آیت نمبر 50 تا 51
یہ وہی الفاظ ہیں جو اس سے قبل کے بدفطرت لوگوں نے کہے تھے۔ نہ ان کا علم ان کے کام آیا ، نہ ان کا اقتدار انہیں بچا سکا ۔ اور نہ ان کی ٹیکنالوجی اور اللہ کے عذاب نے انہیں آلیا۔ یہ ان کی آزمائش تھی اس میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ اور اللہ کو عاجز کرنے والا کوئی نہیں۔ انسان جیسی ضعیف مخلوق اللہ کو کیسے عاجز کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے ان کو مال واقتدار دیا تو یہ اللہ کی حکمت کے مطابق ہوتا ہے۔ اور یہ حکمت اللہ خود ہی جانتا ہے کہ وہ کسی کو مال واقتدار کی فراوانی کیوں دیتا ہے۔ اصل بات ہوتی ہے اس کی
مشیت اور اس کی آزمائش۔
آیت 50 { قَدْ قَالَہَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”ان سے پہلوں نے بھی یہی بات کہی تھی“ مثلاً قارون بھی ایسے ہی دعوے کیا کرتا تھا۔ { فَمَآ اَغْنٰی عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”تو جو کچھ بھی انہوں نے کمائی کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آسکی۔“ جب اللہ تعالیٰ نے قارون کو اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا تو اپنی اس دولت کے بل پر وہ اللہ کے عذاب سے بچ نہ پایا۔