وایۃ لھم الارض المیتۃ۔۔۔۔۔ ومما لا یعلمون (33 – 36 پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں یا ان اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں “۔
یہ لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں اور انسانی تاریخ کے اندر تکذیب کرنے والوں کی قتل گاہوں اور بربادیوں پر گور نہیں کرتے۔ اور یہ لوگ مخلوق کی اس حالت سے کوئی سبق نہیں لیتے کہ لوگ چلے جا رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی واپس نہیں ہو رہا ہے۔ اور رسول کی دعوت یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے ہیں ۔ وہ اللہ جس کے وجود پر ان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات اچھی طرح دلالت کرتی ہے۔ اللہ کی ثنا کرتی ہے اور اس کے وجود پر شاہد ہے۔ یہ زمین جو ان کے پاؤں کے نیچے ہے ، یہ دیکھتے ہیں کہ ایک وقت میں یہ مر جاتی ہے۔ اس میں کوئی روئیدگی نہیں ہوتی۔ پھر یہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس میں حیوانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے اندر باغات پیدا ہوتے ہیں۔ کھجوریں ، انگور اور پھر ان باغات کے اندر چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور یوں انسانی اور دوسری زندگی رواں دواں نظر آتی ہے۔
اور پھر یہ زندگی بذات خود ایک معجزہ ہے اور کوئی انسان یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ زندگی کا اجرا کرسکے ، اس کی تخلیق کرسکے اور اس کے بعد اس کا سلسلہ تناسل کو جاری کرسکے۔ زندگی کے اس عظیم معجزے کا اجراء دست قدرت کا عجیب کارنامہ ہے۔ مردہ جسم کے اندر زندگی کی روح پھونک دی جاتی ہے دم بدم بڑھنے والی فصل کو دیکھ کر ، گھنی چھاؤں والے باغات کو دیکھ کر ، اور اس سے بھرے ہوئے پختہ پھلوں کو دیکھ کر انسانی دل و دماغ کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان دیکھتا ہے کہ یہ پوری زمین کو پھاڑ کر روشنی اور آزادی کے لیے سر نکالتے ہیں۔ اور یہ سر نکالنے والی لکڑی سورج کی روشنی میں سرسز و شاداب ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پودا پتوں اور پھلوں سے مزین ہوجاتا ہے۔ پھول کھل جاتے ہیں ، پھل پک جاتے ہیں اور توڑنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
لیاکلوا ۔۔۔ ایدیھم (36: 35) ” تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے “۔ یہ اللہ ہی کا ہاتھ ہے جس نے ان کو اس کام پر قدرت دی۔ جس طرح اس نے فصلوں اور پھلوں کو بڑھنے کی صلاحیت دی۔
افلا یشکرون (36: 35) ” پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے۔
اس کے بعد قرآن کریم میں ایک لطیف اشارہ ، اس طرح آتا ہے کہ جس ذات نے انسان کی راہنمائی ان نباتات اور باغات کی طرف فرمائی۔ وہ وہی ہے جس نے فصلوں کے اندر بھی جوڑے پیدا کیے یعنی نر اور مادہ جس طرح انسانوں اور حیوانوں کے اندر جوڑے ہیں اور تمام دوسری مخلوق میں بھی جوڑے ہیں جن کو صرف اللہ ہی جانتا ہے۔
آیت 33 { وَاٰیَۃٌ لَّـہُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے“ { اَحْیَیْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ } ”ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا ‘ تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔“ بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘ فصلیں اور پودے اگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔
وجود باری تعالیٰ کی ایک نشانی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرے وجود پر، میری زبردست قدرت پر اور مردوں کو زندگی دینے پر ایک نشانی یہ بھی ہے کہ مردہ زمین جو بنجر خشک پڑی ہوئی ہوتی ہے جس میں کوئی روئیدگی، تازگی، ہریالی، گھاس وغیرہ نہیں ہوتی۔ میں اس پر آسمان سے پانی برساتا ہوں وہ مردہ زمین جی اٹھتی ہے لہلہانے لگتی ہے ہر طرف سبزہ ہی سبزہ اگ جاتا ہے اور قسم قسم کے پھل پھول وغیرہ نظر آنے لگتے ہیں۔ تو فرماتا ہے کہ ہم اس مردہ زمین کو زندہ کردیتے ہیں اور اس سے قسم قسم کے اناج پیدا کرتے ہیں بعض کو تم کھاتے ہو بعض تمہارے جانور کھاتے ہیں۔ ہم اس میں کھجوروں کے انگوروں کے باغات وغیرہ تیار کردیتے ہیں۔ نہریں جاری کردیتے ہیں جو باغوں اور کیھتوں کو سیراب، سرسبز و شاداب کرتی رہتی ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ان درختوں کے میوے دنیا کھائے، کھیتیوں سے، باغات سے نفع حاصل کرے، حاجتیں پوری کرے، یہ سب اللہ کی رحمت اور اس کی قدرت سے پیدا ہو رہے ہیں، کسی کے بس اور اختیار میں نہیں، تمہارے ہاتھوں کی پیدا کردہ یا حاصل کردہ چیزیں نہیں۔ نہ تمہیں انہیں اگانے کی طاقت نہ تم میں انہیں بچانے کی قدرت، نہ انہیں پکانے کا تمہیں اختیار۔ صرف اللہ کے یہ کام ہیں اور اسی کی یہ مہربانی ہے اور اس کے احسان کے ساتھ ہی ساتھ یہ اس کی قدرت کے نمونے ہیں۔ پھر لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو شکر گذاری نہیں کرتے ؟ اور اللہ تعالیٰ کی بےانتہا ان گنت نعمتیں اپنے پاس ہوتے ہوئے اس کا احسان نہیں مانتے ؟ ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ باغات کے پھل جو کھاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں کا بویا ہوا یہ پاتے ہیں، چناچہ ابن مسعود کی قرأت میں (وَمَا عَمِلَتْهُ اَيْدِيْهِمْ ۭ اَفَلَا يَشْكُرُوْنَ 35ۙ) 36۔ يس :35) ہے۔ پاک اور برتر اور تمام نقصانات سے بری وہ اللہ ہے جس نے زمین کی پیداوار کو اور خود تم کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے اور مختلف قسم کی مخلوق کے جوڑے بنائے ہیں جنہیں تم جانتے بھی نہیں ہو۔ جیسے اور آیت میں ہے (وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ 49) 51۔ الذاریات :49) ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔