اس صفحہ میں سورہ Az-Zukhruf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزخرف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى عَذَابِ جَهَنَّمَ خَٰلِدُونَ
لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ وَهُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ
وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوا۟ هُمُ ٱلظَّٰلِمِينَ
وَنَادَوْا۟ يَٰمَٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ۖ قَالَ إِنَّكُم مَّٰكِثُونَ
لَقَدْ جِئْنَٰكُم بِٱلْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَكُمْ لِلْحَقِّ كَٰرِهُونَ
أَمْ أَبْرَمُوٓا۟ أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ
أَمْ يَحْسَبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَىٰهُم ۚ بَلَىٰ وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ
قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحْمَٰنِ وَلَدٌ فَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْعَٰبِدِينَ
سُبْحَٰنَ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ رَبِّ ٱلْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ
فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا۟ وَيَلْعَبُوا۟ حَتَّىٰ يُلَٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ
وَهُوَ ٱلَّذِى فِى ٱلسَّمَآءِ إِلَٰهٌ وَفِى ٱلْأَرْضِ إِلَٰهٌ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْعَلِيمُ
وَتَبَارَكَ ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلسَّاعَةِ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
وَلَا يَمْلِكُ ٱلَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ ٱلشَّفَٰعَةَ إِلَّا مَن شَهِدَ بِٱلْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ ٱللَّهُ ۖ فَأَنَّىٰ يُؤْفَكُونَ
وَقِيلِهِۦ يَٰرَبِّ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُونَ
فَٱصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَٰمٌ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
آیت نمبر 78 تا 80
یہ ہے وہ اصل بات جو اصل حق کی کراہیت اور ناگواری اس بات سے مانع تھی کہ وہ اسے قبول کریں۔ یہ بات مانع نہیں تھی کہ وہ سچائی کا ادراک نہ کرسکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی میں ان کو کوئی شک ہی نہ تھا ۔ انہوں نے کبھی آپ کی طرف جھوٹ منسوب ہوتے نہ دیکھا تھا۔ جب ایک شخص لوگوں کے ساتھ جھوٹ کا معاملہ نہیں کرتا تو وہ اپنے اللہ پر جھوٹ کس طرح باندھ سکتا ہے ۔ اور جھوٹا دعوائے نبوت کیسے کرسکتا ہے۔
دنیا میں جو لوگ بھی حق کے خلاف جنگ کرتے ہیں ، وہ حق سے لا علم نہیں ہوتے ، اصل بات یہ ہوتی ہے کہ وہ حق کو پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ حق ان کی خواہشات نفسانیہ کے خلاف ہوتا ہے ، ان کی شہوات سے متصادم ہوتا ہے اور ایسے لوگ اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہوتے ہیں کہ اپنی خواہشات اور اپنی حاجتوں کو دبا نہیں سکتے۔ اس کے مقابلے میں وہ سچائی پر وار کرنے میں بڑے ۔۔۔۔ ہوتے ہیں اور سچائی کے داعیوں کے ایسے لوگ جانی دشمن ہوتے ہیں ، اپنی خواہشات اور چاہتوں کے مقابلے میں ان کی یہ کمزور سچائی اور سچائی کے حاملین کے خلاف قوت کے استعمال کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ تو پھر حقیقی قوت کا مالک اور جبار وقہار بھی ان کو دھمکی دیتا ہے۔ اور فرماتا ہے کہ میں ان کی تمام خفیہ اور ظاہری سازشوں سے باخبر ہوں۔
ام ابرموا مرا فانا مبرمون (43 : 79) ام یحسبون ۔۔۔۔۔۔ لدیھم یکتبون ( 43 : 80) “ کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم ان کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں ”۔ حق کے مقابلے میں باطل پر ان کا اصرار ہے تو اللہ کو بھی اصرار ہے کہ ان کے باطل کے مقابلے میں حق کا بول بالا کر کے رہے گا۔ ان کی تدابیر اور ان کی سازشوں کے مقابلے میں اللہ کا علم کام کر رہا ہے جو راز کو بھی جانتا ہے اور سرگوشیوں سے بھی باخبر ہے۔ اللہ خالق اور عزیز وعلیم ہے اور اس کے مقابلے میں آنے والے ضعیف انسان ہیں ، اس لیے یہ کچھ نہ کرسکیں گے۔
٭٭٭٭
اس خوفناک ڈراوے کو چھوڑ کر رسول کریم ﷺ کو ایک ایسی بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو آخری بات ہے کہ یہ ان سے کہہ دیں اور پھر ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تا کہ اس انجام تک پہنچ جائیں جس کی تصویر تم نے ابھی دیکھی ہے۔
آیت نمبر 81 تا 83
یہ لوگ فرشتوں کی عبادت اس تصور پر کرتے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اگر اللہ کی اولاد ہوتی تو اس کے ساتھ جان پہچان اور اس کی بندگی کا حق دار سب سے پہلے نبی ہوتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے خدا کے قریب نبی اور رسول ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر اللہ کی بندگی اور اطاعت میں بھی وہ سب سے آگے ہوتے ہیں اور اگر کوئی اولاد ہوتی تو اس کی عزت بھی سب سے پہلے نبی کرتے۔ لہٰذا ان لوگوں کا یہ تصور اور زعم ہی محض افسانہ ہے۔ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اور اس قسم کی صفات کی اللہ کی طرف نسبت کرنا اس کے شایان شان نہیں ہے ، وہ پاک ہے۔
سبحن رب السموت والارض رب العرش عما یصفون (43 : 82) “ پاک ہے آسمان اور زمین کا فرماں روا ، عرش عظیم کا مالک ان ساری باتوں سے جو یہ لوگ اس کی طرف منسوب کرتے ہیں ”۔ جب انسان ان آسمانوں اور زمین پر غور کرتا ہے ، ان کے نظام پر غور کرتا ہے ، ان کی رفتار اور آثار کے اندر غایت درجہ ہم آہنگی دیکھتا ہے ، اور اس نظام کے پیچھے جب بلند اور عظیم قوت کی عظمت کو دیکھتا ہے اور پھر اس پورے نظام پر اس کے قبضے اور کنٹرول کو دیکھتا ہے ، جس کی طرف رب العرش کا لفظ اشارہ کرتا ہے تو انسان کے ذہن سے اس قسم کے افسانوی خیالات و خرافات خود بخود محو ہوجاتے ہیں۔ اور یہ غور کرنے والا انسان خود اپنی فطرت کے ذریعہ یہ معلوم کرلیتا ہے کہ ایسی ذات بےمثال ہی ہو سکتی ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ہو سکتی جس طرح مخلوق کی اولاد ہوتی ہے اور نسلیں چلتی ہیں۔ یہ اللہ کے لائق نہیں ہے۔ وہ اس سے پاک ہے۔ اس قسم کے عقائد اس سوچ کے بعد خود بخود لغو نظر آتے ہیں ۔ یہ فضول کلام اور ناجائز جسارت ہے۔ اس لیے کلام کرنا ہی فضول ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔
فذرھم یخوضوا ۔۔۔۔۔۔ یوعدون (43 : 83) “ انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جن کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے ”۔ اور وہ دن کیسا ہوگا ، اس کی ایک تصویر تو ابھی انہوں نے دیکھ لی ہے۔
٭٭٭
ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کے بعد اللہ کی تعریف اور حمد میں کچھ باتیں کی جاتی ہیں ، یہ بتانے کے لئے کہ اس عظیم کائنات کا رب ایسا ہوتا ہے۔ یہ ہیں اس کی صفات :
آیت نمبر 84 تا 86
یہ ہے زمین و آسمان میں صرف ایک ہی الوہیت کا اعلان ، جو وحدہ لا شریک ہے ، وہ جو کام بھی کرتا ہے حکمت کی بنا پر کرتا ہے اور اپنے بےقید علم کے مطابق کرتا ہے۔ پھر یہاں لفظ تبارک کا استعمال ہوا ہے یعنی برکتوں والا ہے اور اس کے بارے میں یہ لوگ جو تصورات رکھتے ہیں ، ان سے بہت بلند ہے ، وہ زمین و آسمانوں اور ان کے اندر تمام مخلوقات کا رب اور مالک ہے۔ وہی قیامت کے دن کا جاننے والا ہے اور اس کی طرف لوٹنا ہے۔ اس دن ان الہوں میں سے کوئی بھی نہ ہوگا۔ سب غائب ہوں گے جن کو یہ پکارتے ہیں ۔ کیونکہ یہ لوگ کہتے تھے ہمارے یہ رب دراصل ہمارے سفارشی ہیں اور وہاں تو سفارش اس کی چلے گی جس کو پیشگی اجازت دے دی جائے گی ، اور ظاہر ہے جن کو پیشگی اجازت ملے گی وہ معاندین حق اور دشمنان اسلام کی سفارش کرنے سے رہے۔
اب یہاں ان کے سامنے وہ بات رکھی جاتی ہے جس میں وہ نہ شک کرتے تھے اور نہ جھگڑتے تھے۔ یہ کہ اللہ ہی ہمارے خالق ہے۔ سوال یہ کیا جاتا ہے جب اللہ خالق ہے تو پھر کیوں دوسروں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہو۔
آیت نمبر 87
یعنی جس سچائی کو ان کی فطرت تسلیم کرتی ہے اس سے وہ کیوں منہ موڑتے ہیں اور ایک طرف ہو کر نکل جاتے ہیں۔
سورت کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کی فریاد کو لایا جاتا ہے جو آپ کرتے تھے کہ میری قوم کفر ، عناد اور ایمان نہ لانے پر تلی ہوئی ہے۔ یہاں اس فریاد کو لا کر اس کی قسم اٹھائی جاتی ہے۔
آیت نمبر 88 تا 89
اس انداز تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فریاد دور رس ہے ، اس کے گہرے نتائج نکلنے والے ہیں ، اسے سن لیا گیا ، اور عالم بالا اس کے نتیجے میں کچھ عظیم اقدامات کر رہا ہے۔ لہٰذا اے نبی ﷺ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان کی کاروائیوں اور ریشہ دوانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ، مطمئن رہیں ، نہایت امن سلامتی اور شرافت کے ساتھ اپنی راہ پر چلتے رہیں ۔ اس میں بھی درپردہ ایمان نہ لانے والوں کو سخت دھمکی دی جارہی ہے۔ اس دن کے سلسلے میں جب سب چھپے ظاہر ہوں گے۔ “ اے نبی ﷺ ان سے درگزر کرو اور کہہ دو سلام ہے تمہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا ”۔
٭٭٭٭٭٭