سورہ سعد (38): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Saad کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ ص کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ سعد کے بارے میں معلومات

Surah Saad
سُورَةُ صٓ
صفحہ 458 (آیات 84 سے 88 تک)

سورہ سعد کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ سعد کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

فرمایا "تو حق یہ ہے، اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala faalhaqqu waalhaqqa aqoolu

آیت 84 { قَالَ فَالْحَقُّز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ } ”اللہ نے فرمایا : تو حق یہ ہے ‘ اور میں تو حق ہی کہتا ہوں۔“

اردو ترجمہ

کہ میں جہنم کو تجھ سے اور اُن سب لوگوں سے بھر دوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laamlaanna jahannama minka wamimman tabiAAaka minhum ajmaAAeena

آیت 85 { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ } ”کہ پھر میں بھی بھر کر رہوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان سب سے جو تیری پیروی کریں گے۔“

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul ma asalukum AAalayhi min ajrin wama ana mina almutakallifeena

آیت 86 { قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں مانگتا“ یہ واقعہ سنا کر اب حضور ﷺ سے مخاطب ہو کر فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ انہیں جتلائیں کہ میں تم لوگوں کو یہ غیب کی خبریں سنا رہا ہوں ‘ ازل میں رو نما ہونے والے واقعات کی تفصیلات سے تمہیں آگاہ کر رہا ہوں ‘ لیکن تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ میں نے اس سب کچھ کے عوض تم لوگوں سے کبھی کوئی اجر یا انعام تو طلب نہیں کیا۔ { وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُتَکَلِّفِیْنَ } ”اور میں کوئی بناوٹ کرنے والوں میں سے بھی نہیں ہوں۔“ مُتَـکَلِّف تکلف کرنے والا کا مفہوم سمجھنے کے لیے دو ایسے اشخاص کی مثال سامنے رکھیں جن میں سے ایک شاعر ہے اور دوسرا متشاعر۔ ایک شخص فطری طور پر شاعر ہے ‘ شاعری اس کی طبیعت میں گندھی ہوئی ہے اور اس پر اشعار کی آمد ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں دوسرے شخص متشاعر کی طبیعت شعر کے لیے بالکل موزوں نہیں ہے۔ البتہ وہ محنت کرتا ہے ‘ علم عروض کے امور سیکھنے کی کوشش کرتا ہے ‘ ذخیرئہ الفاظ جمع کرتا ہے ‘ قافیے جوڑتا ہے اور یوں تصنع ّاور تکلف ّسے شعر کہتا ہے۔ چناچہ یہ شخص شاعری کے میدان میں گویا ”مُتَکَلِّف“ ہے۔ چناچہ ان آیات میں حضور ﷺ کی زبان اطہر سے مشرکین ِمکہ ّکے لیے کہلوایا جا رہا ہے کہ لوگو ! کچھ تو عقل سے کام لو ‘ تم لوگ مجھے بچپن سے جانتے ہو : { فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖط } یونس : 16 ”میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے بھی“۔ میرے عادات واطوار اور میری طرز زندگی سے تم اچھی طرح واقف ہو۔ تم خوب جانتے ہو کہ میں کوئی تکلف اور تصنع پسند شخص نہیں ہوں۔ تم اس حقیقت سے بھی آگاہ ہو کہ میں نے اب تک کی عمر میں کبھی کوئی شعر نہیں کہا ‘ اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے خطابت کا فن سیکھنے کے لیے کبھی کوئی مشقت یا ریاضت نہیں کی۔ تو تم لوگوں نے یہ کیسے سوچ لیا ہے کہ اب میں نے اچانک تکلف اور تصنع کا سہارا لے کر شاعری میں طبع آزمائی شروع کردی ہے اور تم لوگوں کو وحی کے نام پر میں اپنا کلام سنا رہا ہوں ؟

اردو ترجمہ

یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In huwa illa thikrun lilAAalameena

آیت 87 { اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ } ”نہیں ہے یہ مگر ایک یاد دہانی اور نصیحت تمام جہان والوں کے لیے۔“

اردو ترجمہ

اور تھوڑی مدت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو جائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WalataAAlamunna nabaahu baAAda heenin

آیت 88 { وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَاَہٗ بَعْدَ حِیْنٍ ”اور تم ضرور جان لوگے اس کی اصل خبر ایک وقت کے بعد۔“ ان لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچ چکا ہے ‘ انہیں خاطر خواہ طور پر یاد دہانی کرادی گئی ہے ‘ ہر لحاظ سے ان پر حجت قائم ہوچکی ہے۔ اب بہت جلد اس اتمامِ حجت کا نتیجہ ان کے سامنے آجائے گا۔ سورة الطارق میں قرآن کے بارے میں یوں فرمایا گیا ہے : { اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ۔ وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ۔ یعنی یہ قرآن کوئی بےمقصد کلام نہیں ہے ‘ بلکہ یہ فیصلہ کن قول بن کر آیا ہے۔ اب اس کے ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوجائے گا۔ سورة بنی اسرائیل کی آیت 105 میں قرآن کا تعارف ان الفاظ میں کرایا گیا ہے : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ } کہ ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اب اسی کے ترازو میں قوموں کی تقدیریں تلیں گی اور اسی کی عدالت میں ان کے عروج وزوال سے متعلق فیصلے ہوں گے۔ حضرت عمرفاروق رض کی روایت سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ 1 ”اللہ تعالیٰ اسی کتاب کی بدولت بعض اقوام کو عروج پر پہنچائے گا اور اس کو ترک کرنے کی وجہ سے بعض کو قعرمذلت میں گرا دے گا۔“

458