اس صفحہ میں سورہ Al-Qamar کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القمر کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
آیت 50 { وَمَــآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ م بِالْبَصَرِ۔ } ”اور ہمارا امر تویکبارگی ہوتا ہے ‘ جیسے نگاہ کا لپک جانا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کا امر بیک دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوتا ہے۔ اللہ کے امر کی یہ وہی شان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ ”کُن فَیکون“ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی وہ جب کسی چیز کو حکم دیتا ہے کہ ہو جاتو وہ اس کی مشیت کے مطابق اسی وقت ہوجاتی ہے۔
آیت 51 { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَآ اَشْیَاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”تو اے قریش ِمکہ ہم نے تم جیسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ‘ تو کوئی ہے اس سے سبق حاصل کرنے والا ؟“ تمہاری تذکیر اور یاد دہانی کے لیے قرآن حکیم میں سابقہ اقوام کے انجام کی عبرت انگیز تفاصیل بار بار بیان کی گئی ہیں۔ تاریخی حوالوں سے بھی ان اقوام کے حالات سے تم لوگ اچھی طرح واقف ہو۔ اب تم لوگ چاہو تو ان کے انجام سے سبق حاصل کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ بیشمار آیات آفاقی و انفسی بھی تمہارے سامنے ہیں۔ اگر تم لوگ کبھی ان آیات کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے کرو تو وہ بھی تمہاری ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
آیت 52 { وَکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ۔ } ”اور وہ تمام اعمال جو ان لوگوں نے کیے ہیں وہ صحیفوں میں محفوظ ہیں۔“
آیت 53 { وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّکَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ۔ } ”اور ہر ایک چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔“ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج دیکھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ سورة الکہف کی یہ آیت اس منظر کا نقشہ دکھاتی ہے جب سرمحشر ان مجرمین کے سامنے ان کے اعمال نامے کھولے جائیں گے :{ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا۔ } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ اسے موجود پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔“
آیت 54 { اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَـہَرٍ۔ } ”یقینا متقین باغات اور نہروں کے ماحول میں ہوں گے۔“ یہ مقام ان خوش نصیب لوگوں کو عطا ہوگا جو اپنی دنیا کی زندگی میں اللہ سے ڈرنے والے ‘ آخرت کے خیال سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہنے والے ‘ اللہ کے احکام کی پابندی کرنے والے ‘ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے والے اور اس حوالے سے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے تھے۔
آیت 55 { فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”بہت اعلیٰ راستی کے مقام میں اس بادشاہ کے پاس جو اقتدارِ مطلق کا مالک ہے۔“ ان خوش قسمت لوگوں کے مقام و مرتبہ کا ذکر ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورة یونس کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ ط } آیت 2 ”ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے“۔ یعنی ان لوگوں کو آخرت میں شہنشاہِ ارض و سما کا خصوصی قرب حاصل ہوگا۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین یاربَّ العَالَمین ! !