اس صفحہ میں سورہ Maryam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ مريم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَكُلِى وَٱشْرَبِى وَقَرِّى عَيْنًا ۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ ٱلْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِىٓ إِنِّى نَذَرْتُ لِلرَّحْمَٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ ٱلْيَوْمَ إِنسِيًّا
فَأَتَتْ بِهِۦ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُۥ ۖ قَالُوا۟ يَٰمَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْـًٔا فَرِيًّا
يَٰٓأُخْتَ هَٰرُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ ٱمْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا
فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ ۖ قَالُوا۟ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِى ٱلْمَهْدِ صَبِيًّا
قَالَ إِنِّى عَبْدُ ٱللَّهِ ءَاتَىٰنِىَ ٱلْكِتَٰبَ وَجَعَلَنِى نَبِيًّا
وَجَعَلَنِى مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَٰنِى بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ مَا دُمْتُ حَيًّا
وَبَرًّۢا بِوَٰلِدَتِى وَلَمْ يَجْعَلْنِى جَبَّارًا شَقِيًّا
وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا
ذَٰلِكَ عِيسَى ٱبْنُ مَرْيَمَ ۚ قَوْلَ ٱلْحَقِّ ٱلَّذِى فِيهِ يَمْتَرُونَ
مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ ۖ سُبْحَٰنَهُۥٓ ۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
وَإِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۚ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ
فَٱخْتَلَفَ ٱلْأَحْزَابُ مِنۢ بَيْنِهِمْ ۖ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن مَّشْهَدِ يَوْمٍ عَظِيمٍ
أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا ۖ لَٰكِنِ ٱلظَّٰلِمُونَ ٱلْيَوْمَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
آیت 26 فَکُلِیْ وَاشْرَبِیْ وَقَرِّیْ عَیْنًاحضرت مریم سلامٌ علیہا نے یہ تمام معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ بچہ بھی بول پڑا ‘ چشمہ بھی جاری ہوگیا ‘ اور کھجور کے سوکھے تنے کو ہلانے سے تازہ پکی ہوئی کھجوریں بھی ان کے سامنے آن گریں۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد ان میں حالات کا مقابلہ کرنے کی جرأت پیدا ہوئی اور انہوں نے بچے کو لے کر آبادی میں آنے کا فیصلہ کیا۔فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًالا فَقُوْلِیْٓ اِنِّیْ نَذَرْتُ للرَّحْمٰنِ صَوْمًا فَلَنْ اُکَلِّمَ الْیَوْمَ اِنْسِیًّاان کی شریعت میں روزے کی حالت میں کھانے پینے کی پابندی کے علاوہ بات چیت کرنے پر بھی پابندی تھی۔
آیت 27 فَاَتَتْ بِہٖ قَوْمَہَا تَحْمِلُہٗ حضرت مریم بڑے حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نومولود بچے کو اٹھائے ہوئے اپنی قوم کی طرف آگئیں۔ بچے کی گفتگو والا معجزہ دیکھ لینے کے بعد آپ کو تسلی تھی کہ وہ خود ہی لوگوں کے سوالات کے جواب دے گا۔ آیت 24 کے حوالے سے بچے کے کلام کرنے کا تذکرہ عام طور پر تفاسیر میں نہیں ملتا اور ”مِنْ تَحْتِھَا“ سے یہی سمجھا گیا ہے کہ اس موقع پر فرشتے ہی نے آپ کو پکارا تھا۔ بہرحال میری رائے یہ ہے کہ حضرت مریم کو اس وقت نیچے سے پکارنے والا آپ کا نومولود بیٹا تھا ‘ جس کی گفتگو سے آپ کو حوصلہ ملا اور آپ بچے کے ساتھ لوگوں کا سامنا کرنے پر آمادہ ہوئیں۔ واللہ اعلم !قَالُوْا یٰمَرْیَمُ لَقَدْ جِءْتِ شَیْءًا فَرِیًّاان کو دیکھتے ہی لوگوں نے طرح طرح کی باتیں کرنا شروع کردیں کہ تم نے یہ کیا غضب کیا ! تمہاری گود میں یہ کس کا بچہ ہے ؟ یہ تم نے بہت بری حرکت کی ہے ‘ وغیرہ۔
آیت 28 یٰٓاُخْتَ ہٰرُوْنَ مَا کَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْ ءٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّاحضرت مریم کو ہارون کی بہن کہنے کی وجہ یا تو یہ ہوسکتی ہے کہ ان کا ہارون نامی کوئی بھائی ہو ‘ یا یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی وجہ سے ایک برگزیدہِ جدّ امجد کے طور پر آپ علیہ السلام کا نام لیا گیا ہو کہ دیکھو کس عظیم شخصیت کی نسل سے تمہارا تعلق ہے اور حرکت تم نے کس قدر گری ہوئی کی ہے۔
آیت 35 مَا کَانَ لِلّٰہِ اَنْ یَّتَّخِذَ مِنْ وَّلَدٍلا سُبْحٰنَہٗط اِذَا قَضآی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ یعنی حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کے سلسلے میں باپ کا حصہ اللہ تعالیٰ کے ایک حرف ”کُن“ کے ذریعے سے پورا ہوا ‘ جبکہ باقی سارا عمل عام فطری اور طبعی طریقے سے تکمیل پذیر ہوا۔ اسی لیے آپ علیہ السلام کو کلمۃٌ منہُ آل عمران : 45 یعنی اللہ کا خاص کلمہ قرار دیا گیا ہے۔
آیت 37 فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْم بَیْنِہِمْج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ مَّشْہَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی ہوگی اور تمام حقائق کھل کر سامنے آئیں گے تو حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں بھی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ چناچہ اس بارے میں جن لوگوں نے من گھڑت عقیدے بنائے اور پھر ان غلط عقائد پر ہی جمے رہے حتیٰ کہ اسی حالت میں انہیں موت آگئی ‘ ایسے لوگوں کے لیے اس دن ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔