سورہ محمد: آیت 16 - ومنهم من يستمع إليك حتى... - اردو

آیت 16 کی تفسیر, سورہ محمد

وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُوا۟ مِنْ عِندِكَ قَالُوا۟ لِلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُمْ

اردو ترجمہ

اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waminhum man yastamiAAu ilayka hatta itha kharajoo min AAindika qaloo lillatheena ootoo alAAilma matha qala anifan olaika allatheena tabaAAa Allahu AAala quloobihim waittabaAAoo ahwaahum

آیت 16 کی تفسیر

درس نمبر 242 ایک نظر میں

یہ سبق منافقین کے بارے میں ہے ، اس میں بتایا گیا ہے کہ ان کا موقف رسول اللہ ﷺ کی ذات کے بارے میں کیا تھا ؟ قرآن کے بارے میں کیا تھا ؟ پھر مسلمانوں پر جہاد فرض ہوگیا تھا۔ اس کے بارے میں وہ کیا سوچتے تھے ؟ یاد رہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے تھا ؟ پھر یہ کہ مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے مخالف اسلام یہودی قبائل کے ساتھ ان کے خفیہ تعلقات ان مقاصد کے لئے تھے۔ یہ کہ ان خفیہ سازشوں کی وجہ سے یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کی جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے تھے۔

تحریک نفاق مدینہ کی پیدا وار ہے۔ مکہ میں اس کا وجود ہی نہ تھا کیونکہ مکہ میں ایسے حالات ہی نہ تھے جن میں کسی کو منافق بننے کی ضرورت پیش آتی مکہ میں مسلمان دبے ہوئے تھے۔ لہٰذا کسی کو منافق بننے کی ضرورت ہی نہ تھی۔ جب اللہ نے مدینہ میں اوس اور خزرج کے ذریعہ اسلام کو عزت بخشی اور مدینہ کے اکثر خاندانوں میں اسلام پھیل گیا۔ اکثر لوگ مسلمان ہوگئے تو بعض ایسے لوگ بھی دیکھا دیکھی مسلمان ہوگئے جو حضرت محمد ﷺ کو پسند نہ کرتے تھے کہ آپ اور اسلام یہاں قوت پکڑیں۔ یہ لوگ مسلمان تو ہوگئے لیکن ان کے دل اسلام اور حضرت محمد ﷺ کی دشمنی سے بھرے ہوئے تھے۔ اور وہ اس آرزو میں بیٹھ گئے تھے کہ حالات گردش میں آئیں اور اس نئی قوت پر ضرب لگائی جائے۔ ان کا سربراہ عبد اللہ ابی بن سلول تھا۔ یہ مشہور زمانہ منافق تھا۔

مدنی دور کے آغاز میں یہودی مدینہ میں ایک زبردست فوجی ، اقتصادی اور تنظیمی قوت رکھتے تھے۔ یہ لوگ بھی حضرت محمد ﷺ کے غلبے کو پسند نہ کرتے تھے۔ نہ آپ کے دین اور آپ کے متبعین کو پسند کرتے تھے۔ یہودیوں کا یہاں اس پوزیشن میں موجود ہونا بھی منافقین کے لئے ایک سہارا تھا۔ اور اس مشترکہ دشمنی نے ان کو جلد ہی ایک دوسرے بنا دیا۔ لہٰذا یہ دونوں قوتیں ہر موقعہ پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کرتیں۔ اگر مسلمانوں پر مشکل حالات ہوتے تو یہ اپنی منافقت اور بغض و عداوت کا اظہار کردیتے۔ اور اگر مسلمان اچھی حالت میں ہوتے تو یہ خفیہ اور اندھیروں میں ان کے خلاف سازشوں کا تانا بانا تیار کرتے۔ مدینہ کے دس سال عہد حکومت میں پانچ سالوں تک یہ اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ بنے رہے۔

مدینہ میں جس قدر سورتیں نازل ہوئی ہیں ان میں تواتر کے ساتھ منافقین کی سازشوں ، عداوتوں اور ان کے نفاق کا ذکر ہے۔ اور یہ بھی مذکور ہے کہ یہ لوگ یہودیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اور ان سے ہدایات لیتے ہیں اور بعض سازشوں میں شریک ہیں۔ یہ سبق ان میں سے ایک ہے جس میں یہودیوں اور منافقین کے اشتراک کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

منھم (ان میں سے) کا اشارہ کافروں کی طرف بھی ہو سکتا ہے کیونکہ درس سابق میں کافروں سے بحث تھی اور درحقیقت منافقین بھی کافر ہی تھے۔ اگرچہ چھپے ہوئے کافر تھے۔ اللہ نے یہاں ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کو کافروں میں شمار کیا ہے کہ ان کافروں میں سے بعض منافقین ہیں۔

اور یہ اشارہ مسلمانوں کی طرف بھی ہو سکتا ہے یعنی مسلمانوں میں سے بعض منافقین ہیں۔ کیونکہ منافقین باقاعدہ نماز بھی پڑھتے تھے اور اسلام بظاہر ان کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ معاملہ کرتا تھا ۔ لیکن دونوں صورتوں میں یہ منافق ہی تھے۔ آیت میں ان کی جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ ان میں تھیں اور یہ پورا سبق ان کے بارے میں ہے۔

یہ لوگ مجلس میں ہوں بیٹھے ہوئے کہ گویا ہمہ تن گوش ہیں اور اچھی طرح بات سن رہے ہیں لیکن در حقیقت یہ سن نہیں رہے ہوتے تھے۔ بلکہ “ برزبان تسبیح و در دل گا ؤخر ” کا مصداق ہوتے اور اگر سنتے بھی تو ان کے دل کو بات لگتی ہی نہ تھی۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ اہل علم سے طنزاً پوچھتے ہوں کہ بتائیے جناب ابھی کیا کہا صاحب نے۔ یعنی ہمارے پلے تو کوئی بات پڑی نہیں ہے۔

اس سے ان کی مراد یہ اشارہ بھی تھا کہ ہم تو ان باتوں کی کوئی زیادہ پرواہ نہیں کرتے لیکن اہل علم حضرت کی باتوں کا ایک ایک لفظ یاد کرتے ہیں۔ الفاظ بھی اور معانی بھی ۔ صحابی کرام کا طریقہ بھی یہ تھا کہ وہ حضور ﷺ کے الفاظ اور معانی دونوں کو یاد کرتے تھے۔ اور یہ لوگ یعنی منافقین ان الفاظ اور معانی کو بطور مزاح دہراتے تھے۔ ان سب باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ نہایت بدفطرت ، اسلام کے معاند ، اندھے اور اسلام کے ترقی پذیر حالات میں جل بھن گئے تھے۔

اولئک الذین ۔۔۔۔۔ اھوائھم (47 : 16) “ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے۔ یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ”۔ یہ تو تھا منافقین کا حال ۔ رہا اہل ہدایت کا حال تو وہ اس کے برعکس تھا۔

اب یہاں سے اس سورت کا اصل مضمون شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی بتایا جا چکا ہے کہ اس سورت کا مرکزی مضمون ”قتال فی سبیل اللہ“ ہے اور اسی نسبت سے اس کا دوسرا نام ”سورة القتال“ ہے۔ اس مضمون کے تحت آئندہ آیات میں ان لوگوں کی باطنی کیفیات کی جھلکیاں بھی نظر آئیں گی جن کے دلوں میں روگ تھا اور قتال کے ذکر سے ان پر گھبراہٹ طاری ہوجاتی تھی۔آیت 16 { وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ } ”اور اے نبی ﷺ ! ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو آپ کی بات کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔“ { حَتّی اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا } ”یہاں تک کہ جب وہ آپ کے پاس سے نکل کر باہر جاتے ہیں تو ان لوگوں سے پوچھتے ہیں جنہیں علم دیا گیا ہے کہ ابھی انہوں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کہا تھا ؟“ یعنی آج حضور ﷺ نے یہ جو ایک نئی بات کہہ دی ہے کہ ہمیں جنگ کے لیے تیار ہونا ہے اور قریش کے تجارتی قافلوں کا تعاقب کرنا ہے ‘ یہ ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے یہاں اہل ِایمان بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اہل کتاب یہودی بھی۔ یعنی منافقین یہ بات ان مسلمانوں سے پوچھتے جنہیں وہ زیادہ سمجھدار سمجھتے تھے یا یہ کہ یہی بات وہ لوگ یہودیوں سے جا کر پوچھتے جنہیں اس سے پہلے کتاب کا علم دیا گیا تھا۔ { اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں۔“ جہاد و قتال کے تصور سے ان کے دلوں کی گھبراہٹ اور ایثار و قربانی کی باتوں کو قبول کرنے سے ان کی ہچکچاہٹ درحقیقت اس منافقت کی علامت ہے جو ان کے دلوں میں پیدا ہوچکی ہے۔

بےوقوف، کند ذہن اور جاہل منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے۔ تو یہ معلوم کرلیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہوچکے ہیں، جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے آیت (ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى 56؀) 53۔ النجم :56) یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے قریب آنے والی قریب آچکی ہے۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) ، قیامت قریب ہوگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کا حساب قریب آگیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں پس حضور ﷺ کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لئے کہ رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں آپ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور حضور ﷺ نے قیامت کی شرطیں اور اسکی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔ حسن بصری فرماتے ہیں حضور ﷺ کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے چناچہ خود آپ کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں۔ نبی التوبہ، نبی الملحمہ، حاشر جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں عاقب جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہوجانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہوگی ؟ جیسے ارشاد ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) اس دن انسان نصیحت حاصل کرلے گا لیکن اس کے لئے نصیحت کہاں ؟ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52؀ښ) 34۔ سبأ :52) یعنی اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہوسکتی ہے ؟ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے پھر فرماتا ہے اے نبی جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لئے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں (اللھم اغفرلی خطیتی وجھلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللھم اغفرلی وجدی وخطی وعمدی وکل ذالک عندی) یعنی اے اللہ میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہوگئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بےقصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ اپنی نماز کے آخر میں کہتے (اللھم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم بہ منی انت الھی لا الہ الا انت) یعنی اے اللہ میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن سرخس ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کھانے میں سے کھانا کھایا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ آپ کو بخشے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور تجھے بھی تو میں نے کہا کیا میں آپ کے لئے استغفار کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور اپنے لئے بھی پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔ پھر میں نے آپ ﷺ کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا تم لا الہ الا للہ کا اور استغفر اللہ کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لئے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔ ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں۔ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 60ۧ) 6۔ الانعام :60) یعنی اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، یعنی زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ ابن جریج کا یہی قول ہے اور امام جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔

آیت 16 - سورہ محمد: (ومنهم من يستمع إليك حتى إذا خرجوا من عندك قالوا للذين أوتوا العلم ماذا قال آنفا ۚ أولئك الذين طبع...) - اردو