فحق علینا ۔۔۔۔۔ کنا غوین (31 – 32) ” لہٰذا ہم لوگ اور تم لوگ دونوں عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں۔ وہ ارادا اب ہم پر حق بن کر آگیا ہے۔ اب ہمارے لیے عذاب کا مزہ چکھنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ تم لوگ ہمارے ساتھ اسلیے آگئے تھے کہ تم ہمارے راتے پر چلنے کے لیے تیار ہوگئے تھے۔ ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ تم ہمارے پیچھے لگ گئے تھے
آیت 31{ فَحَقَّ عَلَیْنَا قَوْلُ رَبِّنَآق اِنَّا لَذَآئِقُوْنَ } ”تو اب ثابت ہوگیا ہے ہم پر ہمارے رب کا قول ‘ اب تو ہمیں عذاب کا مزہ چکھنا ہی ہوگا۔“ اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر فرما دیا تھا : { لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ } السجدۃ ”میں بھر کر رہوں گا جہنم کو تمام نافرمان جنوں اور انسانوں سے“۔ تو اللہ تعالیٰ کا وہ قول اب ہم پر واقع ہوچکا ہے اور ہم جہنم کے مستحق ہوچکے ہیں۔