سورہ یٰسین (36): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Yaseen کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ یٰسین کے بارے میں معلومات

Surah Yaseen
سُورَةُ يسٓ
صفحہ 444 (آیات 55 سے 70 تک)

إِنَّ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ ٱلْيَوْمَ فِى شُغُلٍ فَٰكِهُونَ هُمْ وَأَزْوَٰجُهُمْ فِى ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ لَهُمْ فِيهَا فَٰكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ سَلَٰمٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ وَٱمْتَٰزُوا۟ ٱلْيَوْمَ أَيُّهَا ٱلْمُجْرِمُونَ ۞ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيْطَٰنَ ۖ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ وَأَنِ ٱعْبُدُونِى ۚ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا ۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا۟ تَعْقِلُونَ هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ ٱصْلَوْهَا ٱلْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ ٱلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلَىٰٓ أَعْيُنِهِمْ فَٱسْتَبَقُوا۟ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبْصِرُونَ وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَٰهُمْ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمْ فَمَا ٱسْتَطَٰعُوا۟ مُضِيًّا وَلَا يَرْجِعُونَ وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِى ٱلْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ وَمَا عَلَّمْنَٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ
444

سورہ یٰسین کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ یٰسین کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna ashaba aljannati alyawma fee shughulin fakihoona

آیت 55 { اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِہُوْنَ } ”یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے۔“

اردو ترجمہ

وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hum waazwajuhum fee thilalin AAala alaraiki muttakioona

آیت 56 { ہُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّکِئُوْنَ } ”وہ اور ان کی بیویاں سائے میں تختوں کے اوپر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔“

اردو ترجمہ

ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں، جو کچھ وہ طلب کریں اُن کے لیے حاضر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lahum feeha fakihatun walahum ma yaddaAAoona

آیت 57 { لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ } ”اس میں ان کے لیے تمام میوے ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جو وہ طلب کریں گے۔“

اردو ترجمہ

رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Salamun qawlan min rabbin raheemin

آیت 58 { سَلٰمٌقف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ”سلام کہا جائے گا ربّ ِرحیم کی طرف سے۔“ جنت میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے سلامتی کے پیغامات آتے رہیں گے۔

اردو ترجمہ

اور اے مجرمو، آج تم چھٹ کر الگ ہو جاؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waimtazoo alyawma ayyuha almujrimoona

آیت 59 { وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ } ”اور اعلان کیا جائے گا : اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جائو۔“ پھر تمام کافر اور مشرک لوگوں کو چھانٹ کر الگ کرلیا جائے گا اور انہیں مخاطب کر کے پوچھا جائے گا :

اردو ترجمہ

آدمؑ کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam aAAhad ilaykum ya banee adama an la taAAbudoo alshshaytana innahu lakum AAaduwwun mubeenun

آیت 60 { اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰــبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَج اِنَّہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لے لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی مت کرنا ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“

اردو ترجمہ

اور میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waani oAAbudoonee hatha siratun mustaqeemun

آیت 61 { وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”اور میری ہی بندگی کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“

اردو ترجمہ

مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کر دیا کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad adalla minkum jibillan katheeran afalam takoonoo taAAqiloona

آیت 62 { وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًاط اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ } ”اور وہ تو تم میں سے بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر کے لے گیا ‘ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے !“

اردو ترجمہ

یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hathihi jahannamu allatee kuntum tooAAadoona

آیت 63 { ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ } ”اب یہ جہنم حاضر ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا۔“

اردو ترجمہ

جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اِس کا ایندھن بنو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Islawha alyawma bima kuntum takfuroona

آیت 64 { اِصْلَوْہَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ } ”آج اس میں داخل ہو جائو اپنے کفر کی وجہ سے جو تم کرتے رہے تھے۔“

اردو ترجمہ

آج ہم اِن کے منہ بند کیے دیتے ہیں، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alyawma nakhtimu AAala afwahihim watukallimuna aydeehim watashhadu arjuluhum bima kanoo yaksiboona

آیت 65 { اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ } ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے“ { وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”اور ان کے پائوں گواہی دیں گے اس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔“ مجرمین کے اپنے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہمارے ذریعے سے انہوں نے فلاں فلاں غلط کام کیے تھے۔

اردو ترجمہ

ہم چاہیں تو اِن کی آنکھیں موند دیں، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں، کہاں سے اِنہیں راستہ سجھائی دے گا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw nashao latamasna AAala aAAyunihim faistabaqoo alssirata faanna yubsiroona

آیت 66 { وَلَوْ نَشَآئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں“ { فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ } ”پھر یہ دوڑیں راستہ پانے کے لیے ‘ لیکن کہاں دیکھ سکیں گے ؟“

اردو ترجمہ

ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw nashao lamasakhnahum AAala makanatihim fama istataAAoo mudiyyan wala yarjiAAoona

آیت 67 { وَلَوْ نَشَآئُ لَمَسَخْنٰـہُمْ عَلٰی مَکَانَتِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں مسنح کردیں ان کے اپنے مقام پر“ یعنی اگر اللہ چاہے تو وہ جہاں ‘ جس حالت میں ہوں وہیں پر ان کی صورتیں مسنح ہوجائیں۔ { فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّلَا یَرْجِعُوْنَ } ”تو نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔“

اردو ترجمہ

جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں، کیا (یہ حالات دیکھ کر) انہیں عقل نہیں آتی؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waman nuAAammirhu nunakkishu fee alkhalqi afala yaAAqiloona

آیت 68 { وَمَنْ نُّـعَمِّرْہُ نُـنَـکِّسْہُ فِی الْْخَلْقِ } ”اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔“ ظاہر ہے جب بڑھاپا آتا ہے تو انسان کے قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ ؎مضمحل ہوگئے قویٰ غالبؔوہ عناصر میں اعتدال کہاں ؟ { اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ } ”تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟“

اردو ترجمہ

ہم نے اِس (نبی) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama AAallamnahu alshshiAAra wama yanbaghee lahu in huwa illa thikrun waquranun mubeenun

آیت 69 { وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ } ”اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔“ اس سے پہلے سورة الشعراء میں شعراء کے بارے میں یہ حکم ہم پڑھ آئے ہیں : { وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں“۔ سورة الشعراء کی ان آیات کے بعد اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے استثناء کا ذکر بھی فرمایا ہے ‘ لیکن شعراء اور شاعری کے بارے میں عام قاعدہ کلیہ بہر حال یہی ہے جو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس حقیقت کا اعلان فرمادیا گیا کہ شاعری کے ساتھ ہمارے رسول ﷺ کی طبیعت کی مناسبت ہی نہیں۔ آپ ﷺ کی طبیعت میں شعر فہمی اور شعر شناسی کا ملکہ تو تھا لیکن شعر پڑھنے کا ذوق نہیں تھا ‘ اس لیے اگر آپ ﷺ کبھی کوئی شعر پڑھتے بھی تو اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجاتے اور شعر کا وزن خراب ہوجاتا۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ایک شعر پڑھا اور پڑھتے ہوئے حسب معمول شعر بےوزن ہوگیا۔ حضرت ابوبکر رض پاس تھے ‘ آپ رض سن کر مسکرائے اور عرض کیا : اِنِّی اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں“۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو شعر کی تعلیم نہیں دی تو پھر آپ ﷺ درست شعر کیونکر پڑھیں گے ! گویا آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بےوزن شعر سن کر حضرت ابوبکر رض کو ثبوت مل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ میں شعر کے فنی رموز اور وزن وغیرہ کا ذوق پیدا ہی نہیں فرمایا۔ البتہ معنوی اعتبار سے حضور ﷺ شعر کو خوب سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً 1… اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا 2 کہ بہت سے اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہت سے خطبات جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ { اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ} ”یہ تو بس ایک یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے۔“ یہ ایک صاف واضح اور روشن کلام ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔

اردو ترجمہ

تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردار کر دے جو زندہ ہو اور انکار کرنے والوں پر حجت قائم ہو جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyunthira man kana hayyan wayahiqqa alqawlu AAala alkafireena

آیت 70 { لِّیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا } ”تاکہ وہ خبردار کر دے اس کو جو زندہ ہو“ یہاں ”زندہ ہونے“ سے مراد روح کا زندہ ہونا ہے۔ یہ مضمون اگرچہ قبل ازیں بھی متعدد مقامات پر بیان ہوچکا ہے ‘ لیکن اس آیت میں یہ واضح ترا نداز میں آیا ہے۔ گویا کچھ انسان جیتے جی مردہ ہوتے ہیں ‘ جیسے ابوجہل اور ابو لہب بحیثیت انسان زندہ نہیں تھے ‘ وہ صرف حیوانی سطح پر زندہ تھے ‘ جبکہ ان کے اندر ان کی روحوں کی موت واقع ہوچکی تھی۔ چناچہ قرآن کا انذار صرف اسی انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جس کے اندر اس کی روح زندہ ہو اور اس کی فطرت مسنح نہ ہوچکی ہو۔ یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ”فطرت“ کے مترادف کے طور پر ”خلقت“ کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے اور اسی کو فارسی زبان میں ”سرشت“ بھی کہتے ہیں۔ لیکن زیر بحث مضمون کی وضاحت کے لیے جس سیاق وسباق میں لفظ ”فطرت“ کا حوالہ آیا ہے اس کا مفہوم لفظ ِ ”خلقت“ سے یکسر مختلف ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ”خلقت“ کا تعلق عالم ِخلق یعنی مٹی اور زمین سے ہے ‘ اس لیے یہ ضعف اور خامیوں سے عبارت ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق انسان کمزور النساء : 28 بھی ہے اور جلد باز بنی اسرائیل : 11 بھی۔ گویا انسانی خلقت میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس انسانی ”فطرت“ کا تعلق ”روح“ سے ہے جو اللہ کی طرف سے انسان میں پھونکی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَاط } الروم : 30 ”یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے“۔ چناچہ فطرت کمزوریوں اور خامیوں سے پاک ہے ‘ کیونکہ اس کا تعلق عالم امر یا عالم ِبالا سے ہے۔ { وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ } ”اور کافروں پر قول واقع ہوجائے۔“ یعنی ان پر حجت تمام ہوجائے اور وہ عذاب کے مستحق ہوجائیں۔

444