سورہ زخرف (43): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Az-Zukhruf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزخرف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ زخرف کے بارے میں معلومات

Surah Az-Zukhruf
سُورَةُ الزُّخۡرُفِ
صفحہ 494 (آیات 61 سے 73 تک)

وَإِنَّهُۥ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَٱتَّبِعُونِ ۚ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَا يَصُدَّنَّكُمُ ٱلشَّيْطَٰنُ ۖ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَلَمَّا جَآءَ عِيسَىٰ بِٱلْبَيِّنَٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُم بِٱلْحِكْمَةِ وَلِأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ٱلْأَخِلَّآءُ يَوْمَئِذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا ٱلْمُتَّقِينَ يَٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ ٱلْيَوْمَ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَكَانُوا۟ مُسْلِمِينَ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ أَنتُمْ وَأَزْوَٰجُكُمْ تُحْبَرُونَ يُطَافُ عَلَيْهِم بِصِحَافٍ مِّن ذَهَبٍ وَأَكْوَابٍ ۖ وَفِيهَا مَا تَشْتَهِيهِ ٱلْأَنفُسُ وَتَلَذُّ ٱلْأَعْيُنُ ۖ وَأَنتُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ وَتِلْكَ ٱلْجَنَّةُ ٱلَّتِىٓ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ لَكُمْ فِيهَا فَٰكِهَةٌ كَثِيرَةٌ مِّنْهَا تَأْكُلُونَ
494

سورہ زخرف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ زخرف کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainnahu laAAilmun lilssaAAati fala tamtarunna biha waittabiAAooni hatha siratun mustaqeemun

آیت 61 { وَاِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ } ”اور یقینا وہ قیامت کی ایک علامت ہے“ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنے ورود اوّل میں بنی اسرائیل کے لیے نشانی یعنی مجسم معجزہ تھے ‘ جبکہ اپنے ورود ثانی میں آپ علیہ السلام کا نزول قیامت کی علاماتِ کبریٰ میں سے ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول اور قرب قیامت کے زمانے کی کیفیت احادیث میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ { فَلَا تَمْتَرُنَّ بِہَا وَاتَّبِعُوْنِ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ } ”تو اس قیامت کے بارے میں تم ہرگز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“

اردو ترجمہ

ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala yasuddannakumu alshshaytanu innahu lakum AAaduwwun mubeenun

آیت 62 { وَلَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطٰنُج اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اور دیکھو شیطان تمہیں روک نہ دے ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“ یعنی ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں اس صراط مستقیم کی پیروی سے روک دے جس کی طرف میں بلا رہا ہوں۔ یہ مت بھولو کہ شیطان اس صراط مستقیم پر گامزن ہونے والوں کا کھلا دشمن ہے اور انہیں گمراہ کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے آزماتا ہے۔

اردو ترجمہ

اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ "میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walamma jaa AAeesa bialbayyinati qala qad jitukum bialhikmati waliobayyina lakum baAAda allathee takhtalifoona feehi faittaqoo Allaha waateeAAooni

آیت 63 { وَلَمَّا جَآئَ عِیْسٰی بِالْبَیِّنٰتِ قَالَ قَدْ جِئْتُکُمْ بِالْحِکْمَۃِ } ”اور جب آئے عیسیٰ علیہ السلام ٰ واضح نشانیاں لے کر تو انہوں نے کہا کہ میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں“ یہاں پر ”حکمت“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس حوالے سے قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ انجیل میں ”کتاب“ شریعت نہیں تھی ‘ صرف حکمت تھی ‘ جبکہ تورات ”کتاب“ پر مشتمل تھی۔ اس میں احکامِ شریعت تو تھے ‘ حکمت نہیں تھی۔ دراصل نزول تورات کے زمانے میں نسل ِانسانی کا اجتماعی شعور ابھی اس قابل نہیں ہوا تھا کہ انہیں حکمت کی تلقین کی جاتی۔ اس لیے اس میں صرف احکام commandments دے دیے گئے تھے کہ یہ کرو اور یہ مت کرو۔ یعنی صرف اوامرو نواہی dos and donts کا ذکر کیا گیا تھا۔ حکمت کے لیے بعد میں انجیل آئی۔ البتہ قرآن میں کتاب شریعت بھی ہے اور حکمت بھی ہے۔ یعنی آخری کتاب ہونے کے حوالے سے یہ ما سبق تمام کتابوں کی جامع ہے۔ { وَلِاُبَیِّنَ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ تَخْتَلِفُوْنَ فِیْہِ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنِ } ”اور تاکہ میں واضح کردوں تمہارے لیے بعض وہ چیزیں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ‘ پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو۔“

اردو ترجمہ

حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha huwa rabbee warabbukum faoAAbudoohu hatha siratun mustaqeemun

آیت 64 { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”یقینا اللہ ہی ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ‘ پس تم اسی کی بندگی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“

اردو ترجمہ

مگر (اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faikhtalafa alahzabu min baynihim fawaylun lillatheena thalamoo min AAathabi yawmin aleemin

آیت 65 { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْ } ”پھر ان میں سے کئی گروہ باہم اختلافات میں مبتلا ہوگئے۔“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دو بڑے گروہوں کے درمیان شدید اختلافات پید اہو گئے۔ یہودی آپ علیہ السلام کی مخالفت میں اس حدتک چلے گئے کہ انہوں نے آپ علیہ السلام کو جادوگر ‘ مرتد اور ولد الزنا نقل کفر ‘ کفر نباشد قرار دے دیا۔ ان کے مقابلے میں عیسائیوں نے دوسری انتہا پر جا کر آپ علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ کا بیٹا بنا دیا اور آپ علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ بھی گھڑ لیا کہ آپ علیہ السلام اپنے نام لیوائوں کی طرف سے خود سولی پر چڑھ گئے ہیں اور یوں آپ علیہ السلام کی یہ ”قربانی“ آپ علیہ السلام کے ہر ماننے والے کے گناہوں کا کفارہ بن گئی ہے۔ بہر حال یہ دونوں رویے ّانتہائی غلط ہیں۔ { فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ یَوْمٍ اَلِیْمٍ } ”پس تباہی اور بربادی ہے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک دن کے عذاب سے۔“

اردو ترجمہ

کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hal yanthuroona illa alssaAAata an tatiyahum baghtatan wahum la yashAAuroona

آیت 66 { ہَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ } ”یہ لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں سوائے قیامت کے کہ وہ آجائے ان پر اچانک اور انہیں خبر بھی نہ ہو !“

اردو ترجمہ

وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alakhillao yawmaithin baAAduhum libaAAdin AAaduwwun illa almuttaqeena

آیت 67 { اَلْاَخِلَّآئُ یَوْمَئِذٍم بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ } ”بہت گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے ‘ سوائے متقین کے۔“ دنیا کی تمام دوستیاں اس دن دشمنیوں میں بدل جائیں گی ‘ سوائے مومنین ِصادقین کی باہمی دوستیوں کے۔

اردو ترجمہ

اُس روز اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya AAibadi la khawfun AAalaykumu alyawma wala antum tahzanoona

آیت 68 { یٰـعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ } ”اُن سے کہا جائے گا : اے میرے بندو ! آج تم پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم رنجیدہ ہوگے۔“

اردو ترجمہ

کہا جائے گا کہ "اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena amanoo biayatina wakanoo muslimeena

آیت 69 { اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوْا مُسْلِمِیْنَ } ”یعنی وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور فرماں بردار تھے۔“

اردو ترجمہ

داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تمہیں خوش کر دیا جائے گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Odkhuloo aljannata antum waazwajukum tuhbaroona

آیت 70 { اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ تُحْبَرُوْنَ } ”داخل ہو جائو جنت میں تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی ‘ تمہارا اعزازو اکرام کیا جائے گا۔“

اردو ترجمہ

اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی ان سے کہا جائے گا، "تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yutafu AAalayhim bisihafin min thahabin waakwabin wafeeha ma tashtaheehi alanfusu watalaththu alaAAyunu waantum feeha khalidoona

آیت 71 { یُطَافُ عَلَیْہِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَہَبٍ وَّاَکْوَابٍ } ”گردش کرائے جائیں گے ان پر سونے کی طشتریاں اور پیالے۔“ { وَفِیْہَا مَا تَشْتَہِیْہِ الْاَنْفُسُ وَتَلَذُّ الْاَعْیُنُج وَاَنْتُمْ فِیْہَا خٰلِدُوْنَ } ”اور وہاں ہوگا وہ سب کچھ جس کی طلب ہوگی انسان کے نفس کو اور جس سے نگاہیں لذت حاصل کریں گی ‘ اور تم اب اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے۔“ جنت کے پھول ‘ باغیچے ‘ مناظر اور اہل جنت کی بیویاں غرض وہاں کی ہرچیز انتہائی حسین اور دلکش ہوگی۔

اردو ترجمہ

تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watilka aljannatu allatee oorithtumooha bima kuntum taAAmaloona

آیت 72 { وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْہَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ } ”اور یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو اُن اَعمال کی بنا پر جو تم کرتے تھے۔“ یعنی جنت میں تمہارا داخلہ اور اس کی تمام نعمتیں تمہارے نیک اعمال کا بدلہ ہیں جو تم دنیا میں کرتے رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کی قدر دانی اور قدر افزائی کا ایک شاہانہ انداز ہے جو قرآن میں جا بجا ملتا ہے۔ دوسری طرف بندوں کے اس اعتراف کا ذکر بھی قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ اس ضمن میں اہل جنت کا اعتراف سورة الاعراف میں بایں الفاظ نقل ہوا ہے : { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰٹنَا لِہٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰٹنَا اللّٰہُج } آیت : 43 ”اور وہ کہیں گے ُ کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچایا ‘ اور ہم خود سے یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔“

اردو ترجمہ

تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lakum feeha fakihatun katheeratun minha takuloona

آیت 73 { لَـکُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْہَا تَاْکُلُوْنَ } ”اس میں تمہارے لیے بکثرت پھل موجود ہیں جن میں سے تم کھاتے ہو۔“

494