اس صفحہ میں سورہ Ad-Dukhaan کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الدخان کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَأَن لَّا تَعْلُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ۖ إِنِّىٓ ءَاتِيكُم بِسُلْطَٰنٍ مُّبِينٍ
وَإِنِّى عُذْتُ بِرَبِّى وَرَبِّكُمْ أَن تَرْجُمُونِ
وَإِن لَّمْ تُؤْمِنُوا۟ لِى فَٱعْتَزِلُونِ
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنَّ هَٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ مُّجْرِمُونَ
فَأَسْرِ بِعِبَادِى لَيْلًا إِنَّكُم مُّتَّبَعُونَ
وَٱتْرُكِ ٱلْبَحْرَ رَهْوًا ۖ إِنَّهُمْ جُندٌ مُّغْرَقُونَ
كَمْ تَرَكُوا۟ مِن جَنَّٰتٍ وَعُيُونٍ
وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ
وَنَعْمَةٍ كَانُوا۟ فِيهَا فَٰكِهِينَ
كَذَٰلِكَ ۖ وَأَوْرَثْنَٰهَا قَوْمًا ءَاخَرِينَ
فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ ٱلسَّمَآءُ وَٱلْأَرْضُ وَمَا كَانُوا۟ مُنظَرِينَ
وَلَقَدْ نَجَّيْنَا بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ مِنَ ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ
مِن فِرْعَوْنَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَالِيًا مِّنَ ٱلْمُسْرِفِينَ
وَلَقَدِ ٱخْتَرْنَٰهُمْ عَلَىٰ عِلْمٍ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ
وَءَاتَيْنَٰهُم مِّنَ ٱلْءَايَٰتِ مَا فِيهِ بَلَٰٓؤٌا۟ مُّبِينٌ
إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَيَقُولُونَ
إِنْ هِىَ إِلَّا مَوْتَتُنَا ٱلْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُنشَرِينَ
فَأْتُوا۟ بِـَٔابَآئِنَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
أَهُمْ خَيْرٌ أَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ وَٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ أَهْلَكْنَٰهُمْ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ مُجْرِمِينَ
وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَٰعِبِينَ
مَا خَلَقْنَٰهُمَآ إِلَّا بِٱلْحَقِّ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
آیت 19 { وَّاَنْ لَّا تَعْلُوْا عَلَی اللّٰہِج اِنِّیْٓ اٰتِیْکُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ } ”اور یہ کہ تم اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے پاس لے کر آیا ہوں ایک واضح سند۔“ اگر تم لوگ میری مخالفت کرو گے تو یہ گویا اللہ کی مخالفت اور اس کے خلاف سرکشی ہوگی۔ اس لیے کہ میں اللہ کا نمائندہ ہوں اور اسی کے پیغامات تم تک پہنچا رہا ہوں۔
آیت 20 { وَاِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَرَبِّکُمْ اَنْ تَرْجُمُوْنِ } ”اور میں نے پناہ پکڑ لی ہے اپنے اور تمہارے رب کی اس بات سے کہ تم مجھے سنگسار کرو۔“
آیت 21 { وَاِنْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا لِیْ فَاعْتَزِلُوْنِ } ”اور اگر تم لوگ میری بات نہیں مانتے ہو تو مجھ سے دوررہو !“ تمہاری سازشوں کے خلاف چونکہ میں نے اپنے رب کی پناہ حاصل کرلی ہے اس لیے اگر تم مجھ پر ایمان نہیں لاتے تو بھی میرے خلاف کوئی عملی اقدام کرنے سے باز رہنا۔
آیت 22 { فَدَعَا رَبَّہٗٓ اَنَّ ہٰٓؤُلَآئِ قَوْمٌ مُّجْرِمُوْنَ } ”پھر اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ یہ مجرم قوم ہے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیاـ:
آیت 23{ فَاَسْرِ بِعِبَادِیْ لَیْلًا اِنَّکُمْ مُّتَّبَعُوْنَ } ”پس میرے بندوں کو لے کر راتوں رات نکل جائو ‘ آگاہ رہو کہ تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔“
آیت 24 { وَاتْرُکِ الْبَحْرَ رَہْوًا } ”اور چھوڑ دینا سمندر کو ساکن !“ ہم سمندر کو پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنا دیں گے ‘ اس راستے سے گزر جانے کے بعد اسے اسی طرح ساکن چھوڑ دینا۔ { اِنَّہُمْ جُنْدٌ مُّغْرَقُوْنَ } ”یہ ایک لشکر ہیں جو غرق کیے جائیں گے۔“ فرعون کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا اور اسی راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا ‘ لیکن ہم اس کو غرق کردیں گے۔
آیت 25 ‘ 26 { کَمْ تَرَکُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ۔ وَّزُرُوْعٍ وَّمَقَامٍ کَرِیْمٍ۔ ”انہوں نے کتنے ہی باغوں ‘ چشموں ‘ کھیتوں اور شاندار رہائش گاہوں کو چھوڑا۔“
آیت 27 { وَّنَعْمَۃٍ کَانُوْا فِیْہَا فٰــکِہِیْنَ } ”اور کیسی کیسی نعمتوں کو جن میں وہ عیش کیا کرتے تھے۔“
آیت 28 { کَذٰلِکَقف وَاَوْرَثْنٰہَا قَوْمًا اٰخَرِیْنَ } ”یوں ہی ہوا ‘ اور ہم نے وارث بنا دیا ان چیزوں کا دوسرے لوگوں کو۔“
آیت 29 { فَمَا بَکَتْ عَلَیْہِمُ السَّمَآئُ وَالْاَرْضُ وَمَا کَانُوْا مُنْظَرِیْنَ } ”تو نہ ان پر آسمان رویا اور نہ زمین اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی گئی۔“
آیت 30 { وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”اور ہم نے نجات دے دی بنی اسرائیل کو ذلت آمیز عذاب سے۔“
آیت 31 { مِنْ فِرْعَوْنَ اِنَّہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ } ”یعنی فرعون سے ‘ یقینا وہ بڑا ہی سرکش ‘ حد سے نکل جانے والوں میں سے تھا۔“ ایک طرف تو وہ معصیت کے ارتکاب میں حد سے بڑھا ہوا تھا اور دوسری طرف اس کی سرشت میں سرکشی بھی بہت تھی۔
آیت 32 { وَلَقَدِ اخْتَرْنٰـہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ } ”اور ہم نے علم رکھنے کے باوجود اُن بنی اسرائیل کو اقوامِ عالم پر ترجیح دی تھی۔“ بنی اسرائیل کی تمام خرابیاں اور کوتاہیاں ہمارے علم میں تھیں۔ اس کے باوجود ہم نے دنیا کی تمام اقوام پر انہیں فضیلت دے کر برگزیدہ کیا تھا۔ بنی اسرائیل کی اس فضیلت کا ذکر قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں یہ آیت دو مرتبہ 47 اور 122 آئی ہے : { یٰـبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَنِّیْ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ 4 } ”اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میرے اس انعام کو جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ میں نے تمہیں فضیلت عطا کی جہان والوں پر۔“ قرآن کریم خصوصی طور پر سورة البقرۃ میں بنی اسرائیل کے بڑے بڑے جرائم بھی ِگنوائے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی کی وجہ یہ تھی کہ ان کا سواد اعظم مسلسل توحید سے چمٹا رہا تھا۔ اگرچہ گاہے بگاہے ان میں مشرکانہ نظریات و اوہام بھی پنپتے رہے لیکن ان کی اکثریت بہر حال توحید پر قائم رہی۔ مثلاً ایک زمانے میں ان کے درمیان ایک ایسا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتا تھا لیکن اس دور میں بھی مجموعی طور پر ان میں سے اکثر لوگ توحید پرست ہی رہے۔
آیت 33 { وَاٰتَیْنٰہُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَا فِیْہِ بَلٰٓؤٌا مُّبِیْنٌ } ”اور ہم نے انہیں بہت سی ایسی نشانیاں دیں جن میں بہت واضح آزمائش تھی۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو بار بار ایسی آزمائشوں سے دو چار کیا گیا جو ان کے لیے ”بَلَآئً حَسَنًا“ الانفال : 17 کا درجہ رکھتی تھیں۔ یعنی ایسی آزمائشیں جو انسان کی بھلائیوں کو بڑھانے اور اچھائیوں کو نکھارنے کا باعث بنتی ہیں۔
آیت 34 { اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَیَقُوْلُوْنَ } ”یہ لوگ تو یہی کہہ رہے ہیں۔“ ہٰٓؤُلَآئِ سے یہاں اہل مکہ مراد ہیں۔ چونکہ یہ مکی سورت ہے اس لیے بنی اسرائیل کا ذکر کرنے کے بعد اب مشرکین مکہ کے اقوال و عقائد پر تبصرہ ہونے جا رہا ہے۔
آیت 35 { اِنْ ہِیَ اِلَّا مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ } ”کچھ نہیں مگر ہماری یہ پہلی موت ہی ہوگی اور ہم دوبارہ اٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔“ کہ بس ہماری موت کے ساتھ ہی ہماری زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کے عقیدے کو ہم نہیں مانتے۔
آیت 36 { فَاْتُوْا بِاٰبَآئِنَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”تو لائو ذرا ہمارے آباء و اَجداد کو ‘ اگر تم سچے ہو !“ اپنے موقف کے حمایت میں وہ لوگ یہ دلیل دیتے کہ اگر تم بعث بعد الموت کے عقیدے کو سچ مانتے ہو تو ذرا ہمارے فوت شدہ آباء و اَجداد کو زندہ کر کے دکھائو !
آیت 37 { اَہُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍلا وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”کیا یہ بہتر ہیں یا ُ تبع ّکی قوم اور وہ لوگ جو ان سے پہلے تھے ؟“ یمن کے قدیم بادشاہ ”تبع“ کہلاتے تھے۔ جس طرح پرانے زمانے میں مصر کے بادشاہوں کا لقب ”فرعون“ اور عراق کے بادشاہوں کا لقب ”نمرود“ تھا اسی طرح یمن کے بادشاہوں کا لقب ”تبع“ تھا۔ { اَہْلَکْنٰہُمْ اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ } ”ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا ‘ بیشک وہ سب کے سب مجرم تھے۔“
آیت 38 { وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا لٰعِبِیْنَ } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے محض کھیل کے طور پر تو تخلیق نہیں فرمایا۔“
آیت 39 { مَا خَلَقْنٰہُمَآ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اور ہم نے نہیں بنایا ان دونوں کو مگر حق کے ساتھ ‘ مگر ان لوگوں کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔“