اس صفحہ میں سورہ Yaseen کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَءَايَةٌ لَّهُمْ أَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّيَّتَهُمْ فِى ٱلْفُلْكِ ٱلْمَشْحُونِ
وَخَلَقْنَا لَهُم مِّن مِّثْلِهِۦ مَا يَرْكَبُونَ
وَإِن نَّشَأْ نُغْرِقْهُمْ فَلَا صَرِيخَ لَهُمْ وَلَا هُمْ يُنقَذُونَ
إِلَّا رَحْمَةً مِّنَّا وَمَتَٰعًا إِلَىٰ حِينٍ
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ ٱتَّقُوا۟ مَا بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَمَا خَلْفَكُمْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
وَمَا تَأْتِيهِم مِّنْ ءَايَةٍ مِّنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِمْ إِلَّا كَانُوا۟ عَنْهَا مُعْرِضِينَ
وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ أَنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ قَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَنُطْعِمُ مَن لَّوْ يَشَآءُ ٱللَّهُ أَطْعَمَهُۥٓ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
مَا يَنظُرُونَ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً تَأْخُذُهُمْ وَهُمْ يَخِصِّمُونَ
فَلَا يَسْتَطِيعُونَ تَوْصِيَةً وَلَآ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمْ يَرْجِعُونَ
وَنُفِخَ فِى ٱلصُّورِ فَإِذَا هُم مِّنَ ٱلْأَجْدَاثِ إِلَىٰ رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ
قَالُوا۟ يَٰوَيْلَنَا مَنۢ بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ۜ ۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ ٱلرَّحْمَٰنُ وَصَدَقَ ٱلْمُرْسَلُونَ
إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَإِذَا هُمْ جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ
فَٱلْيَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْـًٔا وَلَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
وایۃ لھم انا۔۔۔۔۔ الی حین (41 – 44) ۔ یہاں سیاق کلام میں ایک نہایت ہی لطیف مناسبت ہے ۔ ستارے اور سیارے بلند فضائے کا ئناتی میں تیر رہے ہیں اور کشتی اولاد آدم سے بھری ہے اور وہ پانیوں میں تیررہی ہے ۔ ان دونوں مناظر کے اندر ظاہری نسبت بھی ہے ، رفتار کی مناسبت بھی ہے ، اور یہ ربط بھی ہے کہ ان دونوں کو اللہ نے مسخر کرلیا ہے ۔ اور اللہ نے آسمانوں اور زمینوں کے اندر اپنی قدرت سے ان کو تھام رکھا ہے ۔
یہ دونوں مناظر انسانوں کی نظروں کے سامنے ہیں لیکن انسان ان پر غور نہیں کرتے۔ اگر انسان اپنے قلب کو کھول دے اور اپنے دماغ کو وسعت دے تو ان اور امور و تدبر کرکے وہ بڑی سہولت سے اللہ کی نشانیوں کو پاسکتا ہے ۔
بھری ہوئی کشتی سے مراد شاید کشتی نوح ہو جس نے اولاد آدم کو اٹھایا اور اس کے بعد اللہ نے ان کے لیے ایسی ہی دوسری کشتیاں پیدا کیں جو انسانوں کو اٹھا کر چلتی ہیں اور ان دونوں کو اللہ کے ان قوانین قدرت نے چلایا جو اس نے اس کائنات میں ودیعت کیے کہ کشتی پانیوں کی سطح پر تیررہی ہے ۔ سیارے آسمانوں کی فضاؤں میں تیر رہے ہیں اور لکڑی ، پانی اور ہوا ، بخارات یا ایٹمی قوت پیدا کی جس کی وجہ سے یہ بڑے بڑے جہاز چلتے ہیں ۔ یہ سب امور تقدپر الہٰی کے مطابق ہیں ۔
وان نشا ۔۔۔۔۔ الٰی حین (36: 44) ” ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ، کوئی ان کی فریاد سننے والانہ ہو ، اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں۔ بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔ گہرے سمندروں میں کشتی کی حقیقت وہی ہوتی ہے جس طرح طوفان میں ایک پر کی ہوتی ہے ۔ جس قدر بھی کشتی بھاری اور بڑی ہو ، اور چاہے وہ بہت ہی اعلیٰ سائنسی اصولوں کے مطابق بنی ہو۔ اگر ان کشتیوں کے ساتھ اللہ کی رحمت اور شفقت نہ ہو تو وہ رات یا دن کے کسی بھی لمحے میں تباہ ہوجائیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے سمندروں کا سفر چھوٹے بجرے میں ہواہویا بڑے بحری جہاز میں۔۔۔۔ وہ سمندر کی ہولناکی کو اچھی طرح جانتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ سمندر کی طاقتور لہروں کے مقابلے میں انسانی بچاؤ کی تدابیر کس قدر معمولی ہوتی ہیں ۔ اس لیے ایسے لوگ اللہ کی رحمت کی اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم کائنات میں عالم طبیعت کے طوفانوں اور انقلابات کے مقابلے میں صرف اللہ کی رحمت ہے جس نے سرکش طبیعی قوتوں کی لگام تھام رکھی ہے ۔ زمین و آسمان میں اللہ کے دست قدرت کے سوا اور کوئی تمہیں ہے جس نے سب چیزوں کو تھام رکھا ہے ۔ یہاتک کہ قیام قیامت کا
وقت آپہنچے جس طرح اللہ حکیم وخبیر نے اس کے لیے وقت مقرر کیا ہے ۔
ومتاعا الٰی حین (36: 44) ” پھر وقت خاص تک متمتع ہونے کا موقعہ دیتی ہے “۔
لیکن ان واضح ترین نشا نیوں کے باوجود لوگ غفلت کی نیند میں سوئے ہوئے ہیں ۔ ان کی نظر ان نشانیوں پر نہیں پڑتی ۔ اور ان کے دل بیدار نہیں ہوتے اور وہ نگار اور تمسخرانہ انداز کو نہیں چھوڑتے ۔ اور بس انہوں نے یہی رٹ لگا رکھی ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو بس اسے لے ہی آؤ۔
واذا قیل لھم ۔۔۔۔۔ ان کنتم صٰدقین (48) ” ۔ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجتس ، تدبر اور احساس خدا خوفی نہیں کرتیں ۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشا نیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہیں ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پرجوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر ۔۔ نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ تو جہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
واذا قیل لھم اتقوا ما بین۔۔۔۔۔ ان کنتم صدقین (45 – 48) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ “۔
یہ نشانیاں بھی ان کے دل و دماغ میں تجسس ، تدبر اور احساس خدا خوفی پیدا نہیں کرتیں۔ حالانکہ اگر کسی انسان کا دل کھلا ہو تو یہ نشانیاں اس کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے ، اسے جھنجھوڑتی ہیں اور اسے پر جوش رویہ اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ اور یہ نشانیاں اس قابل ہیں کہ انسان کو اس کائنات کے ساتھ ملا دیں۔ وہ کائنات جو ایک کھلی کتاب ہے اور اس کا ہر ایک صفحہ خالق کی عظمت کا کھلا ثبوت ہے۔ اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی تدابیر بہت گہری اور اس کے اندازے نہایت ہی درست ہوتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ جن کی فطرت اور بصیرت مسخ ہوچکی ہے۔ وہ ان نشانیوں کو نہیں دیکھ سکتے۔ اور اگر وہ ان کو دیکھ بھی لیں ، ان پر تدبر نہیں کرتے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی عظیم رحمتوں کی وجہ سے پھر بھی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ نہیں دیتا ۔ اللہ پھر بھی ان کے پاس رسول بھیجتا ہے ، جو ان کو ڈراتا ہے۔ اور ان کو اس کائنات کے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اسے وجود میں لانے والا ایک قادر مطلق ہے۔ یہ رسول ان کو ڈراتا ہے ، ان کے دل میں خوف اور تقویٰ پیدا کرتا ہے۔ اور ان کو اللہ کے غضب اور ان کو عذاب الٰہی کے اسباب فراہم کرنے سے ڈراتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے عذاب نے تو ان کو احاطہ میں لیا ہوا ہے۔ ان کے آگے اور پیچھے عذاب الٰہی موجود ہے۔ اگر یہ لوگ محتاط نہ رہے تو کسی بھی وقت اللہ کے عذاب میں پڑ سکتے ہیں اور ان کے قدم پھسل سکتے ہیں۔ پھر ان تکوینی نشانیوں کے علاوہ دوسری نشانیاں اور معجزات بھی اللہ پے در پے ان کے لیے بھیجتا ہے لیکن وہ توجہ نہیں کرتے اور اپنی روش پر آگے ہی بڑھ رہے ہیں لاپرواہ ہوکر۔
واذا قیل لھم۔۔۔۔ عنھا معرضین (36: 45 – 46) ” ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سنی ان سنی کر جاتے ہیں) ۔ ان کے سامنے ان کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے ، یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے “۔
اور اگر ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اپنی دولت میں سے کچھ فقراء پر بھی خرچ کرو تو وہ مزاح کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
انطعم من ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (36: 48) ” کیا ہم ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلاتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ مزاح کے علاوہ یہ لوگ ان لوگوں پر گمراہی کا الزام لگاتے جو ان کو دعوت انفاق دیتے ہیں۔
ان لوگوں کے اس انداز گفتگو سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ انسانوں کی زندگی میں جاری وساری سنن الہیہ سے بالکل بےبہرہ ہیں۔ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ ہی سب کو کھلاتا ہے۔ اللہ ہی سب کا رازق ہے۔ زمین میں بندوں کے پاس جو دولت اور جو رزق ہے وہ اللہ ہی کا تخلیق کردہ ہے۔ انسانوں نے خود تو اپنے لیے کچھ پیدا کیا ہی نہیں ، اور نہ وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر قدرت رکھتے ہیں۔ لیکن اللہ کی مشیت یہ ہے کہ اس زمین کو انسان آباد کریں۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کو ضروریات کا محتاج کیا۔ یہ ضروریات لوگوں کو صرف ان کی جہد اور سعی سے ۔۔ سکتی ہیں۔ زمین کے اندر زراعت کا انتظام صنعتوں کا انتظام پھر زمین کے خزانوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا انتظام ۔ پھر ان اشیاء کی سپلائی اور خریدو فروخت مختلف زمانوں میں مختلف طریقوں سے۔ یہ سب انتظامات اللہ نے کیے۔ پھر لوگ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے مختلف اور متفاوت ہیں اور اللہ اپنی مشیت کے مطابق مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں دیں اور یہ اس لیے تاکہ انسان مل کر خلافت ارضی کے فرائض سر انجام دیں۔ انسان کی صلاحیتوں کے اندر تفاوت صرف مال اور دولت جمع کرنے ہی میں نہیں ہے۔ بلکہ بعض اوقات انسان دوسری ضروریات میں مصروف ہوتے ہیں اور یہ دوسرے میدان بھی خلاف ارضی کا تفاضا ہوتے ہیں۔ اس لیے بعض انسان مال دولت جمع کے کام کے لیے فارغ ہی نہیں ہوتے اور مالی لحاظ سے محتاج ہوتے ہیں۔ ایک طرف انسان کے منصب خلافت ارضی کے وسیع تقاضے ہوتے ہیں اور دوسری طرف ان تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے صلاحیتیں ہوتی ہیں ۔ اور ان صلاحیتوں کے مطابق پھر انسانوں کے درمیان ضروریات اور منافع کا لین دین ہوتا ہے۔ لوگوں کے درمیان مقابلہ اور حصہ رسدی کا تعین ہوتا ہے۔ یہ ایک وسیع معاشی نظام ہے جس کی بیشمار کڑیاں ہیں اور ہر کڑی دوسری سے ملی ہوئی ہے بلکہ اس کا تعلق نسلوں سے بھی ہے۔ یعنی نسلا بعد نسل ایسے اسباب ہوتے ہیں جو لوگوں کی معاشی جدوجہد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ غرض معاشیات کے میدان میں مختلف اور متنوع اسباب کی بنا پر اللہ سے لوگوں کے درمیان دولت اور ان کے رزق میں تفاوت رکھی۔ یہ تفاوت اپنی حقیقت کے اعتبار سے تو اس لیے رکھی گئی ہے کہ انسان خلافت ارضی کے منصب کے تقاضے پورے کرتے ہوئے اس زمین کی تعمیر و ترقی میں کوشاں رہے لیکن اس تفاوت کو حد اعتدال میں رکھنے کے لیے اسلام نے بعض انفرادی محرومیوں کا مداوا بھی کیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل ثروت پر لازم ہے کہ وہ اپنی دولت کا ایک حصہ فقراء اور محرومین کے لیے نکالیں۔ اور معاشرے کے اندر کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے جو بنیادی معاشی ضروریات سے محروم ہو۔ ان انتظامات کی وجہ سے اغنیاء اور فقراء کی اخلاقی اور نفسیاتی اصلاح ہوجاتی ہے۔ اس انفاق کے لیے اسلام زکوٰۃ لیتا ہے اور زکوٰۃ کے لغوی مفہوم میں طہارت کے معنی شامل ہیں۔ گویا یہ انفاق طہارت مال بھی ہے اور عبادت بھی۔ اور اس کے ذریعے اللہ نے فقراء اور اغنیاء کے درمیان محبت اور دوستی کا رشتہ بھی استوار کردیا ہے۔
لہٰذا ان لوگوں کا جو حکمت خداوندی کے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے : کہنا ،
انطعم من لو شاء اللہ اطعمہ (36: 47) ” کیا ہم کو ان کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا ؟ “ اور اس پر مزید پھر ان کی جانب سے انفاق کی دعوت دینے والوں پر یہ الزام
ان انتم الا فی ضلل مبین (36: 47) ” تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو “۔ دراصل حقیقی گمراہی ہے ۔ اور یہ لوگ اس کائنات میں جاری سنن الہیہ سے بیخبر ہیں۔ اور یہ لوگ اس جہاں میں زندگی کی حقیقی چلن اور اس کے متنوع معاشی اسباب سے بھی بیخبر ہیں۔ پھر اس جہاں میں اللہ نے جن مقاصد کی خاطر لوگوں کو متنوع صلاحیتیں دی ہیں اور جن کے نتیجے میں لوگ مختلف کام کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے پھر سامان زیست کا تبادلہ ہوتا ہے اور دنیا کا معاشی نظام چل رہا ہے۔ یہ لوگ اس سے بھی واقف نہیں ہیں۔
اسلام ایک ایسا نظام معیشت وضع کرتا ہے جس کے اندر تمام لوگوں کو کام کرنے کے آزادانہ مواقع حاصل ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد اسلامی نظام تمام لوگوں کے مختلف قسم کے کام کرنے کے آزادانہ مواقع فراہم بھی کرتا ہے۔ اور لوگ اس طرح پاک اور صاف زندگی بسر کرتے ہیں اور اس کے بعد اپنے عملی اقدامات سے معاشی ناہمواریوں کے حل کے لیے خصوصی اقدامات بھی کرتے ہیں۔ سب سے آخر میں بات ان کے اس خلجان پر ہوتی ہے۔ جو انہیں بعث بعد الموت کے سلسلے میں تھا۔ اور جس کی وجہ سے وہ اس قسم کا عقیدہ رکھنے والوں کا مذاق اڑاتے تھے۔
ویقولون متی۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ اللہ نے قیامت کے واقع ہونے کے لیے جو وقت مقرر کر رکھا ہے وہ انسانوں کی جلد بازی یا مطالبے کی وجہ سے وقت سے پہلے نہیں آسکتا۔ اور اگر لوگ یہ امید کریں کہ وہ اپنے مقررہ وقت سے ذرا اوپر کرکے واقع ہوگا تو یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اللہ کے نزدیک ہر شے ایک مقدار کے مطابق ہے۔ اور ہر واقعہ اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ تمام واقعات اپنے وقت پر ہوتے ہیں جس طرح اللہ نے ان کے بارے میں فیصلہ ازل میں کر رکھا ہے اور اپنی حکمت کے مطابق کر رکھا ہے۔ اس دنیا کا ہر واقعہ اپنے وقت پر نظام قضا و قدر کے مطابق قضا و قدر کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے۔
ان لوگوں کے ان سوالات اور خلجانات کا جواب کیا ہے تو وہ قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی صورت میں دیا گیا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ جب قیامت ہوگی تو اس کی کیفیت یہ ہوگی۔ رہی یہ بات کہ یہ کب ہوگی تو اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔۔۔ جمیع لدینا محضرون (49 – 53) “۔ “۔ جھٹلانے والوں کا سوال یہ تھا۔
ویقولون متی ھذا۔۔۔۔۔ صدقین (36: 48) ” یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی ؟ بتاؤ اگر تم سچے ہو “۔ لہٰذا ان کا جواب اس منظر کی شکل میں دیا گیا۔
ما ینظرون الا۔۔۔۔ الی اھلھم یرجعون (36: 49 – 50) ” دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں عین اس حالت میں دھرلے گا جب یہ جھگڑ رہے ہوں گے اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے اور نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے “۔ قیامت اچانک لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لے گی ، اس وقت وہ اپنے دنیاوی جھگڑوں یا مذہبی مباحثوں میں مصروف ہوں گے اور ان کو وقوع قیامت کی امید ہی نہ ہوگی ۔ اور نہ وہ اسے کچھ اہمیت دیں گے۔ لیکن وہ اچانک واقع ہوجائے گی۔ ہر شخص اسی حال میں گرفتار ہوگا۔ جس پر وہ اس وقت ہوگا۔ کسی کو آنے والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں کے بارے میں نہ وصیت کے مواقع ہوں گے۔ اور نہ ان کو اس قدر مہلت ہوگی کہ وہ گھر تک چلا جائے اور گھر والوں سے کچھ کہہ دے۔ اور وہ ہوں گے کہاں ؟ کیونکہ گھر والے بھی جہاں ہوں گے اسی قیامت کی گرفت میں ہوں گے۔
اور اس کے بعد صور پھونکا جائے گا۔ ہر شخص اپنی قبر سے اٹھے گا اور جلدی سے دوڑ پڑے گا۔ یہ انتہائی درجے میں ہیبت زدہ اور دہشت زدہ ہوگا۔ ہر شخص دوسرے سے پوچھے گا۔
من بعثنا من مرقدنا (36: 52) ” ارے یہ کس نے ہماری خوابگاہ سے ہمیں اٹھا کر کھڑا کیا ؟ قدرے وقفے کے بعد اب دہشت ختم ہوگی تو اصل حقیقت ان کو معلوم ہوجائے گی۔
ھذا ما وعد۔۔۔۔ المرسلون (36: 52) ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچی تھی “ اور اب آخری آواز ہوگی۔ ایک پکار اور یہ تمام بکھرے ہوئے پریشان اور حیران لوگ اللہ کے حضور حاضر ہوں گے
فاذاھم جمیع لدینا محضرون (36: 53) ” اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دئیے جائیں گے “۔ اور سب کے سب صفوں کی صورت میں منظم کر دئیے جائیں گے اور یہ پیشی چشم زدن میں ہوگی اور صدائے بازگشت کی طرح ہوگی اور اس وقفہ و محل پر اللہ کا یہ فیصلہ سنایا جائے گا اور اعلان ہوگا کہ جزاء و سزائیں کسی کے ساتھ کوئی بےانصافی نہ ہوگی۔
فالیوم لا تظلم ۔۔۔۔ تعملون (54) ” یہاں نہایت تیزی کے ساتھ تین مناظر کی جھلک دکھائی جاتی ہے اور ان لوگوں کے شکوک اور خلجانات کا رد کردیا جاتا ہے جو خواہ مخواہ وقوع قیامت میں شک کرتے ہیں اور نہایت ہی ترتیب کے ساتھ۔ اب یہاں اہل ایمان کے ستاھ حساب و کتاب کا حال بھی چند لمحوں میں لپیٹ لیا جاتا ہے اور ان کا انجام بھی تیزی کے ساتھ دکھا دیا جاتا ہے۔