اس صفحہ میں سورہ Al-Muminoon کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المؤمنون کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَلَوْ رَحِمْنَٰهُمْ وَكَشَفْنَا مَا بِهِم مِّن ضُرٍّ لَّلَجُّوا۟ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ
وَلَقَدْ أَخَذْنَٰهُم بِٱلْعَذَابِ فَمَا ٱسْتَكَانُوا۟ لِرَبِّهِمْ وَمَا يَتَضَرَّعُونَ
حَتَّىٰٓ إِذَا فَتَحْنَا عَلَيْهِم بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِيدٍ إِذَا هُمْ فِيهِ مُبْلِسُونَ
وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْـِٔدَةَ ۚ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ
وَهُوَ ٱلَّذِى ذَرَأَكُمْ فِى ٱلْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
وَهُوَ ٱلَّذِى يُحْىِۦ وَيُمِيتُ وَلَهُ ٱخْتِلَٰفُ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
بَلْ قَالُوا۟ مِثْلَ مَا قَالَ ٱلْأَوَّلُونَ
قَالُوٓا۟ أَءِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا هَٰذَا مِن قَبْلُ إِنْ هَٰذَآ إِلَّآ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
قُل لِّمَنِ ٱلْأَرْضُ وَمَن فِيهَآ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
قُلْ مَن رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ ٱلسَّبْعِ وَرَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ
سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ أَفَلَا تَتَّقُونَ
قُلْ مَنۢ بِيَدِهِۦ مَلَكُوتُ كُلِّ شَىْءٍ وَهُوَ يُجِيرُ وَلَا يُجَارُ عَلَيْهِ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ
سَيَقُولُونَ لِلَّهِ ۚ قُلْ فَأَنَّىٰ تُسْحَرُونَ
ولو رحمنہم مبلسون (آیت نمبر 75 تا 77) ” ۔ ۔ “۔
یہ ہے بعض لوگوں کا مستقبل رویہ۔ یہ سخت دل لوگ ہوتے ہیں ۔ اللہ سے غافل ہوتے ہیں ، آخرت کی تکذیب کرتے ہیں ۔ مشرکین مکہ اسیے ہی لوگوں سے تھے جن سے حضور اکرم ﷺ کو سابقہ تھا۔
اگر کسی پر مصیبت آجائے اور وہ اللہ کے سامنے عاجزی اور تضرع کرنے لگے تو یہ رجوع الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ ایسے شخص کے دل میں خدا کا شعور ہے اور یہ تصور بھی ہے کہ آخری سارا اللہ ہے۔ جو دل اس طرح اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ نرم ہوتا ہے ، بیدار ہوتا ہے اور نصیحت اس کو فائدہ دیتی ہے ۔ یہ احساس انسان کو غفلت اور لغزش سے بچاتا ہے ۔ اسیے ہی لوگ مصائب اور مشکلات سے فائدہ اور نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ لیکن جب کو ئی اپنی گمراہی اور سرکشی میں بہت آگے چلا جائے اور اندھا ہوجائے تو اس شخص سے مایوس ہوجا نا چاہیے ۔ اس کی اصلاح کی پھر کوئی امید نہیں رہتی۔ اسے چھوڑ دیا جائے کہ وہ عذاب آخرت کا شکار ہو اور یہ آخرت بہت ہی اچانک ہوگی۔ اچانک ہر کسی کے سامنے آجائے گی اور تمام لوگ اس وقت حیران و پریشان ہوں گے اور اس بات سے مایوس ہوں گے کہ اب ہر کوئی خلاصی ممکن ہے۔
ایک بار پھر ان کے شعور اور وجدان کو جگانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ النفس و آفاق میں دلائل ایمان کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے امور کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو پیش یا افتادہ ہیں۔
و ھو الذی تعقلون (78 تا 80) ”
انسان اگر اپنی تخلیق اور اپنی شکل و صورت ہی غور کرے ، اور اپنے مفاد اعضاء وجوارح پر غور کرے ، اپنے حواس اور اپنی پہچننا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ ان عجیب امور پر غور کرکے وہ خالق کائنات کی معرفت حاصل کرسکتا ہے کیونکہ اللہ کے علاوہ کون ہے جس نے یہ معجزے دکھائے ہیں ۔ اس کائنات میں بیشمار عجوبے ہیں ، چھوٹے بھی ہیں اور بڑے بھی۔
ذرا انسان صرف اپنی قوت سماعت ہی پر غور کرے۔ یہ قوت کس طرح کام کرتی ہے۔ کس طرح یہ آوازوں کو وصول کرتی ہے اور آوازوں سے معانی اخذ کرتی ہے۔ ذرا قوت باصرہ پر غور کرے۔ انسان کس طرح دیکھتا ہے۔ کس طرح آنکھ روشنی کو لیتی ہے اور تصاویر دیکھتی ہے ۔ پھر انسان کا دماغ اور اس کا ادراک ، اشیاء اور شکر کی قدرو قیمت کا تعین کرتا ہے ۔ مفہوم اور پیمانوں کا تعین کرتا ہے۔ غرض تمام مشاعر و مدرکات اور محسوسات پر اگر غور کیا جائے تو ہر ایک اعجوبہ ہے۔
صرف حواس خمسہ اور ان کے کام کرنے کے طریقے پر ہی اگر غور کیا جائے تو عالم بشریت کے اندر یہ ایک عظیم معجزہ ہے ۔ رہی ان قوتوں کی تخلیق اور پھر موجودہ انداز اور شکل و صورت پر ایمان کی ساخت اور پھر اس پوری کائنات کے ساتھ ان کی ہم اہنگی ، کہ اگر اس کائنات کی قوتوں اور انسانی قوتوں میں جو نسبتیں پائی جاتی ہیں ان میں سے ایک نسبت بھی اگر غائب ہوجائے تو پورا نظام ہی بگڑ جائے ، کان سن نہ سکے ، آنکھ دیکھ نہ سکے لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت مدبرہ نے ان کو ایسا بنا یا ہے۔ لیکن انسان ایسا نا شکرا ہے کہ وہ اللہ کے ان انعامات پر غور ہی نہیں کرتے۔
قلیلا ما تشکروں (23 : 78) ” تم میں سے کم لوگ ایسے ہیں جو شکر کرتے ہیں “ ۔ شکر تب ہی ہو سکتا ہے کہ انسان کسی نعمت کے بخشنے والے کے بارے میں جانتا ہو ۔ اس کی ذات وصفات کو جانتا ہو۔ پھر وہ اللہ وحدہ کی عبادت اور بندگی بھی کرتا ہو اور پھر وہ یہ بات بھی جانتا ہو کہ یہ قوتیں انسان کو اسی ذات و الاصفات نے دی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کرہ ارض پر عیش و عشرت سے ہمکنار ہے اور ہر چیز استفادہ کررہا ہے۔
وھو الذی ذراکم فی الارض (23 : 79) ” وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھلایا اور اس زمین پر اپنی طرف سے خلیفہ اور مختار بنایا۔ اور پھر تمہیں اس نے دیکھنے اور سننے کی قوت دی ، سوچنے کی قوت دی اور تمام دوسری صلاحتیں دیں جو یہاں فریضہ خلافت ارضی کی ادائیگی کے لیے ضروری تھیں ۔
والیہ تحشرون (23 : 79) ” اور اسی کی طرف سمیٹے جائو گے “۔ پھر وہاں وہ تم سے سے حساب و کتاب لے گا تم نے زمین پر فریضہ خلافت اللہ کی ہدایات کے مطابق ادا کیا یا نہیں۔ اچھے کا کیے یا برے کا کیے۔ ہدایت پر رہے یا ضلالت کی راہ اختیار کی ۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر ہے مہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔
وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمو دار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت حیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی سکتا۔ کیونکہ تم کو عبث پیدا نہیں کیا گیا۔ اور نہ ہی اس زمین پر تمہیں شتر بےمہار پیدا کرکے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ بلکہ تمہاری تخلیق ایک حکمت اور تدبیر کے تحت ہوئی ہے۔
وھو الذی یحی و یمیت (23 : 80) ” وہی ہے جو زندگی دیتا اور موت دیتا ہے “۔ موت اور حیات ایسے واقعات ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے رہتے ہیں ۔ موت وحیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ ہیں جو رات اور دن نمودار ہوتے ہیں ۔ موت وحیات کا مالک صرف اللہ ہے۔ انسان جو زیادہ ترقی یافتہ حیوان ہے اس بات پر قدرت نہیں رکھتا کہ زندگی کا ایک خلیہ پیدا کرسکے اور انسان کسی زندہ مخلوق سے زندگی چھین بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ جو ذات حیات عطا کرتی ہے وہی اس کی حقیقت کو جانتی ہے ۔ یہ اس ذات کی قدرت میں ہے کہ وہ زندگی بخشنے اور زندگی واپس لے۔ انسان کبھی اس بات کا سبب بن جاتا ہے کہ کسی زندگی چھن جائے لیکن در حقیقت انسان کسی سے اس کی زندگی چھین نہیں سکتا۔ حقیقت میں حیات و ممات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی حیات و ممات کا وا اکدار ـ” مختار “ نہیں ہے۔
ولہ اختلاف الیل والنھار افلا تعقلون (23 : 80) ” گردش لیل و نہار کے قبضہ قدرت میں ہے “۔ وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس کا مالک ہے اور وہی اس میں متصرف ہے ، جس طرح موت وحیات کا مالک وہی ہے۔ گردش لیل و نہار بھی ایک کائناتی سنت الہیہ ہے جس طرح موت وحیات کی کارکردگی اللہ کی سنت کے مطابق ہے ۔ وہ نفس انسانی ، جسم انسانی ، یہ کائنات اور یہ افلاک سب کے سب اسی سنت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ کسی کے جسم سے حیات نکال دے تو اس کا جسم ٹھندا ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر اللہ زمین سے روشنی واپس لے لے تو یہ تاریک رہ جائے ۔ یہاں اللہ نے زندگی پیدا کی اور روشنی پیدا کی اور ان دونوں سے زندگی کی گاڑی رواں دواں ہے ۔ اور یہ اس وقت تک چلتی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔
افلا تعقلون (23 : 80) ” کیا تم عقل نہیں رکھتے “۔ کہ تم ان چیزوں کی حقیقت کو سمجھ سکو۔ یہ سب چیزیں تو وجود باری اور صنعت بار کے شواہد ہیں کہ وہ خالق و مدبر ہے اور وہ اس پوری کائنات کا چلا رہا ہے۔
اب ان کے ساتھ سلسلہ کلام ختم کرکے اس پر ایک مثبت تبصرہ کیا جاتا ہے کہ بعث بعد الموت اور حساب و کتاب کے بارے میں ان لوگوں کے جو اقوال ہیں ایسے ہی مقولات سابقہ لوگوں کے بھی رہے ہیں ۔
بل قالو مثل اساطیر الا ولین (آیت نمبر 81 تا 82)
بادی النظر میں یہ بات نہایت مکروہ ہے ، اس لیے کہ ان آیات بینات اور ان دلائل اور دلائل کائنات کے باوجود لوگ جو ایسی باتیں کرتے ہیں وہ مکروہ باتیں ہیں۔ خود انسانی قوتیں ، انسان کی قوت سماعت ، اس کی قوت بینائی اور اس کی قوت غور و فکر اسے اس لیے دی گئی ہیں کہ وہ ایک ذمہ دار اور مسئول ہستی ہے ۔ وہ اپنے اعمال و افکار کے بارے میں ذمہ دار ہے۔ اگر وہ اچھے کام کرے گا تو اس کی جزاء کا مستحق ہوگا اور اگر برے کام کرے گا تو سزا کا مستحق ہوگا۔ دنیا میں صاف نظر آتا ہے کہ بعض اوقات انسان کو وہ جزاء ملتی ہے جس کا وہ مستحق ہوتا ہے اور بعض اوقات وہ سزا نہیں ملتی جس کا وہ سزا وار ہوتا ہے لہذا آخرت کا برپا ہونا عقلاً بھی لابدی ہے ۔
اللہ ہر وقت مارتا بھی رہتا ہے اور زندگی بھی عطا کرتا رہتا ہے ۔ اللہ کے لیے کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے کہ وہ دوبارہ کس طرح اٹھائے گا جبکہ اللہ ہر وقت مختلف چیزوں کو حیات دیتا رہتا ہے اور زندگی کا سیل رواں اس زمین پر جاری ہے۔
رہے اہل کفر تو نہ صرف یہ کہ ان کے قوائے مدرکہ بعث بعد الموت کا ادراک نہیں کرسکے اور اس میں پائے جانے والی اللہ کی حکمت کو سمجھ نہیں سکے بلکہ وہ اس عقیدے کے ساتھ مذاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے آباء و اجداد کو بھی قیام سے ڈریا جاتا رہے ہے لیکن ابھی تک تو یہ قیامت آئی نہیں ہے۔
لقد الا ولین (23 : 83) ” ہم نے یہ بھی وعدے بہت سنے ہیں اور ہم سے پلے باپ دادا بھی سنتے رہے ہیں ۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں ــ“۔ لیکن بعث بعد الموت کے لیے تو ایک وقت مقرر ہے۔ یہ اللہ نے اپنی تدبیر اور اپنی حکمت سے مقرر کیا ہے۔ اس میں کوئی تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔ یہ گھڑی وقت سے قبل نہیں آسکتی الا یہ کہ اللہ چاہے ، اگر چہ تمام مخلوق اس کا مطالبہ کردے یا غافلین کا کائی گروہ اس نظریہ سے مذاق ہی کرتا رہے۔
مشرکین عرب کے عقائد میں بڑا ہی اضطراب تھا۔ وہ اللہ کے وجود کا انکار نہ کرتے تھے۔ وہ اس بات کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ مالک سماوات والارض ہے۔ وہ مدبر سماوات ہے اور زمین اور آسمانوں کو تھامنے والا ہی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ دوسرے الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے۔ اور ان کا نظریہ یہ تھا کہ دوسرے الہوں کی بندگی وہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ انہیں اللہ کے قریب کرتے ہیں ۔ پھر وہ اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرتے تھے حالانکہ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ اللہ کی طرف نسبت کرتے تھے۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان کے مسلمہ عقائد کا ذکر کے ان پر گرفت کرتے ہیں تاکہ ان کے عقائد کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے ، اسے دور کردیا جائے اور انہیں اس عقیدہ توحید کی طرف لایا جائے جس کی طرف ان کے مسلمہ عقائد بھی راہنمائی کرتے ہیں بشرطیکہ وہ اپنی فطرت پر قائم ہوں اور انحراف نہ کریں۔
قل لمن تسحرون (آیت نمبر 84 تا 89) ’ “۔
ان کے عقائد کے اندر جو اضطراب تھا وہ کسی عقلی دلیل پر مبنی نہ تھا نہ کسی منطق کا تقا ضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جزیرہ العرب کے اندر مشرکین کے عقائد اور افکار کس قدر بگڑ گئے تھے حالانکہ وہ دین ابراہیم پر ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔
قل لمن تعلمون (23 : 84) ” ان سے کہو ، اگر تم جانتے ہو تو زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یعنی زمین کا مالک کون ہے اور زمین کے اندر موجود آبادی کا مالک کون ہے ؟
سیقولون للہ (23 : 85) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ مالک ہے “ لیکن اپنے عمل میں وہ اس حقیقت ملحوظ نہیں رکھتے اور پھر بھی بندگی غیر اللہ کی کرتے ہیں ۔ لہذا ان سے کہو۔
قل افلا تذکرون (23 : 85) ” پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے “۔ اس حقیقت کو اپنے طرز عمل میں کیوں نہیں لاتے۔
قل من رب العظیم (23 : 86) ” ان سے پوچھو ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے “۔ یہ سوال اس کائنات کی ابوہیت کے بارے میں ہے کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا متصرف کون ہے۔ سات آسمانوں سے مراد سات افلاک بھی ہوسکتے ہیں یا سات ستاروں کے مجموعے بھی ہو سکتے ہیں ۔ یا سات آسمان بھی ہو سکتے ہیں۔ اور سات جہاں بھی ہو سکتے ہیں یا کوئی سات فلکی مخلوق بھی ہو سکتے ہیں۔ غرض دراصل یہ ہے اور کنٹرول اور اقتدار اعلیٰ کے مفہوم کی طرف یعنی کون ہے جو سات آسمانوں اور عرش عظیم کا کنٹرولر ہے ؟
سیقو لون للہ (23 : 80) ” یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ “ لیکن اس اقرار کے باوجود یہ لوگ رب عرش عظیم سے ڈرتے نہیں ۔ نہ رب سماوات سے ڈرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ پھر دوسروں کو شریک بھی کرتے ہیں ۔ ایسے بتوں کو جو زمین پر گرے ہوئے ہیں ۔
قل افلا تتقون (23 : 87) ” تو پھر تم ڈرتے کیوں نہیں “۔
قل من تعملون (23 : 88) ” ان سے کہو بتائو اگر تم جانتے ہو کہ ہر چیز پر اقتدار کس کا ہے اور کون ہے جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ ” یہ سوال قبضے ، اقتدار اعلیٰ اور بادشاہت کے بارے میں ہے ، کہ کون ہے مقتدر اعلیٰ ؟ کو ہے جو سب چیزوں کا مالک ہے اور سب پر اس کا قبضہ و اقتدار ہے ۔ کون ہے جو ہر کسی کو پناہ دے سکتا ہے اور اس کے خلاف کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ وہ جس کو پناہ دے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا اور جس کو وہ پکڑنا چاہے کوئی نہیں ہے جو امت اللہ کو پکڑ سے بچاسکے۔
سیقلون اللہ (23 : 89) ” تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ہی ہے ــ“ اگر تم یہ باتیں تسلیم کرتے ہو تو پھر راہ ہدایت سے کیوں پھرے جارہے ہو۔ کیا جواز ہے پھر اس گمراہی کا ؟
فانی تسحرون (23 : 89) ’ پھر کہاں سے تم دھوکہ لگتا ہے ؟ “ حالانکہ اگر تم ان مذکورہ حقائق کو جانتے ہو تو تمہیں دھوکہ نہیں لگنا چاہیے ۔ حقیقت یہ کہ ان عقائد میں اضطراب اور یہ لوگ خبط میں بتلا ہیں۔
اب مناسب وقت آگیا ہے کہ ان کے شرکیہ عقائد کی تردید کردی جائے اور اللہ کی ذات سے اولاد کی نفی کردی جائے اور یہ فیصلہ سنادیا جائے کہ حقیقی عقائد وہی ہیں جو محمد ﷺ پیش کرتے ہیں۔