آیت نمبر 88 تا 89
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔
٭٭٭٭٭٭
آیت 88 { وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ } ”اور قسم ہے نبی ﷺ کے اس قول کی کہ اے میرے رب ! یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان نہیں لا رہے۔“ یہ اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کا انداز ہے جو رسول اللہ ﷺ کی طرف سے یہاں نقل ہوا ہے کہ اے میرے پروردگار ! میری یہ قوم ہٹ دھرمی اور ضد پر اترآئی ہے۔ نہ تو یہ لوگ میری باتوں کو سنتے ہیں اور نہ ہی بطور نبی کے میری تصدیق کرنے کو تیار ہیں۔