سورہ نمل (27): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ An-Naml کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النمل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ نمل کے بارے میں معلومات

Surah An-Naml
سُورَةُ النَّمۡلِ
صفحہ 384 (آیات 77 سے 88 تک)

وَإِنَّهُۥ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم بِحُكْمِهِۦ ۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيمُ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِينِ إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْا۟ مُدْبِرِينَ وَمَآ أَنتَ بِهَٰدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَٰلَتِهِمْ ۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ ۞ وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔايَٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔايَٰتِى وَلَمْ تُحِيطُوا۟ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا۟ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ أَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا جَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِيَسْكُنُوا۟ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبْصِرًا ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٰخِرِينَ وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِ ۚ صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍ ۚ إِنَّهُۥ خَبِيرٌۢ بِمَا تَفْعَلُونَ
384

سورہ نمل کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ نمل کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainnahu lahudan warahmatun lilmumineena

اردو ترجمہ

یقیناً (اِسی طرح) تیرا رب اِن لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna rabbaka yaqdee baynahum bihukmihi wahuwa alAAazeezu alAAaleemu

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fatawakkal AAala Allahi innaka AAala alhaqqi almubeeni

آیت 79 فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِط اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ ” آپ ﷺ کی دعوت میں کسی قسم کا کوئی شک و شبہ نہیں۔ آپ ﷺ کا موقف حق و صداقت پر مبنی ہے۔

اردو ترجمہ

تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innaka la tusmiAAu almawta wala tusmiAAu alssumma aldduAAaa itha wallaw mudbireena

آیت 80 اِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی ”یعنی آپ ﷺ کے ان مخاطبین میں سے اکثر لوگوں کے دل مردہ ہیں ‘ ان کی روحیں ان کے دلوں کے اندر دفن ہوچکی ہیں۔ یہ لوگ صرف حیوانی طور پر زندہ ہیں جبکہ روحانی طور پر ان میں زندگی کی کوئی رمق موجود نہیں ہے۔ چناچہ ابو جہل اور ابولہب کو آپ زندہ مت سمجھیں ‘ یہ تو محض چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ اس کیفیت میں وہ آپ ﷺ کی ان باتوں کو کیسے سن سکتے ہیں ! میر درد نے اپنے اس شعر میں انسان کی اسی روحانی زندگی کا ذکر کیا ہے : ؂مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے !وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”یعنی ایک بہرا شخص آپ کے رو برو ہو ‘ آپ کی طرف متوجہ ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اشارے کنائے سے اپنی کوئی بات اسے سمجھانے میں کامیاب ہوجائیں ‘ لیکن جب وہ پلٹ کر دوسری طرف چل پڑے تو اسے کوئی بات سمجھانا یا سنانا ممکن نہیں رہتا۔

اردو ترجمہ

اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو تم تو اپنی بات اُنہی لوگوں کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرمان بردار بن جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama anta bihadee alAAumyi AAan dalalatihim in tusmiAAu illa man yuminu biayatina fahum muslimoona

اردو ترجمہ

اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آ پہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha waqaAAa alqawlu AAalayhim akhrajna lahum dabbatan mina alardi tukallimuhum anna alnnasa kanoo biayatina la yooqinoona

اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ ””دابّۃ الارض“ کا ظہور قیامت کی آخری علامات میں سے ہے۔ احادیث کے مطابق سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد کوہ صفا پھٹے گا اور اس میں سے یہ جانور برآمد ہوگا۔ واللہ اعلم !

اردو ترجمہ

اور ذرا تصور کرو اُس دن کا جب ہم ہر امّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma nahshuru min kulli ommatin fawjan mimman yukaththibu biayatina fahum yoozaAAoona

آیت 83 وَیَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمْ یُوْزَعُوْنَ ”گویا ان مجرموں کے جرائم مختلف درجوں میں ہوں گے۔ ان میں سے کوئی انکار میں بہت زیادہ سخت تھا ‘ کسی کی طبیعت میں کچھ نرمی کا پہلو تھا ‘ کوئی تکذیب کے ساتھ ساتھ استہزاء کرنے کا مجرم بھی تھا۔ چناچہ ان کے جرائم کی نوعیت اور کیفیت کے مطابق ان کی گروہ بندی کی جائے گی۔ یہ طریقہ انسانی فطرت اور طبیعت کے عین مطابق ہوگا کیونکہ سب انسان برابر نہیں۔ نہ تو اہل ایمان سب کے سب برابر ہیں اور نہ کفار و مشرکین سب ایک جیسے ہیں۔ ؂نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد !

اردو ترجمہ

یہاں تک کہ جب سب آ جائیں گے تو (ان کا رب ان سے) پوچھے گا کہ "تم نے میری آیات کو جھٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا علمی احاطہ نہ کیا تھا؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hatta itha jaoo qala akaththabtum biayatee walam tuheetoo biha AAilman ammatha kuntum taAAmaloona

آیت 44 حتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْ قَالَ اَکَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَلَمْ تُحِیْطُوْا بِہَا عِلْمًا اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ”یعنی کیا تم لوگ واقعتا میری آیات کو سمجھ نہیں سکے تھے یا پھر سمجھنے کے بعد تعصب اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کا انکار کرتے رہے تھے ؟

اردو ترجمہ

اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WawaqaAAa alqawlu AAalayhim bima thalamoo fahum la yantiqoona

آیت 85 وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْہِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَہُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ ”جب حقیقت ان پر واضح کردی جائے گی تو وہ بول نہیں سکیں گے ‘ اس لیے کہ ان کے دل تو دعوت حق کی حقانیت پر گواہی دے چکے تھے ‘ لیکن اپنی ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنا پر انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تھا۔ قبل ازیں اسی سورت کی آیت 14 میں ایسے منکرین کے انکار کی کیفیت پریوں تبصرہ کیا گیا ہے : وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَآ اَنْفُسُہُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ط کہ ان کے دلوں نے آیات الہیہ کا یقین کرلیا تھا مگر وہ محض ضد ‘ ظلم اور سرکشی کی بنا پر نہیں مانے تھے۔

اردو ترجمہ

کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam yaraw anna jaAAalna allayla liyaskunoo feehi waalnnahara mubsiran inna fee thalika laayatin liqawmin yuminoona

آیت 86 اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ وَالنَّہَارَ مُبْصِرًا ط ”اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات کے تحت رات کو سکون کے لیے جبکہ دن کو معاشی جدوجہد کے لیے سازگار بنایا ہے۔

اردو ترجمہ

اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا، اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma yunfakhu fee alssoori fafaziAAa man fee alssamawati waman fee alardi illa man shaa Allahu wakullun atawhu dakhireena

آیت 87 وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآء اللّٰہُ ط ”نفخ صور سے ایک عمومی گھبراہٹ آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوقات پر طاری ہوجائے گی ‘ سوائے ان کے جنہیں اللہ خود اس سے محفوظ رکھنا چاہے۔ جیسے آسمانوں پر فرشتے۔وَکُلٌّ اَتَوْہُ دَاخِرِیْنَ ”اس دن سب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور سر جھکائے مؤدّب کھڑے ہوں گے۔

اردو ترجمہ

آج تو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہو گا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watara aljibala tahsabuha jamidatan wahiya tamurru marra alssahabi sunAAa Allahi allathee atqana kulla shayin innahu khabeerun bima tafAAaloona

آیت 88 وَتَرَی الْجِبَالَ تَحْسَبُہَا جَامِدَۃً وَّہِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِط ”پہاڑ اس دن بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ ہوائی سفر کے دوران ہم میں سے اکثرنے بادلوں کی ماہیت کا قریب سے مشاہدہ کیا ہوگا۔ یہ بظاہر دیکھنے میں ٹھوس نظر آتے ہیں لیکن جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے انہیں چیرتے ہوئے آگے گزر جاتا ہے۔ قیامت کے دن پہاڑوں کی ٹھوس حیثیت کو ختم کردیا جائے گا اور وہ ذرّات کے غبار میں تبدیل ہو کر بادلوں کی طرح اڑتے پھریں گے۔ صُنْعَ اللّٰہِ الَّذِیْٓ اَتْقَنَ کُلَّ شَیْءٍ ط ”یہ اللہ کیّ صناعی کا کرشمہ ہے کہ اس نے اس وقت پہاڑوں کو ایسی محکم اور ٹھوس شکل دے رکھی ہے ‘ لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے انہیں دھنکی ہوئی روئی کے گالوں اور بادلوں کی طرح بےوزن اور نرم کردے گا۔

384