سورہ الواقیہ (56): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Waaqia کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الواقعة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ الواقیہ کے بارے میں معلومات

Surah Al-Waaqia
سُورَةُ الوَاقِعَةِ
صفحہ 536 (آیات 51 سے 76 تک)

ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلْمُكَذِّبُونَ لَءَاكِلُونَ مِن شَجَرٍ مِّن زَقُّومٍ فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ فَشَٰرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْحَمِيمِ فَشَٰرِبُونَ شُرْبَ ٱلْهِيمِ هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ ٱلدِّينِ نَحْنُ خَلَقْنَٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ أَفَرَءَيْتُم مَّا تُمْنُونَ ءَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلْخَٰلِقُونَ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَٰلَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِى مَا لَا تَعْلَمُونَ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ أَفَرَءَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ ءَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلزَّٰرِعُونَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَٰهُ حُطَٰمًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ إِنَّا لَمُغْرَمُونَ بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ أَفَرَءَيْتُمُ ٱلْمَآءَ ٱلَّذِى تَشْرَبُونَ ءَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ ٱلْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَٰهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ أَفَرَءَيْتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى تُورُونَ ءَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنشِـُٔونَ نَحْنُ جَعَلْنَٰهَا تَذْكِرَةً وَمَتَٰعًا لِّلْمُقْوِينَ فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ ۞ فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ
536

سورہ الواقیہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ الواقیہ کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو!

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma innakum ayyuha alddalloona almukaththiboona

آیت 51{ ثُمَّ اِنَّـکُمْ اَیُّـہَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر تم ‘ اے گمراہو اور جھٹلانے والو !“

اردو ترجمہ

تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laakiloona min shajarin min zaqqoomin

آیت 52{ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ۔ } ”ضرور کھائو گے زقوم کے درخت سے۔“ تم بھٹکے ہوئے تھے ‘ ہم نے تمہاری راہنمائی کے لیے اپنا رسول ﷺ بھیجا ‘ کتاب ہدایت بھیجی : { تَـبْصِرَۃً وَّذِکْرٰی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ۔ } قٓ یہ سب کچھ تمہاری آنکھیں کھولنے کے لیے تھا۔ لیکن اس کے باوجود تم نے ہمارے رسول ﷺ کو بھی جھٹلادیا ‘ ہماری کتاب کی بھی تکذیب کی اور گمراہ رہنے کو ہی ترجیح دی۔ تو اے بھٹکے ہوئے اور ہماری ہدایت کو جھٹلانے والے لوگو ! اب جہنم کے اندر تمہاری ضیافت زقوم کے درخت سے ہی کی جائے گی۔ 1 1 زقوم کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لَـوْ اَنَّ قَطْرَۃً مِنَ الزَّقُّوْمِ قُطِرَتْ فِیْ دَارِ الدُّنْیَا لَاَفْسَدَتْ عَلٰی اَھْلِ الدُّنْیَا مَعَایِشَھُمْ فَکَیْفَ بِمَنْ یَکُوْنُ طَعَامَہٗ سنن الترمذی ‘ ابواب صفۃ جھنم ‘ باب ما جاء فی صفۃ شراب اھل النار”اگر زقوم کا ایک قطرہ بھی دنیا میں ٹپکا دیا جائے تو دنیا والوں کے لیے ان کی زندگی برباد کر دے ‘ تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جن کی غذا ہی یہی ہوگی !“ ”زقوم“ صحرائے عرب کا ایک درخت ہے ‘ جس کے بارے میں مولانا مودودی رح نے لکھا ہے :”زقوم ایک قسم کا درخت ہے جو تہامہ کے علاقے میں ہوتا ہے۔ مزہ اس کا تلخ ہوتا ہے ‘ بو ناگوار ہوتی ہے اور توڑنے پر اس میں سے دودھ کا سا رس نکلتا ہے جو اگر جسم کو لگ جائے تو ورم ہوجاتا ہے۔ غالباً یہ وہی چیز ہے جسے ہمارے ملک میں تھوہر کہتے ہیں۔“ تفہیم القرآن ‘ جلد 4 ‘ ص 289اس کے بارے میں مفتی محمد شفیع رح رقم طراز ہیں :”بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح سانپ بچھو وغیرہ دنیا میں بھی ہوتے ہیں اسی طرح دوزخ میں بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن دوزخ کے سانپ بچھو یہاں کے سانپ بچھوئوں سے کہیں زیادہ خوفناک ہوں گے ‘ اسی طرح دوزخ کا زقوم بھی اپنی جنس کے لحاظ سے تو دنیا ہی کے زقوم کی طرح ہوگا ‘ لیکن یہاں کے زقوم سے کہیں زیادہ کریہہ المنظر اور کھانے میں کہیں زیادہ تکلیف دہ ہوگا ‘ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم !“ معارف القرآن ‘ جلد 7 ‘ ص 241

اردو ترجمہ

اُسی سے تم پیٹ بھرو گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Famalioona minha albutoona

آیت 53{ فَمَالِئُوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ۔ } ”پس اسی سے تم اپنے پیٹ بھرو گے۔“

اردو ترجمہ

اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fashariboona AAalayhi mina alhameemi

آیت 54{ فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ۔ } ”پھر پیو گے اس پر کھولتا ہوا پانی۔“

اردو ترجمہ

تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fashariboona shurba alheemi

آیت 55{ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْہِیْمِ۔ } ”اور ایسے پیو گے جیسے پیاس کا مارا اونٹ پیتا ہے۔“ جس طرح پیاس زدہ اونٹ جلدی جلدی اپنے پیٹ میں پانی بھرتا چلا جاتا ہے تم بھی وہ کھولتا ہوا پانی اسی طرح اپنے پیٹو میں بھروگے۔

اردو ترجمہ

یہ ہے بائیں والوں کی ضیافت کا سامان روز جزا میں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hatha nuzuluhum yawma alddeeni

آیت 56{ ہٰذَا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ۔ } ”یہ ہوگی ان کی ابتدائی ضیافت جزا کے دن۔“ یہاں پر ان تینوں گروہوں کا بیان مکمل ہوگیا۔ یاد رہے کہ سورة الرحمن میں جہنم اور جنت کے حوالے سے ان تینوں گروہوں کا تذکرہ سورة کے آخر میں آیا تھا ‘ جبکہ یہاں ان کا ذکر سورت کے آغاز میں آیا ہے۔ یعنی دونوں سورتوں کے مضامین معکوس ترتیب سے بیان ہوئے ہیں۔ اسی عکسی ترتیب کے تحت اب سورت کے دسرے رکوع میں وہ مضمون آ رہا ہے جو سورة الرحمن کے پہلے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ سورة الرحمن کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کی خلاقی اور صناعی کا ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان بنائے ‘ زمین بنائی ‘ زمین میں دریا چلائے ‘ سمندر پھیلائے۔ دریائوں اور سمندروں کی تہوں میں عجیب و غریب قسم کے موتی اور مونگے پیدا کیے اور پہاڑوں جیسے بڑے بڑے جہازوں کا پانی کی سطح پر تیرنا ممکن بنایا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کی قدرتوں کے مظاہر ہیں۔ چناچہ اسی انداز سے یہاں اس سورت میں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور صناعی کا ذکر ہونے جا رہا ہے ‘ لیکن پے درپے سوالات کے ساتھ بہت ہی خوبصورت اور موثر انداز میں :

اردو ترجمہ

ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Nahnu khalaqnakum falawla tusaddiqoona

آیت 57{ نَحْنُ خَلَقْنٰـکُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُوْنَ۔ } ”ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ‘ تو تم لوگ تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟“ جب یہ تسلیم کرتے ہو کہ تم سب کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو پھر تم لوگوں کو یہ یقین کیوں نہیں آتا کہ وہی اللہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس میں آخر تعجب اور شک والی کون سی بات ہے ؟

اردو ترجمہ

کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaraaytum ma tumnoona

آیت 58{ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ۔ } ”کیا تم نے کبھی غور کیا اس پر جو منی تم ٹپکادیتے ہو ؟“

اردو ترجمہ

اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aantum takhluqoonahu am nahnu alkhaliqoona

آیت 59{ ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَہٓٗ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ۔ } ”کیا اس کی تخلیق تم کرتے ہو یا ہم تخلیق کرنے والے ہیں ؟“ تم تو پانی کی وہ بوند ٹپکا کر فارغ ہوجاتے ہو۔ اس کے بعد رحم مادر میں ایک حیرت انگیز تخلیقی عمل کا آغاز ہوجاتا ہے۔ وہ نطفہ علقہ میں تبدیل ہوتا ہے ‘ علقہ سے مغضہ بنتا ہے۔ پھر ہڈیاں بنتی ہیں ‘ جوڑ بند درست ہوتے ہیں ‘ آنکھوں ‘ کانوں اور دوسرے اعضاء کا نقشہ تیار ہوتا ہے اور یہ سارا عمل تین پردوں { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰـثٍط } الزمر : 6 کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے۔ کیا اس سارے عمل میں تمہارا بھی کوئی حصہ ہے ؟ ماں کے پیٹ میں مختلف پیچیدہ تخلیقی مراحل سے گزرتے ہوئے بچے کے کسی عضو کے بنانے میں کیا کوئی تمہارا کردار بھی ہے ؟ یا اس کی تذکیر و تانیث میں تمہارا کچھ اختیار ہے ؟ ظاہر ہے اس پورے تخلیقی عمل میں تمہارا حصہ یا کردار بالکل نہیں ہے ‘ اور تم تسلیم کرتے ہو کہ نہیں ہے ‘ تو پھر اس حقیقت کو قبول کیوں نہیں کرلیتے ہو کہ یہ سب کچھ اللہ کی مرضی و منشاء اور صناعی و خلاقی کا مظہر ہے۔ جب ہم ان آیات کی تلاوت کریں تو ہر سوال کے جواب میں عجز و انکساری سے عرض کرنا چاہیے : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ ! کہ اے میرے پروردگار ! یہ سب تیری کاریگری ‘ تیری صناعی اور تیری خلاقی کا مظہر ہے ‘ اس میں سے ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں۔ تفسیر عثمانی کے مطابق بعض روایات کی بنا پر علماء نے یہ مستحب سمجھا ہے۔

اردو ترجمہ

ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Nahnu qaddarna baynakumu almawta wama nahnu bimasbooqeena

آیت 60 ‘ 61{ نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّـبَدِّلَ اَمْثَالَـکُمْ } ”ہم نے تمہارے مابین موت کو ٹھہرا دیا ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری مثل بدل کر لائیں“ یہ مقام بھی مشکلات القرآن میں سے ہے۔ بہرحال اس کی ایک توجیہہ جو میری سمجھ میں آتی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہاں دو انسانی زندگیوں اور ان کے درمیان طے شدہ موت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی ایک دنیا کی زندگی ہے اور دوسری آخرت کی زندگی اور درمیان میں اللہ تعالیٰ نے موت کا پردہ حائل کردیا ہے۔ موت کی اس سرحد کے اس طرف بھی تم ہو اور دوسری طرف بھی تم ہو۔ گویا موت کے وقفے کے بعد زندگی کا تسلسل پھر سے بحال ہوجائے گا۔ بقول شاعر ؎موت اِک زندگی کا وقفہ ہے یعنی آگے چلیں گے دم لے کر !یہاں سمجھنے کا اصل نکتہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا جسم تو مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے ‘ جبکہ اس کی روح کو موت نہیں آتی ‘ روح زندہ رہتی ہے۔ قیامت میں انسان کو جس جسم کے ساتھ دوبارہ زندہ کیا جائے گا وہ بعینہٖ اس کا دنیا والا جسم نہیں ہوگا ‘ بلکہ ”اس جیسا“ جسم ہوگا۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ انسان کا دنیوی زندگی والا جسم تو اس زندگی میں بھی مسلسل بدلتا رہتا ہے۔ زندہ جسم کے اربوں خلیے مسلسل ختم ہوتے رہتے ہیں اور ایسے ہی نئے خلیے مسلسل بنتے رہتے ہیں۔ جلد کی جھلی بھی بدلتی رہتی ہے اور ناخن بھی لگاتار گھستے اور نئے بنتے رہتے ہیں۔ اس عمل کو ذہن میں رکھیں تو یہ حقیقت بخوبی سمجھ میں آجاتی ہے کہ ایک انسان کا چند سال پہلے جو جسم تھا آج اس کا جسم وہ نہیں ہے اور جو جسم اس کا آج ہے چند سال بعد بعینہٖ یہ نہیں رہے گا۔ چناچہ جب انسان کا جسم مسلسل تبدیل ہو رہا ہے تو آخرت میں اسے بعینہٖ دنیا والا جسم ملنا ویسے ہی بعید از قیاس ہے۔ اگر وقتی طور پر یہ فرض کرلیا جائے کہ انسان کو آخرت میں دنیا والا جسم ملے گا تو پھر اس سوال کا جواب بھی دینا پڑے گا کہ وہ اس کا کون سا جسم ہوگا ؟ بیس برس کی عمر والا ؟ چالیس سال کی عمر والا ؟ یا ساٹھ سال کی عمر والا ؟ لہٰذا یہ بات عقل اور منطق ہی کے خلاف ہے کہ انسان کو دوبارہ دنیا والے جسم کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ چناچہ آخرت میں انسان کو دنیا کے جسم جیسا جسم دیا جائے گا اور اس کی روح کو اس کے اس جسم سے ملا کر اسے نئی زندگی بخشی جائے گی۔ یہ مضمون قرآن میں تین مقامات بنی اسرائیل : 99 ‘ یٰسٓ: 81 ‘ الدھر : 28 پر آیا ہے۔ بہرحال دوبارہ زندہ ہونے کے بعد انسان کی جان اور روح جب نئے جسم میں منتقل ہوجائے گی تو اس کے شعور اور اس کی یادداشت کا دنیوی تسلسل بعینہٖ بحال کردیا جائے گا۔ دنیا میں وہ کیا تھا ؟ وہاں اس نے کب کیا کیا تھا ؟ زندہ ہوتے ہی اسے سب کچھ یاد آجائے گا۔ کیونکہ دنیوی زندگی کے دوران اس کا جسم تو بدلتا رہا تھا لیکن اس کے شعور ذات کا تسلسل بغیر کسی خلل کے آخر تک برقرار رہا تھا۔ اس لیے وہ سلسلہ موت کے باعث جہاں سے ٹوٹا تھا عین وہیں سے اسے جوڑ دیا جائے گا۔ چناچہ ان آیات کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ اے لوگو ! تمہاری دو زندگیوں کے درمیان ہم نے ہی موت کا پردہ حائل کر رکھا ہے ‘ تو کیا ہم اس پر قادر نہیں ہیں کہ تم جیسے وجود دوبارہ پیدا کردیں۔ { وَنُنْشِئَـکُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ } ”اور تمہیں ایسی تخلیق میں اٹھائیں جسے تم نہیں جانتے !“ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم ایسے عالم میں اٹھا کھڑا کریں گے جس کی کیفیت سے آج تم واقف نہیں ہو یعنی عالم آخرت میں۔

اردو ترجمہ

کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

AAala an nubaddila amthalakum wanunshiakum fee ma la taAAlamoona

اردو ترجمہ

اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad AAalimtumu alnnashata aloola falawla tathakkaroona

آیت 62{ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی } ”اور تم اپنی پہلی زندگی کے بارے میں تو جانتے ہی ہو“ یعنی اپنی دنیوی تخلیق سے متعلق تمام مراحل کے بارے میں تو تم جانتے ہو۔ انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کا ذکر قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ لیکن جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة المومنون کی یہ آیات اس موضوع پر قرآن کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں :{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ - ثُمَّ جَعَلْنٰـہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ - ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًاق ثُمَّ اَنْشَاْنٰــہُ خَلْقًا اٰخَرَط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ }”ہم نے پیدا کیا انسان کو مٹی کے خلاصے سے۔ پھر ہم نے اسے بوند کی شکل میں ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے اس نطفہ کو علقہ کی شکل دے دی ‘ پھر علقہ کو ہم نے گوشت کا لوتھڑا بنا دیا۔ پھر ہم نے گوشت کے اس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں ‘ پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا ‘ پھر ہم نے اسے ایک اور ہی تخلیق پر اٹھا دیا۔ پس بڑا با برکت ہے اللہ ‘ تمام تخلیق کرنے والوں میں بہترین تخلیق کرنے و الا۔“تو جب اس حیرت انگیز اور پیچیدہ تخلیقی عمل کے مختلف مراحل تمہارے علم اور مشاہدے میں آ چکے ہیں : { فَلَوْلَا تَذَکَّرُوْنَ۔ } ”تو پھر تم سمجھتے کیوں نہیں ہو ؟“ تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے ؟ تم اس سے نصیحت اور یاددہانی کیوں اخذ نہیں کرتے ؟۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صناعی کے ان مظاہر کا ادراک کرلینے کے بعد بھی تمہیں یہ بات کیوں سمجھ میں نہیں آتی کہ جس اللہ نے اس عمل سے گزار کر ہمیں ابتدا میں پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی ہمیں پیدا کرسکتا ہے ؟ آئندہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی خلاقی کی چند اور مثالیں بیان کی جا رہی ہیں :

اردو ترجمہ

کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaraaytum ma tahruthoona

آیت 63{ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ } ”کیا تم نے کبھی غور کیا کہ یہ بیج جو تم بوتے ہو ؟“ تم لوگ تو بیج کو مٹی میں دبا کر آجاتے ہو۔ اس کے بعد تم کیا جانو کہ وہ بیج کس کس مرحلے سے گزرتا ہے ‘ کس طرح اس کی جڑیں نکل کر زمین میں پیوست ہوتی ہیں اور کس طرح اس کی کو نپلیں زمین کو پھاڑ کر باہر نکلتی ہیں !

اردو ترجمہ

اِن سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا اُن کے اگانے والے ہم ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aantum tazraAAoonahu am nahnu alzzariAAoona

آیت 64{ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ } ”کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟“ یہاں ہماری زبانوں پر بےاختیار یہ الفاظ آجانے چاہئیں : بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ ! کہ نہیں ! اے ہمارے پروردگار ! اسے تو ہی اگاتا ہے ‘ اس میں ہمارا کچھ بھی اختیار نہیں ! علامہ اقبال کی نظم اَلْاَرْضُ لِلّٰہ کے درج ذیل اشعار میں ان ہی آیات کے اسلوب اور مضمون کی جھلک نظر آتی ہے : ؎پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار ؟خاک یہ کس کی ہے ‘ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب ؟موسموں کو کس نے سکھلائی ہے خوئے انقلاب ؟دہ خدایا ! یہ زمین تیری نہیں ‘ تیری نہیں !تیرے آباء کی نہیں ‘ تیری نہیں ‘ میری نہیں !یعنی یہ زمین ‘ یہ کائنات ‘ کائنات کا پورا نظام یہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے اور اسی کی قدرت و مشیت سے اس کائنات کا یہ نظام چل رہا ہے۔

اردو ترجمہ

ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Law nashao lajaAAalnahu hutaman fathaltum tafakkahoona

آیت 65{ لَـوْ نَشَآئُ لَجَعَلْنٰہُ حُطَامًا } ”اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں“ اگر ہم چاہیں تو کسی آسمانی آفت ‘ طوفان ‘ جھکڑ یا ژالہ باری سے تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہاری لہلہاتی فصلوں کو برباد کر کے رکھ دیں۔ { فَظَلْتُمْ تَفَکَّہُوْنَ } ”پھر تم بیٹھے رہو باتیں بناتے ہوئے۔“

اردو ترجمہ

کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna lamughramoona

آیت 66{ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ } ”کہ لو جی ! ہم پر تو بڑا تاوان پڑگیا۔“ کہ ہم نے محنت کی ‘ ہل چلائے ‘ بیج ڈالا ‘ آبیاری کی اور بہت سے دوسرے اخراجات کیے ‘ لیکن ہم پر تو الٹی چٹی ّپڑ گئی۔

اردو ترجمہ

بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Bal nahnu mahroomoona

آیت 67{ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ۔ } ”بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم ہو کر رہ گئے۔“ ہمارا تو سب کچھ برباد ہوگیا۔

اردو ترجمہ

کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaraaytumu almaa allathee tashraboona

آیت 68{ اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ } ”کبھی تم نے غور کیا کہ وہ پانی جو تم پیتے ہو ؟“

اردو ترجمہ

اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aantum anzaltumoohu mina almuzni am nahnu almunziloona

آیت 69{ ئَ اَنْـتُمْ اَنْزَلْتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ } ”کیا بادلوں سے تم نے اسے برسایا ہے یا ہم ہیں برسانے والے ؟“

اردو ترجمہ

ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Law nashao jaAAalnahu ojajan falawla tashkuroona

آیت 70{ لَوْ نَشَآئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا } ”اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کردیں“ { فَلَوْلَا تَشْکُرُوْنَ } ”تو تم کیوں شکر ادا نہیں کرتے ؟“

اردو ترجمہ

کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaraaytumu alnnara allatee tooroona

آیت 71{ اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَ } ”کبھی تم نے سوچا کہ وہ آگ جو تم جلاتے ہو ؟“

اردو ترجمہ

اِس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aantum anshatum shajarataha am nahnu almunshioona

آیت 72{ ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَہَآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ } ”کیا اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے ‘ یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں ؟“ بَلْ اَنْتَ یَارَبِّ ! نوٹ کیجیے پے درپے سوالات کا یہ تیکھا اسلوب پورے قرآن میں اور کہیں نہیں ہے۔

اردو ترجمہ

ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Nahnu jaAAalnaha tathkiratan wamataAAan lilmuqweena

آیت 73{ نَحْنُ جَعَلْنٰہَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ } ”ہم نے بنا دیا اس کو ایک نشانی یاد دلانے کو اور ایک بہت فائدہ مند چیز صحرا کے مسافروں کے لیے۔“ جیسا کہ سورة یٰسین کی آیت 80 کے ضمن میں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘ بعض صحرائوں میں ایسے درخت پائے جاتے ہیں جن کی سبز گیلی شاخوں کو آپس میں رگڑنے سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ یہاں پر شَجَرَتَہَآ سے وہ مخصوص درخت بھی مراد ہے اور عام درخت بھی۔ کیونکہ درختوں کی لکڑی آگ جلانے کا ایک بہت بڑاذریعہ ہے۔ اور یہ درخت ظاہر ہے اللہ نے پیدا کیے ہیں اور اسی نے ان میں جلنے کی خصوصیت رکھی ہے۔

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fasabbih biismi rabbika alAAatheemi

آیت 74{ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ } ”پس تم تسبیح بیان کرو اپنے ربّ کے نام کی جو بہت عظمت والا ہے۔“ سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم ! اب اگلی آیات میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے۔ ان آیات کے مطالعہ سے پہلے عظمت قرآن کے حوالے سے سورة الرحمن کے آغاز کی یہ عظیم آیات بھی ذہن میں تازہ کر لیجیے : { اَلرَّحْمٰنُ - عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ - خَلَقَ الْاِنْسَانَ - عَلَّمَہُ الْبَیَانَ۔ }۔ قرآن کی عظمت کے اس بیان کے بین السطور میں یہ پیغام بھی مضمر ہے کہ انسانوں پر اس عظیم کتاب کا حق ادا کرنا لازم ہے۔ اس حوالے سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہم ان آیات کے ضمن میں پڑھ آئے ہیں : خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ کہ تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو خود قرآن سیکھتے اور دوسروں کو سکھاتے ہیں۔ ان دونوں سورتوں کے مضامین چونکہ عکسی ترتیب سے بیان ہوئے ہیں ‘ اس لیے عظمت قرآن کا وہ مضمون جو سورة الرحمن کے آغاز میں آیا تھا ‘ اس سورت کے آخر میں آ رہا ہے اور سورة الرحمن کی مذکورہ چار آیات کے مقابلے میں یہاں اس موضوع پر آٹھ آیات آئی ہیں۔

اردو ترجمہ

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fala oqsimu bimawaqiAAi alnnujoomi

آیت 75{ فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ } ”پس نہیں ! قسم ہے مجھے ان مقامات کی جہاں ستارے ڈوبتے ہیں۔“ بعض مفسرین نے مَوٰقِعِ النُّجُوم کی وضاحت شہاب ثاقب کے حوالے سے کی ہے ‘ حالانکہ شہاب ثاقب بالکل مختلف چیز ہے اور قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اسے شیاطین کو عالم بالا سے مار بھگانے کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ موجودہ دور میں سائنس کی فراہم کردہ معلومات کی مدد سے اس آیت کو نسبتاً بہتر طور پر سمجھاجا سکتا ہے ‘ اگرچہ ابھی بھی اس کا مفہوم پوری طرح واضح نہیں ہوا۔ یہاں ضمنی طور پر یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ حلال و حرام ‘ جائز و ناجائز ‘ فرائض اور دین کے عملی پہلو سے متعلق قرآنی احکام کی تفہیم و تعمیل کے حوالے سے ہمیں راہنمائی کے لیے ”دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو !“ کے مصداق پیچھے مڑ کر دیکھنا چاہیے۔ اس ضمن میں ہماری نظری و عملی اطاعت کا کمال یہ ہوگا کہ ہم اپنے اسلاف کا دامن تھامے رکھیں اور صحابہ کرام کے اتباع کو لازم جانیں۔ یہاں تک کہ اس حوالے سے خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں پہنچا دیں ‘ بقول اقبال : ؎ بمصطفیٰ ﷺ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست اگر بائو نہ رسیدی تمام بولہبی است !البتہ دوسری طرف کائنات کی تخلیق ‘ کائنات میں زندگی کی ابتدا ‘ تاریخی حوالہ جات اور سائنس کے مختلف شعبوں سے متعلق قرآنی آیات کی تشریح و تعبیر کے لیے ہمیں ہر دور کے اجتماعی انسانی شعور اور دستیاب حقائق و معلومات کو مدنظر رکھنا چاہیے ‘ پھر جہاں مناسب معلوم ہو ان معلومات سے استفادہ بھی کرنا چاہیے اور جب ممکن نظر آئے تکلف سے اجتناب کرتے ہوئے فطری انداز میں قرآنی الفاظ و معانی کا زمینی حقائق کے ساتھ تطابق ڈھونڈنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی ذہن نشین کرلیجیے کہ ایسی آیات کا جو مفہوم آج سے ہزار سال پہلے سمجھا گیا تھا آج ہم اس مفہوم کو ماننے اور درست جاننے کے پابند نہیں ہیں۔ اس لیے کہ ایسی آیات کا تعلق حکمت سے ہے ‘ کسی حکم سے نہیں ہے۔ چناچہ حکمت اور سائنس کے میدان میں تو نئے نئے افق تلاش کرنے کے لیے مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیے ‘ لیکن احکام اور دین کے عملی پہلو کو سمجھنے ‘ سمجھانے کے لیے ماضی سے تعلق جوڑنے اور حضور ﷺ کے فرمان مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِیْ کو مشعل راہ بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اب آیئے آیت زیر مطالعہ کو موجودہ دور کی سائنسی معلومات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ موجودہ دور میں سائنس دانوں نے کائنات کے اندر ایسے بیشمار بڑے بڑے اندھے غاروں کا کھوج لگایا ہے جو اپنے پاس سے گزرنے والی ہرچیز کو نگل جاتے ہیں۔ سائنس دانوں نے ان ”غاروں“ کو Black Holes کا نام دیا ہے۔ ایسے کسی ایک بلیک ہول کی وسعت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑے ستارے پلک جھپکنے میں غائب ہوجاتے ہیں ‘ بلکہ ایسے کروڑوں ستاروں پر مشتمل کہکشائیں بھی ایسے بلیک ہولز کے اندر گم ہو کر معدوم ہوجاتی ہیں۔ سائنسی تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کائنات کے اندر مسلسل نئے نئے ستارے جنم لے رہے ہیں اور نئی نئی کہکشائیں وجود میں آرہی ہیں ‘ جبکہ ساتھ ہی ساتھ بیشمار کہکشائیں اپنے اَن گنت ستاروں کے ساتھ مسلسل بلیک ہولز کی نذر ہو کر معدوم ہو رہی ہیں۔ اگرچہ کائنات کے اسرار و رموز سے متعلق آج بھی انسان کی معلومات بہت محدود ہیں لیکن پھر بھی بلیک ہولز کے متعلق اب تک حاصل ہونے والی یہ معلومات بہت ہوشربا ہیں۔ اب اگر ہم اپنی زمین کی جسامت اور وسعت کا نقشہ ذہن میں رکھیں ‘ پھر اس کے مقابلے میں سورج کی جسامت کا اندازہ کریں ‘ پھر یہ تصور کریں کہ کائنات میں ہمارے سورج سے کروڑوں گنا بڑے اربوں کھربوں ستارے بھی موجود ہیں اور ان ستاروں کے درمیان اربوں نوری سالوں کے فاصلے ہیں ‘ پھر یہ تصور کریں کہ ایسے اَن گنت ستاروں پر مشتمل ان گنت کہکشائیں ہیں ‘ اور ان کہکشائوں کے درمیانی فاصلے بھی اسی تناسب سے ہیں۔ کہکشائوں اور ستاروں سے متعلق یہ تمام معلومات ذہن میں رکھ کر اگر ہم کائنات کے طول و عرض میں موجود لاتعداد بلیک ہولز کا تصور کریں اور پھر یہ نقشہ ذہن میں لائیں کہ ان میں سے ایک ایک بلیک ہول اتنا بڑا ہے کہ وہ اپنے پاس سے گزرنے والی کسی بڑی سے بڑی کہکشاں کو آنِ واحد میں ایسے نگل جاتا ہے کہ اس کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا اور پھر ان بلیک ہولز کا اطلاق مَوٰقِعِ النُّجُوْم پر کریں تو شاید ہمیں کچھ کچھ اندازہ ہوجائے کہ اس آیت میں جس قسم کا ذکر ہوا ہے وہ کتنی بڑی قسم ہے۔

اردو ترجمہ

اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wainnahu laqasamun law taAAlamoona AAatheemun

آیت 76{ وَاِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ} ”اور یقینا یہ بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو !“ یعنی ابھی تم مَوٰقِعِ النُّجُوْم کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ایک وقت آئے گا جب تمہیں ان کی حقیقت سے متعلق معلومات حاصل ہوجائیں گی ‘ پھر تمہیں احساس ہوگا کہ ہم نے تمہارے سامنے یہ کس قدر عظیم قسم پیش کی ہے۔

536