آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84)
” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔
اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔
ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔
اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔
لوطی تباہ ہوگئے حضرت لوط اور ان کا گھرانا اللہ کے ان عذابوں سے بچ گیا جو لوطیوں پر نازل ہوئے بجز آپ کے گھرانے کے اور کوئی آپ پر ایمان نہ لایا جیسے فرمان رب ہے آیت (فما وجدنا فیھا غیر بیت من المسلمین) یعنی وہاں جتنے مومن تھے ہم نے سب کو نکال دیا۔ لیکن بجز ایک گھر والوں کے وہاں ہم نے کسی مسلمان کو پایا ہی نہیں۔ بلکہ خاندان لوط میں سے بھی خود حضرت لوط ؑ کی بیوی ہلاک ہوئی کیونکہ یہ بدنصیب کافرہ ہی تھی بلکہ قوم کے کافروں کی طرف دار تھی اگر کوئی مہمان آتا تو اشاروں سے قوم کو خبر پہنچا دیتی اسی لئے حضرت لوط سے کہہ دیا گیا تھا کہ اسے اپنے ساتھ نہ لے جانا بلکہ اسے خبر بھی نہ کرنا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ساتھ تو چلی تھی لیکن جب قوم پر عذاب آیا تو اس کے دل میں ان کی محبت آگئی اور رحم کی نگاہ سے انہیں دیکھنے لگی وہیں اسی وقت وہی عذاب اس بدنصیب پر بھی آگیا لیکن زیادہ ظاہر قول پہلا ہی ہے یعنی نہ اسے حضرت لوط نے عذاب کی خبر کی نہ اسے اپنے ساتھ لے گئے یہ یہیں باقی رہ گئی اور پھر ہلاک ہوگئی۔ (غابرین) کے معنی بھی باقی رہ جانے والے ہیں۔ جن بزرگوں نے اس کے معنی ہلاک ہونے والے کئے ہیں وہ بطور لزوم کے ہیں۔ کیونکہ جو باقی تھے وہ ہلاک ہونے والے ہی تھے۔ حضرت لوط ؑ اور ان کے مسلمان صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شہر سے نکلتے ہی عذاب الٰہی ان پر بارش کی طرح برس پڑا وہ بارش پتھروں اور ڈھیلوں کی تھی جو ہر ایک پر بالخصوص نشان زدہ اسی کیلئے آسمان سے گر رہے تھے۔ گو اللہ کے عذاب کو بےانصاف لوگ دور سمجھ رہے ہوں لیکن حقیقتاً ایسا نہیں۔ اے پیغمبر آپ خود دیکھ لیجئے کہ اللہ کی نافرمایوں اور رسول اللہ کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ امام ابو حنفیہ فرماتے ہیں لوطی فعل کرنے والے کو اونچی دیوار سے گرا دیا جائے پھر اوپر سے پتھراؤ کر کے اسے مار ڈالنا چاہیے کیونکہ لوطیوں کو اللہ کی طرف سے یہی سزا دی گئی اور علماء کرام کا فرمان ہے کہ اسے رجم کردیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو یا بےشادی ہو۔ امام شافعی کے دو قول میں سے ایک یہی ہے۔ اس کی دلیل مسند احمد، ابو داؤد و ترمذی اور ابن ماجہ کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم لوطی فعل کرتے پاؤ اسے اور اس کے نیچے والے دونوں کو قتل کردو۔ علماء کی ایک جماعت کا قول ہے کہ یہ بھی مثل زنا کاری کے ہے شادی شدہ ہوں تو رجم ورنہ سو کوڑے۔ امام شافعی کا دوسرا قول بھی یہی ہے۔ عورتوں سے اس قسم کی حرکت کرنا بھی چھوٹی لواطت ہے اور بہ اجماع امت حرام ہے۔ بجز ایک شاذ قول کے اور بہت سی احادیث میں اس کی حرمت موجود ہے اسکا پورا بیان سورة بقرہ کی تفسیر میں گذر چکا ہے۔