ان الذین امنوا وعملوا الصلحٰت یدیھم ربھم بایمانھم ناقابل شک ہے یہ بات کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ‘ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو (جنت میں پہنچانے والے راستہ کی) ہدایت کرے گا۔
مجاہد نے کہا : پل صراط پر ان کو جنت تک پہنچانے والا راستہ بتا دے گا۔ ان کیلئے نور کر دے گا جس کی راہنمائی میں وہ (جنت تک) جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ایمان کی وجہ سے اللہ ان کو حقائق دین سمجھنے کا راستہ بتا دے گا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے جانی چیز پر عمل کیا ‘ اللہ اس کو انجانی چیز کا علم عطا فرما دے گا۔ رواہ ابونعیم فی الحیلۃ۔ بعض نے کہا : یھدیھم کا یہ معنی ہے کہ اللہ ان کو ثواب اور جزا دے گا یا جنت کے اندر ان کے مقاصد ان کو پہنچا دے گا۔
بیضاوی نے لکھا ہے : ترتیب کلام کا مفہوم اگرچہ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا سبب ایمان اور عمل صالح (کا مجموعہ) ہے لیکن تنہا بایمانھم کا صریحی لفظ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا مستقل سبب ایمان ہے ‘ عمل صالح تو اس کا تکملہ اور تتمہ ہے۔
تجری من تحتھم الانھٰر ان کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ نیچے سے مراد ہے سامنے ‘ جیسا آیت قَدْ جَعَلَ رَبُّکَ تَحْتَکِ سَرِیًّا میں تحت سے مراد سامنے ہے ‘ کیونکہ حضرت مریم کا نہر کے اوپر بیٹھنا اس آیت کا مقصود نہیں ہے بلکہ نہر کا سامنے ہونا مراد ہے۔
فی جنت النعیم۔ چین کے باغوں میں۔
خوش انجام خوش نصیب لوگ نیک بختوں کا حال بیان ہو رہا ہے جو اللہ پر ایمان لائے رسولوں کو مانا، فرمانبرداری کی نیکیوں پر چلتے رہے، انہیں ان کے ایمان کی وجہ سے راہ مل جائے گی۔ پل صراط سے پار ہوجائیں گے۔ جنت میں پہنچ جائیں گے، نور مل جائے گا۔ جس کی روشنی میں چلیں پھریں گے۔ پس ممکن ہے کہ (آیت بایمانھم) میں با سببیت کی ہو۔ اور ممکن ہے کہ استعانت کی ہو۔ ان کے اعمال اچھی بھلی صورت اور عطر و خوشبو بن کر ان کے پاس ان کی قبر میں آئیں گے اور انہیں خوشخبری دیں گے یہ پوچھیں گے کہ تم کون ہو ؟ وہ جواب دیں گے تمہارے نیک اعمال۔ پس یہ اپنے ان نورانی عمل کی روشنی میں جنت میں پہنچ جائیں گے اور کافروں کا عمل نہایت بد صورت، بدبو دار ہو کر اس پر چمٹ جائے گا اور اسے دھکے دے کر جہنم میں لے جائے گا۔ یہ جو چیز کھانا چاہیں گے اسی وقت فرشتے اس تیار کرکے لائیں گے۔ انہیں سلام کہیں گے جو جواب دیں گے اور کھائیں گے۔ کھا کر اپنے رب کی حمد بیان کریں گے۔ ان کے صرف سبحانک اللھم کہتے ہی دس ہزار خادم اپنے ہاتھوں میں سونے کے کٹوروں میں کھانا لے کر حاضر ہوجائیں گے اور یہ سب میں سے کھائے گا۔ ان کا آپس میں بھی تحفہ سلام ہوگا۔ وہاں کوئی لغو بات کانوں میں نہ پڑے گی۔ در و دیوار سے سلامتی کی آوازیں آتی رہیں گے۔ رب رحیم کی طرف سے بھی سلامتی کا قول ہوگا۔ فرشتے بھی ہر ایک دروازے سے آکر سلام کریں گے۔ آخری قول ان کا اللہ کی ثناء ہوگا۔ وہ معبود برحق ہے اول آخر حمد و تعریف کے سزاوار ہے۔ اسی لیے اس نے اپنی حمد بیان فرمائی مخلوق کی پیدائش کے شروع میں، اس کی بقاء میں، اپنی کتاب کے شروع میں، اور اس کے نازل فرمانے کے شروع میں۔ اس قسم کی آیتیں قرآن کریم میں ایک نہیں کئی ایک ہیں جیسے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلٰي عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَلَمْ يَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا ڸ) 18۔ الكهف :1) وغیرہ۔ وہی اول آخر دنیا عقبیٰ میں لائق حمد وثناء ہے ہر حال میں اس کی حمد ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ اہل جنت سے تسبیح و حمد اس طرح ادا ہوگی جیسے سانس چلتا رہتا ہے۔ یہ اس لیے کہ ہر وقت نعمتیں راحتیں آرام اور آسائش بڑھتا ہوا دیکھیں گے پس لا محالہ حمد ادا ہوگی۔ سچ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، نہ اس کے سوا کوئی پالنہار ہے۔