اس صفحہ میں سورہ Az-Zumar کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أَفَمَن شَرَحَ ٱللَّهُ صَدْرَهُۥ لِلْإِسْلَٰمِ فَهُوَ عَلَىٰ نُورٍ مِّن رَّبِّهِۦ ۚ فَوَيْلٌ لِّلْقَٰسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
ٱللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ ٱلْحَدِيثِ كِتَٰبًا مُّتَشَٰبِهًا مَّثَانِىَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ ٱلَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَىٰ ذِكْرِ ٱللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُدَى ٱللَّهِ يَهْدِى بِهِۦ مَن يَشَآءُ ۚ وَمَن يُضْلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنْ هَادٍ
أَفَمَن يَتَّقِى بِوَجْهِهِۦ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ وَقِيلَ لِلظَّٰلِمِينَ ذُوقُوا۟ مَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَىٰهُمُ ٱلْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ
فَأَذَاقَهُمُ ٱللَّهُ ٱلْخِزْىَ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ وَلَعَذَابُ ٱلْءَاخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِى هَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ
قُرْءَانًا عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِى عِوَجٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ
ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا رَّجُلًا فِيهِ شُرَكَآءُ مُتَشَٰكِسُونَ وَرَجُلًا سَلَمًا لِّرَجُلٍ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلًا ۚ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُم مَّيِّتُونَ
ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ عِندَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ
آیت نمبر 22 تا 23
جس طرح آسمانوں سے پانی نازل ہوتا ہے ، زمین سے نباتات اگتے ہیں اور ان کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے ذکر اور نصیحت نازل ہوتی ہے۔ اس ذکر اسے بھی زندہ دل فائدہ اٹھاتے ہیں ، ان دنوں کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اچھے کاموں کے لئے بڑھتے ہیں۔ اور جس طرح آسمانوں کی بارش پتھروں پر فصل نہیں اگاتی۔ اسی طرح
سنگدل لوگوں پر ذکر آسمانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ان میں کارخیر کی روئیدگی ہوتی ہے اور نہ فکر خیر کی روئیدگی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ اسلام کے لیے ایسے دلوں کے اندر شرح صدر پیدا کردیتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ان کے اندر خیر ہے۔ ان تک نور الہٰی پہنچتا ہے تو چمک اٹھتے ہیں اور ان سے زوشنی پھولتی ہے۔ اور شرح صدر والے قلوب اور سنگدل قلوب میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
فویل للقٰسیة قلوبھم من ذکر اللہ (39: 22) ” تباہی ان لوگوں کے لیے جن کے دل نصیحت سے اور سخت ہوجاتے ہیں “۔
اولٰئک فی ضلل مبین (39: 22) ” وہ لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ آیت کریمہ ان دلوں کی حقیقت بیان کرتی ہے جو اسلام کے لیے کھل جاتے ہیں ، جو اسلام سے ہدایات لیتے ہیں اور اسلام سے تروتازگی حاصل کرتے ہیں اور اپنے دلوں کا تعلق اللہ سے جوڑتے ہیں۔ ان کی شرح صدر کی حالت سے ان کی تازگی ، ان کے اندر پائی جانے والی بشاشت اور مسرت اور نورانیت اور اشراق کی کیفیات وجود میں آتی ہیں اس کے مقابلے میں یہ آیت ان دلوں کا حال بھی بتاتی ہے جو سخت اور پتھر ہیں۔ جو اپنی خشکی کی وجہ سے مرچکے ہیں۔ بانجھ اور تاریک ہوچکے ہیں۔ غرض اللہ جس کو اسلام کے لیے پسند کرتا ہے اس کا دل اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور اسلام کا نور ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے اور جسے محروم کرنا چاہتا ہے اس کا دل سخت کردیتا ہے اور ان دونوں کے اندر بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
دوسری آیت میں یہ بتایا گیا کہ اہل ایمان قرآن کریم کو کس انداز میں لیتے ہیں۔ قرآن کریم ایک ایسی کتاب ہے جس کے اندر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں ، اس کی سمت میں اس کی روح میں ، اس کے خصائص میں ، یہ ان تمام زاویوں سے مشابہ اور مثانی ہے (دہرائی ہوئی) ۔ اس کی آیات کے آخری حصے یعنی مقطعے ، اس کے قصص اور اس کی ہدایات اور اس کے مناظر باربار دہرائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں تضاد نہیں ہوتا۔ ہر جگہ ایک نئے زاویہ سے دہرائے جاتے ہیں اور ہر جگہ نئے لگتے ہیں اور پر جگہ نیا فائدہ ہوتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی ، نہایت سنجیدگی اور مضبوط اصولوں کے مطابق ، جن میں نہ تصادم ہے اور نہ تضاد ہے۔ وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس کے احکام کے مطابق پرہیز کرتے ہیں اور ہر وقت احتیاط میں زندگی بسر کرتے ہیں اور ہر وقت اللہ کے فضل کے امیدوار ہوتے ہیں۔ وہ قرآن کریم کے باران رحمت کو نہایت خوف اور کپکپی سے لیتے ہیں۔ اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ کانپ اٹھتے ہیں۔ ان کے جسم پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد ان کے نفوس کے اوپر سکون کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل اس ذکر سے مانوس ہوجاتے ہیں ، پھر ان کے دل نرم ہوکر اس نصیحت کو قبول کرلیتے ہیں۔ یہ ایک زندہ حساس صورت حالات ہے ۔ یہ صورت حالات الفاظ کے رنگ سے منقش ہے اور یہ تصاویر یوں نظر آتی ہیں کہ گویا زندہ ومتحرک ہیں۔
ذٰلک ھدی اللہ یھدی به من یشآء (39: 23) ” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ جس کو چاہتا ہے ، راہ راست پر لے آتا ہے “۔ یہ دل از خود اس طرح کانپ نہیں جاتے بلکہ یہ رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہوتے ہیں اور رحمٰن کے فضل وکرم سے وہ لبیک کہتے ہیں اور ان کے اندر نور پیدا ہوجاتا ہے ، اللہ کو تمام قلوب کی حقیقت کا علم ہوتا ہے۔ لہٰذا وہ کسی کو ہدایت دیتا ہے اور کسی کو گمراہی لیکن یہ ان قلوب کی پسند کے مطابق ہوتا ہے۔
ومن یضلل اللہ فما له من ھاد (39: 23) ” اور جسے اللہ گمراہ کردے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے “۔ اللہ اس کو اس لیے گمراہ کرتا ہے کہ وہ شخص گمراہی اختیار کرتا ہے اور اللہ کو علم ہوتا ہے کہ اس نے ایسا کرلیا ہے یا کرے گا اور وہ کبھی بھی ہدایت کو قبول نہ کرے گا۔ اور نہ ہدایت کے سامنے سر جھکائے گا۔
آیت نمبر 24
انسان کی یہ عادت ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں اور اپنے جسم کے ذریعے بھی اپنے چہرے کو بچاتا ہے۔ یہاں دوزخ کے اندر تو وہ اپنے آپ کو کس صورت میں بھی آگ سے نہیں بچاسکتا ۔ نہ ہاتھوں سے ، نہ پاؤں سے۔ لہٰذا وہ یہاں چہرے سے آگ کو دفع کرے گا۔ اور چہرے کے ذریعہ سخت عذاب سے بچنے کی سعی کرے گا۔ یہاں مراد ہے شدید ڈر ، شدیدخوب اور شدید اضطراب۔ اس قسم کی صورت حال میں اب کفار کو سرزنش کیجاتی ہے اور اس کے سامنے اس کی پوری زندگی کی کمائی پیش کی جاتی ہے۔
وقیل للظلمین ذوقوا ماکنتم تکسبون (39: 24) ” وہ ظالموں سے کہہ دیا جائے گا ، اب چکھو مزہ ، اس کمائی کا جو تم کرتے تھے “۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگوں سے پھر کر ان اقوام کی طرف چلا جاتا ہے جنہوں نے انسانی تاریخ میں دوسرے نبیوں کی تکذیب کی تاکہ ذراوہ تاریخ سے بھی سبق لیں اور اپنا بندوبست بھی کرلیں۔
آیت نمبر 25 تا 26
یہ ہے حال مکذبین کا دنیا اور آخرت دونوں میں۔ دنیا میں بھی اللہ نے ان کو شرمندہ اور ذلیل کیا۔ آخرت میں بھی ان کے لیے ایک عظیم عذاب انتظار میں ہے۔ اللہ کی سنت اپنا کام کرتی ہے۔ وہ اٹل ہے۔ اقوام رفتہ کا انجام پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ شاہد عادل ہے۔ اللہ کی دھمکی قائم ہے کہ وہ آخرت میں ان کو سزا دے گا۔ ان کے سامنے اب بھی فرصت کے لمحات موجود ہیں۔ ان کو غنیمت سمجھیں اور قرآن کی نصیحت سے ہدایت لیں۔
لوکانوا یعلمون (39: 26) ” کاش یہ لوگ جانتے “۔
آیت نمبر 27 تا 29
اللہ تعالیٰ کسی ایسے بندے کی جو موحد ہے اور کسی ایسے بندے کی جو مشرک ہے ، یہ مثال دیتا ہے کہ ان کی مثال ہے جیسے ایک غلام ایک شخص کی خالص ملکیت ہو اور دوسرا کئی مختلف الحیال مالکان کے درمیان مشترکہ ہو۔ اس مشترکہ غلام میں مختلف مالکان کے علیحدہ علیحدہ مطالبے ہیں۔ اور یہ بیچارہ انکے درمیان حیران وپریشان ہے۔ کوئی ادھر کھینچتا ہے ، کوئی ادھر۔ وہ اسے کوئی ایک پروگرام نہیں دیتے اور اس بیچارے کی یہ طاقت ہی نہیں ہے کہ وہ انکی متضاد فرمائشیں شروع کرسکے کیونکہ وہ اسکے رخ کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور اسکی خواہشات کو بھی تبدیل کررہی ہیں۔ اور ایک ایک کا غلام یکسو ہے۔ اس کو مالک نے ایک پروگرام دیا ہوا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اسنے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک آقا کا غلام مطمئن ، خوش اور یکسو ہوگا۔
ھل یستویٰن مثلا (39: 29) ” کیا ان دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے “۔ یقیناً دونوں برابر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس کا ایک آقا ہے وہ آدم ، استراحت ، استقامت اور یقینی پروگرام رکھتا ہے۔ اس کی قوتیں مجتمع ہیں۔ اس کا رخ متعین ہے ۔ اس کی راہ متعین ہے اور جس غلام کے مختلف الحیال آقا ہیں۔ وہ ایک دائمی عذاب میں ہے۔ ایک دائمی کشاکش میں ہے۔ اور ہر وقت قلق وبے چینی میں مبتلا ہے۔ کسی ایک حال پر برقرار نہیں ہے۔ اور اس سے ایک مالک بھی راضی نہ ہوگا ، سب کا راضی ہونا تو محال ہے۔
یہ مثال حقیقت توحید اور حقیقت شرک پر تمام حالات میں منطبق ہے۔ ایک موحدو مومن اس زمین پر اپنا سفر نہایت ہی سیدھے راہ پر علی وجہ البصیرت طے کرتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظریں ہمشہ ایک نصب العین پر مرکوز ہیں۔ پوری زندگی ، پوری قوت اور تمام ضروریات اور تمام نفع ونقصان وہ ایک جہت سے طلب کرتا ہے۔ ایک ذات ہے جو اسے روکتی ہے اور ایک ہی ذات ہے جو اسے اجازت دیتی ہے۔ لہٰذا اس کے قدم سیدھے اس ایک سرچشمے کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ اسی سرچشمے سے اخذ کرتا ہے اور اس کے ہاتھوں میں ایک ہی مضبوط رسی ہے جسے اس کے مضبوطی سے پکڑا رکھا ہے ، ایک ہی ہدف ہے جس پر وہ نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ایک ہی آقا کی وہ خدمت کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ میرا آقا کس بات پر راضی ہوتا ہے اور کس پر نازاض ہوتا ہے۔ یوں اس کی قوتیں مجتمع ہوتی ہیں اور یوں وہ پوری قوت کے ساتھ زمین پر کام کرتا ہے۔ اور آسمان پر نظریں جمائے ہوتا ہے۔
اور اس مثال پر تبصرہ الحمدللہ سے کیا جاتا ہے کہ اس نے عقیدۂ توحید کے ذریعے اپنے بندوں کو آرام و اطمینان اور راحت بخشی ہے۔ اور ان کی زندگی کو اثبات وقرار عطا کیا۔ اب اگر وہ اس سے انحراف کرتے ہیں تو وہ لاعلم ہیں۔ یہ ان مثالوں میں ایک ہے جو قرآن نے لوگوں کی راہنمائی کے لیے دی ہیں تاکہ لوگ حقیقت کو جان سکیں۔ یہ قرآن عربی ہے ، سیدھا ، واضح اور بین ہے۔ اس کے معانی میں کوئی التباس نہیں۔ نہ پیچیدگی اور انحراف ہے اور یہ عوام الناس کو ایک فطری استدلال سے خطاب کرتا ہے ، جو
ان کی سمجھ میں آتا ہے۔
درس نمبر 219 ایک نظر میں
یہ سبق اس سے ماقبل کے تمام اسباق پر ایک تبصرہ ہے۔ آسمانوں سے پانی کے نزول کی نشانی بیان کرنے کے بعد مردہ زمین پر روئیدگی پیدا ہوکر فصل کاٹنے تک کی نشانی کے بعد ، اور اللہ کی جانب سے نازل ہونے والی اس کتاب کی نشانیوں کے بعد اور قرآنی امثال کے بیان کے بعد اور نبی ﷺ کو یہ یقین دہانی کرانے کے بعد کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ، یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اب بعث بعد الموت کے بعد ہی اللہ تمام حقائق کا فیصلہ کر دے گا۔ لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو
انکی تکذیب کا بدلہ مل جائے گا اور وہ اس کے مستحق ہوں گے۔ اور بچوں کو سچائی کا وہ صلہ مل جائے گا جس کے وہ مستحق ہوں گے۔
درس نمبر 219 تشریح آیات
آیت نمبر 30 تا 31
ہر زندہ مخلوق نے اس جام کو ہونٹوں سے لگانا ہے ، باقی رہے گا صرف نام اللہ کا۔ اور موت کے معاملے میں تمام انسان برابر ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت محمد ﷺ نے بھی جان دیتی ہے اور یہاں اس کا ذکر بھی توحید کے ثبوت کے لیے ہے۔ اور توحید اس سورت کا بڑا موضوع ہے۔ اس کے بعث بعد الموت کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ موت ہی پر معاملہ ختم نہیں ہوجاتا۔ یہ تو ایک مرحلہ ہے۔ اس کے بعد کے مراحل آنے والے ہیں۔ اس لیے کہ مخلوقات میں سے کوئی چیز عبث نہیں ہے کہ ہونہی چلی جائے کہ بس پیدا ہوئے اور مرگئے۔ آج دنیا میں جن موضوعات پر لوگ باہم دست وگریباں ہیں ان پر رب کے ہاں بھی جھگڑے ہوں گے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے رب کے ہاں کھڑے ہوں گے اور وہاں پھر پوچھا جائے گا کہ اب بتاؤ تم رسول اللہ کے مقابلے میں کیا کیا کرتے رہے ہو۔ اور اللہ کی ہدایت اور قرآن کا کیا کیا مقابلہ کرتے رہے ہو۔