واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ ان کنتم صٰدقین (48) ” ۔ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجتس ، تدبر اور احساس خدا خوفی نہیں کرتیں ۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشا نیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہیں ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پرجوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر ۔۔ نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ تو جہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
واذا قیل لھم اتقوا ما بین۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (45 – 48) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجسس ، تدبر اور احساس خدا خوفی پیدا نہیں کرتیں۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشانیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پر جوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر تدبر نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا ۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ توجہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
آیت 45 { وَاِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّقُوْا مَا بَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ } ”اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ سبق حاصل کرو اس سے جو تمہارے سامنے ہے اور جو تمہارے پیچھے ہے تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔“ یہاں پر اِتَّقُوْا بچنے اور ڈرنے کے بجائے سوچنے ‘ توجہ کرنے اور عبرت حاصل کرنے کے معنی میں آیا ہے۔ اس طرح نگاہوں کے سامنے سے مراد آیات آفاقیہ آلاء اللہ اور پیچھے سے مراد نسل انسانی کی پرانی تاریخ ایام اللہ ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو زیر مطالعہ سورة کی آیت 9 کی تشریح
کفار کا تکبر۔کافروں کی سرکشی نادانی اور عناد تکبر بیان ہو رہا ہے کہ جب ان سے گناہوں سے بچنے کو کہا جاتا ہے کہ جو کرچکے ان پر نادم ہوجاؤ ان سے توبہ کرلو اور آئندہ کے لئے ان سے احتیاط کرو۔ اس سے اللہ تم پر رحم فرمائے گا اور تمہیں اپنے عذابوں سے بچا لے گا۔ تو وہ اس پر کار بند ہوا تو ایک طرف اور منہ پھلا لیتے ہیں، قرآن نے اس جملے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ آگے جو آیت ہے وہ اس پر صاف طور سے دلالت کرتی ہے۔ اس میں ہے کہ یہی ایک بات کیا ؟ ان کی تو عادت ہوگئی ہے کہ اللہ کی ہر بات سے منہ پھیر لیں۔ نہ اسکی توحید کو مانتے ہیں نہ رسولوں کو سچا جانتے ہیں نہ ان میں غور و خوض کی عادت نہ ان میں قبولیت کا مادہ، نہ نفع کو حاصل کرنے کا ملکہ۔ ان کو جب کبھی اللہ کی راہ میں خیرات کرنے کو کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس میں فقراء مساکین اور محتاجوں کا حصہ بھی ہے۔ تو یہ جواب دیتے ہیں کہ اگر اللہ کا ارادہ ہوتا تو ان غریبوں کو خود ہی دیتا، جب اللہ ہی کا ارادہ انہیں دینے کا نہیں تو ہم اللہ کے ارادے کے خلاف کیوں کریں ؟ تم جو ہمیں خیرات کی نصیحت کر رہے ہو اس میں بالکل غلطی پر ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ پچھلہ جملہ کفار کی تردید میں اللہ کی طرف سے ہو۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کفار سے فرما رہا ہے کہ تم کھلی گمراہی میں ہو لیکن ان سے یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی کفار کے جواب کا حصہ ہے۔ واللہ اعلم۔