اسی منظر کے زیر سایہ حضرت نبی ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ ثابت قدمی سے اپنے کام کو جاری رکھیں۔ ان کے جدال اور جھگڑوں ، ہٹ دھرمی اور جھٹلانے کی پرواہ نہ کریں۔ جو حقیقت ان کے سامنے پیش کی جارہی ہے ، وہ واضح ہے اور اگر چشم بصیرت ہو تو دیکھی جاسکتی ہے۔
نحن اعلم بما ۔۔۔۔۔۔۔۔ یخاف وعید (50 : 45) ” اے نبی ﷺ جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں ، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔
جو باتیں یہ بنا رہے ہیں ہم ان کو خوب جانتے ہیں اور تمہاری تسلی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ ہم جانتے ہیں اور ہمارے جاننے کے کچھ نتائج بھی ہوں گے۔ یہ بہت ہی خوفناک دھمکی ہے۔
وما انت علیھم بجبار (50 : 45) ” تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے “۔ کہ آپ ایمان اور تصدیق پر کسی کو مجبور کردیں ۔ اس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے “۔ اختیارات ہمارے پاس ہیں ۔ ہم نگرانی کر رہے اور ان کے ذمہ دار ہیں۔
فذکر با القرآن من یخاف وعید (50 : 45) ” پس تم اس قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرو ، جو میری تنبیہہ سے ڈرے “۔ قرآن بذات خود ایک عظیم قوت ہے۔ یہ دلوں کو ہلا مارتا ہے۔ ذہنی دنیا میں زلزلہ برپا کردیتا ہے۔ اس کے سامنے سنگ دل سے سنگدل شخص نہیں ٹھہر سکتا۔ قرآن کے حقائق کا سامنا کرنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ قرآن عجیب انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔
جب ایسی سورتیں لوگوں پر پڑھنے کے لئے اور پیش کرنے کے لئے موجود ہیں تو کسی جبار کی کیا ضرورت ہے جو لوگوں کی گردنیں مروڑ کر مسلمان بنائے۔ قرآن کے اندر وہ قوت ہے جو بڑے بڑے جباروں کے اندر نہیں ہے۔ اس کے ذریعہ دلوں پر وہ ضربات لگ سکتی ہیں ، جو ڈکٹیٹروں اور جباروں کے کوڑوں کے ذریعہ نہیں لگائی جاسکتی (۔۔۔۔ العظیم)
نوٹ :۔ پارہ 26 کی نظر ثانی رہ گئی تھی۔ یہ نظر ثانی آج مورخہ 30 نومبر 1996 ء بوقت 52۔ 4 شب ختم ہوئی ، اس طرح تقریباً بتیس سال کے عرصے میں یہ کام ختم ہوا۔ اے اللہ اسے اپنے دین کی سر بلندی کے لئے مفید بنا دے اور میرے لیے موجب اجر بنا دے۔ آمین ۔ سید معروف شاہ شیرازی
آیت 45{ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَـقُوْلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍقف } ”اور آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔“ آپ کا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس اختیار کے ساتھ نہیں بھیجا کہ آپ ﷺ انہیں زبردستی حق کی طرف لے آئیں۔ { فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۔ } ”پس آپ تذکیر کرتے رہیے اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔“ جس شخص کی روح مردہ نہ ہوچکی ہوگی اور اس میں تھوڑی سی بھی جان ہوگی اور جس کے اندر اخلاقی حس دم نہ توڑ چکی ہوگی اور بھلائی کی معمولی سی رمق بھی باقی ہوگی وہ آپ ﷺ کی باتیں سن کر قرآن کی تذکیر اور یاد دہانی سے ضرور فائدہ اٹھائے گا۔ یہاں پر { فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ } کے الفاظ میں حضور ﷺ کو خصوصی طور پر ہدایت دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ تبلیغ و تذکیر ‘ انذار وتبشیر اور لوگوں کے تزکیہ نفس کا ذریعہ قرآن ہی کو بنائیں۔ اس حکم کے مقابلے میں آج امت ِمسلمہ کی مجموعی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں نے خود کو قرآن سے بالکل ہی بےنیاز کرلیا ہے اور دعوت و تبلیغ ‘ وعظ و نصیحت اور تربیت و تزکیہ کے دیگر ذرائع اختیار کرلیے ہیں۔