو صرف ذکر الٰہی کے ہیے ہوتی ہیں اور اللہ کے سوا ان میں کسی اور کا نام نہیں لیا جاتا۔ لہذا تعمیر مساجد میں وہ لوگ کیسے حصہ لے سکتے ہیں جن کے دل میں توحید ہی نہ ہو اور وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہوں۔ پھر ان کی زندگی بھی شہادت حق کے بجائے شہادت کفر دے رہی ہو اور زندگی کی عملی شہادت ایسی شہادت ہوتی ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا تو اقرار ہی کرنا پڑتا ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ : " ان کے تو سارے اعمال ضاعئ ہوگئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے "۔ ان کے تو سب اعمال باطل ہیں۔ تعمیر مساجد پر بھی ان کو کوئی اجر ملنے والا نہیں ہے ، کیونکہ انہوں نے عقیدہ توحید قبول کرنے کے بجائے کفر و شرک کو اختیار کیا ہے۔
عبادات و اعمال میں سے معتبر وہ ہوتے ہیں جو عقائد صحیحہ پر مبنی ہوں۔ اگر عقیدہ ہی ٹھیک نہ ہو تو اعمال کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جب تک ایمان و عقیدہ درست نہ ہوگا مسجد حرام کی تعمیر اور اس میں مراسم عبودیت بجا لانا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ لہذا اعمال کو خالص عقیدہ توحید پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ اعمال خالص اللہ کے لیے ہونے ضروری ہیں ، تب قبول ہوں گے۔
یہاں دو شرائط ، یعنی ایمان باللہ جو باطنی صفت ہے اور اعمال ظاہریہ کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی چیز سے خائف نہ ہو ، لازمی شرط ہے۔ یہ نفلی شرط نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے لیے خالص ہونا لازمی ہے۔ اور انسان کے شعور ، اس کے طرز عمل میں شرک کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ غیر اللہ سے ڈرنا بھی در اصل شرک خفی کا ایک رنگ ہے۔ اور یہاں قصدا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ شعور و اعتقاد اور عمل اور سلوک میں انسان مکمل طور پر خالص اور پاک و صاف ہو۔ اس خلوص کے بعد اب مومن اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ وہ مساجد کی دیکھ بھال اور تعمیر کرے اور ایسے ہی لوگ ہدایت کی امید کرسکتے ہیں۔
فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ : " انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے "۔ اسی لیے کہ قلب متوجہ ہوتا ہے ، تب اعضاء عمل کرتے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہوسکتا ہے کہ اللہ راضی ہو ، اللہ کی مشیئت ہو تو توجہ بھی ہوگی اعمال بھی ہوں گے اور ہدایت و کامیابی بھی ہوگی۔
یہ ہے اصول تعمیر مساجد کا اور یہ ہے اصل ذریعہ عبادات اور مراسم کی درستگی کا۔
اور مسلمانوں اور مشرکوں دونوں کے سامنے یہ اصول رکھا جاتا ہے۔ لہذا وہ لوگ جو جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور اس میں حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ، لیکن ان کے عقائد خالص نہ تھے اور انہوں نے نیک اعمال اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ بھی نہیں لیا اور لوگ جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور جن کا ایمان صحیح کیا اور اس صحیح ایمان پر انہوں نے اچھے اعمال بھی کیے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا باہم برابر نہیں ہوسکتے۔
اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ : " کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دنوں برابر نہیں ہیں "
بیشک برابر نہیں ، کیونکہ اللہ کے میزان اور پیمانوں کے مطابق نہیں اور پیمانے اور اقدار تو اللہ ہی کی ہوتی ہیں۔
وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : " اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا "۔ وہ مشرک جو دین حق کو قبول نہیں کرتے اور جو اپنے عقائد کو شرک سے پاک نہیں کرتے۔ اگرچہ وہ بیت اللہ کے معمار ہوں اور حاجیوں کے ساقی و خادم ہوں۔
20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔
اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔