اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَوْ جَعَلْنَٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَٰهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِم مَّا يَلْبِسُونَ
وَلَقَدِ ٱسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَحَاقَ بِٱلَّذِينَ سَخِرُوا۟ مِنْهُم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ
قُلْ سِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ ثُمَّ ٱنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلْمُكَذِّبِينَ
قُل لِّمَن مَّا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُل لِّلَّهِ ۚ كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ ٱلرَّحْمَةَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
۞ وَلَهُۥ مَا سَكَنَ فِى ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ وَهُوَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
قُلْ أَغَيْرَ ٱللَّهِ أَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ۗ قُلْ إِنِّىٓ أُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ ۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ
قُلْ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُۥ ۚ وَذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْمُبِينُ
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
وَهُوَ ٱلْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْحَكِيمُ ٱلْخَبِيرُ
(آیت) ” نمبر 10 تا 11۔
یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔
پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور ﷺ کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کا انجام آخر کار خراب ہی ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تاریخ دعوت وتاریخ رسل میں یہ رویہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا گیا ۔ مذاق اڑانے والوں کا یہی انجام رہا ہے اور وہ جس چیز سے مذاق کرتے تھے آخر کار اسی چیز نے انہیں گھیر لیا اور جس کو دھمکی سمجھتے تھے وہ عذاب ان پر آکر رہا اور حق کو باطل پر آخر کار غلبہ نصیب ہوا۔
دوسرا مقصد یہ تھا کہ ان جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کے دلوں کو بھی ذرا جھنجوڑا جائے اور انہیں اس طرح متوجہ کیا جائے کہ وہ ذرا اپنے اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور اس کی وجہ سے اللہ کے عذاب نے انہیں گھیرا ۔ یہ لوگ قوت اور شوکت کے اعتبار سے تم سے زیادہ قوی اور پرشوکت تھے ۔ وہ زیادہ آسودہ حال اور ترقی یافتہ تھے ۔ اس طرح انہیں اس طرح متوجہ کیا ۔ شاید کہ وہ ہدایت قبول کرلیں جس طرح سورة کے آغاز میں بھی انہیں واقعات تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ قرآن کریم کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں :
(آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11)
” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔ زمین میں سیروسیاحت کے مقاصد یہ ہیں کہ پھرنے والے کو علم حاصل ہو ‘ وہ حالات پر غور کرے اور ان سے عبرت حاصل کرے ۔ اور پھر تدبر کے بعد پھرنے والا یہ معلوم کرے کہ سنن الہیہ حوادث وواقعات میں کس طرح کار فرما ہوتی ہیں ۔ سنن الہیہ آثار قدیمہ سے بھی معلوم ہو سکتی ہیں جو نظر آتے ہیں اور ابھی تک کھڑے ہیں ۔ ان تاریخی واقعات کے اندر بھی معلوم کی جاسکتی ہیں جو ہر خطے اور ہر قوم کی روایتی تاریخ کے اندر منضبط ہوتے ہیں ۔ زمین کے اندر اس غرض کے لئے اور اس نہج پر سیاحت کرنا عربوں کے لئے ایک انوکھی بات تھی ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں جیسی بدوی اور سادہ قوم میں قرآن مجید فکر ونظر کا کس قدر عظیم انقلاب لارہا ہے ۔ وہ اہل جاہل اور ان پڑھ قوم کو فلسفہ تاریخ پڑھا رہا ہے ۔
وہ زمین میں پھرتے تھے ‘ سیاحت کے عادی تھے ۔ وہ زندگی گزارنے اور تجارت کے لئے قافلوں کی صورت میں پھرنے کے عادی تھے لیکن ان کے پیش نظر صرف وہ امور تھے جن کا تعلق صرف تجارت اور شکار وغیرہ سے تھا ۔ تربیتی مقاصد کے لئے سیر و سیاحت کبھی ان کا مقصود نہیں رہی تھی ۔ یہ سفر ان کے لئے بالکل جدید تھا ۔ یہ جدید نظام حیات انہیں سچ کی یہ نئی لائن دے رہا تھا اور بچوں کی طرح انہیں ہاتھ سے پکڑ کر جاہلیت کی گہرائیوں اور تاریکیوں سے نکال رہا تھا ۔ انہیں ایک بلند اور کھلی شاہراہ پر ڈال کر مقام سربلندی تک لے جا رہا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ قرآن پر عمل کرکے ہی وہ اس بلند مقام تک پہنچے ۔
مطالعہ تاریخ کا یہ منہاج جو قرآن کریم عربوں کو سکھا رہا تھا اپنے اول اور آخر سے یہ انسانی تاریخ کے مطالعے کا بالکل ایک نیا منہاج تھا جس کے مطابق اس دور میں اسلامی نظام زندگی نے انسانی عقل کے سامنے انسانی تاریخ کو پیش کیا ۔ اس طرز مطالعہ سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جب کچھ اسباب اللہ کی مشیت کے مطابق جمع ہوجاتے ہیں تو ان کے نتائج لازما ظہور پذیر ہوتے ہیں اور انسانی کھلی آنکھوں سے تاریخ میں واقعات واحداث کو سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوتا دیکھتا ہے ۔ اسلامی نظام سے پہلے انسان اور ان کی روایات میں سے محض چند واقعات گنوائے گئے تھے اور کچھ مشاہدات اور لوگوں کے کچھ رسوم اور رواجات کو قلم بند کیا گیا تھا ۔ کہیں بھی واقعات کے اسباب اور وجوہات کے بارے میں کوئی بحث اور تبصرہ نہیں ہوا تھا اور نہ ان کا تجزیہ کیا گیا تھا کہ یہ اسباب اور یہ ان کے نتائج نکلے ۔ یہ تھے تاریخ کے مراحل اور انقلابات ۔ یہ اسلامی نظام اور قرآن تھا جس نے انسان کو فلسفہ تاریخ دیا اور اسے یہ سکھایا کہ تاریخی واقعات کے اندر اسباب ونتائج کا مطالعہ کرو۔ قرآن نے فلسفہ تاریخ کا کوئی مرحلہ پیش نہیں کیا اور نہ کسی پرانی فکر کو آگے بڑھایا ہے بلکہ قرآن نے انسان کو تاریخی تجزیہ کا ایک منہاج دیا ہے اور صرف اس منہاج کے مطابق ہی انسانی تاریخ کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے ۔
بعض لوگ اس امر پر تعجب کرتے ہیں کہ اسلامی نظام نے اور رسالت محمدیہ نے صرف ربع صدی کے ایک مختصر عرصے میں عربوں کی زندگی میں ایک عظیم اور بےمثال ثقافتی اور اقتصادی انقلاب برپا کردیا ۔ یہ عرصہ بظاہر اس قدر عظیم اور ہمہ گیر انقلاب کے لئے نہایت ہی قلیل ہے ۔ اگر وہ اقصادی انقلاب کے اصل عوامل کا مطالعہ کریں تو وہ ہر گز یہ تعجب نہ کریں گے ۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عوامل کیا تھا جو حضرت محمد ﷺ خدائے علیم وخبیر کی طرف سے لے کر آئے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقتصادی انقلاب بھی اسلامی نظام زندگی کا دکھایا ہوا معجزہ تھا اور اس کا راز اسی نظام میں پنہاں ہے جو لوگ دور جدید کے جدید اقتصادی نظریات اور کھوئے ہوئے اقتصادی اصولوں کے اندر جو چیز تلاش کر رہے ہیں اور اس کے لئے تاریخ کی مادی تعبیر کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ یہ راز اسلامی نظام کے اندر تلاش کریں ۔
اگر وہ اس کے اسباب نظام زندگی کے اندر تلاش نہیں کرتے تو رسالت محمدیہ کے نتیجے میں پسماندہ اور بدوی عربوں میں جو اقتصادی انقلاب برپا ہوا ‘ اس کے نتیجے میں لوگوں کو ایک نظریہ اور تصور حیات ملا ‘ ایک نظام حکومت ملا ‘ فکر ونظر کا نیا انداز ملا ‘ اخلاق ملا ‘ اقدار ملیں ‘ اجتماعی اوضاع واطوار ملے اور نہایت ہی مختصر عرصے یعنی ربع صدی میں ملے ان کے وہ کیا اسباب اور عوامل بتا سکیں گے ؟ (ھاتوا برھانکم انکنتم صادقین)
اس جھلکی پر ذرا دوبارہ غور کیجئے ۔
(آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11)
” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور اس لہر کے ابتدائی حصہ میں آنے والے ریمارک کو ذرا دوبارہ ذہن میں تازہ کریں۔
(آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6)
” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “
یہ آیات اور ایسی ہی آیات اس سورة میں اور پورے قرآن میں پائی جاتی ہیں اور انسانیت کو فکر ونظر کا ایک جدید منہاج عطا کرتی ہیں ۔ یہ زندہ رہنے والا منہاج ہے اور یہ بےمثال اور لاثانی نظام زندگی ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب خصائص التصور الاسلامی وتومانہ کی ” فصل “ اسلام کا فلسفہ تاریخ)
درس نمبر 57 ایک نظر میں :
یہ لہر نہایت ہی اونچی ہے اور اس کا ٹکراؤ بھی بہت خوفناک ہے ۔ جھٹلانے ‘ روگردانی کرنے ‘ مذاق اڑانے اور دعوت اسلامی کے ساتھ استہزاء کرنے بحث کے بعد متصلا یہ لہر اٹھتی ہے ۔ روگردانی اور استہزاء کی گزشتہ بحث کے درمیان لوگوں کے لئے ڈراوا اور انجام بد سے ان کے دلوں میں خوف پیدا کیا گیا تھا اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا گیا تھا کہ وہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کی اس تاریخی انجام پر بھی غور کریں ‘ جس سے وہ دوچار ہوئے ۔ مکذبین کے متعلق لہر نمبر 2 ، سے پہلے اس سورت کی افتتاحی لہر میں اس پوری کائنات میں حقیقت الٰہی اور اس کی شان حاکمیت سے بحث کی گئی تھی ۔ یہ شان پوری کائنات کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کی اندر بھی دکھائی گئی تھی ۔ اب اس لہر میں بھی ذات باری کے اقتدار اعلی اور اس کے تصرفات کے کچھ اور پہلو دکھائے گئے ہیں ۔ ایک نئے زیروبم اور کچھ نئے فیکٹرز کے ساتھ ۔ گویا افتتاحی لہر اور اس لہر کا مضمون ایک ہی ہے ‘ فرق صرف یہ ہے ان دونوں کے درمیان مکذبین اور مذاق اڑانے والوں کے لئے ایک سخت تنبیہ آگئی ہے اور جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ معترضین کا یہ فعل نہایت ہی شنیع فعل ہے ۔ جو لوگ دعوت سے منہ موڑتے ہیں وہ بہت ہی بری حرکت کر رہے ہیں ۔
پہلی لہر میں شان الہی کو زمین و آسمان کی تخلیق میں دکھایا گیا کہ کس طرح ظلمت ونور کا نظام پیدا کیا گیا اور پھر اس کائنات کے اندر کیچڑ سے انسان کو کس طرح پیدا کیا گیا ‘ پہلا مرحلہ اس کی عمر کا طے کیا گیا اور دوسرا مرحلہ اس کی قیامت اور بعث کے لئے مقرر کیا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خدا کی خدائی زمین وآسمانوں سب پر حاوی ہے ۔ زمین پر اس مخلوق یعنی حضرت انسان کی تمام سرگرمیوں پر بھی حاوی ہے چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ‘ بلند آواز سے ہوں یا خفیہ ‘ ان کے افعال کھلے بندوں ہوں یا پوشیدگی کے ساتھ ۔ یہ سب امور اس لئے نہ لائے گئے کہ قرآن کے پیش نظر کوئی لاہوتی یا نظریاتی بحث نہ تھی بلکہ اس لئے کہ ان حقائق کے تقاضے انسانی زندگی میں عملا نمودار ہوں ۔ انسان کی پوری کی پوری زندگی الہ واحد کے سامنے سرنگوں ہو اور انسان الہ العالمین کے سوا کسی اور کے آگے نہ جھکے اور توحید میں کوئی شک وشبہ نہ رہے ۔ وہ یہ سمجھے اور اقرار کرے کہ اللہ کی حاکمیت اس پوری کائنات اور انسان کی ظاہری وباطنی زندگی پر حاوی ہے اور یوں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو حاکمیت الہیہ کے تابع کر دے ۔ جس طرح کہ اس کی تکوینی زندگی حاکمیت الہیہ کے تابع ہے ۔
اس جدید بلند لہر کا مقصد بھی حقیقت الوہیت اور حاکمیت الہیہ کا اظہار ہے وہ اس طرح کہ اس پوری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے ۔ فعال بھی وہی ہے ۔ رزق بھی وہی دیتا ہے اور کفالت بھی وہی کرتا ہے ۔ وہ قادر اور قہار ہے ‘ وہ نافع اور ضار ہے ‘ لیکن یہ عقائد محض سلبی اور نظریاتی نہیں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ان عقائد کی روشنی میں اللہ وحدہ کو ولی تسلیم کیا جائے اور اس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اس کی مکمل بندگی کی جائے اور اس کا مطیع فرمان رہا جائے ۔ ان تمام امور کا اظہار اس طرح ہوگا کہ اللہ ہی کو اپنا دوست اور حاکم تسلیم کیا جائے ‘ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ہمارا رب اور مطعم ہے جبکہ ہماری جانب سے اسے کچھ نہیں دیا جاتا ۔ دوسرے یہ کہ خود اس نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی حاکم اور دوست بنایا جائے یا ان امور میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے ۔
اس مقصد کے لئے اس شکل میں ‘ حقیقت الوہیت کے بیان کے ساتھ ساتھ ان مؤثرات اور فیکٹرز کو بھی بیان کردیا گیا ہے جو دل کو پریشان کرتے ہیں ۔ آغاز اس سے کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا مالک ہے ‘ پھر وہی رب ہے لیکن اس طرح کہ وہ تمام لوگوں کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا اور نہ وہ محتاج ہے ۔ پھر اللہ کے اس عذاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ اگر کسی سے وہ عذاب ٹل جائے تو گویا اس نے عظیم کامیابی حاصل کرلی ۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ خیر وشر پر قادر ہیں۔ اور یہ کہ وہ ہر فعل پر قادر ہیں اور قہار ہیں ‘ وہ حکیم اور تجربہ کار ہیں ۔ ان تمام امور کو ایک موثر انداز بیان ساتھ لایا جاتا ہے اور نہایت ہی بلند شان سے کہا جاتا ہے ۔ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ۔
حقیقت حاکمیت الہیہ کے اس گہرے اور موثر بیان کا خاتمہ نہایت ہی بلند آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور عقیدہ توحید اور رد شرک اور ان کے درمیان فرق و امتیاز کو نہایت ہی پرزور انداز میں بیان کر کے اس کی شہادت دی جاتی ہے اور یہ شہادت بھی نہایت ہی شاہانہ انداز میں دی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔
(آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “ سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ قل للہ کہو اللہ ‘ کہو میں تو شرک پر شہادت نہیں دیتا ۔ اس لئے کہ اللہ تو صرف ایک ہی ذات ہے جو الہ واحد ہے ۔ ان فقروں اور تنبیہ آمیز سوال و جواب کی وجہ سے ایک پر خطر اور خوفناک فضا پیدا ہوجاتی ہے اور ماحول یکلخت سنجیدہ ہوجاتا ہے ۔
درس نمبر 57 تشریح آیات :
12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔
(آیت) ” نمبر 12 تا 13۔
یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کا انکار نہ کرتے تھے ۔ (قل للہ) عربوں سے اگر پوچھا جاتا کہ (آیت) ” (لمن مافی السموت والارض) ؟ تو وہ جواب دیتے (للہ) تو معلوم ہوا کہ جاہلیت کے اندھیروں میں ہوتے ہوئے اور فکری اور نظری گمراہی کا شکار ہوتے ہوئے بھی وہ دور جدید کی جاہلیت سے بہرحال زیادہ بہتر تھے ۔ دور جدید کی جاہلیت کو علمی جاہلیت کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ اس سادہ حقیقت کی بھی منکر ہے ‘ کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اس نے اپنی فطرت کو اندھا کردیا ہے اور وہ اس بدیہی حقیقت کو بھی دیکھ نہیں رہی ہے ۔ عرب جاہلیت کے پیروکار اگرچہ اس بدیہی حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے لیکن وہ اس حقیقت اور اقرار پر پھر اس کے منطقی نتیجے مرتب نہ کرتے تھے ۔ یوں وہ اللہ کو اس کی مملوکات کے اندر بھی حاکم مطلق اور مقتدر اعلی نہ سمجھتے تھے ۔ وہ دنیا میں اپنے تمام تصرفات اور تمام حرکات و سکنات کو اذن اللہ کے دائرے کے اندر محدود نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرک قرار پاتے تھے اور انہیں اہل جاہلیت کہا گیا ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے دائرہ حاکمیت سے نکال دیں اور اپنی زندگی کے خود حاکم بن جائیں تو اب یہ سوال ان سے کیا جاسکتا ہے کہ ہم انہیں کیا کہیں اور انکی زندگی پر کیا فیصلہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو مشرکین کے سوا کوئی اور لقب نہیں دیا جاسکتا اور نہ ان کی زندگی کو شرکیہ زندگی کے سوا کچھ اور کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ خود اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی یہ زندگی فاسقانہ ‘ ظالمانہ اور کافرانہ ہے ۔ چاہے وہ جس قدر بھی اسلام کا دعوی کریں (ان کے برتھ سرٹیفکیٹ چاہے ان کا مذہب جو بھی بتائیں کیونکہ وہ تو پیدائش کے وقت خانہ پری ہوتی ہے)
اب ذرا آیت پر بھرپور نظر ڈالیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہ قرار دینے کے بعد کہ زمین اور آسمان کا مالک وہ ہے ساتھ ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ “ اللہ وحدہ خالق ومالک ہے اور اس میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے جو نزاع کرسکے ۔ لیکن اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ رؤف ورحیم ہے ۔ اپنے ارادے اور اپنی مشیت اور مرضی سے اس نے یہ رویہ لازم کرلیا ہے کوئی اور نہیں ہے جس نے اللہ رپ اس رویے کو لازم کردیا ہو ‘ نہ کسی اور نے اللہ سے اس کا مطالبہ کیا ہے اپنے ارادہ مطلق اور اپنی کریمانہ شان ربوبیت کی وجہ سے اس نے یہ رحیمانہ رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ اور یہ اصول اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں اپنے اخلاق اور اپنے معاملات میں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک مسلمہ قاعدہ قرار دیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظریات کی بنیادوں کے اندر بھی یہ اصول کار فرما ہے ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اللہ کسی بندے کو مشکلات اور مصائب سے دو چار کرتا ہے تو بھی دراصل اس پر شفقت مطلوب ہوتی ہے ۔ وہ بندوں کو مشکلات میں اس لئے ڈالتا ہے تاکہ ان میں سے ایک ایسا عنصر ہر وقت تیار رہے جو اللہ کی امانت کا بار اٹھانے کا اہل ہو اور یہ امانت کبری ان کو تب سپرد کی جاتی ہے جب یہ گروہ اپنے خلوص ‘ اپنی بےلوثی اور اپنی فہم ودراک ‘ اور اپنی تیاری اور تجربات کے اعتبار سے اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے تیار ہوجائے ۔ خبیث قوتیں پاک اور صاف لوگوں کی صفوں سے نکال کر باہر پھینک دی جائیں اور یہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ کون صحیح طرح مطیع رسول ہے اور کون بھاگنے والا ہے ۔ جو ہلاک ہوتا ہے وہ سمجھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ رہتا ہے تو اصولوں پر زندہ رہے ۔ یہ تمام امور اللہ کے دائرہ رحمت کے اندر ہیں ۔
اللہ کی رحمت کے مواقع سے تو ہماری زندگی بھری پڑی ہے ۔ ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی شفقت اور رحمت کی نئی شان ہے ۔ ہم نے بتلاء اور مشکلات کے زمانے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی فکر ونظر اس میں دھوکہ کھاجاتی ہے ۔
ہماری یہاں یہ کوشش نہیں ہے کہ ہم اللہ کی رحمت کے معاملات اور مظاہر گنوائیں ‘ بعض مظاہر آنے والے صفحات میں آپ دیکھیں گے ۔ یہاں ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ اس آیت پر قدرے غور کریں ۔ اور دیکھیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) سے دراصل کیا مراد ہے ۔ اسی سورة میں دوسری جگہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے (آیت) ” کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ) اس آیت میں جو بات جاذب نظر ہے وہ یہی فضل وکرم ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ۔ یعنی ایک ذات عالی جو خالق ہے ‘ مالک ہے اور قوت قاہرہ کی مالک ہے وہ اپنی قوت قاہرہ کے استعمال کے بجائے فضل وکرم کا مظاہرہ فرما رہی ہے اور پھر اس صورت میں کہ اس نے اس فعل کو اپنے اوپر لکھ لیا ہے ‘ فرض قرار دے لیا ہے ۔ از خود اس نے اس عہد پر دستخط کر لئے ہیں ۔ محض اپنے ارادہ مطلقہ اور اپنی مشیت کی رو سے وہ ہم پر فضل کر رہا ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے کہ جب انسان اسے پیش نظر رکھے اس پر غور کرے اور اس کے عجیب انداز کا ملاحظہ کرے تو اس کا انسان کی شخصیت اس کی فکر اور اس کے ذوق نظر پر اچھا اثر مرتب ہونا ضروری ہے ۔
پھر یہ امر بھی جاذب نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کو اپنی اس شان رحیمی کی اطلاع بھی دیتا ہے کہ میں نے یہ اصول اپنے اوپر لکھ لیا ہے ‘ اپنے لئے اسے فرض قرار دے لیا ہے کہ میں فضل وکرم ضرور کروں گا ۔ اب وہ بندے ہیں کون جن کے بارے میں عالم بالا میں یہ فیصلہ ہوا ہے اور اس کا حکم ان تک تحریری شکل میں آپہنچا ہے کہ ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی ان تک اس کی اطلاع ہو رہی ہے ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ یہ کوئی خاص لوگ نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ لوگ عام لوگ ہیں اور اللہ کا یہ فضل وکرم تمام لوگوں کے لئے ہے ۔
اس انداز میں ‘ اس حقیقت پر غور کرنے سے دل میں عجیب و غریب خیالات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ انسان حیران ہوجاتا ہے ۔ اس کے دل میں انس اور اس کے اندر اس قدر روحانی سرور پیدا ہوتا ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے ۔ یہ حقائق قلب ونظر جو اثرات چھوڑتے ہیں انسان اسے چکھ تو سکتا ہے ‘ اسے محسوس تو کرسکتا ہے لیکن انسانی اسلوب کلام میں ان کا اظہار ممکن نہیں ہے اور نہ پوری طرح اسے بیان کیا جاسکتا ہے ۔
اس حقیقت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی تصور حیات میں شان رحیمی حقیقت الہیہ کا اساسی پہلو ہے ۔ اسی کی اساس پر بندے اور الہ کا تعلق بندگی استوار ہوتا ہے اور یہ تصور نہایت ہی خوبصورت ‘ پرکیف ہے اور محبت اور مودت سے سرشار ہے ۔ اس اساسی تصور کے ہوتے ہوئے ہر منصف مزاج شخص کو ان بدمزاج لوگوں کی ذہینت اور ان کی بہتان تراشیوں پر سخت تعجب ہوگا کہ وہ جو اسلام کے تصور الہ کے خلاف ایسی باتیں کرتے ہیں جو خلاف حقیقت ہیں ‘ یہ الزامات وہ اس لئے عائد کرتے ہیں کہ اسلام عقیدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا قائل نہیں ہے ۔ اسلام اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اللہ کے بندوں میں سے کوئی اس کا بیٹا ہو سکتا ہے جب کہ کینسہ نے انجیل میں انحراف کرکے یہ عقیدہ گھڑا ۔ اسلامی تصور حیات اللہ کی شان کریمی کے بارے میں بہت ہی اعلی وارفع ہے اور یہ کنیسہ کہ کینسہ بچگانہ تصورات سے بہت ہی بلند ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان جو شفقت اور محبت کا تعلق ہے وہ انسانی الفاظ سے ماوراء ہے ۔ اللہ کی شان جلالت کے ساتھ ساتھ اسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن بیان نہیں کیا جاسکتا ۔
اللہ کی رحمت کا فیضان اس کے تمام بندوں پر ہوتا ہے ۔ یہ رحمت سب کو اپنے جوار میں لیتی ہے ۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے جس کے ذریعے ذات انسان زندہ ہے ۔ اس کے جسم اور جان کا رشتہ استوار ہے ۔ انسانی وجود میں اور اس پوری کائنات کے وجود میں اللہ کی رحمت اور اس کی شان کریمی ہر وقت جاری وساری ہے ۔ جہاں تک انسانی زندگی اور انسانی جسم کا تعلق ہے ‘ اس کے اندر اللہ کی رحمت کے مواقع کو تو ہم گن ہی نہیں سکتے ۔ البتہ ان میں سے چند ممتاز پہلوؤں اور مظاہر کا ذکر ضروری ہے ۔
سب سے پہلے انسان کی ذات میں اللہ کی شان رحیمی نظر آتی ہے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ اس طرح پیدا کرتا ہے کہ خود انسان کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ خود انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کس طرح انہیں یہ وجود عطا ہوا ۔ پھر اس کے اندر ایسے خصائص رکھ دیئے گئے جن کی وجہ سے انسان کو تمام موجودات پر فضیلت حاصل ہوگئی ۔
پھر اس کی شان کریمی ان قوتوں کے اندر نظر آتی ہے جن کو آج تک انسان مسخر کرسکا ہے ۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ‘ اور یہ ہے اللہ کا رزق اپنے وسیع تر مفہوم میں یوں سمجھیں کہ کائنات جس کے وسیع میدانوں میں ہر وقت انسان جولانیاں دکھاتا ہے ۔
پھر اس شان کریمی کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو علم عطا فرمایا ۔ پہلے اسے حصول علم کی استعداد عطا کی اور اس کی صلاحیتوں اور اس کائنات کی قوتوں کے اندر ہم آہنگی پیدا کی ۔ یہ علم جس کی وجہ سے بعض بدفطرت اور بدمزاج انسان خود ذات باری پر دست درازی شروع کردیتے ہیں حالانکہ یہ وہی تو ہے جس نے ان بدمزاجوں کو یہ علم عطا فرمایا اور یہ علم اللہ کے ارزاق میں سے ایک رزق ہے ۔
پھر اس شان کریمی کا اظہار یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس جہان میں اپنا خلیفہ بنا کر اس کی نگہداشت اور تربیت کا انتظام یوں کیا کہ اس کی ہدایت کیلئے مسلسل رسول بھیجے ۔ جب بھی انسان بھٹکا ‘ اللہ نے اسے ہدایت سے نوازا اور بڑی محبت اور صبر کے ساتھ اسے دوبارہ راہ مستقیم پر ڈال دیا ۔ حالانکہ بعض اوقات انسان نے ان ڈرانے والوں اور نصیحت کرنے والے رسولوں کی آواز پر کان بھی نہ دھرا اللہ کے لئے اس کا ہلاک کردینا مشکل نہ تھا لیکن اللہ کی صفت رحمت نے ہمیشہ اس کو مہلت دی اور ہمیشہ اللہ کے حلم نے انسان کو ڈھانپ لیا۔
پھر اس شان کریمی کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ جب ایک بندہ اپنی جہالت کی وجہ سے گناہ کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ نے اپنے اوپر رحمت کرنا لازم کرلیا ہے ۔
اور یہ بھی اس کی شان کریمی کا ایک پہلو ہے کہ وہ برائی کی جگہ ایک ہی برائی شمار کرتا ہے ۔ ایک ہی برائی کی سزاد دیتا ہے لیکن ایک نیکی کے بدلے وہ دس دنیکیوں کا ثواب اور اجر عطا کرتا ہے اور اس کے بعد بھی وہ جس کے اعمال نامے میں جو چاہے اضافہ کر دے ۔ پھر مزید یہ کہ اللہ نیکی کے بدلے کو محو بھی کرتا جاتا ہے اور یہ سب اس کا کرم ہے ۔ پھر یہ کہ کوئی شخص محض اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کا کرم شامل حال نہ ہو ۔ یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ وہ بھی اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے ۔ اگر اللہ کا فضٰل وکرم شامل حال نہ ہو تو انسان بہت ہی عاجز ہے ۔
غرض اللہ کے رحم وکرم اور جود وسخا کے مواقع اور مظاہر کی تفصیلات دینے کے بجائے ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے قصور فہم کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ ہمارے لئے اس کی شان کریمی کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے اور ہمارے لئے مناسب رویہ ہے ۔ اس لئے کہ اگر ہم ایسا نہ کریں اور یہ اعلان نہ کردیں کہ ہم فیل ہوگئے تو ہم اس میدان میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ وہ لمحہ جس میں کسی بندے پر اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں ‘ اسے اللہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔ وہ معرفت کردگار سے سرشار ہوتا ہے ‘ اسے سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ اس کے سایہ عاطفت میں پناہ لیتا ہے ۔ اس کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے ‘ ایسا ایک مختصر لحظہ بھی اس قدر وسعت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کا بیان کرنا اور اس کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے ‘ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان اللہ کی شان کریمی کو پوری طرح بیان کرسکے ۔
ذرا غور کیجئے کہ حضور کریم ﷺ نے اپنے جوامع الکلم کے ذریعے ‘ خوبصورت تمثیلات کے ذریعے کس طرح اللہ کی شان کریمی کو ہماری فہم اور ہماری عقل کے قریب کرنے کی سعی کی ہے : شیخین نے اپنی سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرمائی ہے :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کا فیصلہ کردیا (امام مسلم نے کہا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کردیا) تو اللہ نے ایک ایسی کتاب میں جو ذات باری کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ ” میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہوگئی “۔ امام بخاری نے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ دیئے ہیں ” میری رحمت ‘ میرے غضب پر غالب آگئی ہے ۔ “
شیخین نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ” اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں جن میں سے 99 اللہ نے اپنے ہاں روک لئے ہیں اور زمین پر اللہ نے صرف ایک حصہ اتارا ہے ۔ اس ایک حصے کو استعمال کرکے مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرتی ہیں ۔ “ یہاں تک کہ ایک جانور اپنے کھروں کو اٹھاتا ہے مبادا کہ اس کا پاؤں اس کے بچے پر پڑجائے ۔ “
امام مسلم نے اپنی سند کے ذریعے حضرت سلمان فارسی سے روایت فرمائی ہے ۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ کے پاس سور حمتیں ہیں ‘ ان میں سے ایک رحمت کو استعمال کرکے مخلوق خدا باہم شفیقانہ سلوک کرتی ہے اور 99 رحمتیں اللہ نے قیامت کے لئے محفوظ کی ہوئی ہیں ۔ “
انہی سے ایک دوسری روایت میں ہے ” جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو اس نے سو رحمتیں پیدا کیں ۔ اللہ کی ہر رحمت زمین و آسمان سے بڑی ہے ۔ اس میں صرف ایک رحمت کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اوپر استعمال کے لئے دیا ۔ اسی رحمت سے والدہ اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحمت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے باقی 99 جز کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس رحمت کو مکمل کر دے گا ۔ “
حضور اکرم ﷺ نے جس تمثیلی انداز میں رحمت کی مقدار کو بیان کیا ہے یہ محض تقریب الی الافہام کے لئے ہے ۔ انسان جب زندہ جانوروں میں یہ دیکھتا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ کس قدر حمت و شفقت سے پیش آتی ہیں ‘ لوگ بچوں پر کس قدر شفقت کرتے ہیں ‘ اسی طرح بوڑھوں ‘ ضعفاء مریضوں ‘ اقرباء ‘ دوستوں اور اولاد پر ‘ نیز پرندے اور وحشی جانور ایک دوسرے کے ساتھ ‘ تو انسان ورطہ حیرت میں غرق ہوجاتا ہے ۔ بعض مناظر تو ایسے ہوتے ہیں کہ انسان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے اور اس کے بعد انسان یہ تصور کرتا ہے کہ اللہ کی شان کریمی کے سو حصوں میں سے یہ صرف ایک حصہ ہے تو انسان مزیدحیران ہوتا ہے ۔ یہ انداز تفہیم ایسا ہے کہ بات لوگوں کے ذہن کے قریب آجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو اس عظیم رحمت کے بارے میں آگاہ کرتے رہتے تھے ۔
حضرت عمر ابن خطاب ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ جنگی قیدی عورتیں لائی گئیں ۔ ان میں سے ایک عورت دوڑی پھرتی تھی ‘ اس کے پستانوں سے دودھ بہہ رہا تھا ۔ اسے گرفتار عورتوں کے کیمپ میں جو بچہ بھی ملتا وہ اسے پکڑتی ‘ اسے پیٹ سے لگاتی اور دودھ پلاتی ۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اس بات پر یقین کرو گے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ۔ “ ہم نے کہا خدا کی قسم اگر وہ ایسا نہ کرنے کی قدرت رکھتی ہو (یعنی مجبور نہ ہو) تو وہ ہرگز ایسا نہ کرے گی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جان لو کہ اس عورت کو اپنے بچے سے جس قدر محبت ہے ‘ اللہ کو اپنے بندوں کے ساتھ اس سے زیادہ محبت ہے ۔ “ (بخاری ۔ مسلم)
کس طرح نہ ہوگی ؟ یہ عورت اپنے بچے کے ساتھ جو رحم اور شفقت رکھتی ہے تو یہ اس رحمت کی برکت ہے جو اللہ نے اپنی وسیع رحمت سے اہل زمین کو عطا کی ہے ۔
حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو اس قسم کی جو تعلیم دی تھی ‘ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں اللہ کے اخلاق کو اپنائیں ۔ آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رحمت اور مودت سے پیش آئیں ۔ اس جہان کے تمام زندہ جانوروں کے ساتھ رحم کریں ۔ ان کے دلوں کے اندر محبت اور شفقت کا ذوق پیدا ہو اور وہ اپنے تمام معاملات میں اس ذوق کو برتیں جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں اپنی مخلوقات کے ساتھ رحمت برتتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کا یہ پہلو نہایت ہی زندہ اور تابندہ ہے ۔ کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
حضرت عمر ابن العاص ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” رحم کرنے والوں پر اللہ کا رحم ہوگا ۔ تم لوگ اہل زمین پر رحم کرو تم پر وہ رحم کرے گا جو آسمانوں میں ہے ۔ “ (ابو داؤد ‘ ترمذی)
ابن جریر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ اس شخص پر رحم نہیں فرماتے جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔ “ (بخاری ‘ مسلم اور ترمذی)
ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت میں یہ کہا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” رحمت صرف اس شخص سے چھین لی جاتی ہے جو شقی القلب ہو ۔ “
اور اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ” رسول اللہ ﷺ نے حسن ابن علی کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ کے پاس اقرع ابن حابس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اقرع نے کہا میرے تو دس بیٹھے ہیں میں نے کبھی ان میں سے ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے انکی طرف دیکھا اور فرمایا :” جس نے شفقت نہ کی اس پر شفقت نہ ہوگی ۔ “ (مسلم و بخاری)
حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو صرف یہ تعلیم نہ دی تھی کہ وہ فقط انسانوں کے ساتھ مشفقانہ سلوک رکھیں ‘ اس لئے کہ آپ کو علم تھا کہ اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کریں۔ انسان اس وقت تک مکمل انسان نہیں بن سکتا جب تک وہ تمام مخلوقات کے ساتھ رحمت کا برتاؤ نہی کرے ۔ اس سلسلے میں آپ کی تعلیمات نہایت ہی موثر تھیں جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” یوں ہوا کہ ایک شخص کسی سفر کے دروان کسی راستے پر جا رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگ گئی ۔ اسے ایک کنواں ملا ۔ وہ اس میں اترا اور پانی پایا اور باہر نکل آیا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا پیاس کی وجہ ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے مٹی کھا رہا ہے ۔ اس شخص نے کہا ‘ اس کا حال بھی پیاس نے ایسا کردیا جس طرح میرا کردیا تھا ۔ وہ کنویں میں اترا اپنے جوتے کو پانی سے بھرا اور اپنے منہ میں پکڑا یہاں تک کہ نکل آیا ۔ اس نے کتے کو پانی پلایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا اجر دیا اور اس کی مغفرت فرما دی “۔ اس پر صحابہ کرام نے کہا : رسول اللہ کیا ہمارے لئے بہائم میں بھی اجر ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر تر کلیجے والی چیز کے ساتھ رحم پر اجر ہے ۔ “ (بخاری مسلم ‘ موطائ)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک بدکار عورت نے ایک بار دیکھا کہ شدید گرمی میں ایک کتا ایک کنویں کے ارد گرد چکر لگا رہا ہے ۔ اس نے پیاس کی وجہ سے زبان نکالی ہوئی ہے ۔ اس نے اس کے لئے اپنے جوتے کو ڈول بنا کر اور دوپٹے کو رسی بنا کر نکال کر پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی ۔ “
حضرت عبدالرحمن ابن عبداللہ ؓ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر تھے ۔ ہم نے ایک (حمرہ) (پرندہ) کو دیکھا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ۔ ہم نے اس کے بچے پکڑ لئے ۔ (حمرہ) آئی اور وہ زمین پربچھی جارہی تھی (یعنی پر ڈھیلے کر کے پھیلا کر زمین کے قریب ہو رہی تھی) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ۔ آپ نے فرمایا :” کس نے اسے اس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف دی ۔ اس کے بچوں کو لوٹا کر اسے دے دو ۔ “ حضور ﷺ نے دیکھا کہ ہم نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دیا تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کس نے جلایا ہے ؟ ہم نے کہا یہ تو ہم نے جلایا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آگ کے ساتھ صرف آگ کا مالک سزا دے سکتا ہے ۔ (ابو داؤد)
حضرت ابوہریرہ ﷺ سے روایت ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کسی نبی کو چیونٹی نے کاٹا ۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے گھر کو جلایا جائے اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی بھیجی ” اگر آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو کیا آپ اس کی پوری نوع کو جلا ڈالیں گے جو تسبیح کرتی ہے ۔ (مسلم بخاری)
یوں حضور ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قرآن کریم کی اس تعلیم کے مطابق تربیت دی کہ وہ اللہ کی رحمت کا مزہ اس طرح چکھیں کہ اسے لوگوں کے برتیں ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ جو رحم اور شفقت کرتی ہے وہ اللہ کی بےبہا اور بیشمار رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے ۔
اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک مسلمان کے تصور حیات کے اندر رحمت کی حقیقت بیٹھ جانے سے اس کے احساسات ‘ اس کی زندگی اور اس کے اخلاق پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انہیں کسی صورت میں بھی مٹایا نہیں جاسکتا ۔ مزکور بالا تعلیم کے جو اثرات ایک مسلم کی زندگی پر پڑتے ہیں ‘ یہاں ہم ظلال القرآن کے مختصر اسلوب کے مطابق اس کی طرف بھی کچھ اشارہ کئے دیتے ہیں ۔
اس حقیقت کے شعور کے نتیجے میں ‘ دل مومن اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب کی جانب سے پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے حالات میں جب کہ وہ مشکلات اور شدید لمحات سے گزر رہا ہو کیونکہ مصائب وشدائد میں انسان کے قلب ونظر دھوکہ کھا سکتے ہیں اس طرح مشکلات میں گھرا ہوا مومن ہر وقت رحمت خداوندی کا امیدوار ہوتے ہوئے یہ یقین رکھتا ہے کہ کسی بھی لمحہ حالات میں تبدیلی آسکتی ہے اور ہر صورت حال کے بعد نئی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے ۔ اللہ اپنے بندوں کو مشکلات میں مبتلا کر کے چھوڑ نہیں دیتا ‘ یا اسے اپنی رحمت سے محروم نہیں کردیتا ۔ اس لئے کہ جو شخص بھی رحمت خداوندی کا طلبگار ہوگا اسے اللہ محروم نہ کرے گا ۔ لوگ تو خود اپنے آپ کو رحمت خداوندی سے محروم کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی ناشکری کرتے ہیں ‘ رحمت کے سایہ میں آنے سے انکار کرتے ہیں اور اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ پھر اللہ کی رحمت کی امیدواری پر پختہ اطمینان کے نتیجے میں انسان کے اندر صبر وثبات پیدا ہوتا ہے ‘ امید کی کرن روشن ہوتی ہے ‘ وہ اطمینان اور آرام محسوس کرتا ہے ‘ کیونکہ وہ بارگاہ رحمت و محبت میں ہوتا ہے ‘ جس کا سایہ گھنا ہوتا ہے جب تک وہ خود اپنے آپ کو اس اس سے دور نہ کرلے ۔
جب ایک مسلم یہ شعور پاتا ہے تو اس کے احساسات میں باری تعالیٰ کی نسبت سے ایک حیا پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ مغفرت کی امیدواری اور رحمت باری کی خواہش کی باوجود کوئی شخص یہ جرات نہیں کرسکتا کہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے حالانکہ اس امید کے نتیجے میں اللہ غفور و رحیم کی نافرمانی کرنے سے شرم آتی ہے ۔ جن لوگوں کے اندر رحمت خداوندی اور مغفرت خداوندی کے نتیجے میں مزید معصیت کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے انہوں نے درحقیقت ایمان کی حقیقت مٹھاس کو پایا ہی نہیں ہے ۔ اس لئے نہ یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے اور نہ میں اسے تسلیم کرتا ہوں جو بعض صوفی کہتے ہیں کہ وہ گناہوں کا ارتکاب اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے صبر اور حلم کا مزہ چکیں یا اس کی مغفرت اور رحمت سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ سلیم الفطرت لوگوں کی سوچ نہیں ہے ‘ رحمت الٰہیہ کے لئے یہ ایک منفی رد عمل ہے ۔
اس حقیقت کو اس انداز میں پالینے کے بعد ایک مسلم کے ذہن میں بہت ہی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ وہ جانتا ہے کہ اسے اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کرنے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس پر ہر طرف سے اللہ کی رحمتوں کی بارش ہورہی ہے اس کے باوجود کہ وہ پراز تقصیرات ہے اور اس سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں ۔ اس طرح وہ خود بھی رحم اور شفقت کے انداز سیکھ لیتا ہے ‘ وہ معاف کرنا جانتا ہے ۔ وہ گناہوں اور غلطیوں سے درگزر کرتا ہے اور یہ بات ہمیں ان تعلیمات میں صاف صاف نظر آتی ہے جو حضور نے صحابہ کرام کو دیں اور یہ تعلیم آپ نے بذریعہ ” تخلق باخلاق اللہ “ دی ۔ اللہ کی رحمت کے مقامات میں سے ایک مقام یہ ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ایک دن میدان حشر میں اٹھائے گا ۔ یہ آیت اس کا بھی فیصلہ کرتی ہے :
(آیت) ” قُل لِّمَن مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ قُل لِلّہِ کَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ (6 : 12)
” ان سے پوچھو ‘ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہو سب کچھ اللہ کا ہے ‘ اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (اسی لئے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی نہیں پکڑ لیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ‘ یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ۔ “
اللہ کی اس تحریری رحمت کے دعوے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دن انہیں دوبارہ جمع کرے گا اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔ اور اس جمع کے بعد اللہ کی عنایات کا دور ہوگا اور یہ عنایات اللہ کی ان لوگوں پر ہونگی جو اس کی بندگی کریں گے ۔ اس لئے کہ اللہ نے انہیں پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی کی راہ اپنائیں ۔ انہیں اس زمین پر منصب خلافت صرف اسی مقصد کے لئے دیا گیا تھا ۔ انہیں بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا اور نہ وہ یونہی چھوڑ دیئے گئے ۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس میں یہ سب لوگ جمع ہوں گے ۔ یہ وہ آخری ٹھکانا ہے جس کی طرف یہ لوگ اس طرح لوٹیں گے جس طرح ایک سواری اور قافلہ اپنی منزل مقصود کی طرف مسلسل بڑھتا ہے ۔ وہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزاء دے گا جنہوں نے اللہ کی طرف جانے کی صحیح راہ اختیار کی اور زندگی کے اس طویل سفر میں تکلیفات اٹھائیں ۔ دنیا میں انہوں نے جو اچھے اعمال کئے اور اب وہاں انہیں اس کا اجر ملے گا تاکہ ان کی مشقتیں اور تکالیف ضائع نہ جائیں بلکہ یوم آخرت میں انہیں ان کا اجر پورا دیا جائے گا ۔ یوں اللہ کی رحمتوں کے مظاہر میں سے ایک مظہر کا اظہار ہوگا ۔ قیامت میں اللہ کا جو فضل ہوگا کہ برائی کا بدلہ صرف برائی جیسا ہوگا جبکہ نیکی کے بدلے دس گناہ اجر ہوگا بلکہ اللہ چاہے تو اضعاف مضاعطہ ہوگا تو یہ بھی اللہ کی رحمت اور شفقت کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہوگا ۔
اللہ نے عربوں پر دین اسلام کے ذریعے جو فضل وکرم کیا اور انہیں اس دین کے ذریعے جو باعزت مقام دیا وہ ان پر اللہ کا احسان عظیم ہے ۔ اس سے قبل عرب قیام قیامت کا انکار کرتے تھے ۔ وہ بعینہ اسی طرح کے تصورات رکھتے تھے جس طرح دور جدید کی مہذب جاہلیت کے افکار ہیں ‘ یعنی سائنسی جاہلیت ۔ یہی وجہ ہے کہ قیام قیامت کا ذکر اس قدر تاکیدی الفاظ میں کیا گیا اور اس تکذیب کے مقابلے میں اس قدر حروف تاکید لائے گئے ۔
(آیت) ” لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لا ریب فیہ “۔ (6 : 12) تمہیں قیامت کے دن اٹھایا اور جمع کیا جائے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ “
قیامت کے دن خسارہ صرف ان لوگوں کو ہوگا ‘ جو اس دنیا میں ایمان سے محروم رہیں گے ۔ اہل ایمان کو کوئی خسارہ نہ ہوگا ۔ جبکہ اہل کفر کو پورا پورا خسارہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنی ذات ہی کو ہار دیا تو وہ کمائیں گے کیا ۔ انسان تو اپنی جان اور اپنے نفس کے لئے کماتا ہے ۔ اگر اس کا نفس اور اس کی زبان ہی چلی جائے تو وہ کمائی کس کے لئے کرے گا ۔ کس کے لئے کمائے گا ۔ (آیت) ” الذین خسروا انفسھم فھم لا یومنون “۔ (6 : 12)
” مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کردیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ “ ۔
انہوں نے اپنی ذات ہی کو خسارے میں ہار دیا ۔ ان کی ذات اور شخصیت ہی چلی گئی ‘ چونکہ ان کے پاس کوئی شخصیت ہی نہ رہی لہذا ایمان کون لائے ۔ اہل کفر کی حالت کی یہ نہایت ہی لطیف اور حقیقت پسندانہ تعبیر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر ایک نہایت ہی گہری فطری پکار ہے کہ ایمان لاؤ ۔ ایمان کی برکات میں سے ایک بڑی برکت یہ ہے کہ وہ تمہیں ایک ذات اور شخصیت عطا کرتا ہے ۔ یہ لوگ جو ایمان سے قبل اپنی شخصیت گم کر بیٹھے تھے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی گھی ان کی وہ صلاحتیں جو حق کو قبول کرتی ہیں ‘ ختم ہوگئی تھیں ‘ یا ان پر پردے پڑگئے تھے اس لئے وہ قبولیت حق کی صلاحیت کھو کر اپنی شخصیت اور شناخت کم کر گئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان نہ لائے تھے اس لئے کہ ان کے پاس ان کی ذات اور شخصیت ہی نہ رہی تھی ۔ یہ ان کے عدم اطمینان اور کفر کی ایک نہایت ہی لطیف اور گہری تعبیر ہے ۔ حالانکہ دلائل ایمان موجود تھے اور ایسے اشارات موجود تھے کہ جن کی وجہ سے انسان حق کو قبول کرتا ہے اس امر نے ان کے معاملے میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کی ۔ یوں گویا وہ اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو کر ایک عقیم خسارے سے دوچار ہوئے ۔
اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ لیل ونہار میں جو لوگ اور جو مخلوق ہے یعنی زمان میں ‘ وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ۔ جس طرح پہلی آیات میں بتایا گیا تھا کہ جہاں اور جس جگہ میں جو متنفس ہے ‘ وہ اللہ کا مملوک ہے ۔ یوں یہ ملکیت زمان ومکان دونوں پر مشتمل ہوگئی ۔ اللہ کا علم تمام مخلوقات کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ۔
(آیت) ” وَلَہُ مَا سَکَنَ فِیْ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (13)
” رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے ‘ سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ “
ّ (ماسکن) کی زیادہ قریب الفہم تفسیر یہ ہے کہ یہ لفظ سکنہ سے ہے ‘ جیسا کہ زمحشری نے کشاف میں لکھا ہے یعنی وہ تمام جو لیل ونہار میں پناہ لیتی ہیں یعنی تمام مخلوقات ۔ یہ سب مخلوق اللہ کی ملکیت میں ہے ۔ اس سے پہلی آیت میں بھی یہ قرار دیا گیا ہے ۔ (قل لمن ما فی السموت والارض قل للہ) (6 : 12) اس آیت میں تمام مخلوقات کی حصر بلحاظ مکان تھی اب اس آیت میں (آیت) ” ولہ ما سکن فی الیل والنھار “۔ (6 : 13) آیا ہے جس میں حصر بلحاظ زمان ہے ۔ قرآن کریم کا یہ معروف انداز بیان ہے ۔ ان آیات کی تفسیر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔ میرے خیال میں یہ تاویل سب سے بہتر ہے کہ ایک آیت میں حصر زمانی اور دوسری میں حصر مکانی ہے ۔
اس کے بعد ایک تبصرہ یہ آتا ہے کہ اللہ سمیع وعلیم ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے اعتبار سے بھی اللہ تمام مخلوقات کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس آیت کے جواب میں مشرکین جو بھی کہتے ہیں وہ اللہ کے علم میں ہے یعنی وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اللہ وحدہ ہی مالک ہے ‘ اس کے باوجود وہ بعض مویشیوں ‘ انکے بچوں اور بعض پھلوں کو شرکاء کے لئے مخصوص کرتے تھے ۔ اس سورة کے آخر میں یہ بحث آرہی ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام مخلوقات پر اللہ کا حق ملکیت تسلیم کریں تاکہ بعد میں انہیں یہ سمجھایا جائے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض چیزیں تم شرکاء کے کھاتے میں کس کی اجازت سے ڈالتے ہو۔ جبکہ اسی فقرے میں آنے والی یہ بات بھی اس سے ثابت کرنا مطلوب ہے کہ جب مالک وہ ہے تو ولی اور حاکم بھی وہی ہے ۔ اور وہ اس لئے حاکم ہے کہ وہی مالک ہے ہر اس چیز کا جو زمان ومکان کے اندر ہے اور جو اللہ کے علم کے اندر ہے ۔
اب جب کہ یہ بات تسلیم ہوگئی کہ وہی خالق ہے اور وہی مالک ہے تو ان لوگوں پر سخت نکیر وتنقید کی جاتی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے امداد طلب کرتے ہیں ۔ جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرتے ہیں اور کسی اور کو ولی اور حاکم بناتے ہیں ۔ چناچہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ صورت حال اسلام سے متضاد ہے ۔ یہ صریح شرک ہے اور اسلام کے ساتھ اس کا یکجا جمع ہونا ممکن نہیں ہے ۔ یہاں اللہ کی صفات میں سے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے فاطر السموت والارض ‘ رازق ومطعم ‘ نافع وضار اور قاہر و قادر کے الفاظ لائے جاتے ہیں ‘ جبکہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ خوفناک سزا بھی دیتا ہے ۔ اس سے فضا پر ایک دم جلال باری تعالیٰ کے سائے پڑجاتے ہیں اور یہ انسان ڈر جاتا ہے اور یہ نہایت ہی زور دار انداز میں کہا جاتا ہے ۔ :
(آیت) ” نمبر 14 تا 18۔
یہ مسئلہ کہ اللہ وحدہ ولی ہے لفظ ولی کے تمام معنوں میں ہے ۔ یعنی وہ وحدہ رب ہے ۔ وہ وحدہ معبود ہے ۔ تمام لوگ اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تمام اس کے اقتدار اعلی کے تابع ہیں ۔ وہ عبادت بھی اس کی کرتے ہیں اور عبادت کے مراسم بھی اس کے سامنے ادا کرتے ہیں ۔ صرف اسی کو ناصر اور مددگار سمجھتے ہیں ‘ اسی پر اعتماد کرتے ہیں ‘ مصائب میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یہ اسلام کا اساسی عقیدہ ہے ۔ انسان اگر صرف اللہ کو اپنی ولی سمجھے گا ‘ ان تمام مفہومات کے ساتھ تو پھر وہ مسلمان ہوگا اور اگر اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی ولی بنائے گا تو پھر وہ مشرک ہوگا ۔ شرک اور اللہ وحدہ کی ولایت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔
اس آیت میں اس حقیقت کو نہایت ہی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔ ذرا دوبارہ غور کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14)
” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو ۔ “
یہ ایک نہایت ہی گہری فطری اور منطقی سوچ ہے ۔ کون ولی ہوگا اور ولایت کس کے لئے خالص ہوگی ؟ اگر ہم زمین وآسمانوں کے بنانے والے اور انکو وجود میں لانے والے کو اپنی ولی نہ بنائیں گے تو پھر کس کو بنائیں گے ۔ زمین و آسمان میں رہنے والی تمام مخلوقات کو رزق دینے والا ولی نہ ہوگا تو اور کون ہوگا ۔ جو تمام مخلوقات کو رزق دیتا ہے اور خود کسی کا محتاج نہیں ہے ۔
کہو کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو ولی بنا لوں ‘ جبکہ اللہ کی ذات ان صفات کی مالک ہے جن کا ذکر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا دلیل اور منطق ہے ‘ جس کی وجہ سے کوئی انسان مجبور ہو کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی بنائے ۔ انسان کسی کو ولی اور سرپرست اس لئے بناتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ جب زمین وآسمانوں کا بنانے والا ہے وہ زمین و آسمان دونوں پر صاحب اقدار ہے ‘ اگر ولایت اور سرپرستی کا مقصد یہ ہے کہ سرپرست رزق اور طعام دے تو ذات باری تو تمام جہان والوں کی رازق اور مطعم ہے ‘ خواہ زمین میں ہوں یا آسمانوں میں ۔ اب اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور سرپرست بنانے کا فائدہ کیا ہوگا ؟
پھر یہ کہ ” کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور مجھے تاکید کی گئی ہے کہ تو بہرحال مشرکین میں شامل نہ ہو ۔ “ معلوم ہوا کہ سرتسلیم خم کرنے اور شرک سے باز رہنے کے لازمی معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سرپرست نہ بنایا جائے ۔ دوسرے زاویے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سرپرست بنانے کا مقصد یہ ہے کہ گویا ہم شرک کا ارتکاب کررہے ہیں اور شرک ہر گز اسلام نہی ہوسکتا ۔
یہ ایک واضح اور متعین مسئلہ ہے ۔ اس کے بارے میں کوئی دو رنگی اور نرمی نہیں ہو سکتی ۔ اس معاملے میں ہم صرف دو موقف اختیار کرسکتے ہیں یا تو اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھیں گے ‘ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ اسی کیا اطاعت کریں گے ‘ اسی سے ڈریں گے ‘ خشوع و خضوع کے ساتھ ایس کی عبادت کریں گے ‘ صرف اسی سے امداد طلب کریں گے ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم اور مقتدر اعلی اور قانون ساز سمجھیں گے ۔ اپنی زندگی کے پورے امور میں اس کی اطاعت کریں گے ‘ اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں گے ‘ اپنے دل اور اپنے عمل میں ‘ اپنے قانون اور طرز عمل میں اسی کو اپناولی اور سرپرست سمجھیں گے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کریں گے تو ہمارا یہ رویہ عین اسلام ہوگا یا پھر ہم اس کے بندوں میں سے کسی کو ان معاملات میں اس کے ساتھ شریک کریں گے تو یہ رویہ مشرکانہ ہوگا اور شرک وہ بیماری اور وہ حقیقت ہے جو اسلام کے ساتھ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ۔
اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے سامنے اپنی اس ناپسندیدگی کا اظہار برملا کردیں کیونکہ وہ آپ کو اس بات پر آمادہ کر رہے تھے کہ آپ ان کے ساتھ اس نظریاتی مسئلے میں نرمی اور مداہنت کریں اور ان کے الہوں کو بھی اپنے اس دین میں کوئی نہ کوئی حیثیت دے دیں ۔ اس کے بدلے میں وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے ۔ یوں کہ آپ ان کے الہوں کو الوہیت کے بعض خصائص عطا کردیں تاکہ مشرکین کی حیثیت اور مرتبہ اور ان کے مفادات اپنی جگہ پر قائم رہیں ۔ وہ سب سے پہلے اور سرفہرست یہ چاہتے تھے کہ ان کے الہوں کو حرام کرنے اور حلال کرنے کا حق دیا جائے اور اس کے عوض وہ حضور ﷺ کی مخالفت ترک کردیں گے ‘ آپ کو رئیس مکہ بھی تسلیم کریں گے ‘ آپ کو مالی واجبات بھی ادا کریں گے اور اپنی خوبصورت ترین لڑکیاں بھی آپ کے نکاح میں دے دیں گے ۔
مشرکین مکہ ایک طرف تو آپ ﷺ کو اذیت دیتے تھے ۔ مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے تھے اور دوسری جانب نرمی اور مصالحت کا ہاتھ بڑھا کر آپ کو پھسلانا بھی چاہتے تھے ۔ ان کی اس پالیسی کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان باتوں سے اپنی شدید ترین نفرت کا اظہار کریں اور فیصلہ کن انداز میں اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کردیں کہ آپ اس نظریاتی معاملے میں کوئی نرمی نہیں کرسکتے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16)
” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔
آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔
حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں جس قدر حساس تھے یہ اس کی بہترین تصویر کشی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ حضور ﷺ عذاب الہی سے بہت ہی ڈرتے تھے ۔ اللہ کا عذاب اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے ٹل جائے تو اس کا محض ٹلنا ہی فوز عظیم تصور ہوتا ہے ۔ اس تصویری احساس کے علاوہ اس میں اہل شرک کے لئے دلوں کو ہلا دینے والی ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس دور کے مشرکین کے لئے بھی اور بعد کے ادوار کے مشرکین کے لئے بھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہوگا ۔ یہ عذاب اپنے شکار کو بسہولت تلاش کرلے گا ۔ اسے گھیر لے گا اور اس کو جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ صرف قادر مطلق ہی اسے بچا سکتا ہے ۔ چونکہ عذاب الہی کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ‘ اسے صرف وہی پھیر سکتا ہے ۔ انسان جب اس تصویر کشی پر غور کرتا ہے تو اس کی سانس رکنے لگتی ہے ۔ یہ آخری گھڑی کس قدر ہوش ربا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھے میری کتاب التصویر الغنی میں طریقۃ قرآن)
سوال یہ ہے کہ کوئی شخص غیر اللہ کو ولی اور سرپرست کیوں بنائے ؟ اپنے آپ کو اس شرک میں مبتلا کیوں کرے اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو کیوں اس قدر ہولناک عذاب میں مبتلا کرے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے ایسا کرے ‘ یا کسی دنیاوی مضرت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرے ۔ یا اس لئے کرے کہ مشکلات میں لوگ امداد کریں یا بدحالی میں کوئی نفع دیں ۔ حالانکہ نفع ونقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عالم اسباب میں وہ اللہ کی ذات ہی ہے جو قدرتوں والی ہے ۔ تمام انسان اس کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں ۔ عطا کرنے اور روکنے میں صرف اس کی حکیمانہ پالیسی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔
(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18)
” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “
وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو جانتا ہے اور ان تمام باتوں کو نظریاتی روشنی سے حل کرتا ہے ۔ برہاں و دلیل سے انسانی تصور کو واضح کرتا ہے اور اپنی خدائی کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے قرآن کریم دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی وضاحت کردیتا ہے ۔
اب یہ لہر اپنے عروج پر ہے اور اس سے نہایت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بات شہادت ‘ ثبوت اور سرزنشن تک آپہنچتی ہے ۔ اب جدائی اور برات کا اعلان کردیا جاتا ہے کہ بس ہم تمہارے ساتھ شرکیہ امور میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ نہایت ہی بلند آواز میں اور نہایت ہی رعب دار اور فیصلہ کن اعلان میں :