اس صفحہ میں سورہ Al-Muminoon کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المؤمنون کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أَلَمْ تَكُنْ ءَايَٰتِى تُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فَكُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
قَالُوا۟ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَآلِّينَ
رَبَّنَآ أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَٰلِمُونَ
قَالَ ٱخْسَـُٔوا۟ فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ
إِنَّهُۥ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِى يَقُولُونَ رَبَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا وَٱرْحَمْنَا وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰحِمِينَ
فَٱتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا حَتَّىٰٓ أَنسَوْكُمْ ذِكْرِى وَكُنتُم مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ
إِنِّى جَزَيْتُهُمُ ٱلْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوٓا۟ أَنَّهُمْ هُمُ ٱلْفَآئِزُونَ
قَٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِى ٱلْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ
قَالُوا۟ لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ ٱلْعَآدِّينَ
قَٰلَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَٰكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
فَتَعَٰلَى ٱللَّهُ ٱلْمَلِكُ ٱلْحَقُّ ۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْكَرِيمِ
وَمَن يَدْعُ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ لَا بُرْهَٰنَ لَهُۥ بِهِۦ فَإِنَّمَا حِسَابُهُۥ عِندَ رَبِّهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْكَٰفِرُونَ
وَقُل رَّبِّ ٱغْفِرْ وَٱرْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ ٱلرَّٰحِمِينَ
آیت 110 فَاتَّخَذْتُمُوْہُمْ سِخْرِیًّا ”میرے وہ بندے جب مجھ سے گڑ گڑا کر دعا کرتے تھے تو تم ان پر ہنسا کرتے تھے۔وَکُنْتُمْ مِّنْہُمْ تَضْحَکُوْنَ ”تم لوگ میرے بندوں کی تضحیک کرنے اور ان کا مذاق اڑانے میں ایسے مگن رہے کہ میں تمہیں بالکل ہی یاد نہ رہا۔
آیت 114 قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ”آیت 84 سے شروع ہونے والے سلسلۂ کلام میں یہ آخری چار آیات خصوصی طور پر بہت جامع اور پرجلال ہیں۔ جیسا کہ آیت 84 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سورت کے اس حصے کی تلاوت قاری محمد صدیق المنشاوی نے بہت پر تاثیر انداز میں کی ہے۔ ان کی یہ تلاوت سننے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے سننے سے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے :
آیت 115 اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ ”گزشتہ آیات کے سیاق وسباق میں اس آیت کا ترجمہ صیغہ ماضی میں ہوگا اور اس مفہوم میں اس کے مخاطب وہی جہنمی لوگ ہوں گے جن کا ذکر پیچھے سے چلا آ رہا ہے۔ اور اگر اسے گزشتہ سلسلہ کلام سے علیحدہ پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ صیغہ حال میں کیا جائے گا اور پھر اس کا مخاطب ہر پڑھنے سننے والا اور دنیا کے ہر زمانے کا ہر انسان ہوگا کہ اے لوگو ! کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بےمقصد اور بیکار پیدا کیا ہے اور تمہیں ہمارے پاس واپس آکر اپنے ایک ایک عمل کا حساب نہیں دینا ہے ؟عقلی اور منطقی طور پر یہ نکتہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ آخرت کے تصور کے بغیر انسانی تخلیق کا مقصد سمجھ میں نہیں آسکتا۔ اگر انسان عام حیوانات جیسا حیوان ہوتا تو پھر واقعی حیات بعد الممات اور آخرت کی کوئی ضرورت نہیں تھی ‘ مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ حیوانات کے برعکس انسان کے اندر فطری طور پر اخلاقی حس اور نیکی و بدی کی تمیز moral sense پیدا کی گئی ہے۔ اس اخلاقی حس کے نتیجے میں انسانی سطح پر جو اخلاقی اقدار moral values وجود میں آئی ہیں وہ کسی قوم ‘ کسی علاقے یا زمانے تک محدود نہیں ‘ بلکہ مستقل permanent اور آفاقی universal ہیں۔ چناچہ ”گندم از گندم بروید جوز جو“ گندم سے گندم اگتی ہے اور جو سے جو کے اصول کے مطابق اچھائی کا نتیجہ اچھا نکلنا چاہیے اور برائی کا برا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اور ہمیشہ لازمی طور پر ایسا نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر اس کے برعکس ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ صورت حال منطقی طور پر تقاضا کرتی ہے کہ اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا وجود میں آئے ‘ جہاں ہر انسان کی موجودہ زندگی کے ایک ایک فعل اور ایک ایک عمل کا احتساب کر کے مصدقہ آفاقی اصولوں کے مطابق عدل و انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا اہتمام ہو۔ یہی نکتہ ہے جسے قرآن مجید مختلف مواقع پر ایمان بالآخرت کے لیے بطور دلیل پیش کرتا ہے۔ بہر حال ایک ذی شعور انسان بالآخر اس منطقی نتیجے پر پہنچ جاتا ہے اور بےاختیار پکار اٹھتا ہے : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَاب النَّارِ آل عمران۔ ”اے ہمارے پروردگار ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد پیدا نہیں کیا ‘ تو پاک ہے ‘ پس تو ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے !“
آیت 116 فَتَعٰلَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ ج ”اللہ اس کائنات کا حقیقی بادشاہ ہے۔ وہ کلی اختیارات کا مالک ہے اور اس کی یہ حیثیت بھی سزا و جزا کے نظام کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کے بادشاہوں میں کوئی بادشاہ ایسا نہیں جو اپنے غداروں اور باغیوں کو سزا نہ دے اور وفاداروں کو انعام و اکرام اور خلعتوں سے نہ نوازے۔ پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ بادشاہ حقیقی اپنے جاں نثاروں کی قدر افزائی نہ کرے ‘ ان کی قربانیوں کا انہیں کوئی صلہ نہ دے اور اپنے نافرمانوں اور باغیوں کو سزانہ دے ؟
آیت 117 وَمَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَلا ”یعنی اللہ کو بھی معبود مانتا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ کسی اور کو بھی پکارتا ہے۔