اس صفحہ میں سورہ Taa-Haa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ طه کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِذْ أَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰٓ
أَنِ ٱقْذِفِيهِ فِى ٱلتَّابُوتِ فَٱقْذِفِيهِ فِى ٱلْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ ٱلْيَمُّ بِٱلسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّى وَعَدُوٌّ لَّهُۥ ۚ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّى وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِىٓ
إِذْ تَمْشِىٓ أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُۥ ۖ فَرَجَعْنَٰكَ إِلَىٰٓ أُمِّكَ كَىْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَٰكَ مِنَ ٱلْغَمِّ وَفَتَنَّٰكَ فُتُونًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِىٓ أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍ يَٰمُوسَىٰ
وَٱصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى
ٱذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِـَٔايَٰتِى وَلَا تَنِيَا فِى ذِكْرِى
ٱذْهَبَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
فَقُولَا لَهُۥ قَوْلًا لَّيِّنًا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَىٰ
قَالَا رَبَّنَآ إِنَّنَا نَخَافُ أَن يَفْرُطَ عَلَيْنَآ أَوْ أَن يَطْغَىٰ
قَالَ لَا تَخَافَآ ۖ إِنَّنِى مَعَكُمَآ أَسْمَعُ وَأَرَىٰ
فَأْتِيَاهُ فَقُولَآ إِنَّا رَسُولَا رَبِّكَ فَأَرْسِلْ مَعَنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَا تُعَذِّبْهُمْ ۖ قَدْ جِئْنَٰكَ بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكَ ۖ وَٱلسَّلَٰمُ عَلَىٰ مَنِ ٱتَّبَعَ ٱلْهُدَىٰٓ
إِنَّا قَدْ أُوحِىَ إِلَيْنَآ أَنَّ ٱلْعَذَابَ عَلَىٰ مَن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَٰمُوسَىٰ
قَالَ رَبُّنَا ٱلَّذِىٓ أَعْطَىٰ كُلَّ شَىْءٍ خَلْقَهُۥ ثُمَّ هَدَىٰ
قَالَ فَمَا بَالُ ٱلْقُرُونِ ٱلْأُولَىٰ
والقبت علیک۔۔۔۔ علی عینی (02 : 93) ” میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اے قادر مطلق تیری قدرت کے کیا کرشمے ہیں کہ تو اس باتواں پر محبت کا پردہ ڈال دیتا ہے ‘ نرم و نازک محبت اس کے لئے دفاع بن جاتی ہے۔ تمام ضربات کو یہ سہ لیتی ہے اور ڈھال بن جاتی ہے ‘ موجوں کے تھپیڑے آکر رک جاتے ہیں۔ شر اور سرکشی کی تمام قوتیں دیکھتے ہی موم ہوجاتی ہیں۔ اور کوئی اسے بری نظروں سے دیکھتا ہی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایک فلک ناتواں ہے ، دودھ پینے والا ‘ نہ چل پھر سکتا ہے ‘ نہ اپنا دفاع و بچائو کرسکتا ہے بلکہ وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔
اس منظر کی تصویر میں نمایاں طور پر دو باہم متضاد رنگ ہیں۔ ایک طرف ایک قہار و جبار اور سرکش قوت ہے جو اس بچے کے قتل کے در پے ہے۔ ماحول اس قدر کشیدہ اور سخت ہے کہ ہر طرف ورشکستگی ‘ ظلم ‘ تابوت ‘ امواج اور سمندر ہے ‘ دوسری طرف محبت کی مہین چادر ہے جو اس بچے کے اوپر بچھ گئی ہے۔ محبت کی چادر ‘ اللہ کے لطف و کرم کی یہ چادر ! یہ اسے ہر خطرے سے بچاتی چلی جاتی ہے۔ سمندر ‘ تابوت ‘ اور موجوں کی سختی سے اور حکمرانوں کی گرفت سے بھی۔ موسیٰ کے پاس کوئی لائو لشکر نہیں ہے بلکہ اس بچے کے چہرے پر قدرتی کشش ہے۔
ولتصنع علی عینی (02 : 93) ” کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے “۔ اس گہرے سایہ عاطفت اور اس دست قدرت کے کرشموں کی کیا تشریح کوئی کرے۔ قرآن کی یہ تعبیر کہ ” تم میری آنکھوں میں پلو “ ۔ یہ ایک نہایت ہی معجزانہ انداز تعبیر ہے۔ ایک انسان اللہ تعالیٰ کی آنکھوں میں پل رہا ہے۔ انسان اس تعبیر کے پیچھے جو معانی ہیں ان کا تصور کرنے سے قاصر ہے۔ یہ ایک اونچا مقام ہے ‘ اعزازو تکریم ہے کہ کوئی انسان ایک لمحہ کے لئے یہ نظر کرم پالے ‘ لیکن اس شخص کی خوش نسیبی دیکھئے کہ وہ کسی کی زیر نگرانی میں پل رہا ہے۔ یہ وہ کرم تھا جس کی وجہ سے موسیٰ کے اندر یہ قوت پیدا ہوئی وہ تکلیات کا متحمل ہو سکے اور اللہ سے ہمکلام ہو کر اس لا محدود ذات سے ہدایات اخذ کرسکے۔
تاکہ تم میری نگرانی میں پلو۔ ہم دونوں کے دشمن فرعون کی نظروں میں پلو ‘ بغیر کسی چوکیدار اور محافظ کے عین دشمن کے دونوں ہاتھوں کے اندر پلو ‘ دشمن کی آنکھ تمہاری طرف میلی نہیں ہوتی کیونکہ تم اس کی آنکھ کا تارا بن گئے ہو۔ اس کا ہوتھ برے ارادے سے آگے نہیں بڑھتا ‘ کیوں ؟ اللہ کی نظر ہے۔
دیکھو میں نے یہ بھی نہیں کہا کہ فرعون کے گھر تم مزے سے رہو اور تمہاری ماں گھر میں بےتاب ہو اور ہر وقت خوف اور قلق میں مبتلا ہو۔ میں نے تم دونوں کو باہم ملا دیا۔
اذ تمشی اختک۔۔۔۔۔۔ عینھا ولا تحزن (02 : 04) ” یاد کرو جب تمہاری بہن چل رہی تھی ‘ پھر جا کر کہتی ہے ” میں تمہیں اس کا پتہ دوں جو اس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے۔ اس طرح ہم نے تجھے پھر اپنی ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو “۔ اس سلسلے میں اللہ کی تدبیریوں تھی کہ بچہ کسی دودھ پلانے والی کا پستان منہ میں نہ لیتا تھا۔ فرعون اور اس کی بیوی نے اسے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ کسی ایسی عورت کی تلاش میں تھے جو اس بچے کی پرورش کرے ‘ جس کو دریا نے ساحل پر پھینک دیا تھا۔ لوگ اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن ماں کی طرف سے اشارہ پا کر کہتی ہے کہ میں تمہیں بتائوں جو اس کی پرورش اچھی طرح کرے۔ یوں اس کی ماں وہاں پہنچ جاتی ہے اور وہ اس کے پستان کو منہ میں لے لیتے ہیں۔ یوں اللہ کی تدبیر اپنے انجام تک پہنچتی ہے کہ ماں جس نے الہامی اشارہ پاکر بچے کو صندوق میں بند کرکے سمندر کے اندر بہا دیا تھا اور سمندر کی لہروں نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا ‘ بچہ پھر اس ماں کی جھولی میں ہے۔ اللہ اس کے بچے کو دشمن سے لے کر ماں کے حوالے کردیتا ہے۔ یوں اس کی پرورش کا محفوظ انتظام کردیا جاتا ہے۔ اور اسے فرعون کے خطرے سے بھی بچا لیا جاتا ہے ‘ جو بنی اسرائیل کے لڑکوں کو ذبح کرتا تھا اور لڑکیوں کو زندہ رکھتا تھا۔ دشمن خود اسے بچا رہا تھا۔ ایک دوسرا احسان وقتل نفسا۔۔۔۔۔ واصطنعتک لنفسی (02 : 04۔ 14) ” اور تو نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ‘ ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے نکالا اور تو مدین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے ‘ اے موسیٰ ۔ میں نے تجھے اپنے کام کا بنا لیا ہے “۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب قصر فرعون میں موسیٰ جو ان ہوگئے۔ ایک دن وہ شہر میں تھے کہ ایک مصری اور ایک اسرائیلی کی باہم تکرار ہوگئی۔ اسرائیلی نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مدد چاہی اور حضرت موسیٰ نے جلدی میں مصری کو ایک مکہ رسید کردیا۔ آپ قتل کرنا نہیں چاہتے تھے ‘ صرف اسے دور کرنا چاہتے تھے۔ اس فعل پر آپ بہت رنجیدہ ہوگئے کیونکہ وہ اللہ کی تربیت میں چل رہے تھے ‘ ان کے ضمیر نے ان کو ملامت کی کہ تم نے گناہ کردیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس وقت اللہ نے حضرت موسیٰ کو استغفار سکھایا ہو اور ان کے دل سے یہ کدورت دور ہوگئی ہو ‘ لیکن اس کے باوجود اللہ نے موسیٰ کو بغیر آزمائش اور ابتلا کے نہیں چھوڑا کیونکہ اللہ نے حضرت موسیٰ سے اونچا کام لینا تھا۔ اس لیے خوف ‘ اور ملک چھوڑنے اور قصاص سے بچنے کی مشقت میں ڈالا۔ مسافری ‘ اہل و عیال سے دوری ‘ وطن سے دوری کی مشقتوں میں ڈالا۔ پھر ملازمت اور بھڑیں چرانے کا مشکل کام لیا۔ اور یہ اس شخص سے لیا گیا جو فرعون کے شاہی محل میں پلا ہے ‘ جو اپنے دور کا شہنشاہ اعظم تھا۔ اور اس کے دربار میں بہت بڑے عیش اور اس کے گھر میں تمام سہولیات تھیں جن کا تصور بھی عام لوگ نہ کرسکتے تھے۔
پھر ایک مقررہ وقت پر ‘ جب ان کی تربیت ہوگئی ‘ وہ پختہ ہوگئے۔ ان ابتلائوں میں انہوں نے صبر سیکھ لیا۔ امتحان میں پاس ہوگئے ‘ مصر میں حالات ان کے لئے سازگار ہوگئے۔ بنی اسرائیل پر مظالم انتہا کو پہنچ گئے۔ اس مقررہ وقتپر اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپس بلایا حالانکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ وہ خود آ رہے ہیں۔
فلبثت سنین فی۔۔۔۔۔ قدر یموسی (02 : 04) ” تو مدین کے لوگوں کئی سال ٹھہرا رہا ‘ پھر ایک ٹھیک وقت پر تو آگیا ہے اس موسیٰ (علیہ السلام) “۔ یعنی ایسے وقت میں جو میں نے تیرے لیے مقرر کیا تھا۔ تجھے اپنی نگرانی میں پالا تھا۔ خالص اپنے لئے ‘ اپنے مشن کے لئے اور دعوت کے لئے۔ اس لئے تیری زندگی میں کوئی چیز نہ اس دنیا سے ہے اور نہ اس دینا کے لئے ہے۔ تیرا سب کچھ میری طرف سے ہے اور اب تو میرے مشن کے لئے ہے۔ تیری تربیت اور اب تیرا مشن بھی میر مشن ہے ۔ اس لئے تیرے نفس میں نہ تیرا حصہ ہے ‘ نہ کسی اور کا کوئی حصہ ہے ‘ نہ تیرے اہل و عیال اور رشتہ داروں کا کوئی حصہ ہے۔ لہٰذا جس چیز کے لئے میں نے تمہیں تربیت دی ہے ‘ جس مشن کے لئے میں نے تمہیں تیار کیا ہے ‘ آپ اس کے لئے اب چل پڑیں۔
اذھب انت و اخوک۔۔۔۔۔ او یخشی (24 تا 44) ” ۔
تم اور تمہارے بھائی دونوں میرے معجزات کے ساتھ مسلح ہو کر جائو ‘ انن میں سے معجزہ عصا اور ید بیضا کا مشاہدہ تو کرایا جاچکا ہے۔ تم میرے ذکر میں سستی نہ کرنا کیونکہ یہ اس میدان میں تمہارے لئے اہم سازو سامان ہے ‘ یہ تمہارا بڑا اسلحہ اور سہارا ہے اور مشکلات کے وقت یہی تمہارے لئے لیے جائے پناہ ہوگی۔ جائو تم فرعون کے پاس۔ اس سے قبل میں نے تم کو فرعون کے شر سے محفوظ کیا ہے جبکہ تم ایک بچے تھے۔ جسے تابوت میں بند کر کے سمندر کی نذر کردیا گیا تھا اور سمندر نے اسے ساحل پر پھینک دیا تھا تو ان مشکلات نے تمہیں کوئی نقصان نہ دیا۔ ان خوفناگ حالات میں تمہیں کوئی اذیت نہ دی گئی۔ اب تو تم تیاریوں کے ساتھ اس دربار میں جا رہے ہو ‘ تمہارے ساتھ تمہارے بھائی بھی ہیں۔ اس لیے پرواہ مت کرو۔ جبکہ ایسے مشکل حالات میں بھی ہم نے تمہیں نجات دی ہے۔
فرعون کے پاس رسالت لے کر جائو ‘ وہ بڑاسرکش ‘ جبار اور سر پھرا ہے۔
فقولا لہ قولا لبنا (02 : 44) ” اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا “۔ اس لیے کہ نرم بات کے رد عمل میں کوئی شخص اپنی بےعزتی سمجھ کر ضد میں نہیں آتا۔ اور سرکش جس جھوٹی کبریاتی کے ماحول میں رہتے ہیں ‘ اس کی وجہ سے وہ طیش میں نہیں آتے ۔ نرم بات کی یہ خاصیت ہوتے ہے کہ وہ دلوں کو بیدار کردیتی ہے ‘ اور ایک سرکش بھی نرم بات کی وجہ سے اپنے موقف پر غور کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
تم فرعون کے پاس جائو اور اس بات سے مایوس نہ ہوجانا کہ وہ راہ ہدایت پر کب آسکتا ہے۔ امید رکھنا کہ وہ نصیحت سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف بھی پیدا ہو سکتا ہے ‘ کیونکہ ایک داعی اگر ذہن میں یہ بات بسا لے کہ جس کے پاس وہ جا رہا ہے وہ تو راہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا تو وہ پر جوش طریقے سے اسے دعوت نہیں دے سکتا۔ اور اگر وہ انکار کر دے تو یہ ثابت قدمی کے ساتھ دعوت کا مشن جاری نہیں رکھ سکتا۔
اللہ کو تو معلوم تھا کہ فرعون کیا جواب دینے والا ہے۔ لیکن دعوت دینا اور اس کے لئے تمام طریقوں سے جدوجہداختیار کرنا ضروری ہے۔ اللہ کسی شخص کے بارے میں عملی فیصلہ تب ہی کرتا ہے ‘ جب اس سے خیروشر عملاً صادر ہوجائے۔ اگرچہ اللہ کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ نتیجہ خیر ہے یا شر۔ اللہ کا علم حادثات مستقبل کے بارے میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حاضر کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہے یا ماضی کے واقعات کے بارے میں اللہ کا علم ہوتا ہے۔
یہاں تک خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تھا اور یہ منظر وادی طوی میں بندئہ و معبود کے درمیان مناجات کا منظر تھا۔ اب یہاں سیاق کلام میں درمیان کے واقعات کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ اب موسیٰ اور ہارون دونوں ہیں۔ یہ دونوں دربار میں جانے سے قبل اپنے خدشات کا اظہار پھر کرتے ہیں کہ دربا رفرعون میں انہیں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کی بات سنتے ہی وہ کوئی غلط فیصلہ کر بیٹھے اور جب ان کی بات اسے بری لگے تو وہ سر کشی اختیار کرلے۔
قالا ابنا اننا۔۔۔۔۔۔ علی من کذب و تولی ( 54 تا 84 ) ” ۔
اس سے قبل جو طویل بحث ہوئی تھی اور جس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) رب تعالیٰ کے ساتھ وادی طوی میں ہم کلام تھے ‘ اس میں حضرت ہارون موجود نہ تھے۔ وہ ایک طویل مناجات تھی اور وسیع سوال و جواب اس میں ہوتے رہے۔ اس لیے حضرت موسیٰ اور ہارون دونوں کا یہ جواب
اننا نخاف ان۔۔۔۔۔۔ ان یطغیٰ (02 : 54) ” دونوں نے عرض کیا پروردگار ‘ ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔ وادی طوی میں مناجات کی جگہ میں نہ تھا۔ قرآن کریم کا قصص کے بارے میں یہ طریقہ ہے کہ وہ قصص کے غیر ضروری حصے درمیان میں سے کاٹ دیتا ہے اور قصص کے جو مناظر وہ دکھاتا ہے اس کے درمیان ایک واضح خلا (Gap ) چھوڑ دیتا ہے۔ یہ خلا عقل انسانی خود پر کردیتی ہے اور سیاق کلام یا منظر آگے بڑھ کر زیادہ موثر اور زیادہ مفید ‘ زندہ اور متحرک مناظر پیش کرنا شروع کردیتا ہے جن کا انسان کے وجدان پر اثر ہوتا ہے۔
ظاہر ہے کہ طور سے واپسی پر ‘ موسیٰ (علیہ السلام) مصر پہنچے ‘ اللہ نے حضرت ہارون کو بھی یہ منصب دے دیا اور ان کو بھی یہ حکم دے دیا گیا کہ تم حضرت موسیٰ کے معاون پیغمبر ہو۔ اور تمہیں بھی بھائی کے ساتھ فرعون کو دعوت دینے کے لئے جانا ہے۔ اب جب وہ تیاریاں کر کے جانے لگتے ہیں تو پھر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں۔
قالا ربنا اننا۔۔۔۔۔ او ان یطغی (02 : 54) ” دونوں عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پل پڑے گا “۔
فرط کا لغوی مفہوم یہ ہے کہ کوئی جلدی سے کسی کو اذیت دے۔ فوراً بات کرتے ہیں اور طغیان کا مفہوم فرط اور اذیت سے زیادہ جامع ہے اور فرعون ان دنوں ایک ایسا جبار حکمران تھا جس سے سب کچھ متوقع تھا۔
یہاں اب ان کو فیصلہ کن تسلی دے دی جاتی ہے جس کے بعد نہ کوئی خوف رہتا ہے اور نہ خدشہ۔
قال لاتخافآ اننی معکما اسمع واری (02 : 63) ” فرمایا ڈرو مت ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ سب کچھ سن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ “ میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر وہ قوی ہے ، بڑا ہے اور سرکش ہے تو اللہ تو پانے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول کرنے والا ہے۔
ھو القاھر فوق عبادہ وہ تمام کائنات ، تمام انسانوں ، تمام حیوانات اور تمام اشیاء کو صرف کن سے پیدا کرتا ہے۔ کن سے زیادہ اسے کچھ نہیں کہنا پڑتا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں بس یہ اجمالی تسلی کافی ہے۔ لیکن اللہ ان کے اندر مزید طمانیت اور احساس جگانے کے لئے فرماتے ہیں :
اسمع واری (02 : 63) ” میں سنتا بھی ہوں اور دیکھتا بھی ہوں۔ “ فرعون کیا ہوتا ہے ؟ اس کی ملکیت میں کیا ہے ؟ وہ کیونکر زیادتی اور سرکشی کرسکتا ہے ؟ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔
یہ اطمینان دلانے کے بعد ان کو انداز دعوت بھی سکھایا جاتا ہے اور مختصر دعوت بھی۔
فاتیہ فقولاً ……وتولی (83) (02 : 83-83) ” جائو اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رب کے فرستادے ہیں ، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے رب کی نشانی لے کر آئے اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “
اللہ نے آغاز ہی میں بتا دیا کہ ان کی رسالت کی دعوت کیا ہے۔
انا رسول ربک (83) ” ہم تیرے رب کے دو فرستادے ہیں۔ “ پہلی آاز میں اس کو یہ بتا دیا جائے کہ تمہارے ساتھ اور ایک ذات رب ہے ، لوگوں کا بھی رب ہے ، یہ صرف وسیٰ اور ہارون کا خدا اور رب نہیں۔ نہ وہ صرف بنی اسرائیل کا رب ہے۔ جیسا کہ اس وقت کی بت پرستانہ خرافات میں یہ عقیدہ ہوتا تھا کہ ہر قوم کا ایک رب ہوتا ہے اور ہر قبیلے کا اپنا خدا یا دیوتا ہوتا ہے۔ ایک یا زیادہ ، خود مصر کی تاریخ میں یہ تصور موجود رہا ہے کہ فرعون بھی رب تھا کیونکہ وہ دیوتائوں کی نسل سے تھا۔
اس کے بعد ان کی رسالت کے اصل موضوع اور مضمون کی وضاحت کی جاتی ہے۔
فارسل معنا بنی اسرآئیل ولاتعذبھم (02 : 83) ” بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لئے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ “ فرعون سے ان کا اصل مطالبہ یہ تھا کہ تم بنی اسرائیل کو رہائی دو ، وہ عقیدئہ توحید کی طرف واپس آجائیں ، اس سر زمین کی طرف واپس آجائیں جو اللہ نے ان کے لئے لکھی ہے کہ وہ یہاں رہیں گے یہاں تک کہ وہ اس میں فساد برپا کردیں اور مکمل طور پر تباہ کردیئے جائیں ۔
اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہاری رسالت کی سچائی پر شہادت یہ ہوگی۔
قد جئنک بایۃ من ربک (02 : 83) ” ہم تیرے پاس رب کی نشانی لے کر آئے ہیں۔ “ یہ نشانی ، یہ معجزہ ہماری سچائی پر دلیل صادق ہے۔ اللہ کے حکم سے آنا تمہاری سچائی کی دلیل ہے۔
اس کے بعد اسے ترغیب دی جاتی ہے اور دعوت قبول کرنے کی طرف اسے مسائل کیا جاتا ہے۔
والسلم علی من اتبع الھدی (02 : 83) ” اور سلامتی ہے اس کے لئے جو راہ راست کی پیروی کرے۔ “ شاید کہ وہ راہ ہدایت پالے اور ان سے اسلام کی دعوت سیکھ لے۔
اس کے بعد نہایت ہی عمدہ اور بالواسطہ طرز کلام میں اس کو کہا جاتا ہے تاکہ اسے غصہ نہ آجائے اور اس کو اپنے غرور کی وجہ سے بات بری نہ لگے۔
انا قداوحی الینا ان العذاب علی من کذب وتولی (02 : 83) ” ہم کو حی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اس کے لئے جو جھٹلائے اور منہ موڑے۔ “ ہو سکتا ہے کہ تم ان میں سے نہ ہو اور یہ بات ہم نہیں کہتے ، ہم پر وحی آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ و ہارون کو دولت اطمینان سے مالا مال کر کے ، دعوت کا طریق کار سمجھا کر بھیجا تاکہ وہ پوری طرح تیار ہو کر اپنا مشن اچھی طرح جانتے ہوئے جائیں۔ اب پردہ گر جاتا ہے ، اگلا منظر فرعون کا دربار ہے۔
اب وہ فرعون کے دربار میں ہیں ، قرآن اس بات کا تذکرہ نہیں کرتا کہ وہ کس طرح پہنچے ، بہرحال وہ پہنچ گئے۔ ان کا رب ان کے ساتھ ہے اور دیکھ رہا ہے۔ موسیٰ اور ہارون نے نہایت ہی قوت اور اعتماد سے بات کرتے ہوئے دعوت پہنچائی۔ فرعون جو چاہے ہو ، وہ اسے ملے۔ انہوں نے ، جس طرح اللہ نے بتایا تھا اسے دعوت دی۔ یہ دوسرا منظر اب اس گفتگو سے شروع ہوتا ہے جو ان دونوں اور فرعون کے درمیان ہوئی :
قال ……ھدی (05)
یہ شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ موسیٰ و ہارون کا رب ہی اس کا رب ہے ، جس طرح انہوں نے کہہ دیا کہ ہم دونوں اللہ تمہارے رب کے رسول ہیں۔ یہ شخص موسیٰ سے مخاطب ہوتا ہے کیونکہ اس کو معلوم ہوگیا تھا کہ اصل صاحب دعوت موسیٰ ہی ہیں۔
قال فمن ربکما یموسی (02 : 93) ” تم دونوں کا وہ رب کون ہے جس کے نام سے تم بات کرتے ہو اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہو۔ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے سامنے اللہ کی جس صفت کا ذکر کرتے ہیں وہ اللہ کی صفت تخلیق اور صفت تدبیر ہے۔
قال ربنا الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی (02 : 05) ” موسیٰ نے کہا ، ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی۔ پھر اس کو راستہ بتایا۔ “ رب وہ ہے جس نے ہر موجود کو وجود بخشا اور ایک مناسب صورت اور فطرت بھی عطا کی۔ اس کے بعد اس کو وہ طریقہ بتایا جس کے مطابق وہ اپنا فریضہ منصبی پوری طرح ادا کرسکے جس کے لئے اسے پیدا کیا گیا اور اسے وہ تمام سہولیات بھی عطا کردیں جو اس کے فریضہ منصبی کی ادائیگی کے لئے ضروری تھیں۔ یہاں لفظ ثم (تراخی زمانی) کے لئے نہیں ہے یعنی مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے پیدا کیا ، بعد میں عقلاً اسے ہدایت دی بلکہ پیدائش کے ساتھ ہی وہ فطری صلاحیت بھی عطا کردی۔ خلق و ہدایت میں فرق صرف مرتبہ و اہمیت کے اعتبار سے ہے یعنی تخلیق زیادہ اہم ہے اور ہدایت اور فرائض منصبی کی صلاحیت اور اسباب فراہم کرنا اس کے تابع ہے۔ عقلاً یہ خلق کے بعد ثانوی چیز ہے۔
یہ صفت جس کا ذکر قرآن کریم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی کیا ، یہ خدا کی تخلیق کے اعلیٰ ترین آثار کا خلاصہ ہے۔ یعنی کسی چیز کی تخلیق اور اسے اپنا فریضہ تخلیق ادا کرنے کے لئے فطری ہدایت اور سہولیات کی فراہمی ، انسان جب اس کائنات وسیع و عریض میں اپنی بصارت اور بصیرت دونوں کو کام لا کر غور کرتا ہے ، اپنے علم و مشاہدے کی حد تک ، تو ہر چھوٹی بڑی چیز کے اندر اسے قدرت کی یہ خالقیت اور تدبیر واضح طور پر نظر آتی ہے۔ کائنات کے چھوٹے سے چھوٹے جسم ذرہ اور بڑے سے بڑے زندہ جسم میں ، مساوی طور پر ابتدائی خلیے میں بھی اور انسان جیسے پیچیدہ مخلوق میں بھی یہ سب صفات اور قدرت کے یہ کرشمے نظر آتے ہیں۔
کائنات کا یہ عظیم وجود جس میں لاتعداد ذرے ، خلیے ، مخلوقات ، زندہ اور غیر زندہ اس کا ہر خلیہ ایک خاص زندگی کا مالک ہے اور متحرک ہے۔ اس کی ہر زندہ چیز متحرک ہے۔ اس کا ہر موجود دور سے کے ساتھ منسلک ہے ، ان میں سے ہر چیز انفرادی طور پر بھی اور دوسروں کے ساتھ مل کر بھی ، قوانین قدرت کے مطابق ، بغیر کسی ٹکرائو کے وظیفہ فطرت اور غرض تخلیق پورا کر رہی ہے اور ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس وسیع کائنات کے پیچیدہ نظام میں کوئی خلل نہیں ڈالتی۔
اگر ہم کسی ایک مخلوق و موجود کا تجزیہ کرتے ہیں تو وہ اپنی ذات میں ایک کائنات ہے۔ وہ اپنے اندر اپنے ذرات ، اپنے خلیوں ، اپنے اعضاء اور اپنے اعصاب کے مطابق تقاضائے فطرت پورے کر رہا ہے۔ دوسری طرف وہ اس پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے اور یہ سب کچھ نہایت ہی باریک انتظام اور توافق کے ساتھ چلتا ہے۔
اس پوری کائنات کو تو ایک طرف رہنے دیں ، کائنات کی کسی ایک مخلوق کو آپ لے لیں ، ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے ، اس کی حقیقت معلوم کرنے ، صحت اور بیماری معلوم کرنے میں انسان اپنی وسیع کوششوں کے باوجود اور وسعت علم کے باوجود قاصر ہے۔ کسی ایک چیز کے مالہ و ماعلیہ کا علم وہ تمام نہیں کرسکا چہ جائیکہ وہ تحقیق کر کے سکے یا فطرت دے سکے اور ہدایت دے سکے یا اس ہئیت و شکل دے سکے۔ تمام اشیاء میں سے کسی ایک چیز کو بھی …واقعہ یہ ہے کہ یہ سب کچھ الہ واحد کا کام ہے ، وہی ہمارا رب ہے جس نے ہر چیز کو وجود بخشا اور ہدایت دی۔
اب فرعن نے ایک نیا سوال پیش کیا۔
قال فما بال القرون الاولی (15)
“ یعنی جو لوگ تمہاری دعوت سے پہلے گزر گئے ہیں ان کا کیا ہوگا۔ وہ کدھر گئے ۔ ان کا رب کون تھا ؟ اور وہ تو اس الہ کے تصور کے بغیر چلے گئے جس کے بارے میں تم بات کرتے ہو۔ “