اس صفحہ میں سورہ Az-Zukhruf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الزخرف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْوَٰبًا وَسُرُرًا عَلَيْهَا يَتَّكِـُٔونَ
وَزُخْرُفًا ۚ وَإِن كُلُّ ذَٰلِكَ لَمَّا مَتَٰعُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۚ وَٱلْءَاخِرَةُ عِندَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ
وَمَن يَعْشُ عَن ذِكْرِ ٱلرَّحْمَٰنِ نُقَيِّضْ لَهُۥ شَيْطَٰنًا فَهُوَ لَهُۥ قَرِينٌ
وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُم مُّهْتَدُونَ
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءَنَا قَالَ يَٰلَيْتَ بَيْنِى وَبَيْنَكَ بُعْدَ ٱلْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ ٱلْقَرِينُ
وَلَن يَنفَعَكُمُ ٱلْيَوْمَ إِذ ظَّلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
أَفَأَنتَ تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ أَوْ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَمَن كَانَ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
فَإِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَإِنَّا مِنْهُم مُّنتَقِمُونَ
أَوْ نُرِيَنَّكَ ٱلَّذِى وَعَدْنَٰهُمْ فَإِنَّا عَلَيْهِم مُّقْتَدِرُونَ
فَٱسْتَمْسِكْ بِٱلَّذِىٓ أُوحِىَ إِلَيْكَ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ
وَإِنَّهُۥ لَذِكْرٌ لَّكَ وَلِقَوْمِكَ ۖ وَسَوْفَ تُسْـَٔلُونَ
وَسْـَٔلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَآ أَجَعَلْنَا مِن دُونِ ٱلرَّحْمَٰنِ ءَالِهَةً يُعْبَدُونَ
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِـَٔايَٰتِنَآ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَمَلَإِي۟هِۦ فَقَالَ إِنِّى رَسُولُ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
فَلَمَّا جَآءَهُم بِـَٔايَٰتِنَآ إِذَا هُم مِّنْهَا يَضْحَكُونَ
آیت نمبر 36 تا 39
العشی کے معنی ہوتے ہیں نظر کا دیکھ نہ سکنا ، بالعموم یہ حالت اس وقت ہوتی ہے جب تیز روشنی سے آنکھیں دو چار ہوں ، جس میں آنکھوں کو کھولنا ممکن نہ ہو۔ نیز عشی کی وجہ سے شام کے اندھیرے میں کمزور نظر کے لوگ صحیح طرح معلوم نہیں کرسکتے۔ اور ایک خاص بیماری کی وجہ سے بھی یہ ہوتا ہے۔ یہاں مقصد غفلت اور اللہ کی یاد سے منہ موڑنا اور دل سے یہ شعور محو کردینا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
ومن یعش عن ذکر الرحمٰن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین (43 : 36) “ جو شخص رحمٰن کے ذکر سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں اور وہ اس کا رفیق بن جاتا ہے ”۔ اللہ کی مشیت نے فطرت انسان میں یہ بات رکھ دی ہے کہ جب اس کا دل ذکر الٰہی سے غافل ہوا اس کی طرف ایک شیطان راہ پالیتا ہے۔ وہ اس کے ساتھ لگ جاتا ہے ، ہر وقت اس کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے۔ اور اس کے لئے برائی کو خوبصورت بناتا رہتا ہے۔ یہ شرط اور اس کا جواب دونوں مل کر اللہ کے نظام مشیت کی خوبصورت تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ کی سنت کے مطابق سبب آتے ہی نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ یہی فیصلہ پہلے سے اللہ کے علم کے مطابق طے ہوتا ہے اور اسے قضا اور قدر کہتے ہیں۔ اور شیطانی برے دوستوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے انسانی برے دوستوں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ یوں یہ انسان خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں۔
وانھم لیصدونھم عن السبیل ویحسبون انھم مھتدون (43 : 37) “ اور یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں اور وہ اپنی جگہ یہ سوچتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں ”۔ ایک دوست کی طرف سے ایک دوست کے ساتھ یہ نہایت ہی برا سلوک ہے کہ وہ دوست کو سیدھے راستے سے روک کر غلط راہ پر ڈال دے اور پھر اسے مسلسل غافل رکھے کہ وہ انسانی دوست کبھی یہ سوچ بھی نہ سکے کہ وہ غلطی پر ہے بلکہ اسے یہ تسلی دیتا رہے کہ وہ سیدھی راہ پر جارہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ برے انجام کے ساتھ متصادم ہوجاتا ہے۔
یہاں انداز تعبیر کے لئے فعل مضارع استعمال ہوا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ہر عمل جاری ہے۔ لیصدونھم “ وہ روکتے ہیں ”۔ یحسبون “ وہ گمان کرتے ہیں ”۔ اور دیکھا جاسکتا ہے بلکہ دوسرے لوگ دیکھ رہے ہیں اس تماشہ کو ، جبکہ وہ خود اسے تمہیں دیکھ رہے جو جہنم کی طرف رواں ہیں لیکن انجام سے بیخبر اور جس راہ پر وہ جارہے ہیں ، اچانک ہی وہ انجام بد تک پہنچ جائیں گے۔
حتی اذا جاء ۔۔۔۔ فبئس القرین (43 : 38) “ آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ، “ کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بعد ہوتا تو ، تو بدترین ساتھی نکلا ”۔
چشم زدن میں ہم دنیا سے آخرت میں چلے جاتے ہیں ، ہماری اس زندگی کا دفتر لپیٹ لیا جاتا ہے اور یہ اندھا پن اس کو شیطان کی رفاقت میں آخری انجام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہاں اب ہوش آجائے گا ، جس طرح شرابی کا نشہ اترتا ہے اور اندھے پن اور مدہوشی کے بعد یہ نظریں اٹھا کر دیکھیں گے۔ اب یہ شخص اپنے ساتھی کو غور سے دیکھے گا جو اسے یہ یقین دہائیاں کرا رہا تھا کہ میں تو آپ کو صحیح راہ پر لے جا رہا ہوں ، لیکن تھا وہ بربادی و ہلاکت کا راہبر۔ اس لیے وہ جل بھن کر اسے کہے گا۔
یلیت بینی وبینک بعد المشرقین ( 43 : 37) “ کاش میرے اور تیرے درمیان شرق و مغرب کا بعد ہوتا ”۔ کاش کہ ہم ملتے ہی نہ اور ہمارے درمیان یہ دوریاں ہوتیں اور پھر قرآن مجید کہتا ہے۔
فبئس القرین (43 : 38) “ یہ تو بہت ہی برا ساتھی ہے ”۔ اب دونوں کی حالت پر مایوس کردینے والا تبصرہ۔ اور پھر اس منظر پر پردہ کرتا ہے۔
ولن ینفعکم الیوم اذ ظلمتم انکم فی العذاب مشترکون (43 : 39) “ اور اس وقت ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیطان عذاب میں مشترک ہیں ” ۔ عذاب سب کے لئے برابر ہے اور اس کو باہم تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
٭٭٭٭
اب روئے سخن ان لوگوں سے بھر جاتا ہے۔ ان لوگوں کو اس بری حالت میں چھوڑ کر کہ ایک دوسرے کو ملامت کریں ، الزامات کی بوچھاڑ کریں ، برا بھلا کہیں ، خطاب رسول اللہ ﷺ سے شروع ہوجاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے اس انجام بد سے پریشان نہ ہوں اور ان کے اعراض اور کفر کی پرواہ بھی نہ کریں جو حق آپ کی طرف آرہا ہے اس پر جم جائیں اور سچائی قدیم زمانے سے مسلسل آرہی ہے اور ہر رسول نے اسی کو پیش کیا ہے۔
آیت نمبر 40 تا 45
قرآن کریم میں یہ مثال باربار دہرائی جاتی ہے۔ یہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے لئے آتی ہے ۔ اور اس کے ذریعہ ہدایت و ضلالت کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے اور اس سلسلے میں اللہ کی مشیت اور قضا و قدر کا جو نظام ہے اس کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی رسول کے فرائض میں یہ شامل نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پر لے آئے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ انسانوں میں سے ایک اعلیٰ ترین جدو جہد کرنے والے انسان یعنی رسول کے کام کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں اور قدرت الٰہیہ اور نظام معیشت کہاں تک ہے۔ اور اس سے عقیدہ توحید کی طرف اشارہ ، بہت ہی لطیف اشارہ کہ وہی کچھ ہوتا جو منظور خدا ہوتا ہے۔
افانت تسمع الصم او تھدی العمی ومن کان فی ضلل مبین (43 : 40) “ اے نبی ﷺ ، کیا تم بہروں کو سناؤ گے ، یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھاؤ گے ؟” وہ تو نہ بہرے تھے اور اندھے تھے لیکن بہروں اور اندھوں کی طرح تھے اور گمراہی میں دور چلے گئے تھے ، اور ان پر دعوت اور پکار کا کوئی اثر نہ ہو رہا تھا۔ نہ وہ دلائل ہدایت کو سمجھتے تھے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کی ڈیوٹی تو یہ تھی کہ جو سنتا ہے اسے سمجھائیں اور جو دیکھنا چاہے اسے راہ راست دکھائیں۔ جب انہوں نے اپنے یہ اعضا ہی معطل کر دئیے ہیں اور انہوں نے اپنے دل و دماغ کی آنکھیں ہی بند کردی ہیں تو رسول اللہ ﷺ ان کو ہدایت کس طرح دے سکتے ہیں۔ پھر اگر یہ گمراہ ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ پر کیا ذمہ داری ہے۔ آپ نے اپنا فرض ادا کردیا۔۔۔۔ اب اللہ کا کام ہے کہ ادائیگی فرض کے بعد ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔
فاما نذھبن بک فانا منھم متقمون (43 : 41) او نرینک الذی ۔۔۔۔۔ علیھم مقتدرون (43 : 42) “ اب تو ہمیں ان کو سزا دینی ہے ، خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں ، یا تم کو آنکھوں سے ان کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں ان پر پوری قدرت حاصل ہے ”۔ بہرحال ان دونوں صورتوں میں سے ایک ضرور پیش آئے گی۔ اگر اللہ نے نبی کو اٹھا لیا تو اللہ اس کے مکذبین سے انتقام لے گا اور اگر آپ کے ہوتے ہوئے وہ بات وجود میں آگئی جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے تو اللہ اس پر قادر ہے کہ جس بات سے وہ ڈرا رہا ہے ، اس کو وجود میں لائے ۔ وہ تو اللہ کو کسی صورت میں شکست نہیں دے سکتے۔ دونوں حالات میں معاملہ اللہ کی قدرت اور مشیت کے اختیار میں ہے ، اللہ ہی اس دعوت کا مالک ہے۔ رسول تو پیغام پہنچانے والا ہے۔
فاستمسک بالذی اوحی الیک انک علی صراط مستقیم ( 43 : 43) “ تم بہرحال اس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو ” ۔ آپ جس کام میں لگے ہوئے ہیں ، اس پر جم جائیں اور اپنے راستے پر چلیں ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا یا آئندہ کریں گے اس کی کوئی پرواہ نہ کریں۔ اپنے راستے پر پوری طرح مطمئن ہو کر چلیں۔ آپ تو یقیناً سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ راستہ آپ کو نہ ادھر ادھر لے جائے گا ، نہ اس میں ٹیٹرھ ہے اور نہ وہ اپنی منزل سے دور لے جاتا ہے۔
پھر جس عقیدے اور نظریہ کی آپ تبلیغ کرتے ہیں وہ اس پوری کائنات کی حقیقت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور اللہ اس عام قانون کے ساتھ ہم آہنگ ہے جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ یہ نظریہ اس کائنات کے ناموس اکبر کی لائن پر ہے۔ اس سے جدا نہیں ہوتا اور نہ اس سے منقطع ہوتا ہے۔ اور یہ راستہ اپنے راہ رو کو ٹھیک اپنے خالق تک پہنچاتا ہے اور یہ اس قدر سیدھا ہے کہ سفر بھی نہایت ہی خوشگوار رہتا ہے۔
آپ ﷺ کو تاکید کی جاتی ہے کہ آپ ﷺ اس حقیقت پر جمے رہیں اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت کے جو داعی ہوں گے آپ ﷺ کا عمل ان کے لئے مشعل راہ ہوگا اگرچہ اس راہ کے منحرفین کے ہاتھوں ان کو اذیتیں کیوں نہ مل رہی ہوں۔
وانہ لذکر لک ولقومک وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لئے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جوابدہی کرنی ہو گی ”۔ یہاں اس آیت کے دو مفہوم ہیں کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے اور تم سے جلد ہی قیامت کے دن پوچھا جائے گا۔ لہٰذا اس نصیحت اور یاد دہانی کے بعد تمہارے پاس کوئی حجت نہ رہے گی۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہ قرآن تمہارے اور تمہاری قوم کے لئے ایک شرف اور شہرت ہے اور یہ وہ مفہوم ہے جو واقع ہوگیا۔
جہاں تک رسول اللہ ﷺ کا تعلق ہے تو اربوں ہونٹ آپ ﷺ پر درود وسلام بھیجتے ہیں اور رات دن اور صبح و شام آپ ﷺ کو عاشقانہ انداز میں یاد کرتے ہیں اور اس طرح حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر قیامت تک اربوں لوگ آپ ﷺ پر درود وسلام پڑھتے رہیں گے۔
رہی حضور ﷺ کی قوم تو جب قرآن آیا تو دنیا میں ان کا نام و نشان نہ تھا۔ اور اگر کچھ تھا تو زندگی کی کتاب پر ایک حاشیے کی شکل میں ، ایک کونے میں۔ یہ یہی قرآن ہے جس کے ذریعے انسانی تاریخ میں عربوں کا ایک عظیم کردار متعین ہوا۔ یہ قرآن ہی تھا جس کی وجہ سے ربع مسکوں ان کے زیر نگیں رہا۔ جب تک انہوں نے قرآن کو سینے سے لگا رکھا تھا اور جب انہوں نے قرآن کو چھوڑا تو دنیا نے ان کو چھوڑ دیا ، وہ دوبارہ حقیر ہوگئے اور پھر ان کو قافلہ انسانیت کی لائن میں سب سے پیچھے پھینک دیا۔ لیکن جب قرآن انہوں نے سینے سے لگایا ہوا تھا تو وہ قافلہ سالار تھے۔۔۔۔ اور یہ ایک عظیم ذمہ داری تھی ، ۔۔۔۔۔ انسانیت کی ذمہ داری اور اس کے بارے میں اللہ عنقریب تم سے جواب دہی کرے گا کہ کیوں تم نے اس منصب کو چھوڑا۔ وسوف تسئلون (43 : 44) “ اور جلد ہی تم سے پوچھا جائے گا ”۔ یہ آخری مفہوم زیادہ جامع و مانع ہے۔ میں اسی کی طرف مائل ہوں۔
وسئل من ارسلنا ۔۔۔۔۔۔ یعبدون (43 : 45) “ تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سب سے پوچھ دیکھو کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود کئے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ ” اس حقیقت کو قرآن یہاں نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس صورت میں کہ رسول اللہ سابقہ رسولوں سے پوچھ لیں۔
اجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون (43 : 45) “ کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ”۔ اور پھر اس سوال کا جواب ہر رسول کی طرف سے قطعی انکار ہے۔ استفہام انکاری کی یہ وصیت نہایت ہی عجیب اور موثر ہے۔ اور یہ اسلوب نہایت ہی پر تاثیر ہے ، یعنی تاریخ سے پوچھو۔
رسول اللہ ﷺ اور انبیائے سابقین کے درمیان تو زمان و مکان کے طویل فاصلے ہیں۔ پھر موت وحیات کے فاصلے بھی بہت طویل ہیں ، آب زندہ ہیں اور انبیائے سابقہ فوت ہوگئے ہیں لیکن یہ تمام فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ پوری انسانی تاریخ میں رسالت تو ایک ہے ، پیغام ایک ہے اور کلمہ توحید بھی ایک ہے۔ اگرچہ زمان و مکان بعید ہیں۔ حیات اور موت کے درمیان دبیز پردے ہیں لیکن وحدت نبوت ان تمام دوریوں اور پردوں کو مٹا دیتی ہے۔ مردے اور زندہ ایک ہوجاتے ہیں۔ ماضی وحال ایک ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے قرآن کریم کا انداز تعبیر جو لطیف اور عجیب ہے۔
پھر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے برادر دیگر انبیائے کرام اور اللہ کے ساتھ ان کے ربط کو دیکھا جائے تو یہاں قریب و بعید کے فاصلے ختم ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے ہاں یہ پردے چشم زدن میں دور ہوجاتے ہیں اور تمام رکاوٹیں اور فاصلے دور ہو کر حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ پھر سوال کرتے ہیں اور انبیاء جواب دیتے ہیں جیسا کہ لیلۃ المعراج میں ہوا۔
ایسے مقامات پر چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات اور عادات کو اہمیت نہ دیں کیونکہ یہ مالوفات جو ہم دیکھتے ہیں کہ سبب کے بعد مسبب آتا ہے۔ یہ اللہ کے حوالے سے کوئی کلی قواعد نہیں ہیں۔ ہم تو اس کائنات کے بعض آثار ہی کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کائنات کے طبیعی حالات کے بھی ایک نہایت ہی معمولی حصے تک پہنچ سکے ہیں۔ کئی ایسے حقائق ہیں جو ہماری ساخت ، ہمارے حواس اور ہمارے مرتب کردہ نتائج سے وراء ہیں۔ جب نفس انسانی ان مالوفات اور طبیعات کے دائرے سے نکل جاتا ہے اور اسے تجرد حاصل ہوجاتا ہے تو پھر ایک مجرد حقیقت تک انسان کا پہنچنا بہت آسان ہوجاتا ہے۔ یہ ادراک پھر اس سے آسان تر ہوتا ہے جس طرح کوئی اپنے ہی جسم سے کسی دوسرے جسم کو چھو کر ادراک کرے۔
٭٭٭
رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینے کے حوالے سے کہ کبرائے قریش نے آپ کی نبوت پر اعتراض کیا۔ آپ ﷺ کو کیوں منتخب کیا گیا ہے ۔ اور پھر آپ ﷺ کے انتخاب پر ان کا اعتراض صرف دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کی بنا پر کیا گیا ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حصے کی ایک کڑی لائی جاتی ہے جس میں یہ بتایا گیا کہ آپ کی قوم نے جس طرح اپنے آپ کو بڑا سمجھا ، اسی طرح فرعون نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھا تھا۔ جس طرح انہوں نے کہا۔
لو لا نزل ۔۔۔۔۔۔ عظیم (43 : 31) “ یہ قرآن ان دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہیں اتارا کیا ”۔ اسی طرح فرعون نے بھی اپنی قوت ، حکومت اور مال و دولت پر گھمنڈ کیا تھا اور نہایت فخریہ انداز میں پوچھا تھا :
الیس لی ملک ۔۔۔۔۔ تبصرون ( 43 : 51) “ لوگو ، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ”۔ اور وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا وہ محض اپنے دنیاوی مرتبہ و مقام کی بنا پر اور مال و دولت کی بنا پر تھا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے برگزیدہ بندے اور نبی تھے۔ لیکن وہ دنیاوی اعتبار سے اپنے آپ کو بڑا سمجھتا تھا :
ام انا ۔۔۔۔۔ ولا یکادیبین (43 : 52) “ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا ”۔ اور فرعون کی تجویز اور اہل قریش کی تجویز کس قدر مماثل ہیں۔
فلو لا القی ۔۔۔۔۔۔ مقترنین (43 : 53) “ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن نہ اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ”۔ یہ ایک نسخہ ہے جو بار بار پیغمبروں کے خلاف آزمایا جا رہا ہے۔ بنی بنائی دلیل ہے۔ جو ہر نبی کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
اس کے بعد یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عوام جن کو فرعون نے ذلیل کر کے رکھا ہوا تھا اور پوری طرح دھوکے میں رکھا ہوا تھا ، کس طرح فرعون کی بات پر لبیک کہتے ہیں۔ حالانکہ عوام اور فرعون کے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حیران کن معجزات پیش کئے تھے۔ پھر ان لوگوں پر اور آزمائشیں بھی آئی تھیں اور یہ لوگ دوڑ کر آتے تھے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کراتے تھے اور اللہ ان مصیبتوں سے ان کو نجات دیتا تھا۔
جب معجزات اور تبلیغ کے ذریعہ ان پر حجت تمام ہوگئی تو ان کا انجام یہ ہوا۔
فلما اسفونا ۔۔۔۔ اجمعین (43 : 55) فجعلنھم سلفنا ۔۔۔۔۔ للاخرین (43 : 56) “ آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضبناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا اور بعد والوں کے لئے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا ”۔
اور دیکھئے ، یہ ہیں بعد میں آنے والے ، نہ عبرت پکڑتے اور نہ نصیحت لیتے ہیں۔ اس پیراگراف کے ذریعہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ رسالت اور دعوت ایک رہی ہے۔ تمام رسولوں کا منہاج کار ایک رہا ہے ، راستہ ایک رہا ہے۔ اس طرح سرکشوں اور کبراء زمانہ کا رویہ بھی سچائی کے رد عمل میں ایک ہی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دنیا کی کھوٹی اور جھوٹی قدروں کے زاویہ سے پیغمبروں کو دیکھا اور ہمیشہ جمہور عوام کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے جن کو کبرا ذلیل کر کے رکھتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ اس کی داستان ہے۔
آیت نمبر 46 تا 47
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے اور اس کا ذکر بطور تمہید ہوا۔ اصل مقصد یہ ہے کہ اس قصے کا متعلقہ حصہ پیش کیا جائے ، متعلقہ حصہ یہ ہے کہ جس طرح قریش نے حضرت محمد ﷺ پر اعتراضات کئے ، ویسے ہی فرعون نے بھی کئے تھے ، جس طرح یہ اعتراضات دنیائے ونی کے جھوٹے معیار کے حوالے سے تھے اسی طرح فرعون نے بھی اپنی برتری کے لئے دنیاوی معیار پیش کیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں اور تمام رسولوں نے کہا کہ ہم رسول ہیں ، یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی طرف اور ان کے مقابلے میں فرعونیوں کے رد عمل کی طرف بھی صریح اشارہ۔
اذاھم منھا یضحکون (43 : 48) “ وہ ٹھٹھے مارنے لگے ”۔ اور ہمیشہ جاہلوں کا یہی انداز ہوتا ہے۔ اس کے بعد ان آزمائشوں کی طرف اشارہ آتا ہے ، جن کی تفصیلات دوسری سورتوں میں دے دی گئی ہیں۔ یہ آزمائشیں پے در پے ان پر آئیں اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاں فریادی ہوئے اور آپ ؐ کی دعاؤں سے وہ آزمائشیں دور ہوئیں۔