اس صفحہ میں سورہ Yaseen کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
إِنَّ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ ٱلْيَوْمَ فِى شُغُلٍ فَٰكِهُونَ
هُمْ وَأَزْوَٰجُهُمْ فِى ظِلَٰلٍ عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ مُتَّكِـُٔونَ
لَهُمْ فِيهَا فَٰكِهَةٌ وَلَهُم مَّا يَدَّعُونَ
سَلَٰمٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ
وَٱمْتَٰزُوا۟ ٱلْيَوْمَ أَيُّهَا ٱلْمُجْرِمُونَ
۞ أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَٰبَنِىٓ ءَادَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا۟ ٱلشَّيْطَٰنَ ۖ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
وَأَنِ ٱعْبُدُونِى ۚ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ
وَلَقَدْ أَضَلَّ مِنكُمْ جِبِلًّا كَثِيرًا ۖ أَفَلَمْ تَكُونُوا۟ تَعْقِلُونَ
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ
ٱصْلَوْهَا ٱلْيَوْمَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ
ٱلْيَوْمَ نَخْتِمُ عَلَىٰٓ أَفْوَٰهِهِمْ وَتُكَلِّمُنَآ أَيْدِيهِمْ وَتَشْهَدُ أَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
وَلَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلَىٰٓ أَعْيُنِهِمْ فَٱسْتَبَقُوا۟ ٱلصِّرَٰطَ فَأَنَّىٰ يُبْصِرُونَ
وَلَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنَٰهُمْ عَلَىٰ مَكَانَتِهِمْ فَمَا ٱسْتَطَٰعُوا۟ مُضِيًّا وَلَا يَرْجِعُونَ
وَمَن نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِى ٱلْخَلْقِ ۖ أَفَلَا يَعْقِلُونَ
وَمَا عَلَّمْنَٰهُ ٱلشِّعْرَ وَمَا يَنۢبَغِى لَهُۥٓ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَقُرْءَانٌ مُّبِينٌ
لِّيُنذِرَ مَن كَانَ حَيًّا وَيَحِقَّ ٱلْقَوْلُ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ
آیت 55 { اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِہُوْنَ } ”یقینا اہل ِجنت اس دن مزے کرنے میں مشغول ہوں گے۔“
آیت 56 { ہُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّکِئُوْنَ } ”وہ اور ان کی بیویاں سائے میں تختوں کے اوپر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔“
آیت 57 { لَہُمْ فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّلَہُمْ مَّا یَدَّعُوْنَ } ”اس میں ان کے لیے تمام میوے ہوں گے اور ان کے لیے ہر وہ شے ہوگی جو وہ طلب کریں گے۔“
آیت 58 { سَلٰمٌقف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ”سلام کہا جائے گا ربّ ِرحیم کی طرف سے۔“ جنت میں اللہ کی طرف سے ان کے لیے سلامتی کے پیغامات آتے رہیں گے۔
آیت 59 { وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوْنَ } ”اور اعلان کیا جائے گا : اے مجرمو ! آج تم الگ ہو جائو۔“ پھر تمام کافر اور مشرک لوگوں کو چھانٹ کر الگ کرلیا جائے گا اور انہیں مخاطب کر کے پوچھا جائے گا :
آیت 60 { اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰــبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَج اِنَّہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ} ”اے آدم کی اولاد ! کیا میں نے تم سے یہ وعدہ نہیں لے لیا تھا کہ تم شیطان کی بندگی مت کرنا ‘ بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
آیت 61 { وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} ”اور میری ہی بندگی کرنا۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔“
آیت 62 { وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْکُمْ جِبِلًّا کَثِیْرًاط اَفَلَمْ تَکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ } ”اور وہ تو تم میں سے بہت بڑی تعداد کو گمراہ کر کے لے گیا ‘ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے تھے !“
آیت 63 { ہٰذِہٖ جَہَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ } ”اب یہ جہنم حاضر ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا۔“
آیت 64 { اِصْلَوْہَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ } ”آج اس میں داخل ہو جائو اپنے کفر کی وجہ سے جو تم کرتے رہے تھے۔“
آیت 65 { اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاہِہِمْ وَتُکَلِّمُنَآ اَیْدِیْہِمْ } ”آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے“ { وَتَشْہَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ } ”اور ان کے پائوں گواہی دیں گے اس کمائی کے بارے میں جو وہ کرتے رہے تھے۔“ مجرمین کے اپنے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے کہ ہمارے ذریعے سے انہوں نے فلاں فلاں غلط کام کیے تھے۔
آیت 66 { وَلَوْ نَشَآئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مٹا دیں“ { فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ } ”پھر یہ دوڑیں راستہ پانے کے لیے ‘ لیکن کہاں دیکھ سکیں گے ؟“
آیت 67 { وَلَوْ نَشَآئُ لَمَسَخْنٰـہُمْ عَلٰی مَکَانَتِہِمْ } ”اور اگر ہم چاہیں تو ان کی صورتیں مسنح کردیں ان کے اپنے مقام پر“ یعنی اگر اللہ چاہے تو وہ جہاں ‘ جس حالت میں ہوں وہیں پر ان کی صورتیں مسنح ہوجائیں۔ { فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّلَا یَرْجِعُوْنَ } ”تو نہ وہ آگے چل سکیں اور نہ پیچھے لوٹ سکیں۔“
آیت 68 { وَمَنْ نُّـعَمِّرْہُ نُـنَـکِّسْہُ فِی الْْخَلْقِ } ”اور جس کو ہم زیادہ عمر دیتے ہیں اس کی ِخلقت میں ضعف پیدا کردیتے ہیں۔“ ظاہر ہے جب بڑھاپا آتا ہے تو انسان کے قویٰ کمزور ہوجاتے ہیں۔ ؎مضمحل ہوگئے قویٰ غالبؔوہ عناصر میں اعتدال کہاں ؟ { اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ } ”تو کیا یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟“
آیت 69 { وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ } ”اور ہم نے ان کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ ان کے شایانِ شان ہے۔“ اس سے پہلے سورة الشعراء میں شعراء کے بارے میں یہ حکم ہم پڑھ آئے ہیں : { وَالشُّعَرَآئُ یَتَّبِعُہُمُ الْغَاوٗنَ اَلَمْ تَرَ اَنَّہُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّہِیْمُوْنَ وَاَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْنَ } ”اور شعراء کی پیروی تو گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں رہتے ہیں۔ اور یہ کہ وہ جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں“۔ سورة الشعراء کی ان آیات کے بعد اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس حوالے سے استثناء کا ذکر بھی فرمایا ہے ‘ لیکن شعراء اور شاعری کے بارے میں عام قاعدہ کلیہ بہر حال یہی ہے جو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس حقیقت کا اعلان فرمادیا گیا کہ شاعری کے ساتھ ہمارے رسول ﷺ کی طبیعت کی مناسبت ہی نہیں۔ آپ ﷺ کی طبیعت میں شعر فہمی اور شعر شناسی کا ملکہ تو تھا لیکن شعر پڑھنے کا ذوق نہیں تھا ‘ اس لیے اگر آپ ﷺ کبھی کوئی شعر پڑھتے بھی تو اس کے الفاظ آگے پیچھے ہوجاتے اور شعر کا وزن خراب ہوجاتا۔ ایک دفعہ آپ ﷺ نے ایک شعر پڑھا اور پڑھتے ہوئے حسب معمول شعر بےوزن ہوگیا۔ حضرت ابوبکر رض پاس تھے ‘ آپ رض سن کر مسکرائے اور عرض کیا : اِنِّی اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں“۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو شعر کی تعلیم نہیں دی تو پھر آپ ﷺ درست شعر کیونکر پڑھیں گے ! گویا آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بےوزن شعر سن کر حضرت ابوبکر رض کو ثبوت مل گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ میں شعر کے فنی رموز اور وزن وغیرہ کا ذوق پیدا ہی نہیں فرمایا۔ البتہ معنوی اعتبار سے حضور ﷺ شعر کو خوب سمجھتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ ﷺ کا فرمان ہے : اِنَّ مِنَ الشِّعْرِ لَحِکْمَۃً 1… اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ لَسِحْرًا 2 کہ بہت سے اشعار حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہت سے خطبات جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔ { اِنْ ہُوَ اِلَّا ذِکْرٌ وَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ} ”یہ تو بس ایک یاد دہانی اور نہایت واضح قرآن ہے۔“ یہ ایک صاف واضح اور روشن کلام ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔
آیت 70 { لِّیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّا } ”تاکہ وہ خبردار کر دے اس کو جو زندہ ہو“ یہاں ”زندہ ہونے“ سے مراد روح کا زندہ ہونا ہے۔ یہ مضمون اگرچہ قبل ازیں بھی متعدد مقامات پر بیان ہوچکا ہے ‘ لیکن اس آیت میں یہ واضح ترا نداز میں آیا ہے۔ گویا کچھ انسان جیتے جی مردہ ہوتے ہیں ‘ جیسے ابوجہل اور ابو لہب بحیثیت انسان زندہ نہیں تھے ‘ وہ صرف حیوانی سطح پر زندہ تھے ‘ جبکہ ان کے اندر ان کی روحوں کی موت واقع ہوچکی تھی۔ چناچہ قرآن کا انذار صرف اسی انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے جس کے اندر اس کی روح زندہ ہو اور اس کی فطرت مسنح نہ ہوچکی ہو۔ یہاں پر یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ”فطرت“ کے مترادف کے طور پر ”خلقت“ کا لفظ استعمال کرلیا جاتا ہے اور اسی کو فارسی زبان میں ”سرشت“ بھی کہتے ہیں۔ لیکن زیر بحث مضمون کی وضاحت کے لیے جس سیاق وسباق میں لفظ ”فطرت“ کا حوالہ آیا ہے اس کا مفہوم لفظ ِ ”خلقت“ سے یکسر مختلف ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ”خلقت“ کا تعلق عالم ِخلق یعنی مٹی اور زمین سے ہے ‘ اس لیے یہ ضعف اور خامیوں سے عبارت ہے۔ مثلاً قرآن کے مطابق انسان کمزور النساء : 28 بھی ہے اور جلد باز بنی اسرائیل : 11 بھی۔ گویا انسانی خلقت میں بہت سی کمزوریاں اور کوتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس انسانی ”فطرت“ کا تعلق ”روح“ سے ہے جو اللہ کی طرف سے انسان میں پھونکی گئی ہے۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَاط } الروم : 30 ”یہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے“۔ چناچہ فطرت کمزوریوں اور خامیوں سے پاک ہے ‘ کیونکہ اس کا تعلق عالم امر یا عالم ِبالا سے ہے۔ { وَّیَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ } ”اور کافروں پر قول واقع ہوجائے۔“ یعنی ان پر حجت تمام ہوجائے اور وہ عذاب کے مستحق ہوجائیں۔