اس صفحہ میں سورہ An-Naml کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النمل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَإِنَّهُۥ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ
إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم بِحُكْمِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيمُ
فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِينِ
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ
وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ
۞ وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا۟ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ
أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِيَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٰخِرِينَ
وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِ ۚ صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ ۚ إِنَّهُۥ خَبِيرٌۢ بِمَا تَفْعَلُونَ
آیت 79 فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ” آپ ﷺ کی دعوت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔ آپ ﷺ کا موقف حق و صداقت پر مبنی ہے۔
آیت 80 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ”یعنی آپ ﷺ کے ان مخاطبین میں سے اکثر لوگوں کے دل مردہ ہیں ‘ ان کی روحیں ان کے دلوں کے اندر دفن ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ صرف حیوانی طور پر زندہ ہیں جبکہ روحانی طور پر ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔ چناچہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ زندہ مت سمجھیں ‘ یہ تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ اس کیفیت میں وہ آپ ﷺ کی ان باتوں کو کیسے سن سکتے ہیں ! میر درد نے اپنے اس شعر میں انسان کی اسی روحانی زندگی کا ذکر کیا ہے : مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے !وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”یعنی ایک بہرا شخص آپ کے رو برو ہو ‘ آپ کی طرف متوجہ ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اشارے کنائے سے اپنی کوئی بات اسے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں ‘ لیکن جب وہ پلٹ کر دوسری طرف چل پڑے تو اسے کوئی بات سمجھانا یا سنانا ممکن نہیں رہتا۔
اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ ””دابّۃ الارض“ کا ظہور قیامت کی آخری علامات میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد کوہ صفا پھٹے گا اور اس میں سے یہ جانور برآمد ہوگا۔ واللہ اعلم !
آیت 83 وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ”گویا ان مجرموں کے جرائم مختلف درجوں میں ہوں گے۔ ان میں سے کوئی انکار میں بہت زیادہ سخت تھا ‘ کسی کی طبیعت میں کچھ نرمی کا پہلو تھا ‘ کوئی تکذیب کے ساتھ ساتھ استہزاء کرنے کا مجرم بھی تھا۔ چناچہ ان کے جرائم کی نوعیت اور کیفیت کے مطابق ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہ طریقہ انسانی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہوگا کیونکہ سب انسان برابر نہیں۔ نہ تو اہل ایمان سب کے سب برابر ہیں اور نہ کفار و مشرکین سب ایک جیسے ہیں۔ نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد !
آیت 44 حتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْ قَالَ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”یعنی کیا تم لوگ واقعتا میری آیات کو سمجھ نہیں سکے تھے یا پھر سمجھنے کے بعد تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا انکار کرتے رہے تھے ؟
آیت 85 وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ”جب حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی تو وہ بول نہیں سکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کے دل تو دعوت حق کی حقانیت پر گواہی دے چکے تھے ‘ لیکن اپنی ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔ قبل ازیں اسی سورت کی آیت 14 میں ایسے منکرین کے انکار کی کیفیت پریوں تبصرہ کیا گیا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط کہ ان کے دلوں نے آیات الہیہ کا یقین کرلیا تھا مگر وہ محض ضد ‘ ظلم اور سرکشی کی بنا پر نہیں مانے تھے۔
آیت 86 اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا ط ”اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کے تحت رات کو سکون کے لیے جبکہ دن کو معاشی جدوجہد کے لیے سازگار بنایا ہے۔
آیت 87 وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ط ”نفخ صور سے ایک عمومی گھبراہٹ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات پر طاری ہوجائے گی ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ خود اس سے محفوظ رکھنا چاہے۔ جیسے آسمانوں پر فرشتے۔وَکُلٌّ اَتَوْہُ دَاخِرِیْنَ ”اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے مؤدّب کھڑے ہوں گے۔
آیت 88 وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِط ”پہاڑ اس دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہوائی سفر کے دوران ہم میں سے اکثرنے بادلوں کی ماہیت کا قریب سے مشاہدہ کیا ہوگا۔ یہ بظاہر دیکھنے میں ٹھوس نظر آتے ہیں لیکن جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے انہیں چیرتے ہوئے آگے گزر جاتا ہے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کی ٹھوس حیثیت کو ختم کردیا جائے گا اور وہ ذرّات کے غبار میں تبدیل ہو کر بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ ط ”یہ اللہ کیّ صناعی کا کرشمہ ہے کہ اس نے اس وقت پہاڑوں کو ایسی محکم اور ٹھوس شکل دے رکھی ہے ‘ لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے انہیں دھنکی ہوئی روئی کے گالوں اور بادلوں کی طرح بےوزن اور نرم کردے گا۔