فبدا باوعیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وعاء اخیہ (12 : 76) “ تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی ”۔
اس مرحلے پر قرآن اس دہشت اور پریشانی کو بیان نہیں کرتا جس سے برادران یوسف اچانک دو چار ہوگئے۔ ان کو تو سو فیصدی یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں۔ انہوں نے بیان حلفی بھی دے دیا تھا اور بیک آواز دے دیا تھا۔ قرآن کریم نے منظر کا یہ حصہ انسانی تخیل پر چھوڑ دیا کیونکہ ایسے مواقع پر ایسے تاثرات خود بخود ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کو انسانی خیال پر چھوڑ دیا گیا اور واقعہ پر ایک تبصرہ کردیا گیا تا کہ ابنائے یعقوب جس دہشت اور شرمندگی سے دو چار تھے ، ایک قاری اس سے ذرا نکل آئے۔
کذلک کدنا لیوسف (12 : 76) “ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی تائید اپنی تدبیرت کی جو نہایت ہی گہری تدبیر تھی۔
ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک (12 : 76) “ اس کو دین شاہی میں اپنے بھائی کو پکڑنے کا حق نہ تھا ”۔ یعنی اگر اس کیس کا فیصلہ شاہی قانون کے مطابق کیا جاتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھائی کو شخصی طور پر نہیں روک سکتے تھے۔ صرف اسے چور کی سزا دے سکتے تھے۔ لیکن بھائیوں نے یہ تجویز دی کہ ان کے اپنے دین کے مطابق چور کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے اسباب اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائے ۔ یہ ہے اللہ کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے حق میں تدبیر۔ لفظ “ کید ” عربی میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس کا استعمال لغت میں خیر اور شر دونوں معنوں میں ہوتا ہے۔ لیکن عموماً اس کا استعمال شر میں ذرا زیادہ ہوگیا۔ بظاہر تو یہاں اس کے بھائی کے لئے بھی واقعہ شر ہی کا ہو رہا ہے ، بھائیوں کے لئے بھی یہ بظاہر شر ہے کیونکہ ان کو والد کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے بھی یہ وقتی طور پر تکلیف دہ امر ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے واقعہ کے ظاہری پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے “ کید ” کا لفظ استعمال کیا جو قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اسلوب بیان ہے۔
ما کان ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ (12 : 76) “ وہ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتے تھے الا یہ کہ اللہ ایسا چاہتا ”۔ جیسا کہ اللہ نے ان کے لئے زیر نظر تدبیر کی۔
اس آخری تبصرے میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے بہت ہی رفعتیں بہت ہی علم ، عطا فرما دیا تھا۔
نرفع درجت من نشاء (12 : 76) “ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کا علم سب سے اونچا اور اعلیٰ ہے۔
وفوق کل ذی علم علیم (12 : 76) “ اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے ”۔ یہ ایک لطیف احتیاط ہے۔
یہاں قرآن مجید نے اس آیت :
کذلک کدنا۔۔۔۔۔۔۔ دین الملک (12 : 76) “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یوں تدبیر کی۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون نظام میں گرفتار نہ کرسکتے تھے ” میں لفظ “ دین ” کو ایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے اور یہ نہایت ہی ٹیکنیکل اصطلاحی استعمال ہے۔ یعنی نظام اور شریعت کے مفہوم میں کیونکہ مصر کے قانونی نظام میں چور کے لئے یہ سزا نہ تھی کہ اسے جرم کے عوض رکھ ہی لیا جائے۔ یہ سزا صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے شرعی اور قانونی نظام میں تھی۔ برادران یوسف اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ کیس کا فیصلہ ان کے قانون کے مطابق کیا جائے۔ جب ۔۔۔۔ اس کے بھائی کی خرجی سے نکلا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان پر انہی کا قانون نافذ کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے نظام اور قانون پر “ الدین ” کا اطلاق فرمایا ہے۔
دین کا یہ نہایت ہی واضح اور صریح مفہوم ہے ، اور بیسویں صدی کی جاہلیت میں سب کے ذہن سے یہ مفہوم غائب ہے۔ ان لوگوں کے ذہن سے بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے ذہن سے بھی جو اس جاہلیت کے داعی اور پیروکار ہیں۔
ان لوگوں نے دین کا مفہوم عبادت اور مراسم مذہبی تک محدود کردیا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت پر اعتقاد رکھتا ہو ، رسول کو سچا سمجھتا ہو ، ملائکہ اور کتب پر ایمان رکھتا ہو ، تمام رسولوں کو مانتا ہو ، آخرت پر یقین رکھتا ہو ، اور اچھی اور بری تقدیر کے من جانب اللہ ہونے کا قائل ہو اور پھر وہ فرائض و عبادات پر عمل پیرا ہو ، بس وہ پکا دین دار ہے۔ اگرچہ زندگی کے دوسرے معاملات میں وہ دوسرے ارباب اور دوسرے حاکموں کی اطاعت کرتا ہے اور دوسروں کے قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے کرتا ہو حالانکہ اس آیت میں صریح طور پر کہا گیا ہے کہ نظام قانون اور شریعت دین کا مسئلہ ہے اور اللہ کے دین کا مفہوم اللہ کا پورا نظام زندگی ہے۔
“ الدین ” کے مفہوم کو اس قدر محدود کردیا گیا ہے اور اس قدر سکیڑ دیا گیا ہے کہ وہ عبادات اور اعتقادات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء نے جو دین پیش کیا اس کا مفہوم اس طرح محدود نہ تھا۔
دین کا مفہوم ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی کی جائے۔ ان تمام امور پر عمل کیا جائے جو شریعت کا حصہ ہیں۔ اور ان تمام امور کو ترک کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ جس طرح اللہ وحدہ آسمانوں میں حاکم ہیں اسی طرح زمین پر بھی اللہ وحدہ کی حکومت قائم کی جائے اور اللہ وحدہ کو تمام انسانوں کا رب سمجھا جائے یعنی وہی حاکم ہو ، وہی قانون ساز ہو ، اور اسی کے احکام و نواہی چلیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کون لوگ اللہ کے دین میں ہیں اور کون لوگ بادشاہ کے دین میں ہیں ؟ اس مفہوم کے اعتبار سے جو لوگ اللہ کے نظام ، اللہ کے قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ دین الٰہی میں ہیں اور جو لوگ بادشاہ کے نظام اور قانو کو مانتے ہیں وہ بادشاہ کے دین میں ہیں۔ یہ لوگ اگر شرک بھی کرتے ہیں تو پھر یہ اعتقادات و نظریات میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور نظام اور قانون اور دستور میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔
دین کے مفہوم کے یہ منطقی اور بدیہی نتائج ہیں اور اسلامی نظریہء حیات کے بدیہیات میں سے ہیں۔
آج کل عوام الناس کے بعض ہمدرد عوام کی طرف سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ یہ لوگ “ دین اللہ ” کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے اس لیے ایسے لوگ نہ اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی قانون اور دستور کو نافذ کیا جائے اور نہ اس کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔ پھر کیا ان لوگوں کی یہ جہالت اور دین کے حقیقی مفہوم سے لا علمی ان کے لئے معافی کا عذر بن جائے گی ؟
میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ دین کے مفہوم کو نہ جاننا اور اس کی حقیقت سے بیخبر ہونا کسی کو دین دار بناتا ہے ۔ کسی حقیقت پر یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کسی کو وہ حقیقت معلوم ہو۔ اگر لوگ کسی عقیدے کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ اس کے معتقد کیسے ہو سکتے ہیں اور کس طرح انہیں اس عقیدے والا کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ اس عقیدے کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے۔
ہو سکتا ہے کہ دین کی حقیقت سے بیخبر ی آخرت میں ان کے حساب و کتاب میں کسی نرمی کا باعث ہو ، یا عذاب میں کمی ہوجائے ، اور یہ حساب ان سے لیا جائے جنہوں نے ان کو دین سکھایا نہیں جبکہ وہ دین کے حقیقی مفہوم سے واقف تھے۔ لیکن یہ ایک مسئلہ ہے جس کا تعلق اخروی حساب سے ہے ، اور تمام اہل جاہلیت کی سزا کا مسئلہ جن تک دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس میں بحث و مباحثہ کرنا ہمارے لیے کچھ زیادہ مفید نہیں ہے نہ یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ ہمارا فریضہ تو یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اور ایک ایک تک پہنچائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بھی فریضہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے موجودہ دین کی حقیقت سمجھائیں۔ یہ کہ یہ دین اللہ کا دین قطعاً نہیں ہے۔ اللہ کا دین تو وہ ہے جو اس کے نصوص کی صورت میں بطور نظام زندگی اور نظام قانون کے موجود ہے۔ اس طرح اسلامی عقائد کے ساتھ جو شخص اللہ کے نظام اور قانون کو بھی رائج اور نافذ کرے گا وہی دین اسلام میں ہوگا۔ جو شخص کسی بادشاہ یا دوسرے شخص کا نظام رائج کرے گا وہ اس کے نظام اور دین میں ہوگا۔ یہ مسئلہ مختلف فیہ نہیں ہے۔
وہ لوگ جو اس دین کے مفہوم ہی سے ناواقف ہیں ، ان کے بارے میں اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اس دین کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ کیونکہ ان کی جہالت کا تعلق دین کی بنیاد سے وابستہ ہے اور جو شخص کسی چیز کی حقیقت کا علم نہ رکھتا ہو وہ عقلاً اور واقعتاً اس چیز پر اعتقاد رکھنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ کیونکہ عقیدہ علم کے بعد آتا ہے۔ یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ علم کے بغیر عقیدہ ممکن نہیں ہے۔
پس ہمارے لیے یہ بہتر ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے دین کے اصل مفہوم اور دین کی حقیقت ظاہر کریں ۔ بجائے اس کے کہ ہم ان کی جانب سے بےجامد افعت کریں ، ان کے لیے عذرات تلاش کریں ، ان کے لئے ہم اللہ کریم سے بھی زیادہ رحمدل ہوجائیں۔ جبکہ وہ درحقیقت اللہ کے دین میں داخل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ انہیں صاف صاف بتا دیا جائے کہ ان کی یہ پوزیشن ہے چاہے وہ دین کو اپنائیں یا چھوڑ دیں۔
یہ پالیسی ہمارے لیے بھی مفید ہے اور ان عوام الناس کے لیے بھی مفید ہے۔ اس طرح ہم ان جاہلوں کی گمراہی کے نتائج بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے کیونکہ یہ لوگ دین کے مفہوم کو نہ پانے کی وجہ سے دین کے معتقد ہی نہیں رہے۔ اگر ہم ان لوگوں کے سامنے دین کی اصل حقیقت پیش کردیں جو دراصل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں بلکہ دین شاہ وغیرہ میں ہیں تو ممکن ہے کہ ان کا ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ در حقیقت دین اسلام میں داخل ہوجائیں۔
یہی پالیسی نبی کریم ﷺ کی رہی ہے اور یہی پالیسی تمام داعیان حق کی ہونی چاہیے ، ہر زمان و مکان میں ہونی چاہیے ، تمام جاہلوں اور جاہلیت پرستوں کے مقابلے میں۔
كَذٰلِكَ كِدْنَا لِيُوْسُفَ یہ ایک ایسی تدبیر تھی جس میں توریے کا سا انداز تھا اور اس سے مقصود کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس پورے خاندان کو آپس میں ملانا تھا۔ اس تدبیر کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اللہ نے آپ کے لیے یہ ایک راہ نکالی تھی۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی تاکہ کسی ذہن میں یہ اشکال پیدا نہ ہو کہ ایسی تدبیر اختیار کرنا شان نبوت کے منافی ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار بھی مطلق ہے اور اس کا علم بھی ہر شے پر محیط ہے۔ اللہ کو تو علم تھا کہ یہ عارضی سا معاملہ ہے اور اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ مَا كَانَ لِيَاْخُذَ اَخَاهُ فِيْ دِيْنِ الْمَلِكِ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ لفظ ”دین“ کی تعریف definition کے اعتبار سے قرآن کی یہ آیت بہت اہم ہے۔ یہاں دِیْنِ الْمَلِکِ بادشاہ کے دین سے مراد وہ نظام ہے جس کے تحت بادشاہ اس پورے ملک کو چلا رہا تھا ‘ جس میں بادشاہ اقتدار اعلیٰ Sovereignty کا مالک تھا۔ اس کا اختیار مطلق تھا ‘ اس کا ہر حکم قانون تھا اور پورا نظام سلطنت و مملکت اس کے تابع تھا۔ اس حوالے سے ”دین اللہ“ کی اصطلاح بہت آسانی سے واضح ہوجاتی ہے۔ چناچہ اگر اللہ کے اقتدار Sovereignty اور اختیار مطلق کو تسلیم کر کے پورا نظام زندگی اس کے تابع کردیا جائے تو یہی ”دین اللہ“ کا عملی ظہور ہوگا۔ یہی وہ کیفیت تھی جو ”دین اللہ“ کے غلبے کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں پیدا ہوئی تھی اور جس کی گواہی سورة النصر میں اس طرح دی گئی ہے : اِذَاجَآءَ نَصْرُاللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا۔ اسی طرح آج کا دین جسے عوام کی فلاح کا ضامن قرار دیا جا رہا ہے ”دین الجمہور“ ہے۔ اس دین یا نظام میں قانون سازی کا اختیار جمہور یعنی عوام یا عوام کے نمائندوں کو حاصل ہے وہ جسے چاہیں جائز قرار دیں اور جسے چاہیں ناجائز اور یہی سب سے بڑا کفر اور شرک ہے۔بہر حال اس وقت مصر میں بادشاہی نظام رائج تھا جس کو حضرت یوسف بدل نہیں سکتے تھے کیونکہ آپ بادشاہ تو نہیں تھے۔ آپ کو جو اختیار حاصل تھا وہ اسی نظام کے مطابق اپنے شعبے اور محکمے کی حد تک تھا جس کے وہ انچارج تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے یہ تدبیر نکالی۔ آپ کے بھائیوں سے پہلے یہ اقرار کرا لیا گیا کہ جس کے سامان سے وہ پیالہ برآمد ہوگا سزا کے طور پر اسے خود ہی غلام بننا پڑے گا اور اس طرح حضرت یوسف کے لیے جواز پیدا ہوگیا کہ وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک سکیں۔نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭ وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌیعنی علم کے لحاظ سے علماء کے درجات ہیں۔ ہر عالم کے اوپر اس سے بڑا عالم ہے اور یہ درجات اللہ تعالیٰ کی ذات پر جا کر اختتام پذیر ہوتے ہیں جو سب سے بڑا عالم ہے۔