اس صفحہ میں سورہ Al-Ghaafir کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ غافر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ يُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوٓا۟ أَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُونُوا۟ شُيُوخًا ۚ وَمِنكُم مَّن يُتَوَفَّىٰ مِن قَبْلُ ۖ وَلِتَبْلُغُوٓا۟ أَجَلًا مُّسَمًّى وَلَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
هُوَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ فَإِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ يُجَٰدِلُونَ فِىٓ ءَايَٰتِ ٱللَّهِ أَنَّىٰ يُصْرَفُونَ
ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِٱلْكِتَٰبِ وَبِمَآ أَرْسَلْنَا بِهِۦ رُسُلَنَا ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
إِذِ ٱلْأَغْلَٰلُ فِىٓ أَعْنَٰقِهِمْ وَٱلسَّلَٰسِلُ يُسْحَبُونَ
فِى ٱلْحَمِيمِ ثُمَّ فِى ٱلنَّارِ يُسْجَرُونَ
ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ تُشْرِكُونَ
مِن دُونِ ٱللَّهِ ۖ قَالُوا۟ ضَلُّوا۟ عَنَّا بَل لَّمْ نَكُن نَّدْعُوا۟ مِن قَبْلُ شَيْـًٔا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلْكَٰفِرِينَ
ذَٰلِكُم بِمَا كُنتُمْ تَفْرَحُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ وَبِمَا كُنتُمْ تَمْرَحُونَ
ٱدْخُلُوٓا۟ أَبْوَٰبَ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۖ فَبِئْسَ مَثْوَى ٱلْمُتَكَبِّرِينَ
فَٱصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ ٱللَّهِ حَقٌّ ۚ فَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ
آیت 67 { ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَۃٍ } ”وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا پہلے مٹی سے ‘ پھر نطفے سے ‘ پھر علقہ سے“ عَلَقَہکے لغوی معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی دوسری چیز کے ساتھ معلق ّہو۔ اس لفظ میں بچے کی تخلیق کے حوالے سے دوسرے مرحلے کی کیفیت بیان ہوئی ہے جب نطفہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ لٹکی ہوئی ایک جونک کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ -۔ -۔ -۔ لفظ ”عَلَقَہ“ کی مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة المومنون کی آیت 14 کی تشریح۔ { ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلًا } ”پھر وہ تمہیں نکال لیتا ہے ایک بچے کی حیثیت سے“ { ثُمَّ لِتَبْلُغُوْٓا اَشُدَّکُمْ } ”پھر تمہیں پروان چڑھاتا ہے تاکہ تم پہنچ جائو اپنی جوانی کو“ { ثُمَّ لِتَکُوْنُوْا شُیُوْخًا } ”پھر تمہیں مزید عمر دیتا ہے تاکہ تم ہو جائو بوڑھے۔“ یعنی حیات انسانی کا دورانیہ life cycle عام طور پر اسی نہج پر چلتا ہے۔ { وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰی مِنْ قَبْلُ } ”اور تم میں سے بعض وہ بھی ہیں جنہیں اس سے پہلے ہی وفات دے دی جاتی ہے“ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑھاپے کی عمر تک نہیں پہنچ پاتے۔ کوئی بچپن میں فوت ہوجاتا ہے اور کوئی جوانی میں۔ { وَلِتَبْلُغُوْٓا اَجَلًا مُّسَمًّی وَّلَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ۔ ”اور بعض کو مہلت دیتا ہے تاکہ تم ایک وقت معین ّکو پہنچ جائو اور یہ اس لیے ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔“ چاہے کوئی بچپن میں ہی انتقال کر جائے ‘ کوئی جوانی میں فوت ہو یا کوئی بہت طویل عمر پالے ‘ ہر شخص نے اپنی موت تک بہر صورت زندہ رہنا ہے اور ہر شخص کی موت کا وقت اللہ کے ہاں مقرر اور طے شدہ ہے۔
آیت 68 { ہُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَیُمِیْتُج } ”وہی ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت وارد کرتا ہے۔“ { فَاِذَا قَضٰٓی اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ } ”چناچہ اُس کے امر کی شان تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔“
آیت 69 { اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ َیُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِ اللّٰہِ } ”کیا تم نے غور نہیں کیا ان لوگوں کے حال پر جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں !“ اَلَمْ تَرَکا لفظی ترجمہ تو یہ ہوگا کہ کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ لیکن اس کا مفہوم یہی ہے کہ کیا تم نے غور نہیں کیا ؟ { اَنّٰی یُصْرَفُوْنَ } ”وہ کہاں سے پھرائے جا رہے ہیں ؟“ یعنی وہ حق کے قریب پہنچ کر واپس پلٹ گئے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں محمد ﷺ کا دور نصیب ہوا ‘ آپ ﷺ کے ساتھ ایک شہر اور ایک جگہ اکٹھے رہنے کا موقع ملا۔ لیکن ان کی بد قسمتی ملاحظہ کیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے اتنے بڑے انعام کے باوجود بھی یہ لوگ ہدایت سے محروم رہ گئے۔ مقامِ عبرت ہے ! دیکھو ‘ یہ لوگ کہاں تک پہنچ کر ناکام لوٹے ہیں : ؎قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند دو چار ہاتھ جبکہ لب ِبام رہ گیا !
آیت 70 { الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِالْکِتٰبِ وَبِمَآ اَرْسَلْنَا بِہٖ رُسُلَنَاقف فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ”وہ لوگ کہ جنہوں نے جھٹلایا کتاب کو اور ان چیزوں کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو ‘ تو عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔“ بس کچھ ہی وقت کی بات ہے ‘ اصل حقیقت ان پر منکشف ہوجائے گی۔
آیت 71 { اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِہِمْ وَالسَّلٰسِلُط یُسْحَبُوْنَ } ”جب ان کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور وہ زنجیروں میں جکڑے ہوں گے ‘ اس حالت میں انہیں گھسیٹا جائے گا۔“
آیت 72 { فِی الْْحَمِیْمِلا ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَ } ”کھولتے پانی میں ‘ پھر انہیں آگ میں جھونک دیا جائے گا۔“
آیت 73 ‘ 74 { ثُمَّ قِیْلَ لَہُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : کہاں ہیں وہ جنہیں تم شریک بنایا کرتے تھے اللہ کے سوا ؟“ { قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَکُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًاط } ”وہ کہیں گے : سب گم ہوگئے ہم سے ‘ بلکہ ہم نہیں پکار رہے تھے اس سے پہلے کسی بھی شے کو۔“ اے اللہ ! آج اس وقت ہم پر یہ حقیقت واضح ہوگئی ہے کہ جنہیں معبود سمجھ کر ہم پکارا کرتے تھے ان کا تو کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ { کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ الْکٰفِرِیْنَ۔ ’ ‘ ’ اسی طرح اللہ بھٹکا دیتا ہے کافروں کو۔“
آیت 75 { ذٰلِکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَبِمَا کُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَ } ”اور یہ سب اس لیے ہوا کہ تم زمین میں ناحق اتراتے تھے اور اس لیے بھی کہ تم اکڑا بھی کرتے تھے۔“ تم لوگ دنیا کے مال و متاع پر خواہ مخواہ اکٹرفوں دکھاتے تھے۔ گویا تم ہلدی کی گانٹھ مل جانے پر پنساری بن بیٹھے تھے۔ حالانکہ دنیا میں تمہارا وہ سارا مال و متاع ہمارا ہی عطا کیا ہوا تھا جس پر اترانے اور فخر جتلانے کا تمہیں کوئی حق نہیں تھا۔
آیت 76 { اُدْخُلُوْٓا اَبْوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَاج } ”اب داخل ہو جائو جہنم کے دروازوں میں ‘ اس میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔“ { فَبِئْسَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَ } ”تو یہ بہت ہی ُ برا ٹھکانہ ہے متکبرین ّکا۔“ اب اگلی آیت میں حضور ﷺ سے خطاب کر کے آپ ﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے :
آیت 77 { فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ} ”تو اے نبی ﷺ ! آپ صبرکیجیے ‘ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے۔“ اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کا دین ضرور غالب ہوگا : { مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰٓی } طٰہ ”ہم نے یہ قرآن آپ ﷺ پر اس لیے تو نازل نہیں کیا کہ آپ ﷺ ناکام ہوجائیں“ معاذ اللہ ! { فَاِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ } ”تو اگر ہم آپ ﷺ کو دکھا دیں اس میں سے کچھ جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں“ یہ مضمون قرآن میں متعدد بار آچکا ہے کہ جس عذاب کے بارے میں انہیں خبردار کیا جا رہا ہے وہ ان پر آپ ﷺ کی زندگی میں بھی آسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پر وہ برا وقت آپ ﷺ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد آئے۔ { فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ } ”پھر ان کو ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔“ مجھے انہیں پکڑنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ وہ بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے۔ انہوں نے آنا تو بہر حال میرے ہی پاس ہے۔