سورہ زخرف: آیت 66 - هل ينظرون إلا الساعة أن... - اردو

آیت 66 کی تفسیر, سورہ زخرف

هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

اردو ترجمہ

کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hal yanthuroona illa alssaAAata an tatiyahum baghtatan wahum la yashAAuroona

آیت 66 کی تفسیر

جب ظالموں اور مشرکوں کے لئے ہلاکت کی خوشخبری دے دی گئی تو اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہونے والے ظالم احزاب کو اور حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان احزاب کے غلط نظریات کی اساس پر مباحثہ اور مناظرہ کرنے والے ظالمین کو قیامت کے ایک منظر میں دکھایا جاتا ہے اور اس منظر میں ایک جھلک مومنین متقین کو بھی دکھائی جاتی ہے جو جنت کے گلستانوں میں نہایت ہی عزت سے ہوں گے۔

آیت نمبر 66 تا 77

یہ منظریوں شروع ہوتا ہے کہ قیامت اچانک برپا ہوجاتی ہے۔ جب وہ اس سے غافل اور لاپرواہ تھے۔ ان کو توقع نہ تھی کہ اچانک قیامت آجائے گی۔

ھل ینظرون ۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (43 : 66) ” کیا یہ لوگ بس اسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک ان پر قیامت آجانے اور انہیں خبر بھی نہ ہو “۔

اور جب یہ آجاتی ہے تو دنیا کے تمام حالات کو بدل کر رکھ دیتی ہے ، دنیا کی تمام باتیں بدل جائیں گی اور یہ بہت بڑا حادثہ ہوگا۔

الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوالا المتقین (43 : 68) ” متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے “۔ ان کی دوستی کے سر چشمے ہی سے ان کی دشمنی پھوٹے گی۔ اس دنیا میں وہ شریر مجتمع تھے اور وہ گمراہی میں ایک دوسرے کے مشیر تھے۔ آج وہ ایک دوسرے پر ملامت کرنے والے ہوں گے اور اس شر اور گمراہی کی ذمہ داری وہ ایک دوسرے پر ڈال رہے ہوں گے۔ کبھی تو وہ باران ہمدم تھے اور آج وہ ایک دوسرے سے الجھنے والے مخالف۔ الا المتقین (43 : 68) ” ماسوائے متقین کے “۔ ان کی دوستی باقی ہوگی ، کیونکہ وہ دوستی ہدایت پر تھی ، باہم خیر خواہی پر تھی ، اور انجام کار ان کو نجات ملی۔

جہاں دوست باہم جھگڑیں گے اور الجھیں گے پوری کائنات سے آواز ہوگی اور یہ اللہ کریم کی جانب سے ہوگی اور متقین کے لئے ہوگی :

یعباد لاخوف۔۔۔۔۔ تحزنون (43 : 68) الذین امنوا ۔۔۔۔۔ مسلمین (43 : 69) ادخلوا الجنۃ ۔۔۔۔۔ تحبرون (43 : 70) ” اس روز ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے ، کہا جائے گا کہ ” اے میرے بندو ، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ داخل ہوجاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں ، تمہیں خوش کردیا جائے گا “۔ یعنی تم اس قدر خوش ہو گے کہ سرور اور خوشی تمہارے پہلوؤں اور چہروں کو ڈھانپ لے گی یوں نظر آئے گا کہ تم پر ایک خوبصورت چادر بچھی ہوئی ہے۔

اب ہمارا تخیل کچھ اور عجیب چیز دیکھتا ہے۔ سونے اور چاندی کے تھال اور پیالے ان پر پھرائے جا رہے ہیں۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں ان کے لئے وہ کچھ ہے جنہیں ان کا نفس چاہتا ہے اور نفوس جو کچھ چاہتے ہیں ان کے علاوہ آنکھیں جو کچھ چاہتی ہیں ، وہ بھی ہے اور یہ سب ضیافتیں ان کی کمال درجے کی عزت اور تکریم کے لئے ہوں گی۔

یطاف علیھم ۔۔۔۔ وتلذ الاعین (43 : 71) ” ان کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی “۔

اور ان نعمتوں کے علاوہ ، وہ چیز ہوگی جو ان سے بھی بڑی اور افضل ہے۔ یہ کہ اللہ خود مخاطب ہو کر ان کی عزت افزائی کرے گا اور یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہوگا۔

وانتم فیھا خلدون (43 : 71) وتلک الجنۃ ۔۔۔۔۔۔ تعملون (43 : 72) لکم فیھا فاکھۃ کثیرۃ منھا تاکلون (43 : 73) ” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے ، تم اس جنت کے وارث اپنے ان اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو ، جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے “۔

اور ان مجرمین یاران دنیا کا کیا حال ہے جنہیں ہم ابھی لڑتے جھگڑتے چھوڑ آئے ہیں :

ان المجرمین فی عذاب جھنم خلدون (43 : 74) ” رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے “۔ جہنم کا عذاب ایک دائمی عذاب ہے اور یہ نہایت ہی شدید اور اعصاب شکن عذاب ہوتا ہے ، مسلسل ہوتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی ٹھنڈا نہیں ہوتا۔ اور اس میں ان کے لئے امید کی کوئی چنگاری نہ ہوگی اور نہ دور دور رہائی کا کوئی نشان ہوگا۔ اور یہ بدبخت اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

لا یفتر عنھم وھم فیہ مبلسون (43 : 75) ” کبھی ان کے عذاب میں کمی نہ ہوگی اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے “۔ یہ کام انہوں نے خود اپنے خلاف کیا اور اپنے خلاف کیا اور اپنے آپ کو اس ہلاکت خیز گھاٹ پر اتارا۔ یہ خود ظالم ہیں اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ، مظلوم نہیں ہیں۔

وما ظلمنھم ولکن کانوا ھم الظلمین (43 : 76) ” ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے “۔ اب اس منظر میں دور سے ایک چیخ اٹھتی ہے۔ ایک ایسی دردناک پکار جس میں مایوسی ، تنگ دلی اور کربنا کی کی تمام علامات موجود ہیں۔

ونادوا یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اور پکاریں گے اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے “۔ یہ چیخ نہایت دور سے جہنم کی تہوں سے اٹھتی ہے۔ جس کے دروازے بھی اب بند ہوچکے ہیں۔ یہ انہی مجرمین اور ظالمین کی آواز ہے۔ اب ان کی یہ پکار نجات کے لئے نہیں ، نہ کسی امداد کے لئے ہے ، یہ تو اب جہنم میں مایوس پڑے ہوئے ہیں ، اب ان تجویز یہ ہے کہ اللہ ہمیں نیست و نابود کردے ، فوراً ختم کر دے تا کہ ہم آرام کرلیں۔ اور بہت سی آرزوئیں آرزوئیں ہی رہتی ہیں۔ لیکن اس پکار میں غضب کی تنگی اور بےتابی اور کربنا کی ہے۔ اس فریاد و فغان کے پیچھے ہمیں ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کی حالت عذاب نے خراب کردی ہے۔ ہوش ٹھکانے نہیں رہے ، درد کی حد ہوگئی اور یہ ان کی طاقت برداشت سے باہر ہوگیا ہے۔ اس لیے آخر میں مجبور ہو کر یہ چیخ بےساختہ نکل گئی۔

یملک لیقض علینا ربک (43 : 77) ” اے مالک ، تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کر دے تو اچھا ہے “۔

لیکن اس پکار کا جواب نہایت ہی مایوس کن اور توہین آمیز ہے اور بغیر کسی لحاظ کے اور بغیر اس کے کہ ان کی کربناک پکار کو کوئی اہمیت دی گئی ہو۔

قال انکم مکثون (43 : 77) ” وہ جواب دے گا ، تم یونہی پڑے رہو گے “۔ اب رہائی کی کوئی امید نہیں ہے۔ نہ موت ہے اور نہ تم نیست و نابود کئے جاؤ گے۔ تم نے اب یہاں ہی ٹھہرنا ہے۔

اب سچائی کو ناپسند کرنے والوں اور منہ موڑنے والوں اور اس انجام تک پہنچنے والوں کو اس کربناک منظر کے متصلا بعد خطاب کیا جاتا ہے اور نہایت ہی سنجیدہ اور تعجب خیز انداز میں کہا جاتا ہے اور اس حیرت انگیز فضا میں ان کو ڈرایا جاتا ہے۔

آیت 66 { ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو !“

جنت میں جنت کے حقدار اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لئے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بیخبر ی کی حالت میں آجائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقینا آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لئے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی۔ جیسے خلیل الرحمن ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہوگا اور کوئی نہ ہوگا جو تمہاری امداد پر آئے ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوش خبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہوجائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لئے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد اور حضرت قتادہ فرماتے ہیں ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لئے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ حضرت معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بےچینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ اے میرے بندو ! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہوجائیں گے وہیں منادی کہے گا وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہوجائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔ سورة روم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لئے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے آیت (تشتھیہ الانفس) اور (تشتھی الانفس) دونوں قرأتیں ہیں۔ یونہی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہوگی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہوگا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہوجائے اور کچھ نہ گھٹے (عبدالرزاق) ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چناچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی۔ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالا خانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہوگا اور اس کے اوپر ساتویں ہوگی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہوگا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہوگی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آسکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جاسکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہوگا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہوگا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہوجاتا۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا۔ آپ فرماتے ہیں ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہوگا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہوگا یہی فرمان باری ہے اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضامندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

آیت 66 - سورہ زخرف: (هل ينظرون إلا الساعة أن تأتيهم بغتة وهم لا يشعرون...) - اردو