سورہ زخرف (43): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Az-Zukhruf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزخرف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ زخرف کے بارے میں معلومات

Surah Az-Zukhruf
سُورَةُ الزُّخۡرُفِ
صفحہ 495 (آیات 74 سے 89 تک)

إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى عَذَابِ جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلظَّٰلِمِينَ وَنَادَوْا۟ يَٰمَٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّٰكِثُونَ لَقَدْ جِئْنَٰكُم بِٱلْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَٰرِهُونَ أَمْ أَبْرَمُوٓا۟ أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَىٰهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْعَٰبِدِينَ سُبْحَٰنَ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ وَهُوَ ٱلَّذِى فِى ٱلسَّمَآءِ إِلَٰهٌ وَفِى ٱلْأَرْضِ إِلَٰهٌ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ وَتَبَارَكَ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ وَلَا يَمْلِكُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ وَقِيلِهِۦ يَٰرَبِّ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ فَٱصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَٰمٌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
495

سورہ زخرف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ زخرف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna almujrimeena fee AAathabi jahannama khalidoona

اردو ترجمہ

کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La yufattaru AAanhum wahum feehi mublisoona

اردو ترجمہ

ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama thalamnahum walakin kanoo humu alththalimeena

اردو ترجمہ

وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wanadaw ya maliku liyaqdi AAalayna rabbuka qala innakum makithoona

اردو ترجمہ

ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad jinakum bialhaqqi walakinna aktharakum lilhaqqi karihoona

آیت نمبر 78 تا 80

یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔

دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم ہوتا ہے اور ایسے لوگ اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشات اور اپنی حاجتوں کو دبا نہیں سکتے۔ اس کے مقابلے میں وہ سچائی پر وار کرنے میں بڑے ۔۔۔۔ ہوتے ہیں اور سچائی کے داعیوں کے ایسے لوگ جانی دشمن ہوتے ہیں ، اپنی خواہشات اور چاہتوں کے مقابلے میں ان کی یہ کمزور سچائی اور سچائی کے حاملین کے خلاف قوت کے استعمال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تو پھر حقیقی قوت کا مالک اور جبار وقہار بھی ان کو دھمکی دیتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ میں ان کی تمام خفیہ اور ظاہری سازشوں سے باخبر ہوں۔

ام ابرموا مرا فانا مبرمون (43 : 79) ام یحسبون ۔۔۔۔۔۔ لدیھم یکتبون ( 43 : 80) “ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ”۔ حق کے مقابلے میں باطل پر ان کا اصرار ہے تو اللہ کو بھی اصرار ہے کہ ان کے باطل کے مقابلے میں حق کا بول بالا کر کے رہے گا۔ ان کی تدابیر اور ان کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ کا علم کام کر رہا ہے جو راز کو بھی جانتا ہے اور سرگوشیوں سے بھی باخبر ہے۔ اللہ خالق اور عزیز وعلیم ہے اور اس کے مقابلے میں آنے والے ضعیف انسان ہیں ، اس لیے یہ کچھ نہ کرسکیں گے۔

٭٭٭٭

اس خوفناک ڈراوے کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ کو ایک ایسی بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو آخری بات ہے کہ یہ ان سے کہہ دیں اور پھر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تا کہ اس انجام تک پہنچ جائیں جس کی تصویر تم نے ابھی دیکھی ہے۔

اردو ترجمہ

کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Am abramoo amran fainna mubrimoona

اردو ترجمہ

کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے اِن کے پاس ہی لکھ رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Am yahsaboona anna la nasmaAAu sirrahum wanajwahum bala warusuluna ladayhim yaktuboona

اردو ترجمہ

اِن سے کہو، "اگر واقعی رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul in kana lilrrahmani waladun faana awwalu alAAabideena

آیت نمبر 81 تا 83

یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔

سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔

٭٭٭

اردو ترجمہ

پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Subhana rabbi alssamawati waalardi rabbi alAAarshi AAamma yasifoona

اردو ترجمہ

اچھا، اِنہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fatharhum yakhoodoo wayalAAaboo hatta yulaqoo yawmahumu allathee yooAAadoona

اردو ترجمہ

وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم و علیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuwa allathee fee alssamai ilahun wafee alardi ilahun wahuwa alhakeemu alAAaleemu

ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات :

آیت نمبر 84 تا 86

یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ سب غائب ہوں گے جن کو یہ پکارتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے ہمارے یہ رب دراصل ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں تو سفارش اس کی چلے گی جس کو پیشگی اجازت دے دی جائے گی ، اور ظاہر ہے جن کو پیشگی اجازت ملے گی وہ معاندین حق اور دشمنان اسلام کی سفارش کرنے سے رہے۔

اب یہاں ان کے سامنے وہ بات رکھی جاتی ہے جس میں وہ نہ شک کرتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ یہ کہ اللہ ہی ہمارے خالق ہے۔ سوال یہ کیا جاتا ہے جب اللہ خالق ہے تو پھر کیوں دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔

اردو ترجمہ

بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watabaraka allathee lahu mulku alssamawati waalardi wama baynahuma waAAindahu AAilmu alssaAAati wailayhi turjaAAoona

اردو ترجمہ

اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala yamliku allatheena yadAAoona min doonihi alshshafaAAata illa man shahida bialhaqqi wahum yaAAlamoona

اردو ترجمہ

اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walain saaltahum man khalaqahum layaqoolunna Allahu faanna yufakoona

آیت نمبر 87

یعنی جس سچائی کو ان کی فطرت تسلیم کرتی ہے اس سے وہ کیوں منہ موڑتے ہیں اور ایک طرف ہو کر نکل جاتے ہیں۔

سورت کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کی فریاد کو لایا جاتا ہے جو آپ کرتے تھے کہ میری قوم کفر ، عناد اور ایمان نہ لانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہاں اس فریاد کو لا کر اس کی قسم اٹھائی جاتی ہے۔

اردو ترجمہ

قسم ہے رسولؐ کے اِس قول کی کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqeelihi yarabbi inna haolai qawmun la yuminoona

آیت نمبر 88 تا 89

اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔

٭٭٭٭٭٭

اردو ترجمہ

اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faisfah AAanhum waqul salamun fasawfa yaAAlamoona
495